فیثا غورث کی فکر

فیثاغورث (570 ق م – 495 ق م) ایک یونانی فلسفی ، مذہبی رہبر اور ریاضی دان تھا۔ وہ ساموس یونانی جزیرے سے جمیا مصر تک گیا۔ اور 530 قبل مسیح میں اطالیہ کی طرف کروٹون کی یونانی نگری میں آ کے بس گیا۔ ادھر اس کے ساتھ اس کے پیروکار رہتے تھے۔ اسے اپنے خیالات کی وجہ سے اسے کروٹون چھوڑنا پڑا۔ریاضی میں اس کی شہرت مسئلہ فیثاغورث کی وجہ سے ہے۔ اس نے ابتدا میں آیونیائی فلسفیوں تھیلس، اناکسی ماندر اور اناکسی مینیز کی تعلیمات کا مطالعہ کیا۔

کہا جاتا ہے کہ اسے پولی کریٹس کے استبدادیت سے تنفر کا اظہار کرنے کے باعث ساموس سے نکلنا پڑا۔ تقریباً 530 قبل مسیح میں وہ جنوبی اٹلی میں ایک یونانی کالونی کروٹون میں رہنے لگا اور وہاں مذہبی، سیاسی اور فلسفیانہ مقاصد رکھنے والی ایک تحریک کی بنیاد ڈالی جسے ہم فیثا غورث ازم کے نام سے جانتے ہیں۔ فیثا غورث کے فلسفہ کے متعلق ہمیں صرف اس کے شاگردوں کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے۔ فیثاغورث ازم کا مکتب تحریک کی صورت میں مختلف فلسفیوں کے ہاں فروغ پاتا رہا۔ لہٰذا اس میں بالکل مختلف فلسفیانہ نظریات شامل ہو گئے۔

وسیع تر مفہوم میں بات کی جائے تو ابتدائی فیثا غورث پسندوں کی تحریروں میں دو مرکزی نکات ملتے ہیں : تناسخ ارواح کے متعلق ان کے نظریات، اور ریاضیاتی مطالعات میں ان کی دلچسپی، ہیراکلیتوس لکھتا ہے : ’’فیثا غورث نے کسی بھی اور انسان سے زیادہ گہرائی میں جا کر تحقیق کی۔‘‘ اس کی تعلیمات کے متعلق اس کی زندگی سے بھی کم تفصیلات میسر ہیں۔ ہیگل نے کہا کہ وہ ایک شاندار شخصیت کا مالک اور کچھ معجزاتی قوتوں کا حامل تھا۔ فیثا غورثی سلسلہ اصلاً ایک روحانی اطمینان کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا۔ اس کا مقصد پاکیزگی کے حصول کے لیے طریقہ کار وضع کرنا تھا۔

فیثا غورث نے تناسح کے ایک عقیدے کی تعلیم دی: یہ انسانوں اور جانوروں کو زمین کے بچے ہونے کے ناتے ایک جیسا خیال کرنے کے قدیم اعتقاد کی ترقی یافتہ صورت تھی۔ اس کی بنیاد مخصوص اقسام کی خوراک کھانا ممنوع قرار دینے پر تھی۔ یعنی جانوروں کے گوشت سے پرہیز۔ فیثا غورث پسند دیوتاؤں کو بھینٹ کیا ہوا گوشت کھایا کرتے تھے۔ ارسطو کہتا ہے کہ فیثا غورث نیکی پر بحث کرنے والا پہلا شخص تھا، اور اس نے اس کی مختلف صورتوں کو اعداد کے ساتھ شناخت کرنے کی غلطی کی۔ ہیرا کلیتوس نے تسلیم کیا کہ سائنسی کھوج میں کوئی بھی شخص فیثا غورث کا ہم پلہ نہیں تھا۔

فیثا غورث کے مطابق سب سے بڑی پاکیزگی بے غرض سائنس ہے، اسے مقصد بنانے والا شخص حقیقی فلسفی ہے ۔ فیثا غورث پہلا شخص تھا جس نے ریاضی کو تجارت کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا اور اسے ایک قابل تحقیق علم کی صورت دی۔ اس نے اطاعت اور مراقبہ، کھانے میں پرہیز، سادہ لباس اور تجزیہ ذات کی عادت پر زور دیا۔ فیثا غورث پسند لافانیت اور تناسخ ارواح پر یقین رکھتے تھے۔ خود فیثا غورث نے بھی دعویٰ کیا کہ وہ کسی سابقہ جنم میں جنگ ٹروجن کا جنگجو یوفوربس تھا اور اسے اجازت دی گئی کہ اپنے تمام سابقہ جنموں کا حافظہ اس زمینی زندگی میں ساتھ لائے۔

فیثا غورث پسندوں کی وسیع ریاضیاتی تحقیقات میں طاق اور جفت اعداد پر مطالعہ بھی شامل تھا۔ اُس نے عدد کا تصور قائم کیا جو ان کی نظر میں تمام کائناتی تناسب، نظم و ضبط اور ہم آہنگی کا مطلق اصول ہے۔ اس طریقہ سے اس نے ریاضی کے لیے ایک سائنسی بنیاد قائم کی اور اسے رواج بھی دیا۔ فلکیات کے معاملے میں فیثا غورث پسندوں نے قدیم سائنسی فکر کو کافی ترقی دی۔ سب سے پہلے اُس نے ہی کرہ ارض کو ایک ایسا کرہ تصور کیا جو دیگر سیاروں کے ہمراہ ایک مرکزی آگ کے گرد محو گردش تھا۔ انہوں نے کائنات کو ایک ہم آہنگ نظام کے تحت حرکت پذیر سمجھا۔ ان کے بعد کائنات کا آہنگ اور نظام تلاش کرنے اور سمجھنے کی کوششیں ہی فلسفہ اور سائنس کا مرکزی مقصد بن گئیں۔

عبدالرحمن ٰ

Advertisements

گلیلیو کی کہانی

ایک نوجوان طالب علم اٹلی کے مقام پیسا کے ایک گرجا میں کھڑا چھت سے لٹکے ہوئے ایک لیمپ پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ ہوا چل رہی تھی۔ لیمپ ہوا سے جھول رہا تھا، کبھی کم کبھی زیادہ۔ ہزاروں آدمیوں نے اس سے پہلے لیمپ کو اسی طرح جھولتے دیکھا ہو گا، لیکن کسی نے اس سائنسی اصول کی طرف توجہ نہیں دی تھی جو سادہ مثال کی حرکت میں چھپا تھا۔ جو لوگ دنیا میں عزت و شہرت حاصل کرتے ہیں ان کی زندگی شروع ہی سے عام لوگوں سے کچھ مختلف ہوتی ہے۔ ان کی طبیعت میں کھوج اور تجسس کا مادہ شروع سے موجود ہوتا ہے۔ اس ہونہار طالب علم کا نام گلیلیو تھا۔

اس زمانے میں گھڑیاں تو تھیں نہیں اور یہ طالب علم اس جھولتے ہوئے لیمپ کا وقفہ معلوم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے گھڑی کا کام اپنی نبض سے لیا اور یہ معلوم کیا کہ لیمپ خواہ زیادہ جھول رہا ہو یا کم اس کی ایک حرکت میں یکساں وقت لگتا ہے۔ وجہ ظاہر ہے جسم جب زیادہ فاصلہ طے کرتا ہے تو اس کی رفتار بھی زیادہ ہوتی ہے اور جب وہ کم فاصلہ طے کرتا ہے تو اس کی رفتار بھی کم ہوتی ہے۔ پس ایک حرکت کا وقفہ برابر ہی رہتا ہے۔ یہ تجربہ اور اس کا اصول بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن آج ہماری زندگی میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اب بھی پینڈولم والے کلاک کہیں کہیں نظر آ جاتے ہیں۔ پینڈولم کا فائدہ یہ ہے کہ کلاک اس کی مدد سے وقت صحیح دیتے ہیں۔

گلیلیو جس وقت ان باتوں پر غور کر رہا تھا، اس وقت اس کی عمر صرف سترہ برس تھی۔ اس کا دریافت کیا ہوا اصول آج بھی موجود ہے اور ہمارے کام آتا ہے۔ گلیلیو اٹلی کے شہر پیسا میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک قابل ریاضی دان تھا۔ وہ اپنے بیٹے کو تاجر بنانا چاہتا تھا۔ لیکن گلیلیو کو کاروبار سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ علم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ لہٰذا اسے پیسا کی یونیورسٹی میں داخل کرا دیا گیا۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی اس نے ان اصولوں کی مخالفت شروع کر دی جو ایک ہزار سال سے مشہور چلے آ رہے تھے اور جنہیں قدیم یونانی فلسفیوں نے وضع کیا تھا۔

جلد ہی اس نے ریاضی میں اتنا نام پیدا کیا کہ اسے اسی یونیورسٹی میں پروفیسر کا عہدہ مل گیا۔ بات دراصل یہ تھی کہ اس زمانے کے تمام سائنس دان قدیم یونانی فلسفی ارسطو کو اپنا استاد مانتے تھے۔ ارسطو نے ایک اصول وضع کیا تھا کہ اگر سو پونڈ اور ایک پونڈ کے دو وزنی جسم ایک ساتھ ایک ہی اونچائی سے نیچے گرائے جائے تو سو پونڈ والا جسم ایک پونڈ والے جسم کے مقابلے میں سو گنا زیادہ تیزی سے زمین پر گرے گا۔ گلیلیو نے یہ قانون غلط ثابت کر دکھایا اور لوگوں کو بتایا کہ ایک ہی شکل اور حجم کے دو جسم بلندی سے ایک ساتھ گریں گے خواہ ان کا وزن کچھ بھی ہو۔ 1602ء میں گلیلیو نے ایک تھرمامیٹر ایجاد کیا لیکن اس کی زیادہ شہرت اس دوربین کی وجہ سے ہوئی جو دن رات کی محنت سے تیار کی اور جو بائیس میل دور تک کی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر دکھا سکتی تھی۔

کچھ اور تحقیق اور تجربے کے بعد گلیلیو نے ایک ایسی دوربین بنائی جو اجرام فلکی کے مشاہدے کے کام آ سکتی تھی۔ اس نے اس کا رخ چاند کی طرف پھیرا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ چاند پر ہماری زمین کی طرح پہاڑ اور ریگستان موجود ہیں۔ قدیم ہیئت دان ان کو سمندر سمجھتے تھے۔ یہ تو زمین آسمان کا فرق نکل آیا۔ گلیلیو نے معلوم کیا کہ کہکشائیں بہت سے ستاروں کا مجموعہ ہیں۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے نتائج کی پروا کیے بغیر قدیم خیالات کی مخالفت کی کیونکہ وہ ان کو غلط سمجھتا تھا۔ اس وقت لوگوں کو یہ بتایا جاتا تھا کائنات کا مرکز زمین ہے اور سورج ہماری زمین کے گرد گھومتا ہے۔

گلیلیو نے کہا زمین تو صرف ایک سیارہ ہے وہ دوسرے سیاروں کی طرح سورج کے گرد گھومتی ہے۔ لوگوں نے یہ بات سنی تو ان کے غصے کی حد نہ رہی۔ وہ سمجھے کہ گلیلیو ان کے قدیم مذہبی اعتقادات سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے گلیلیو کو مذہبی رہنماؤں کا دشمن بنا دیا۔ گلیلیو خود روم گیا اور بات صاف کی۔ 1611ء میں گلیلیو نے روم میں یہ اعلان کر ڈالا کہ سورج کی سطح پر سیاہ داغ ہیں۔ اب اس کے دشمنوں کو نیا بہانہ مل گیا۔ مذہبی عدالت نے گلیلیو کو تنبیہ کر دی۔ بے چارہ چند روز خاموش رہا۔ اب وہ بوڑھا ہو گیا تھا اور بیمار بھی رہنے لگا تھا۔ لیکن اس کی ایجادات کا سلسلہ جاری رہا۔ اس نے خوردبین بھی ایجاد کی جو بعد میں طبی سائنس کی ترقی کا سبب بن گئی۔

گلیلیو نے 1634ء میں ایک کتاب شائع کی تو سارا ملک اس کے خلاف ہو گیا اور روم کی مذہبی عدالت میں اس پر مقدمہ چلایا گیا۔ یہ اس کی ضعیفی کا وقت تھا اور کوئی اس کا حامی نہیں تھا۔ اس کی زبان بند کی گئی لیکن وہ سچائی کی راہ پر جما رہا۔ اس نے ستاروں کے علم کا مزید مطالعہ کیا اور اپنے دوستوں کو بتایا کہ نظام شمسی کا مرکز آفتاب ہے۔ 1642ء کو گلیلیو نے اسی سال کی عمر میں انتقال کیا۔ اس کے دشمن اب بھی باز نہ آئے۔ انہوں نے پوپ کو ابھارا کہ اس کا جنازہ شان و شوکت سے نہ اٹھنے پائے اور نہ اس کا مقبرہ سنگ مر مر کا بننے پائے۔ نہ گلیلیو رہا اور نہ اس کے دشمن لیکن آنے والے وقت نے ثابت کر دیا کہ جو کچھ اس قابل اور دلیر سائنس دان نے کہا تھا وہ صحیح تھا۔

علی ناصر زیدی

ابن خلدون کی مشکلات

ابن خلدون فلسفہ تاریخ کے بانی اور عمرانیات کے امام اور پیشرو سمجھے جاتے ہیں۔ ابن خلدون کو ان کے ’’مقدمہ‘‘ سے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ اس کے باوجود ان کی زندگی کے پورے حالات دستیاب نہیں ہوتے۔ یوں تو ابن خلدون نے بھی ایک کتاب اپنے ذاتی حالات و واقعات پر لکھی ہے لیکن اس میں بھی ان کی پوری زندگی کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہوتی ہیں۔ ابن خلدون کے بارے میں یہ بات اب بھی وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کی جو شہرت اور وقعت اسلامی ممالک میں ہونی چاہیے تھی وہ انہیں آج تک حاصل نہیں ہو سکی۔

مغرب کا ایک قابل تحسین کام یہ بھی ہے کہ اس کے سکالرز نے ابن خلدون کے صحیح مقام کا تعین کیا اور ابن خلدون کی عظمت و علمی برتری کو پھیلایا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ خود ابن خلدون کی اپنی زندگی میں اور اس کے بعد عالم اسلام میں بعض بااثر شخصیات نے جیسے جیسے الزامات تراشے اور اس کے عظیم کام کو دفن کرنے کی کوشش کی اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو آج ابن خلدون کا کوئی نام بھی نہ جانتا۔ ابن خلدون کی تصنیف ’’مقدمہ‘‘ ایک ایسی تصنیف ہے جو دنیا کی بڑی کتابوں میں شامل کرنا لازمی ہے۔ مقدمہ نے ابن خلدون کو فلسفہ تاریخ کے بانی کی حیثیت سے پیش کیا۔ اس طرح وہ عمرانیات کے امام اور پیشرو تسلیم کیے جاتے ہیں۔

ابن خلدون 732 ہجری (1332ئ) میں تیونس میں پیدا ہوئے۔ ان کے حالات زندگی کے بارے میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ ابن خلدون کی ابتدائی تعلیم قرآن پاک سے شروع ہوئی۔ انہوں نے قرآن پاک کا درس ساتوں قرأتوں کے ساتھ لیا۔ اس کے بعد احادیث کا درس لیا۔ وہ سترہ برس کے تھے کہ ان کے والدین کا انتقال ہو گیا۔ ابن خلدون کے مزاج کی دو خصوصیات کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ جوانی میں ہی اتنا علم حاصل کر چکے تھے کہ وہ کسی کو کم ہی خاطر میں لاتے تھے۔ ان کی شخصیت کا دوسرا پہلو ان کی اقتدار اور جاہ پسندی ہے۔ انہوں نے جیسی زندگی گزاری وہ بے حد حیران کن اور غیرمعمولی نوعیت کی ہے۔

اقتدار اور مرتبے کے حصول کے لیے ابن خلدون کسی کی پروا نہ کرتے تھے۔تیونس کے امیر اسحاق الحصفی کے دربار تک رسائی حاصل کی۔ انہیں کاتب کا عہدہ ملا۔ جو ابن خلدون کو پسند نہ تھا۔ امیر ابو زید کے خلاف جب امیر اسحاق کا لشکر لڑائی کے لیے روانہ ہوا تو ابن خلدون بھی ہمراہ ہو گئے۔ ارادہ تھا کہ اس طرح امیر اسحاق کی ملازمت سے بھاگ نکلیں گے اور امیر ابو زید کو فتح ہوئی تو اس کا ساتھ دے کر اعلیٰ مرتبہ حاصل کریں گے۔ لیکن لشکر کو شکست ہوئی۔ ابن خلدون نے ایک گاؤں میں پناہ لی اور پھر بہت عرصے تک یوں ہی چھپے رہے۔ ابو عنان امیر مراکش کو ان کی موجودگی کی خبر ملی تو ابن خلدون کو اپنے درباریوں میں شامل کر لیا۔ ان کو سیکرٹری (امیر اسرار) تک عہدہ ملا۔

مگر ابن خلدون اس سے بھی مطمئن نہ تھے۔ ابن خلدون جس دور کی پیداوار ہیں اس دور میں عالم اسلام کی مرکزیت بہت حد تک ختم ہو چکی تھی۔ آپس میں اقتدار کی جنگیں ہوتی تھیں اور ایک دوسرے کے خلاف بڑی بڑی سازشیں کی جاتی تھیں۔ بجایہ کا والی ابو عبداللہ امیر مراکش ابو عنان کی قید میں تھا۔ ابن خلدون نے ایک منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا کہ ابو عبداللہ کو ابو عنان کی قید سے نکال کر بادشاہ بنایا جائے۔ ابن خلدون اور ابو عبداللہ کے درمیان طے پایا کہ اگر ابن خلدون کا منصوبہ کامیاب ہوا تو ابو عبداللہ ان کو اپنا وزیر بنائے گا۔ لیکن ابن خلدون کا منصوبہ فاش ہو گیا۔ اور ابن خلدون کو زندان کا منہ دیکھنا پڑا۔ انہیں اس وقت رہائی ہوئی جب ابو عنان کا انتقال ہو گیا۔

نئے حکمران الحسن بن عمر نے ابن خلدون پر خاص احسان کرتے ہوئے ان کو رہا کیا تھا۔ مگر ابن خلدون نے اس کے خلاف بھی منصوبے میں حصہ لیا۔ ابوالمنصور حکمران بنا۔ مگر اس سے بھی ابن خلدون کی زیادہ دیر نہ نبھ سکی۔ ابو سالم تخت کا دعوے دار ہوا تو ابن خلدون اس کے ساتھ ہو لیے۔ ابوسالم نے ابن خلدون کو اپنا مشیر خاص اور وزیر بنایا۔ لیکن ابن خلدون کو یہ منصب جلیلہ بھی راس نہ آیا۔ حکومت کے دوسرے لوگ خلاف ہو گئے۔ اب ابن خلدون نے اپنے ایک ساتھی سے مل کر ابو سالم کی حکومت کا تختہ الٹا دیا۔ لیکن ابن خلدون اقتدار سے محروم رہے اس کا دوست تخت پر قابض ہو گیا۔ ابن خلدون تیونس سے بھاگے اور ہسپانیہ چلے آئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب غرناطہ کے ابو عبداللہ خامس کو اقتدار سے الگ کیا جا چکا تھا۔ ابن خلدون نے پھر ایک نئی سازش اور ایک نیا منصوبہ تیار کیا۔

ابو عبداللہ خامس کو غرناطہ کا تخت دلانے کے لیے ابن خلدون نے اپنی سازشیں اور کوششیں شروع کر دیں۔ 1364ء میں ابو عبداللہ تخت پر براجمان ہو گیا۔ اس نے ابن خلدون کی خدمات کے عوض اپنا مقرب خاص بنا لیا اسے وزیر کا عہدہ بھی ملا۔ مگر ابن خلدون پھر اقتدار میں تبدیلی کے خواہاں تھے، جب ابو عبداللہ کے چچیرے بھائی نے حکمران کے خلاف منصوبہ بنایا تو اعانت کرنے لگے۔ ان کی ذہانت اور منصوبہ بندیوں کی وجہ سے ان کی مخالفت کا بازار گرم ہوا۔ ابن خلدون نے بھاگنا چاہا لیکن گرفتار کر لیے گئے۔ کچھ عرصے کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔ وہ افریقہ بھاگ نکلے۔ کچھ عرصہ سلطان ابو حمود کے ساتھ بھی رفاقت کر لی لیکن ابن خلدون کی دلی آرزو کہ وہ پورا اقتدار حاصل کر سکیں کبھی پوری نہ ہوئی۔

انہوں نے سیاست ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ گھریلو زندگ بسر کرنے کی خواہش قوی ہوئی۔ لیکن ان کے اس فیصلے اور کنارہ کشی کے باوجود ان کی سابقہ شہرت کی وجہ سے حکام اور حکمران ان سے خائف رہے کہ وہ پھر کسی نئی سازش کا ڈول نہ ڈال دیں۔ ان کے علمی کام کی تیونس کے مفتی اعظم اور فقیہہ نے شدید مخالفت کی۔ ان کے خلاف بادشاہ کو بھڑکایا۔ ابن خلدون اب تیونس سے بھاگے تو مصر جا کر دم لیا۔ یہاں ان کی شہرت پہلے سے پہنچ چکی تھی۔ کچھ عرصہ جامعہ ازہر میں درس دیا پھر ان کو قضا کا عہد سونپ دیا گیا۔ رشوت ستانی اور بدعنوانی کے خلاف ابن خلدون نے ایسے سخت احکام اور اقدامات جاری کیے کہ عمال اور حکام ان کے مخالف ہو گئے۔ ایک بار پھر ابن خلدون نے گوشہ نشینی اختیار کی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب اس کی بدبختی اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ بیوی بچے تیونس سے مصر آ رہے تھے کہ جہاز راہ میں غرق ہوا اور وہ سب ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ جب ابن خلدون کو خبر ملی تو اس کی زبان سے یہ جملہ نکلا۔ “اس حادثے سے میں مالی خوش بختی اور اولاد سب سے محروم ہو گیا۔”

ستار طاہر

ابن رشد : حیات و نظریات

ابن رشد 1126ء میں قرطبہ (سپین) میں پیدا ہوا۔ قرطبہ ان دنوں عالم اسلام کا حصہ تھا۔ اس کا تعلق ممتاز قانون دان افراد کے خاندان سے تھا جس کے ارکان قانون کے علاوہ سائنس اور فلاسفی میں بھی نمایاں تھے۔ اس کی دوستی ایک اور عالم اور فلسفی ابن طفیل سے تھی۔ اسی کی وساطت سے ابن رشد کا تعارف خلیفہ ابو یعقوب یوسف سے ہوا جس نے ابن رشد کو قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز کیا اور پھر اسے شاہی طبیب مقرر کیا۔ ابو یعقوب کی ابن رشد کے ساتھ مشترکہ دلچسپی کا ایک موضوع ارسطو تھا۔ اس نے ابن رشد کو ارسطو کے کام کی تشریح و توضیح تصنیف کرنے کا فریضہ سونپا۔

وہ چاہتا تھا کہ اس جیسے عام فہم لوگوں کے لیے ارسطو کو سمجھنا آسان ہو جائے۔ حکمران کی آزاد خیالی کے باوجود لوگوں نے ابن رشد کی غیر مقلدانہ فلاسفی کو قبول نہ کیا چنانچہ عوامی دباؤ کے تحت ابن رشد کی ان تصنیفات پر پابندی عائد کر دی گئی اور اسے 1195ء میں جلا وطن کر دیا گیا۔ دو سال بعد اس کی سزا موقوف کر دی گئی اور وہ قرطبہ واپس آ گیا۔ ایک سال بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ ابن رشد نے قانون کے شعبہ میں کام کیا۔ وہ قاضی کے منصب پر فائز تھا۔ ابن رشد الموحدین کے دور میں یہ فریضہ سرانجام دے رہا تھا۔ الموحدین راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ قرون وسطیٰ کا زمانہ تھا۔

سخت گیر حکمرانوں کی ماتحتی میں ابن رشد کی راتیں ایک قدیم غیر مسلم فلسفی ارسطو کے کام کی شرح لکھنے میں گزر رہی تھیں۔ دلچسپ امر یہ تھا کہ ابن رشد کے قارئین میں سب سے زیادہ متجسس کوئی اور نہیں الموحد حکمران ابو یعقوب یوسف تھا۔ ابن رشد مذہب اور فلسفہ میں ایک مطابقت اور مفاہمت معاشرے کے حفظ مراتب کے ایک نظریہ کے ذریعے پیدا کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ صرف تعلیم یافتہ اشرافیہ ہی فلسفہ کے بارے میں سوچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ابن رشد سمجھتا تھا کہ تخلیق کائنات کے بارے میں قرآن مجید کا بیان عام انداز میں پڑھنے پر سمجھ نہیں آئے گا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ حتمی صداقت کا ایک ایسا بیان ہے جو غیر تعلیم یافتہ افراد کے فہم سے باہر ہے۔

ابن رشد سمجھتا تھا کہ تعلیم یافتہ لوگوں کی مذہبی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسفیانہ استدلال استعمال کریں۔ جہاں بھی استدلال یا عقل و فہم ظاہر کریں کہ قرآن مجید کے لفظی معنی بظاہر پیچیدہ محسوس ہو رہے ہیں وہاں اس کی شرح و تفسیر کی جائے یعنی لفظوں کے ظاہری معنوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔ اس کے نزدیک ظاہر کی بجائے وہ سائنسی نظریہ جس کا مظاہرہ ارسطو کی فلاسفی کرتی ہے اس کو قبول کیا جائے۔ ابن رشد کے کام کا ترجمہ عبرانی اور لاطینی زبانوں میں ہوا تو تیرہویں اور چودہویں صدی عیسوی میں اس کے زبردست اثرات مرتب ہوئے۔ جن علما نے ارسطو اور ابن رشد کے نظریات کی حمایت کی ان کو ابن رشدی کہا گیا۔

ول بکنگھم

بوعلی سینا : خیالات و حیات

بوعلی سینا کو ابن سینا بھی کہا جاتا ہے اور یہ عرب روایت میں انتہائی اہم فلسفی کی حیثیت رکھتا ہے جب کہ اسے دنیا کے عظیم ترین مفکرین میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے۔ الکندی اور فارابی جیسے اپنے پیش روؤں اور اپنے جانشین ابن رشد کی طرح بوعلی سینا نے خود آگاہی کے تحت مسلمان عالم دین بننے کی بجائے فلسفی بننے کا انتخاب کیا اور اس کے لیے یونانی دانش اور دلیل و برہان کے راستہ پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ بالخصوص اس نے خود کو ارسطو کے پیروکار کی حیثیت سے دیکھا۔ چنانچہ اس کی اہم تحریروں میں ارسطو کی فلاسفی کا انسائیکلوپیڈیا نمایاں ہے۔ تاہم یہ کام ارسطو کی فلاسفی کو ابن سینا کی نظرثانی اور مرتب کردہ نظریہ کی وضاحت سمجھا جاتا ہے۔

کچھ نظریات پہ مثلاً یہ نظریہ کہ کائنات ہمیشہ سے موجود تھی ابن سینا ارسطو کا حامی رہا۔ دوسرے شعبوں میں وہ خود کو ارسطو سے بنیادی طور پر اختلاف کرنے میں آزاد محسوس کرتا ہے۔ ایک نمایاں ترین مثال ذہن یا روح اور جسم کے درمیان تعلق کے بارے میں اس کی توضیح میں دکھائی دیتی ہے۔ ارسطو دعویٰ کرتا ہے کہ انسانوں (اور دیگر حیوانوں) کے جسم اور ذہن دو مختلف چیزیں (یا مادے) نہیں ہیں بلکہ ایک اکائی ہیں اور یہ کہ ذہن انسانی جسم کی ہیئت یا فارم ہے۔ یہ ان تمام سرگرمیوں کا ذمہ دار ہے جو ایک انسان سے ممکن ہیں جس میں سوچنا بھی شامل ہے۔ اسی وجہ سے ارسطو سمجھتا ہے کہ جسم کی موت کے بعد کسی کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔ اس کے برعکس ابن سینا فلسفہ کی تاریخ میں مشہور ثنویت پسندوں میں سے ایک ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جسم اور ذہن دو مختلف مادے ہیں۔

اس نکتہ نظر میں اس کا عظیم پیش رو، افلاطون تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ذہن ایک مختلف چیز ہے جس کو جسم میں قید کر دیا گیا ہے۔ ابن سینا 980ء میں بخارا (موجودہ ازبکستان) کے گاؤں میں پیدا ہوا۔ اگرچہ اس نے زیادہ تر عربی زبان میں لکھا کیونکہ پورے عالم اسلام میں علم و ادب کی زبان یہی تھی لیکن اس کی مادری زبان فارسی تھی۔ ابن سینا ایک حیرت انگیز بچہ تھا۔ اپنی ذہنی استعداد کی بدولت وہ تیزی سے اپنے اساتذہ سے نہ صرف منطق اور فلسفہ میں آگے نکل گیا بلکہ علم طب میں بھی انہیں پیچھے چھوڑ گیا۔ ابھی وہ اپنی عمر کے دوسرے عشرہ میں تھا کہ اس کی شہرت علاقے کے سمانی بادشاہ نوح ابن منصور کے دربار میں ایک طبیب حاذق کی حیثیت سے پہنچ چکی تھی۔ چنانچہ اس کے تصرف میں ایک بہت بڑا کتب خانہ دے دیا گیا۔

ابن سینا کی زندگی بہت سے بادشاہوں کے ساتھ بحیثیت طبیب اور سیاسی مشیر گزری۔ اس نے 21 سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا اور پھر دو سو سے زائد کتابیں مختلف موضوعات پر تحریر کیں۔ جن میں مابعد الطبیعات، حیوانی علم الاعضا، ٹھوس مادے کی میکانیات اور عربی علم نحو جیسے متنوع موضوعات شامل تھے۔ اس کی موت درد قولنج کی دوا میں ردوبدل کرنے سے ہوئی۔ غالباً یہ عمل بدنیتی کے ساتھ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے حکمران علی الدولہ کے ساتھ عسکری مہم پر تھا۔

مارکوس ویک

پاکستان کے عظیم ایٹمی سائنسدان , ڈاکٹر اشفاق احمد

پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر اشفاق احمد کا نام اس وقت ملک بھر میں مشہور ہو گیا جب پاکستان نے 28 مئی 1998 ء کو ایٹمی دھماکے کئے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد اس وقت پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین تھے اور ان ہی کی سرپرستی میں دھماکے کئے گئے۔ ان ہی کی سرپرستی میں پاکستان کے ایٹمی بجلی، دفاع، زرعی پیداوار کے فروغ، کینسر کے علاج، ایٹمی توانائی ہسپتالوں و اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ڈاکٹر اشفاق احمد 1930 ء میں گورداسپور میں پیدا ہوئے، جالندھر سے ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ قیام پاکستان کے بعد فیصل آباد آ گئے پھر مزید تعلیم کے لئے لاہور آ نا پڑا۔ 1949ء پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فزکس میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ 1951 ء میں گورنمنٹ کالج سے ایم ایس سی کیا اور پھر 1952 ء میں اسی ادارے میں ہی بطور استاد طلبہ کی علمی پیاس بجھانے لگے۔

سائنس کے میدان میں مزید تعلیم کا شوق آپ کو کینیڈا لے گیا جہاں مانٹریال یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ آپ نے ڈنمارک اور فرانس کی ریسرچ لیبارٹریوں میں خدمات سرانجام دیں۔ آپ نے وہاں رہ کر سوچا کہ ان کے علم کی پاکستان کو ضرورت ہے ، اس لئے وطن لوٹ آئے اور 1960 ء میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے وابستہ ہو گئے۔ جب انڈیا نے پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکہ کیا تو آپ بے چین ہو گئے اور دن رات کی محنت سے اٹامک انرجی کمیشن کے کام میں جت گئے۔ جس طرح ڈاکٹر قدیر نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا اس طرح ڈاکٹر اشفاق احمد کا کردار بھی کسی طرح فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ آپ نے مختلف عہدوں پر 31 سال تک خدمات سرانجام دیں۔ 1991ء میں اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین بنے۔

آپ نے تحقیقاتی پرچوں کا بھی اجرا کیا۔ آپ عالمی نیوکلیائی توانائی باڈی کے ممبر بھی تھے۔ پاکستان کے فوجی و سول ایٹمی پروگرام کو نئی بلندیوں تک پہنچانے والے ڈاکٹر اشفاق احمد بلا شبہ ہمارے قومی ہیروتھے ۔ پاکستان کو جو قابل اعتماد جوہری صلاحیت حاصل ہے وہ مرحوم ڈاکٹر اشفاق احمد کی رہنمائی میں ملکی ایٹمی سائنسدانوں، انجینئرز، ٹیکنیشنز نے حاصل کی۔ پاکستان کا دفاع نا قابل تسخیر ہے اور پاکستان نے جوہری میدان میں دنیا میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ 1991 سے 2001 تک چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن رہے۔

بطور چیئرمین آپ نے بین الاقوامی ادارے سی ای آر این کے ساتھ روابط کو استوار کیا۔ 1988 سے 1991 تک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سینئر ممبر رہے۔ 1976 سے 1988 تک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔ 1971 سے 1975 تک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیو کلیئر سائنسزاینڈ ٹیکنالوجی پنزٹیک کے ڈائریکٹر اور اٹامک انرجی سنٹر لاہور کے 1969 سے 1971 تک انچارج رہے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد پاکستان کے ایٹمی پاور پروگراموں ، زراعت اور صحت کے شعبے میں ایٹمی توانائی کے استعمال اور پاکستان کے متعدد کینسر سنٹروں میں ڈائریکٹر رہے۔

پاکستان کے سویلین نیو کلیئر پاور پلانٹ چشمہ کے قیام میں ان کا کلیدی رول رہا اور پاکستان نیو کلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور نیشنل سنٹر فار سوکس کے سربراہ کی حیثیت سے قوم کی خدمت کرتے رہے۔ ان کی کوششوں سے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک ریسرچ ادارہ بھی قائم کیا گیا۔ آپ وزیر اعظم کے مشیر سٹریٹجک اینڈ سائنٹفک پروگرام بھی رہے ۔ انڈیا نے جب ایٹمی دھماکے کئے تو ڈاکٹر اشفاق احمد اس وقت کینیڈا میں تھے ۔ آپ اپنا دورہ مختصر کر کے فوراً پاکستان پہنچے اور اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملے۔ مختلف میٹنگز کے بعد آپ نے وزیر اعظم کو اعتماد دلایا کہ پاکستان دھماکے کرنے کی پوزیشن میں ہے اور ذاتی طور پر دھماکے کرنے کی تیاریوں میں جت گئے۔

آپ کی اور عملے کی تگ و دو کے بعد چاغی کے مقام پر پاکستان دھماکے کرنے میں کامیاب ہوا ۔ اس طرح پاکستان نے دشمن کو خبردار کیا کہ وہ قوم کو کمزور نہ سمجھے، ہم بھی ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ 2005 ء میں آزاد کشمیر میں زلزلہ آیا تو حکومت پاکستان نے زلزلے کے حوالے سے ڈاکٹر اشفاق احمد کی تکنیکی ہدایات کی روشنی میں اسلام آباد میں ایک ادارہ بنایا جس سے زلزلے کے حوالے سے اقدامات کرنے میں کافی مدد ملی۔ ڈاکٹر اشفاق احمد نے کچھ کتابیں بھی لکھیں جن میں ’’واٹر اینڈ نیو ٹیکنالوجیز‘‘ کافی اہم ہے۔ آپ نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھی کافی ریسرچ ورک کیا۔ پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے 10 سال تک چیئرمین رہنے والے ڈاکٹر اشفاق احمد نمونیے کے مرض میں مبتلا ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد پی اے ای سی ہسپتال میں چند ہفتوں سے زیر علاج تھے ۔ ڈاکٹروں کی انتھک کوشش کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکے اور 18 جنوری 2018ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی عمر 87 سال تھی۔ ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف پر انہیں نشان امتیاز ، ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ۔

طیب رضا عابدی

چارلس ڈارون کی جستجو

آپ کو ایک ایسے سائنس دان کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں جس نے زمین پر زندگی کے متعلق جستجو کی اور جانداروں کے ارتقا کو جاننے کی کوشش کی۔ اٹھارویں صدی کے آخری نصف دور میں لچ فیلڈ نامی ایک مقام پر ایک ڈاکٹر رہتا تھا جس کا نام اراسمس ڈارون تھا۔ اس کی قابلیت کی وجہ سے اس کی شہرت اتنی زیادہ تھی کہ انگلستان کے بادشاہ جارج سوم نے اسے لندن آنے کی دعوت دی تھی، لیکن اراسمس ڈارون لچ فیلڈ ہی میں خوش تھا جہاں اس نے ایک باغ لگا رکھا تھا۔ ڈاکٹری کے علاوہ اسے قدرتی مناظر، شاعری اور فلسفے سے بھی لگاؤ تھا۔ اس زمانے کے تمام سائنس دان اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ دنیا کا ہر جان دار شروع سے اسی حالت میں تھا جس میں وہ اب موجود ہے۔

لیکن اراسمس ڈارون کو اس خیال سے اختلاف تھا۔ وہ نظریہ ارتقا یا اس خیال کا قائل تھا کہ زندگی ننھے جانداروں سے شروع ہوئی اور جیسے جیسے وقت گزرتا گیا چڑیاں اور بڑے جان دار اسی مخلوق سے بنتے گئے۔ حتیٰ کہ زمین پر انسا ن نمودار ہوا۔ 1802ء میں اراسمس ڈارون کا انتقال ہو گیا اور اس کا تیسرا بیٹا رابرٹ ڈارون ڈاکٹر بنا۔ اس نے شروس بری میں کام کرنا شروع کیا اور وہیں 12 فروری 1809ء کو اس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام چارلس ڈارون رکھا گیا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے بظاہر زندگی کے معمے حل کیے اور دنیا کے سامنے نظریہ ارتقا پیش کیا۔ چارلس چھ بہن بھائیوں میں پانچواں تھا اور وہ ابھی آٹھ سال ہی کا تھا کہ اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔

اس کے باپ اور بڑی بہنوں نے اس کی پرورش کی۔ 1818ء میں شروس بری کے سکول میں اس کی تعلیم شروع ہوئی جو پرانی قسم کی تھی۔ چارلس کو بچپن سے ہی کیمیا کے تجربوں کا شوق تھا جو وہ اپنے گھر پر ایک چھوٹی سی تجربہ گاہ میں کرتا رہتا تھا۔ اس کے علاوہ اسے پودوں اور معدنیات اور دوسری قدرتی چیزوں سے بڑا لگاؤ تھا۔ جہاں کہیں کوئی ایسی چیز نظر آتی تھی وہ فوراً اسے اٹھا لیتا تھا۔ اور گھر لا کر اپنے ’’خزانے‘‘ میں جمع کر لیتا تھا۔ چارلس ڈارون کے خاندان کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بزرگوں کا پیشہ اختیار کرے اور ڈاکٹر بن جائے، لہٰذا اسے 1825ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے ایڈنبرا یونیورسٹی میں داخل کر دیا گیا۔ لیکن ڈاکٹری پڑھنے میں اس کا جی نہیں لگتا تھا۔

اسے انسان کے جسم کے علم اور دواؤں وغیرہ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ آپریشن کے کمرے سے اسے وحشت تھی۔ ایک دوست کے مشورے سے وہ 1828ء میں کیمبرج کے ایک کالج میں داخل ہو گیا۔ اور وہاں فرصت کا وقت قدرتی مناظر دیکھنے، نباتات جمع کرنے اور سیر و تفریح میں گزارنے لگا۔ اسے طرح طرح کے بھنورے جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ کیمبرج کے دوران قیام میں چارلس ڈارون کو حیوانات اور نباتات کی معلومات حاصل کرنے کا شوق ہوا۔ یہی زمانہ اس کے فطرت پسند ہونے کی ابتدا تھی۔ یہاں نباتات کے ایک استاد پروفیسر ہین سِلوسے اس کی ملاقات ہوئی اور بے تکلفی بڑھی۔

چارلس ڈارون کی بڑی خواہش تھی کہ اسے دنیا میں گھومنے پھرنے اور نباتات و حیوانات کو دیکھنے کا موقع ملے۔ اتفاق سے پرفیسر ہین سلو کے ذریعے اسے جلد ہی یہ موقع مل گیا۔ ایک بحری جہاز دنیا کے دورے پر جا رہا تھا۔ وہاں ایک ماہر نباتات کی ضرورت تھی جو ساتھ چلے۔ اس مقصد کے لیے چارلس ڈارون کا انتخاب ہو گیا۔ دسمبر 1831ء کو یہ جہاز کیپٹن فٹز کی سرکردگی میں انگلستان سے جنوب کی طرف روانہ ہوا۔ یہ سفر پانچ سال جاری رہا۔ اس دوران میں ڈارون کو جنوبی امریکا کا ساحل دیکھنے کے علاوہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، تسمانیہ، جزائز مالدیپ، سینٹ ہلینا اور کتنے ہی دوسرے جزیروں اور ملکوں کی سیر کرنے کا موقع ملا اور جب وہ وطن واپس آیا تو اس کے پاس پودوں اور جانوروں کے نہایت نادر نمونے موجود تھے جو اس نے اس سفر میں جمع کیے تھے۔

اس کے علاوہ ڈارون نے زمین کے متعلق بھی بہت سی نئی معلومات حاصل کیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی سفر سے اسے نظریہ ارتقا کا خیال آیا کیوں کہ وہ سمجھ گیا تھا کہ تمام مخلوق جینے کے لیے ایک دوسرے پر منحصر ہے۔ سفرسے واپسی پر اس نے تمام حال لکھنا شروع کیا۔ 1859ء میں اس نے ایک ایسی کتاب شائع کی جس نے اس کے نام کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ اس کا نام اصل الانواع (اوریجن آف سپیشیز) ہے۔ اس کتاب کی بارہ سو جلدیں پہلے ہی دن فروخت ہو گئیں۔ 19 اپریل 1882ء کو اس عظیم سائنس دان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے نظریات سے اختلاف ہو سکتا ہے ،لیکن اس نے جو شمع اپنی محنت اور جستجو سے روشن کی تھی وہ ابھی تک جل رہی ہے۔

محمد ریاض

مریخ پر پانی

ہم کچھ عرصے سے جانتے ہیں کہ مریخ کی سطح کے نیچے پانی کی برف کے بنے بڑے ذخیرے موجود ہیں۔ تاہم ہم ان کی خصوصیات کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ مریخ پر کھدائی کی ٹیکنالوجی فی الحال اس نہج پر نہیں پہنچی کہ وہ نیچے اس برف تک پہنچ سکے۔ وہاں اتارے جانے والے آلات چند سینٹی میٹر تک ہی کھدائی کر سکتے ہیں، دوسری جانب ریڈار کی مدد سے مریخ کی سطح کے اندر دسیوں میٹر نیچے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہمیں مریخ کی سطح پر پانی کوتلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اب ایک جیالوجسٹ کولن ڈونڈاس کی رہنمائی میں ایک ٹیم نے یہی کام کیا۔

انہوں نے ایک خصوصی کیمرے کی مدد سے ایسے آٹھ مقامات کی نشان دہی کی ہے جہاں بیرونی سطح پر پڑنے والی دراڑوں سے نیچے پانی کی برف ظاہر ہو گئی ہے۔ وہاں اب مزید کھوج کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مقامات گڑھوں کی مانند ہیں۔ ڈونڈاس اور ان کی ٹیم کے مطابق اب تک کی تحقیق کے مطابق برف سخت اور تہہ دار ہے جس سے خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ مختلف ادوار میں بنی ہیں۔ اس کے نتیجے میں کہا جاسکتا ہے کہ ان تہوں پر مزید تحقیق سے یہ بھی پتا چلے گا کہ مریخ پر موسم مختلف ادوار میں کیسے بدلتا رہا۔ برف کی صورت میں پانی کی موجودگی کا مطلب ہے کہ مستقبل میں کئی نئے منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔ ان سے اس سرخ سیارے پر مستقبل کے انسانی سفر کے لیے وسائل مہیا ہو سکتے ہیں۔

انسان کے مریخ پر جانے کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان تمام اشیا کو ساتھ لے کر جانا ہے جو وہاں رہنے کے لیے ضروری ہیں۔ اگر ہمیں مریخ میں ہی پانی مل جائے تو زمین سے جاتے ہوئے زیادہ سامان ساتھ لے کر جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ نظر آنے والی پانی کی برف خالص ہے ۔ بدقسمتی سے یہ آٹھوں مقامات وہاں ہیں جہاں انتہائی کم درجہ حرارت ہوتا ہے۔ کسی انسان کا وہاں تک جانا بہت مشکل ہے۔ اب مریخ کے ان علاقوں میں برف تلاش کی جارہی ہے جہاں انسان کچھ وقت کے لیے رہ سکتے ہیں۔

ترجمہ: رضوان عطا

ریڈیم کی دریافت

پولینڈ میں پیری کیوری 1859-1906 اور اس کی بیوی مادام میری کیوری کی تجربہ گاہ سازو سامان کے اعتبار سے بہت معمولی حیثیت رکھتی تھی، تاہم اس میں تجربے کرتے کرتے انہوں نے 1898ء میں ریڈیم دریافت کیا۔ دونوں میاں بیوی یورینیم کی تابکاری کے متعلق تحقیقات میں لگے ہوئے تھے۔ انہیں اچانک محسوس ہوا کہ ان کے برق نما میں روشنی کی ایسی لہریں پیدا ہو رہی ہیں جن کا کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا۔ خوب غور اور چھان بین کے بعد ان پر آشکار ہوا کہ خام یورینیم کی تابکاری یورینیم کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ وہ تحلیل و تجزیے میں لگے رہے اور آہستہ آہستہ تابکار اجزا کو الگ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آخر انہیں دو نئے عنصر نہایت قلیل مقدار میں مل گئے۔ ایک کا نام انہوں نے ریڈیم رکھا اور دوسرے کو بیریم۔ ان دونوں کی تابکاری بہت اعلیٰ پیمانے پر پہنچی ہوئی تھی۔ 1901ء میں مادام کیوری نے محنت و مشقت سے خالص ریڈیم کو الگ کر لیا۔

ارسطو کی داستان

سائنس کا جنم کہاں ہوا، کب ہوا اور کس نے کیا ؟ پہیہ سائنس کی سب سے بڑی ایجاد سمجھی جاتی ہے لیکن اس کا موجد کون تھا ؟ سب سے پہلے آگ کس نے جلائی تھی؟ ہندسے کس نے بنائے؟ صفر، جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم کی دریافت کس نے کی؟ تاریخ دان کا جنم سائنس دان کے بعد ہوا۔ زبان بھی سائنس کے بعد پیدا ہوئی لیکن سائنس کے بہترین دماغوں اور انسانیت کے بہترین محسنوں سے واقفیت عام نہیں۔ دراصل دنیا میں کئی مقامات پر ارسطو اور ارشمیدس جیسے لوگ پیدا ہوئے۔ مگر جس مغربی سائنس کا آج ہم مطالعہ کرتے ہیں، اس کا براہِ راست رشتہ صرف یونان کے ارسطو سے ہی ملتا ہے۔

سائنس کا وجود ارسطو سے پہلے بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا۔ مگر اسے تواہم پرستی سے الگ ایک باقاعدہ علم کا درجہ حاصل نہ تھا۔ افلاطون کے شاگرد اور سکندراعظم کے استاد کے طور پر ارسطو اپنی زندگی میں ہی ممتاز ترین عالم شمار ہوتا تھا۔ اس کی پیدائش 384 ق م میں مقدونیہ کے ایک شہر میں ہوئی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں اس نے ایتھنز میں افلاطون کی شاگردی قبول کی۔ یونانی فلاسفر شاگرد کی ذہانت سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اسے ذہانت کا مجسمہ قرار دیا۔ نوجوان طالب علم نے اپنی ساری آبائی دولت اپنے وقت کا سب سے بڑا کتب خانہ بنانے پر خرچ کر دی۔ اس کتب خانے کی سب کتابیں ہاتھ سے لکھی ہوئی تھیں کیونکہ اس وقت تک چھاپہ خانہ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ ارسطو کو اپنی زندگی شروع کرنے میں کوئی مشکل نہ آئی۔

پڑھائی ختم کرتے ہی اس کے پاس کئی شہزادے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے لگے۔ ان میں ایک شاگرد ہرمیاس نے تخت نشینی کے بعد اپنے استاد کو اپنے دربار میں شامل ہونے کی دعوت دی اور عقیدت کے طور پر اس سے اپنی بہن کی شادی کر دی۔ ارسطو کی شہرت، تھوڑی ہی مدت میں اتنی پھیل گئی کہ اس زمانہ کا سب سے بڑا بادشاہ فلپ جب 344 ق م میں اپنے بیٹے اور مستقبل کے سب سے بڑے فاتح سکندر کے لیے دنیا کے سب سے بڑے معلم کی تلاش میں تھا تو اس کی نگاہ انتخاب ارسطو پر ہی پڑی۔ ادھر سکندراعظم نے اپنی فتوحات کے ذریعے چھوٹی چھوٹی مملکتوں کو ایک سیاسی نظام میں پرونا شروع کیا۔ ادھر فلاسفر ارسطو نے ذہنی میدان میں اپنی فتوحات کا سلسلہ شروع کیا اور سارے علوم کو فلسفہ کی ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کی۔ مگر جہاں فوجی حاکم کی سلطنت کو منتشر ہونے میں زیادہ عرصہ نہ لگا، وہاں انسانی ذہنوں پر خاص کر یورپ میں فلاسفرز کا لگ بھگ مکمل تسلط کم از کم پندرہ صدیوں تک جاری رہا۔

ارسطو کی تعلیمات کا اثر پندرہویں صدی میں ایک نئے ذہنی انقلاب کی صورت میں ایک بار پھر نمودار ہوا جب قسطنطنیہ پر قبضہ کی وجہ سے عالمِ ارسطو کی تحریروں سمیت یورپ بھاگنے پرمجبور ہوئے۔ ان کے مطالعہ سے یورپ میں جو نئی تحریک جاری ہوئی اسے احیائے علوم کا نام دیا گیا۔ جس کا براہ راست نتیجہ موجودہ سائنس اور ادب ہیں۔ یقیناً کسی ایک دماغ نے انسانی ذہنوں پر اتنے لمبے عرصہ کے لیے کبھی حکومت نہیں کی۔ ارسطو نے 53 سال کی عمر میں اپنا سکول شروع کیا جس کے قواعد طلبا خود بناتے تھے۔ ہر دس دن کے بعد وہ اپنے نگران کا چناؤ کرتے تھے۔ اس سکول میں سائنس کے دیگر مضامین کے علاوہ نباتات اور حیوانیات کے مطالعہ کے خاص انتظامات تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایشیا اور یونان میں تقریباً ایک ہزار آدمی نباتات اور حیوانات کے نمونے جمع کرنے پر مامور تھے۔ ارسطو کے کہنے پر ہی سکندر نے دریائے نیل کے سیلابوں کی وجوہ کی کھوج کرنے کے لیے ایک مہم بھیجی تھی۔ سائنسی تحقیق کے لیے اس سے پہلے اس پیمانے پر انسانی اور مادی ذرائع کا کبھی استعمال نہیں ہوا۔

ارسطو سیکڑوں کتابوں، مضامین اور مسودوں کا مصنف تھا۔ سائنس کے علاوہ اس نے ادب اور فلسفہ کے بیشتر مضامین پر بھی اپنا قلم اٹھایا تھا۔ ارسطو نے کوئی نمایاں نئی سائنسی ایجاد نہیں کی اور نہ ہی سائنس کے کوئی دیرپا قوانین پیش کیے۔ یونان میں غلاموں کی سستی مزدوری دستیاب ہونے کی وجہ سے سائنس دانوں کو نئی مشینین ایجاد کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ تجربہ کے لیے آلہ جات کی عدم موجودگی میں سائنس کے جو قوانین ارسطو نے پیش کیے وہ سب کے سب بعد کے تجربات اور تحقیقات کی روشنی میں کھرے ثابت نہیں ہوئے۔ مگر سائنس محض مشینوں کی ایجاد کا نام نہیں بلکہ سائنس سوچنے کا ایک طریقہ بھی ہے۔

اس لحاظ سے ارسطو کے عظیم سائنس دان ہونے پر کوئی شک نہیں رہتا۔ کیونکہ ارسطو نے منطق کی جس سائنس کو جنم دیا، اس نے آنے والی نسلوں کے لیے سوچنے کے ضابطے اور ذہنی ڈسپلن کا ایک معیار پیش کیا۔ موجودہ سائنس کی بیشتر اصطلاحات وضع کرنے میں بھی اس کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ اس کے علاوہ سائنس کے میدان میں باقاعدہ تجربہ اور مشاہدہ کا رواج بھی ارسطو نے ہی ڈالا۔ حیوانات اور نباتات کی ان گنت قسموں کو اپنی تجربہ گاہ میں جمع کر کے ارسطو نے کچھ ایسے مشاہدے کیے، جنہیں آج کی سائنس بھی درست مانتی ہے۔ چنانچہ اس نے بے جان چیزوں سے لے جاندار مخلوق کی مختلف اقسام کو ایک ہی سلسلہ کی مختلف کڑیاں قرار دیا جسے بعد ازاں سائنس نے درست تسلیم کیا۔

ارسطو کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ اس کی غلط باتیں بھی صدیوں تک عقیدہ کے طورپر قبول کی گئیں۔ اس کی عظمت سائنس کی مزید ترقی کی راہ میں دیوار بن گئی۔ 1600ء میں برونو کو اس لیے زندہ جلا دیا گیا کہ اس نے نظام شمسی کے بارے میں ارسطو کے خیالات کی تردید کی تھی۔ چالیس سال بعد گلیلیو کو اس وجہ سے موت کے گھاٹ اتارنے کی دھمکی دی گئی کہ اس نے ارسطو کے اس قول سے اتفاق نہیں کیا تھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے۔ سائنس پر ایک شخصیت کی اتنی مضبوط گرفت سے گھبرا کر تیرہویں صدی کے سائنس دان راجر بیکن نے اعلان کیا ’’اگر میرا بس چلے تو میں ارسطو کی سب کتابیں جلا دوں۔‘‘ارسطو یقینا ایک عظیم سائنس دان تھا۔ نئے علم کی بنیادیں رکھتے ہوئے، کچھ غلطیاں سرزد ہوجانا غیرمتوقع نہ تھا۔ یونان کا فلاسفر سائنس دان کامیاب زندگی گزارنے کے بعد 322 ق م میں وفات پا گیا۔

بلراج پوری