ابن سینا عظیم طبیب اور سائنس دان

ابن سینا 980ء میں بخارہ (موجودہ ازبکستان) کے نزدیک ایک قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم اسی قصبے کے ایک مقامی سکول میں جاری تھی کہ آپ کے والد آپ کو بخارہ لے آئے اور یہاں آپ نے باقاعدگی سے تعلیم حاصل کی۔ آپ نے علم ریاضی، فلسفہ اور اسلامی تعلیم میں خاص دلچسپی لی۔ ابن سینا ایک ذہین طالب علم تھے۔ آپ نے دس سال کی عمر میں ہی قرآن شریف حفظ کر لیا تھا۔ اسلامی تعلیم کے ساتھ فلکیات، ریاضی اور سائنس میں خاص طور سے دلچسپی لینا شروع کر دی۔ وہ رات دن پڑھائی میں مصروف رہتے تھے۔ اس کے علاوہ تحقیقی کاموں میں بھی اپنے آپ کو مشغول رکھتے تھے۔

ابن سینا کو علم طب میں کافی مہارت حاصل تھی۔ آپ بخارہ میں ایک قابل حکیم کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے نیز غریب اور امیر سب کا علاج کرتے تھے۔ آپ اپنی پریکٹس کے ساتھ ساتھ نئی نئی دواؤں کو بنانے اور ان کو استعمال کر کے ان کے ردعمل پر تحقیق بھی کرتے تھے۔ ابن سینا کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک مرتبہ بخارا کے بادشاہ سخت بیمار ہو گئے۔ ابن سینا کو بغرض علاج طلب کیا گیا۔ آپ نے بادشاہ کا پوری توجہ سے علاج کیا اور اس طرح بادشاہ صحت مند ہو گئے۔ اس واقعہ سے ابن سینا کی مقبولیت میں اضافہ ہو گیا۔ دور دور سے لوگ آپ کو دکھانے آنے لگے۔ ابن سینا اب خوش حال نظر آنے لگے ۔

ابن سینا نے علم و سائنس پر بہت سی کتابیں لکھیں جن میں آپ نے اپنے سائنسی تجربات تحریر کیے۔ آپ نے علم طب پر بھی کتابیں لکھیں۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور کتاب ’’القانون‘‘ ہے۔ اس کتاب میں مختلف طرح کے نسخے، بیماریاں اور تجربات کی تفصیل درج ہے۔ اس کتاب کے دوسری زبانوں میں ترجمے کیے گئے۔ طبی علوم میں یہ کتاب سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ابن سینا ایک اعلیٰ پیمانے کے فلسفی، سائنسدان اور قابل حکیم تھے۔ ان کی ساری عمر سائنس کے فروغ کے لیے تھی۔ اس عظیم سائنسدان نے بہت سی ایجادات کیں اور انسان کی فلاح و بہبود کے لیے بہت کچھ کیا۔ ابن سینا اس زمانے کے سائنس دان تھے جب سائنس نے بہت زیادہ کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔ اس کے باوجود ابن سینا نے اپنی کوششوں کی بنیاد پر سائنس کو فروغ دیا۔

احرار حسین

Advertisements

ابن بیطار : سپین کا عظیم مسلم حکیم

اس وقت آپ کے سامنے سپین کے ایک بہت بڑے عالم اور حکیم جلوہ افروز ہیں۔ آپ ابو محمد عبداللہ اور ضیاالدین کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں، بعض کتابوں میں پورا نام ابو عبداللہ احمد المالقی النباتی لکھا ہے اور بعض میں ابو محمد عبداللہ ابن احمد ابن البیطار۔ عام طور پر ابن بیطار اور البیطار المالقی کے نام سے شہرت رکھتے ہیں۔ آپ کے والد کا نام احمد تھا۔ آپ سپین کے ایک مقام بنانا میں 1197ء میں پیدا ہوئے۔ بنانا ملاگا کے آس پاس ہی ایک بستی ہے۔ ملاگا کو عربی میں مالقہ بنا لیا گیا ہے۔ اسی نسبت سے آپ ابن بیطار المالقی مشہور ہوئے۔

ابن بیطار اپنے زمانے کے نہایت مشہور اور قابل طبیب تھے۔ آپ کو جڑی بوٹیوں کے علم میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ صرف سپین ہی کے نہیں بلکہ یورپ اور افریقہ کے نہایت ممتاز طبیب خیال کیے جاتے تھے، نہایت ذہین اور عقل مند تھے، عربی کی تعلیم پانے کے بعد آپ نے ’’علوم حکمیہ‘‘ پڑھا اور اتنی زبردست قابلیت پیدا کی کہ امام اور شیخ کے لقب سے یاد کیے جانے لگے۔ ابن بیطار بہت ہی خوش اخلاق اور بامروت تھے، بادشاہوں کی نگاہوں میں بھی عزت حاصل تھی اور عوام میں بھی ہر دل عزیز اور مقبول تھے۔ دس سال تک ملک الکامل شاہ دمشق کے دربار میں طبیب کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اس کے انتقال کے بعد قاہرہ (مصر) چلے آئے جہاں ملک الکامل کا بیٹا ملک الصالح نجم الدین ایوب فرماں روا تھا۔ آپ اس کے بھی طبیب خاص مقرر ہو گئے۔

آپ کو جڑی بوٹیوں کی تحقیقات اور چھان بین کا بہت شوق تھا۔ اسی دھن میں آپ نے 20 برس کی عمر میں افریقہ کے بیابانوں شمالی افریقہ، مصر، ایشیائے کوچک اور یونان کے جنگلوں، پہاڑوں کا چپا چپا چھان مارا۔ انہوں نے بوٹیوں کے مقام پیدائش کو دیکھا اور ہری بھری حالت میں ان کے پودوں، پتوں اور پھلوں کا معائنہ بھی کیا، اسی کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی غور کیا کہ بوٹیوں کے سوکھ جانے پر ان کی ظاہری شکل و صورت اور تاثیر میں فرق پڑتا ہے۔ ابن بیطار نے بوٹیوں پر لکھی ہوئی یونانی حکیموں کی کتابوں کو گہری توجہ سے پڑھا تھا، پھر مختلف ممالک میں گھوم پھر کر اپنی معلومات میں اضافہ کیا تھا۔

آپ نے جڑی بوٹیوں کے علم پر ایک عمدہ کتاب ’’کتاب الدویہ المفردہ‘‘ لکھی تھی۔ اس کتاب سے یورپ والوں نے بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔ آپ نے دمشق میں بوٹیوں کا ایک باغ لگایا تھا جس میں بہت سی بوٹیاں بوئی گئی تھیں۔ آپ ان بوٹیوں کو بہت غور اور توجہ سے دیکھا کرتے تھے۔ بیماریوں میں ان کے تجربات بھی کرتے تھے۔ دوسرے ملکوں کے مصنف ابن بیطار کی بہت تعریف کرتے ہیں، چناں چہ ’’طب عرب‘‘ (عربین میڈیسن) کے مصنف کیمبل نے لکھا ہے کہ ابن بیطار علم العقاقیر، یعنی جڑی بوٹیوں کا بہت بڑا ماہر تھا۔ اس نے ارسطو وغیرہ کی کتابیں پڑھی تھیں۔ مصر و شام اور ایشیائے کوچک کے جنگلوں کی خاک چھانی تھی۔

آپ نے 14 سو بوٹیوں کے حالات لکھے ہیں۔ ’’نفخ الطیب‘‘ کے مصنف کا خیال ہے کہ ابن بیطار جڑی بوٹیوں کی پہچان اور ان کے متعلق دوسری باتوں میں دنیا بھر میں اپنی مثال آپ تھے۔ عیون الانبا فی طبقات الاطبا کا مصنف ابن ابی اصیبعہ بہت مشہور طبیب اور ابن بیطار کا شاگرد تھا۔ وہ دمشق کے سفر میں ان کیساتھ رہ چکا تھا۔ اس کی پہلی ملاقات دمشق میں ان سے ہوئی تھی۔ وہ لکھتا ہے کہ ابن بیطار نہایت شریف، خوش اخلاق اور بامروت تھے۔ جب انہوں نے دمشق کے آس پاس بوٹیوں کی دیکھ بھال اور چھان بین شروع کی ہے تو میں بھی ان کے ساتھ تھا، اس کے بعد میں نے ان کی کتاب جو بوٹیوں پر انہوں نے لکھی انہیں سے پڑھی۔

ابن بیطار یونان کے بڑے اور نامور مصنفوں مثلاً دیقوریدوس اور جالینوس کی کتابیں یونانی زبان ہی میں پڑھا کرتے تھے اور تقریروں میں ان کی کتابوں کے حوالے بھی دیا کرتے تھے۔ ان کی یادداشت بہت اچھی تھی، علم بھی بہت وسیع تھا۔ نفخ الطیب کے مصنف کا بیان ہے کہ ابن بیطار دواؤں کی تحقیقات ہی میں کام آئے۔ ان کی موت کا سبب ایک مہلک دوا ہی تھی۔ انہوں نے تجربہ کرنے کی دھن میں ایک زہریلی بوٹی کھا لی تھی۔ انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں۔ ان میں ’’کتاب الادویتہ المفردہ‘‘ سب سے زیادہ مشہور ہے۔ اس کتاب میں دواؤں کے متعلق قیمتی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ نئے اور پرانے اطبا کے اقوال بھی لکھے ہیں۔

آخر میں تحقیقات کے نتیجے لکھے ہیں۔ ان کی دوسری کتاب ’’مفردات ابن بیطار‘‘ ہے۔ اس کو ’’جامع الادویہ والا غذیہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کتاب 1291ء میں چھپ گئی تھی۔ اس میں معدنی، نباتی اور حیوانی دواؤں سے علاج کا طریقہ بتایا گیا ہے اور ذاتی تجربات بھی لکھے ہیں۔ ان دو کتابوں کے علاوہ ابن بیطار نے چار اور کتابیں لکھیں۔ یہ بھی کافی مشہور ہیں۔ 642ھ مطابق 1248ء میں ابن بیطار نے دمشق میں انتقال کیا اور وہیں انہیں دفن کیا گیا۔

احرار حسین

سائنس نے سو سال میں دنیا کیسے بدل دی؟

بی بی سی کے لیے لکھے جانے والے ایک مضمون میں نوبیل انعام یافتہ سائنس دان اور برطانیہ کی رائل سوسائٹی کے صدر سر وینکی رام کرشنن نے سائنسی دریافت کے موضوع پر روشنی ڈالی ہے کہ اس نے کیسے ایک مختصر دورانیے میں ہمارا تصورِ کائنات بدل کر رکھ دیا ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیوں آج بھی اپنی تحقیق کے استعمال کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔ اگر ہم معجزاتی طور پر سنہ 1900 سے ذہین ترین افراد کو آج کی دنیا میں لے آئیں تو وہ یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ جائیں گے کہ جن مسائل نے انسان کو صدیوں سے پریشان کر رکھا تھا ہم نے ان کا حل بڑی حد تک تلاش کر لیا ہے۔

صرف ایک سو سال پہلے لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وراثت اگلی نسلوں کو کیسے منتقل ہوتی ہے یا ایک خلیہ کیسے تقسیم ہو کر پورا جاندار بن جاتا ہے۔
انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ایٹم کی اندرونی ساخت بھی ہوتی ہے، حالانکہ خود لفظ ایٹم کا مطلب ‘ناقابلِ تقسیم’ ہے۔ انھیں معلوم نہیں تھا کہ کائنات یا زندگی کا آغاز کیسے ہوا۔ آج بنیادی دریافتوں کی بدولت ہم ان سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں یا کم از کم کوشش کر سکتے ہیں۔ ان جوابات نے ہمارا کائنات کے بارے میں اور خود اپنی روزمرہ زندگی کے بارے میں تصور بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج ہم جن چیزوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے وہ بھی بنیادی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کو آگے بڑھاتی ہیں۔

تقریباً ہر ایجاد کے پیچھے ایک یا ایک سے زیادہ بنیادی دریافتیں ہوتی ہیں۔ بعض اوقات بنیادی دریافت صدیوں پرانی ہوتی ہے۔ نیوٹن کے قوانینِ حرکت سمجھے بغیر جیٹ انجن یا راکٹ ایجاد کرنا ممکن نہیں تھا۔ ان سو سالوں میں سائنس میں کئی بڑے لمحے آئے۔ جیسے ڈی این اے کی ساخت کی دریافت۔ لیکن خود یہ دریافت بھی ڈارون اور مینڈل کی وجہ سے ممکن ہو سکی اور اس نے بعد میں بائیو ٹیکنالوجی کے دروازے کھول دیے۔ آج ہم انسان کے مکمل ڈی این اے (جسے ‘جینوم’ کہتے ہیں) کا آسانی سے جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملی ہے کہ جینیاتی بیماریاں کیسے لاحق ہوتی ہیں اور انھیں کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں سائنس دانوں نے ایک بچی کے جینز میں تبدیلی لا کر اسے لاحق کینسر کا مرض دور کر دیا۔

تاہم انسانی جینوم اس قدر پیچیدہ ہے کہ ہم نے یہ سمجھنا ابھی حال ہی میں شروع کیا ہے کہ جین کیسے ماحول کے ساتھ مل کر ہمارے جسم کا نظام چلاتے ہیں۔
بگ بینگ تھیوری نے ہمیں بتایا کہ کائنات کیسے وجود میں آئی۔ سو سال قبل اس سوال کا جواب صرف مذہب ہی دے سکتا تھا۔ جب ہمیں پتہ چلا کہ کائنات جامد نہیں ہے بلکہ مسلسل پھیل رہی ہے اور کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہٹتی جا رہی ہیں، تو اس سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ آغاز میں تمام مادہ ایک ہی جگہ پر مرکوز تھا اور کائنات ایک عظیم دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آئی۔

اس علم نے ہمیں سب سے بڑے سوال کا جواب دینے کے لیے مواد فراہم کیا ہے۔ اور وہ سوال ہے، ہر چیز کہاں سے آئی؟ اس سے ہمارا ننھا سا سیارہ مزید چھوٹا لگنے لگا ہے، تاہم ہمارے اندر جو علم کی تڑپ ہے، اس نے ہمیں احساسِ کمتری کا شکار ہونے سے بچائے رکھا ہے۔ اپالو مشن سے لے کر کیسینی خلائی جہاز تک اور ہبل خلائی دوربین سے لے کر ثقلی موجوں کی دریافت تک، یہ تمام انکشافات ہمیں خلا کے بارے میں مزید سوالوں کے جواب ڈھونڈے پر اکساتے ہیں۔
آج ہم دنیا کو بڑی حد تک ایک الیکٹرانک سکرین پر دیکھتے ہیں۔ کمپیوٹر مختلف شکلوں میں علم کا ماخذ ہیں، لیکن وہ اس بات کا بھی تعین کرتے جا رہے ہیں کہ ہم بقیہ دنیا اور دوسرے انسانوں کے ساتھ کس طرح سے پیش آتے ہیں۔

آج کے دور کی ایک انتہائی عام چیز یعنی سمارٹ فون بھی کئی بنیادی دریافتوں کی مرہونِ منت ہے۔ اس کے اندر موجود کمپیوٹر انٹی گریٹڈ چپ کی مدد سے کام کرتا ہے۔ خود انٹی گریٹڈ چپ ٹرانزسٹروں سے بنی ہوتی ہے، جن کی دریافت کوانٹم مکینکس کی تفہیم کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ فون کے اندر موجود جی پی ایس آئن سٹائن کے نظریۂ اضافیت میں وقت کے تصور کی تفہیم پر کام کرتا ہے۔ حالانکہ ایک زمانے میں لوگوں کا خیال تھا کہ یہ نظریہ عام زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈال سکے گا۔

اس وقت کمپیوٹر نئی دریافتوں میں مدد دے رہے ہیں جن کی وجہ سے ہمارا دنیا کے بارے میں تصور بدلتا جا رہا ہے۔ اس وقت ہمارے درمیان ایسی مشینیں موجود ہیں جو خود سیکھ سکتی ہیں اور وہ ہماری دنیا کو تبدیل کر رہی ہیں۔ کمپیوٹر صحت اور سماجی میدانوں میں پیش رفت کے وسیع امکانات رکھتے ہیں، اور ہم جلد ہی اپنے درمیان بغیر ڈرائیور والی کاریں اور جدید روبوٹ دیکھ سکیں گے، لیکن ہمیں اس بارے میں بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہوں گے کہ ہمیں ذہین مشینوں کو کس تک دخل اندازی کی اجازت دینی چاہیے۔ ایجادات اخلاقی طور پر نہ بری نہ اچھی ہوتی ہیں، ہمارا استعمال انھیں اچھا یا برا بنا دیتا ہے۔ ایک دریافت جس نے ہمیں دو حصوں میں تقسیم کر دیا وہ ایٹم کی تقسیم تھی۔ اس دریافت نے دنیا کے خطرناک ترین ہتھیار ایجاد کرنے کی راہ ہموار کی۔

تباہی کے خوف نے امن قائم کیا ہے لیکن یہ صورتِ حال زیادہ پائیدار نہیں ہے
بعض لوگ کہتے ہیں کہ مکمل تباہی کا خوف امن جاری رکھنے کی ضمانت ہے۔ لیکن یہ کوئی پائیدار حل نہیں ہے جس کا ایک ثبوت شمالی کوریا کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ دوسری طرف ایٹم کی تقسیم نے ہمیں توانائی کا ایک سستا ذریعہ بھی فراہم کیا ہے۔ سائنس خود ہمارے بارے میں اور ہمارے ارد گرد کی دنیا کے بارے میں جاننے کی جستجو کا نام ہے۔ اسی جستجو نے ہمارے دنیا کے بارے میں تصورات بھی بدلے ہیں اور ہماری زندگیوں کو بھی بدل دیا ہے۔ آج ہماری عمریں 1900 کے مقابلے پر دگنی ہیں اور معیارِ زندگی بھی پہلے سے کہیں بہتر ہے۔ لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال نے صرف سائنس دانوں ہی پر اثر نہیں ڈالا۔ ان کا انحصار ثقافتی، معاشی اور سیاسی عوامل پر ہے۔ سائنس انسانی علم کی فتح ہے، اور اس کی تفہیم اور استعمال سے ہمیں دور رس فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

وینکی رام کرشنن
صدر رائل سوسائٹی

بشکریہ بی بی سی اردو

عظیم طبیب جالینوس

آپ اپنے براعظم ایشیا سے تو اچھی طرح واقف ہوں گے۔ مغربی ایشیا کا ایک علاقہ ایشیا مائنر یا ایشیائے کوچک کہلاتا ہے۔ یہ علاقہ پرانے زمانے میں علم اور تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ اس زمانے میں یہاں پر پرگیمم نام کا ایک بڑا شہر تھا۔ اب اس کے صرف کچھ آثار باقی رہ گئے ہیں۔ اسی شہر میں 130ء میں طب مشرق کا یہ عظیم ماہر پیدا ہوا جسے تاریخ جالینوس کے نام سے یاد کرتی ہے۔ خوش قسمتی سے اس نے ایک پڑھے لکھے خاندان میں جنم لیا۔ اس کا باپ ایک تعلیم یافتہ شخص تھا، اس لیے اسے اپنے بیٹے کی تعلیم کا خاص خیال تھا۔

ابتدائی حالات

اس زمانے میں یونانی طب کی شہرت تھی۔ جالینوس کو بھی اس کا شوق ہوا، لیکن ابھی وہ بیس برس کا تھا کہ اس کے باپ کا سایہ اس کے سر سے اٹھ گیا۔ اس نے ہمت نہیں ہاری ۔ علم کا شوق اسے جگہ جگہ لیے پھرتا رہا۔ اس زمانے میں سمرنا اور اسکندریہ طب اوردوسرے علوم کے بڑے مرکز تھے لہٰذا جالینوس نے وہاں کا سفر اختیار کیا۔ ابھی جالینوس کا بچپن ہی تھا کہ اس نے طب کی اچھی خاصی تعلیم حاصل کر لی تھی۔ سمرنا اور اسکندریا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد جالینوس وطن آیا اور وہاں اس نے لوگوں کا علاج معالجہ شروع کیا۔ بعض لوگوں کو قدرت پیدائشی طور پر کسی خاص کام کا سلیقہ عطا کرتی ہے۔ محنت اور شوق اس جوہر کو چمکاتے ہیں۔ جالینوس بھی ایسے ہی خوش قسمت افراد میں سے تھا۔

ابھی اس کی عمر تھوڑی ہی تھی کہ اس نے طب میں اچھا خاصا کمال پیدا کرلیا اور اس کی شہرت اس کے اپنے شہر کے علاوہ دوسرے شہروں تک پھیل گئی ۔ کچھ دنوں کے بعد جالینوس نے محسوس کیا کہ صرف یہ شہر اس کی شہرت اور کام کے لیے کافی نہیں۔ اس لیے اس نے روم کا رخ کیا جو اس زمانے میں یورپ کا نہ صرف سب سے بڑا شہر تھا بلکہ تہذیب کا مرکز بھی تسلیم کیا جاتا تھا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، جالینوس کی شہر ت نے اس کے بہت سے دشمن پید ا کر دیے، بعض لوگ اس سے محض اس وجہ سے جلتے تھے کہ وہ پرانی راہوں کو بدلتا تھا اور کسی ایسی بات کو ماننے کو تیار نہ تھا جس کا ثبوت نہ مل سکے۔ حاسد جلتے رہے لیکن جالینوس اپنا کام محنت سے کرتا رہا۔ قدرت محنت کرنے والے کو راحت ضرور دیتی ہے اور محنتی انسان کو عظمت ملتی ہے۔

روم میں آمد

جالینوس روم میں کیا آیا گویا اس کی شہرت کو چار چاند لگ گئے۔ تھوڑے ہی عرصے میں نہ صرف اس کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی بلکہ وہ امیر کبیر ہو گیا، کیوں کہ اس کے علاج سے روم کے بہت سے رئیسوں کو شفا حاصل ہوئی اور انہوں نے اسے دل کھول کر سرمایہ دیا۔ اس کے دروازے پر مریضوں کا ہجوم لگا رہتا تھا۔ لیکن جالینوس نے غیر معمولی شہرت پر کبھی غرور نہیں کیا۔ اس نے غریبوں کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور اسی وجہ سے اس کی عزت میں اضافہ ہوا۔ اتفاق سے روم کا بادشاہ پیٹ کے مرض میں مبتلا ہو ا۔ اس نے جالینوس کو اپنے علاج کے لیے طلب کیا۔

یہی وہ زمانہ تھا کہ اس نے اپنی مشہور دوا جوارش جالینوس تیار کی جس سے نہ صرف بادشاہ وقت کو شفا نصیب ہوئی بلکہ طب مشرق میں وہ آج تک اسی شہرت کی مالک ہے۔ بادشاہ کو شفا حاصل ہوئی تو اسے درباری طبیب کا اعزاز مل گیا اور اس کے مرتبے میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اب روم کے پرانے طبیب اس سے اور بھی زیادہ جلنے لگے اور وہ خوامخواہ اس کے طریق علاج میں عیب نکالنے لگے۔ جالینوس ان کی پروا کیے بغیر اپنے کام میں مصروف رہا۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ قدیم طبی مفروضات کی اصلاح کرے اور اس عظیم فن کو جدید بنیادوں پر استوار کرے۔ اس کام میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ اس وقت کسی انسانی جسم کی چیر پھاڑ کر کے اس کا معائنہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اطبا کو یقین کے ساتھ معلوم نہیں تھا کہ کون سا عضو کہاں ہے۔

کارنامے

جالینوس کو ایک ترکیب سوجھی، وہ جانتا تھا کہ بندروں کا جسم انسان جیسا ہوتا ہے۔ لہٰذا اس نے بندروں پر تجربات شروع کیے ۔ اس نے انسانی جسم کے متعلق بہت سے غلط تصورات کی تردید کی۔ اس لحاظ سے وہ اناٹومی کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ جالینوس سے پہلے انسانی ڈھانچے اور ہڈیوں کے فعل کے بارے قابل ذکر تحقیقات نہ تھیں۔ اتفاق سے جالینوس کو ایک پہاڑ پر مردہ انسانی ڈھانچہ مل گیا ۔ اس نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر انسانی ہڈیوں کے مقام اور فعل کی تشریح کی۔

ایڈورڈ جینز

سائنسی انداز فکر کیا ہے؟

کائنات اور اس کے مظاہر کو سمجھنے کی کسی شعوری کوشش کے بغیر ہم اپنی زندگی کے روزانہ مشاغل میں بے فکری سے مصروف رہتے ہیں۔ نہ ہم اس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں نہ اس طرف کوئی خیال جاتا ہے کہ وہ کون سی ’’مشینری‘‘ ہے جو سورج کی دھوپ کو پیدا کرتی ہے یا کس وجہ سے زمین پر زندگی کا وجود ہے۔ ہم اس کشش ثقل کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سے ہم زمین پر قائم ہیں ورنہ اس کشش ثقل کے بغیر تو ہم زمین سے اڑ کر فضا میں پہنچ جاتے۔ ان ایٹمی ذروں کی طرف بھی کوئی دھیان نہیں جاتا جس سے ساری کائنات، ہماری زمین، سارے جاندار اور ہم خود بنے ہوئے ہیں اور جن کی استقامت پر ہم بنیادی طور پر بھروسہ کرتے ہیں۔

انسانی فطرت میں شوق تجسس ذوق و شوقِ تجسس انسانی فطرت میں داخل ہے۔ جو شخص جتنا ذہین ہوتا ہے اس میں کرید کا مادہ اور شوق تجسس اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ کائنات اور اس کے مظاہر کے متعلق ہر ذہین انسان سوچتا ہے۔ تہذیب کے ہر دور میں لوگ ایسے سوال پوچھتے رہے ہیں اور ان کے ذہنوں میں جستجو رہی ہے کہ کائنات ایسی کیوں ہے جیسی وہ ہے اور یہ کہ کائنات کیسے وجود میں آئی اور کہاں سے آئی ہے۔ حضرت غالب کے ذہن میں بھی کافی تجسس تھا۔ دریافت فرماتے ہیں: سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے مزید یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا کائنات ہمیشہ سے موجود تھی؟ اور اگر اس کا آغاز ہوا تو کیسے ہوا؟ بچوں کی فطرت میں شوق تجسس بے حد ہوتا ہے۔ وہ قدرتی طور پر ہر طرح کے سوال کرتے ہیں اور ہر چیز کی نوعیت اور ماہیت کو جاننا چاہتے ہیں۔

موجودہ زمانے میں بعض ذہین بچے تو یہاں تک جاننا چاہتے ہیں کہ بلیک ہول کیا ہوتا ہے اور مادہ کا سب سے چھوٹا ذرہ کون سا ہے؟ ہمارے معاشرے میں یہ عام قاعدہ ہے کہ بچے اگر اپنے والدین یا استادوں سے ایسے چبھتے ہوئے سوال کریں اور اگر جواب معلوم نہ ہو تو لاعلمی چھپانے کے لیے یا تو اپنے کندھے اچکا دیتے ہیں یا بعض لوگ بے حد گھبرا جاتے ہیں۔ اس لیے کہ انسانی سوجھ بوجھ کی حد اس قدر واضح طور پر سامنے آ جاتی ہے۔ بچوں کا اپنے والدین پر مکمل انحصار اور اعتماد ہوتا ہے لیکن جب بچے ان سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں پاتے اور انہیں ڈانٹ کر خاموش کر دیا جاتا ہے تو رفتہ رفتہ ان کی تجسس کی حس اور انفرادی آزادانہ سوچ بچار کی قابلیت مدھم یا مفقود ہو جاتی ہے۔

سائنس کو انسانی فطرت اور کائنات کے عوامل اور مظاہر سے کسی طور جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ سماجی، معاشی، معاشرتی، سیاسی، مذہبی اور فلسفیانہ مسائل سے سائنس کا ہر قدم پر واسطہ پڑتا ہے اور کبھی کبھی ٹکراؤ بھی ہو جاتا ہے۔ سائنسی تکنیک سے ہر شخص فائدے حاصل کر سکتا ہے۔ سائنس دان اپنا نقطہ نظر پیش کر دیتے ہیں لیکن اس پر اصرار نہیں کرتے کہ یہ حرف آخر ہے۔ سائنس کی بنیاد سائنس خیالی مفروضوں پر مبنی نہیں ہے۔ اس کی بنیاد بیشتر تجربوں پر ہے۔ تجربوں کے دوران واقعات کی دریافت اور مشاہدات سے ان پر غور و خوض کے بعد ایک مفروضہ یا ہائپوتھیسس بنایا جاتا ہے۔

اگر بعد کے تجربات یا دوسرے سائنس دانوں کے آزادانہ تجربوں سے اس کی توثیق ہوتی ہے تو اسے قبول کر لیتے ہیں ورنہ یا تو اسے رد کر دیا جاتا ہے یا اس میں ضروری ترمیم اور تبدیلی کر لی جاتی ہے۔ نئے تجربے اور مشاہدات مسلسل جاری رہتے ہیں جن کی بنیاد پر نئے مفروضے اور کلیے بنائے جاتے ہیں۔ سائنس کا علم ہمیشہ آزمائشی اور تجرباتی ہے جس میں دیر یا سویر موجودہ نظریوں میں تبدیلیاں متوقع ہوتی ہیں۔ اس کا احساس رہنا چاہیے کہ سائنس کا طریق کار ہی ایسا ہے کہ منطقی طور پر کسی مکمل یا آخری حل کا حاصل کرنا ناممکن ہے۔ اسے لازمی طور پر ایسا ہونا ہی چاہیے کیوں کہ سائنس کا علم ہمیشہ تغیر پذیر اور ارتقائی ہے۔

مزید علم اور نئی معلومات کے ساتھ تبدیلیاں اس لیے ضروری ہیں کہ مفروضوں اور نظریوں کی زیادہ سے زیادہ صحت حاصل ہو سکے۔ پھر بھی پرانے نظریے قابل عمل رہتے ہیں اور ان سے حاصل شدہ فائدوں سے استفادہ جاری رہتا ہے اور ان نظریوں کی عملی صداقت قائم رہتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ سائنس مطلق صداقتوں (Absolute Truth ) کی کھوج اور تفتیش کی تائید نہیں کرتی بلکہ اس سے دور رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ اس لیے کہ سائنس میں مطلق صداقت کا کوئی وجود نہیں ہے۔ نئے تجربے اور انوکھے خیالات گتھیوں کو مسلسل سلجھانے اور فطرت کے رازوں کا انکشاف کرتے رہتے ہیں۔ سائنس کا مقصد سائنس کا مقصد یہ جاننے کی کوشش ہے کہ کائنات اور یہ دنیا کیسے بنی ہے اور زندگی کس طرح پیدا ہوئی اور یہ کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے۔

اس امر کی کوشش کی جاتی ہے کہ کائنات کے اندرونی رازوں کا انکشاف کیا جائے مثلاً تحت ایٹمی ذروں (sub atomic particles) جن سے کہ ساری کائنات بنی ہے ان کی نوعیت اور ماہیت دریافت کی جائے۔ اس کے علاوہ یہ بھی مقصد ہوتا ہے کہ حیاتیاتی انواع اور انسان کی معاشی اور معاشرتی تنظیم بلکہ بحیثیت مجموعی پوری کائنات کا جائزہ لیا جائے اور اس کی اصلیت دریافت کی جائے۔ اس سلسلے میں محض جبلت اور چھٹی حس دھوکا دے سکتی ہے۔ سائنسی رویہ سائنس بنیادی طور پر ایک رویہ اور انداز فکر ہے نہ کہ محض معلومات کا ذریعہ۔ سائنٹفک رویہ اب ایک عام گھریلو لفظ بن گیا ہے لیکن اس کے صحیح مفہوم سے کم ہی لوگ آشنا ہیں۔ اس لیے یہ برمحل بلکہ بے حد ضروری ہے کہ سائنٹفک رویہ کی صحیح تعریف سے کماحقہ، واقفیت حاصل کی جائے۔ سائنسی رویہ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ کائنات اور اس کے مظاہر فطرت، انسانی ذہن، اس کے شعور اور لاشعور کو سمجھنے کی کوشش کی جائے اور ان کو سمجھنے کے قابل بنایا جائے۔

ڈاکٹر محمود علی

(کتاب ’’فلسفہ سائنس اور کائنات‘‘ سے اقتباس)

ابن باجة : مغربی مسلمانوں میں پہلا بڑا فلسفی

ابوبکر محمد ابن باجة سارا گوسا میں 1138ء میں پیدا ہوا۔ یورپ میں ابن باجة کو Avempace کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس دور کے تقاضوں کے مطابق ابن باجة نے کئی علوم میں مہارت حاصل کی، جن میں سائنسی و فقہی علم کے علاوہ فلسفے میں بھی خصوصی دلچسپی لی۔ وہ کچھ عرصہ سارا گوسا کے گورنر کا وزیر رہا، مگر سارا گوسا پر عیسائیوں کے قبضے کے بعد وہ شمالی افریقہ چلا گیا۔ مغربی مسلمانوں میں یہ پہلا بڑا فلسفی ہے لیکن سپین میں فلسفہ مشرقی مسلمانوں کے ذریعے ہی پہنچا تھا۔ ابن باجة فارابی کا بہت معتقد تھا اور اس کی فلسفیانہ تحریروں میں فارابی کا فلسفہ ہی چھایا ہوا ہے۔ ایک بات میں ابن باجة کی اہمیت زیادہ ہے۔ وہ یہ کہ اس نے ارسطو کی اصل کتابیں بڑی باریک بینی سے پڑھیں اور ان کی تشریحات لکھیں، جن سے یورپ کافی متاثر ہوا لیکن غالباً سب سے زیادہ سینٹ تھامس اکئیانس متاثر ہوا۔

انسانی عقل کے متعلق ابن باجة کہتا ہے ’’انسانی عقل کے دو حصے ہیں، ایک عقل فعال اور دوسری مادی عقل، مادی عقل انسانی جسم سے مشروط ہے، جو جسم کے فنا ہو جانے سے خود بھی فنا ہو جاتا ہے لیکن عقلِ فعال غیر مادی، غیر جسمی اور لافانی ہے، فعال عقل انسان میں سب سے زیادہ ہے اور اس کا کام یعنی ’فکر کرنا‘ انسان کا سب سے عظیم کام ہے اور فکر کے ذریعے ہی انسان خدا کو پہچان سکتا ہے اور اس سے یکجا ہو سکتا ہے۔‘‘ ابن باجة فکری عمل کو ریاضت و تصوف پر فوقیت دیتے ہوئے، اسے حقیقت کبریٰ تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتا ہے، مگر یہ فکری عمل خاموشی اور تنہائی کے بغیر مشکل ہے۔ اس کے لیے مفکر کو انسانوں کے ہجوم سے پرے جا کر کچھ سوچنا چاہیے یا ایسی بستی آباد کرنی چاہیے جہاں صرف مفکر ہوں۔ بالواسطہ طور پر وہ سقراط والی بات کرتا ہے کہ جب لوگ اجتماعی شکل میں جمع ہوتے ہیں تو ان کی سوچ سطحی اور بے وقوفانہ ہو جاتی ہے۔

اکبر لغاری

(کتاب ’’فلسفے کی مختصر تاریخ‘‘ سے اقتباس)

عظیم کیمیا دان جابر ابن حیان : کیمیا کی تاریخ اسے فراموش نہیں کر سکتی

آپ کو ایک ایسے مسلمان کیمیا دان کا حال سناتے ہیں جس کی محنت اور کوشش سے علم کیمیا کو بڑی ترقی ملی اور وہ موجودہ حالت پر آیا۔ اس کا نام جابر ابن حیان تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ سب سے پہلا کیمیا دان تھا۔ اس کا تعلق عرب کے جنوبی حصے کے ایک قبیلے ازد سے تھا۔ اس کے خاندان کے لوگ کوفے میں آباد ہو گئے تھے۔ لیکن جابر 722ء میں خراسان کے شہر طوس میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ حیان کوفے سے یہاں آ گیا تھا۔ جابر ابھی بچہ ہی تھا کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس کی ماں اس کی ننھی جان کو ساتھ لے کر عرب چلی گئی اور وہاں اپنے قبیلے کے لوگوں میں رہنے لگی۔

جابر نے یہاں ہی تعلیم پائی۔ دینی تعلیم کے علاوہ اس نے ریاضی اور دوسرے علوم کا مطالعہ بھی کیا۔ جب وہ جوان ہوا تو اپنے قبیلے کو چھوڑ کر مدینہ منورہ میں آگیا۔ یہاں اس نے امام جعفر صادقؓ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ امام جعفر صادقؓ نہایت عالم اور باکمال امام تھے۔ ان ہی کی صحبت کا اثر تھا کہ جابر اگرچہ بعد میں سائنس دان بنا لیکن اس پر مذہب کا رنگ بھی غالب رہا۔ مدینہ منورہ سے جابر کوفہ آیا، جہاں اس کے بزرگ رہتے تھے۔ یہاں اس نے اپنی تجربہ گاہ قائم کی اور کیمیا پر تحقیقات کیں جن کی بنا پر وہ دنیا کا پہلا کیمیا دان کہلایا۔ جابر نے بچپن ہی سے بہت محنت کی اور برابر تجربات کرتا رہا۔ اس نے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ وہ عربی کے علاوہ یونانی زبان بھی اچھی طرح جانتا تھا۔ اسی لیے اس نے یونانی علم کو عربی زبان میں پیش کیا اور پرانے علوم سے فائدہ اٹھایا۔ 786ء میں جابر عمررسیدہ تھا تو مشہور عباسی خلیفہ ہارون الرشید بغداد میں تخت سلطنت پر بیٹھا۔ وہ پڑھے لکھے لوگوں کی بڑی قدر کرتا تھا۔ اس کے وزیر بھی بڑے لائق تھے اور علم کی قدر کرتے تھے۔ انہوں نے جابر کی شہرت سنی تو اسے بغداد بلا لیا لیکن کچھ عرصہ بعد جابر پھر کوفے واپس آ گیا۔

اب تو علم کیمیا بہت ترقی کر چکا ہے۔ اس کی بہت سی شاخیں ہیں، لیکن جابر کے زمانے میں اس علم کا مطلب یہ تھا کہ معمولی دھاتوں کو سونے میں تبدیل کر دیا جائے۔ کسی کو اس میں کامیابی تو حاصل نہیں ہوئی لیکن کوشش سب کرتے تھے۔ جابر نے اپنا وقت صرف اس خیال پر ضائع نہیں کیا۔ اس نے تجرباتی کیمیا پر زور دیا۔ وہ بہت سے تجربات سے واقف تھا جو آج بھی آپ اپنی تجربہ گاہ میں کرتے ہیں، مثلاً حل کرنا، کشیدکرنا، فلٹر کرنا، اشیا کا جوہر اڑانا اور مختلف چیزوں کی قلمیں بنانا، سچ تو یہ ہے کہ جابرتجرباتی کیمیا کا بانی ہے۔ اپنی کتاب میں وہ لکھتا ہے: ’’کیمیا میں سب سے ضروری چیز تجربہ ہے ۔ جو شخص اپنے علم کی بنیاد تجربے پر نہیں رکھتا، وہ ہمیشہ غلطی کھاتا ہے۔ پس اگر تم کیمیا کا صحیح علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو تجربے پر انحصار کرو اور صرف اسی علم کو صحیح جانو جو تجربے سے ثابت ہو جائے۔ کسی کیمیا دان کی قابلیت کا اندازہ اس سے نہیں لگایا جاتا کہ اس نے کیا کیا پڑھا ہے بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس نے تجربے کے ذریعے کیا کچھ ثابت کیا جاتا ہے۔‘‘

جابر دھاتوں کو گرمی پہنچا کر ان سے کشتہ بنانا جانتا تھا۔ اس نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے اپنی کتابوں میں فولاد بنانے، چمڑا رنگنے، دھاتوں کو صاف کرنے، موم جامہ بنانے، لوہے کو زنگ سے بچانے کے لیے اس پر وارنش کرنے، بالوں کا خضاب تیار کرنے اور اسی قسم کی درجنوں مفید چیزیں بنانے کے طریقے بیان کیے ہیں۔ اس کے علاوہ جابر نے اپنی کتابوں میں تیزابوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ وہ تیزاب بنانا جانتا تھا اور بعض ان چیزوں سے اچھی طرح واقف تھا جو آج بھی اسی شکل میں محفوظ ہیں۔ کیمیائی آلات میں جابر کی سب سے اچھی ایجاد قرع انبیق ہے جس سے کشید کرنے، عرق کھینچنے اور ست یا جوہر تیار کرنے کا کام لیا جاتا تھا۔

جابر نے اپنی تحقیقات سے علم کیمیا کو ایک نیا روپ دیا اور اسے کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عرب کے ایک بدوی قبیلے کا ایک بچہ جو بالکل چھوٹی عمر میں ہی یتیم ہو گیا تھا، کس طرح اس مرتبے تک پہنچا کہ کیمیا کی تاریخ اسے فراموش نہیں کر سکتی۔ مغرب نے اس سے بہت کچھ سیکھا۔ آج یورپ میں اسے Jeber کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسلامی عہد میں سنہری کارنامے انجام دینے والایہ سائنس دان 817ء میں فوت ہوا جب اس کی عمر پچانوے سال تھی۔

جیمز واٹ