تیس ہزار سے زائد سائنسی مطالعے غلط ہو سکتے ہیں، رپورٹ

سائنسی مطالعوں کے حوالے سے ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق تیس ہزار سے زائد سائنسی مطالعے غلط ہو سکتے ہیں۔ نیدر لینڈ کی رادبود یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ہزاروں تجربات میں استعمال کئے گئے 451 خلوی کاشت آلودہ ہو گئے ہیں۔ محققین نے تنبیہ کی ہے کہ حکام کی جانب سے غلط طور پر منظور کئے گئے ان تجربات سے بہت سے علاج غیر موثر ہو سکتے ہیں۔ آلودہ خلیات میں سے کچھ کی ابتدا 1951 سے ہوئی اور انہیں چھ سے زائد عشروں تک لیبارٹریز میں استعمال کیا جا چکا ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ آلودہ خلیات کا استعمال تحقیقاتی ماحول میں اب بھی جاری ہے ، محققین نے تنبیہ کی ہے کہ اس مسئلے پر میڈیکل کمیونٹی کی جانب سے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

حافظ محمد نعمان

Advertisements

مسلمان سائنسدانوں کا عہد زریں

عبدالرحمان صوفی، دور خلافت عباسیہ: عبدالرحمان نے ستاروں کی روشنی پیمائش میں اصطلاح کی۔

ابن یونس، دور خلاف عباسیہ: ابن یونس نے آونگ (رقاصہ ساعت) پینڈولم ایجاد کیا۔ اور اس کے جھولنے سے وقت کی پیمائش کی۔

فاطمی خلافت: اس کے زمانے میں قاہرہ کے کتب خانے میں بیس لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں جن میں سے چھ ہزارصرف ریاضیات، فلکیات اور طبیعیات سے متعلق تھیں۔

اشبیلیہ کا مینار جیرالد : عظیم ریاضی دان جابر بن افلح کی زیر نگرانی فلکی مشاہدات کے لیے 1198ء میں تعمیر کیا گیا۔ اس کی تعمیر کئی برس میں مکمل ہوئی ۔ یہ اب بھی سپین میں موجود ہے اور اسے اہم تاریخی ورثہ کردانا جاتا ہے۔

بہاء الدین العاملی: دسویں صدی ہجری کا آخری ریاضی دا ن معلم جس نے الجبرا پر بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔

میر ہاشم جیلانی: انہوں نے محقق طوسی کی کتاب اصول الہندسہ والحساب کی شرح لکھی تھی۔

لطف اللہ المہندس : لال قلعہ اور جامع مسجد دہلی اور تاج محل آگرہ تعمیر کرنے والے استاد کا بیٹا لطف اللہ نامور مہندس تھا۔ اس نے خلاصتہ الحساب کی شرح لکھی۔ ان کا تعلق لاہور سے تھا۔

ابو عبداللہ محمد بن حسن طوسی: نامور عالم ہیئت دان‘ ریاضی دان‘ ماہر طبیعیات‘ علم اخلاق ‘ موسیقی اور علوم حکمیہ کا ماہر تھا۔ اس کی فرمائش پر ہلاکو خان نے رصد گاہ تعمیر کروائی تھی۔ 30 سے زیادہ تصانیف کا مصنف تھا۔

قطب الدین شیرازی: علوم عقلیہ اور نقلیہ کا ماہر سائنسدان تھا بے شمار کتابوں کا مصنف تھا۔ اس نے فلکیات ‘ ارضیات‘ سمندروں‘ فضا میکانیات اور بصریات پر بحث کی ہے۔ اس کے خیال میں زمین مرکز کائنات ہے۔ قوس قزح پر بھی اس نے کھل کر بحث کی۔

کمال الدین الفارسی: قطب الدین شیرازی کا شاگرد جس نے ہالہ قمر اور قوس قزح کے بارے میں اپنے استاد کے نظریات کو جھٹلایا اور ابن الہیثم کی کتاب کی شرح تصنیف کی۔

محمد بن محمد چغمینی: علم ریاضی پر ایک مشہور کتاب الخلص فی الہیتہ کے نام سے لکھی۔ الحمیاری، ساتویں / آٹھویں صدی: ان کا شمار کیمیا دان جابربن حیان کے معلمین میں کیا جاتا ہے۔

ابراہیم الفزاری، آٹھویں صدی تا 777ئ:خلافت عباسیہ کے دور میں خلیفہ ہارون الرشید کے تحقیقاتی اداروں سے وابستگی رہی۔ علم فلکیات پر تحقیق و تحریر کیں جن میں اسطرلاب اور سالنامہ کی ترتیب بھی شامل ہیں۔ ہارون الرشید کے کہنے پر یعقوب بن طارق کی شراکت میں ہندوستانی فلکیاتی تحریروں کا عربی میں ترجمہ کیا، یہ کتاب 750ء میں بیت الحکمہ بغداد میں الزیج علی سنی العرب کے نام سے تکمیل کو پہنچی۔

جابر بن حیان721ء تا 815ئ: کیمیا دان، طبیعیات میں کام؛ علم الادویہ میں تحقیق؛ علم الہیئت میں تحقیق ۔

ارشمیدس سائنس کا شیدائی

آپ کو ایک ایسے شخص کی زندگی کے حالات سناتے ہیں، جو علم کی خاطر زندہ رہا اور اسی کی خاطر مرا۔ وہ سچ مچ سائنس کا دیوانہ تھا۔ اس نے سائنس کے ایسے اصول بنائے کہ ہم آ ج تک ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ہم سب کے لیے اس کی زندگی ایک سبق ہے، کیونکہ وہ ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوا تھا، جب پڑھنے لکھنے کے لیے آج جیسی آسانیاں موجود نہیں تھیں۔ یہ تقریباً 200 ق م پہلے کی کہانی ہے۔ بحیرۂ روم میں ایک جزیرہ ہے اور سسلی اس کا نام ہے۔ ہماری یہ کہانی اسی جزیرے کے ایک شہر سے شروع ہوتی ہے۔ ایک شام وہاں اچھی خاصی چہل پہل تھی۔ بہت سے لوگ ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ کچھ ہوٹلوں میں بیٹھے کھا پی رہے تھے۔

ملاح دن بھر کا کام ختم کر کے بندرگاہوں سے واپس آ رہے تھے کہ عجیب واقعہ ہوا۔ سب لوگ خاموش ہو گئے، بلکہ حیرت میں پڑ گئے۔ لوگوں نے تعجب میں ایک دوسرے سے کچھ پوچھنا شروع کیا، کیونکہ ایک جانا پہچانا سمجھ دار آدمی اپنی دھن میں مگن، ساری دنیا سے بے خبر چلا آ رہا تھا۔ اس کی بے خودی کا عالم یہ تھا کہ وہ کپڑے تک پہننا بھول گیا تھا۔ صرف ایک لفظ اس کے منہ سے نکل رہا تھا، جسے سب سن رہے تھے اور بس۔ کچھ لوگوں نے اسے دیوانہ سمجھا لیکن دوسروں نے اس کی مخالفت کی۔ یہ دیوانہ نہیں تھا۔ یہ تو اس زمانے کا نہایت مشہور اور عقل مند انسان تھا۔ وہ مانا ہوا ریاضی داں اور نہایت قابل انجینئر تھا۔ البتہ یہ راز کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ وہ اس حالت میں بازار میں کیوں نکل آیا۔

یہ راز اگلے دن کھلا۔ سائنس کا یہ شیدائی ارشمیدس تھا، جس کا بنایا ہوا اصول آپ نے اپنی کتابوں میں پڑھا ہو گا۔ سائنس کی تاریخ میں اس کا نام ہمیشہ رہے گا کیونکہ اس نے اپنی محنت سے علم و سائنس کی ایسی شمع روشن کی جس نے اس گئے گزرے دور میں بھی جہالت کے دھندلکوں کو دور کیا۔ حساب اور سائنس کے ایسے ایسے اصول وضع کیے جن پر بعد کے سائنس دانوں نے علم و ہنر کے عظیم قصر تعمیر کیے۔ جدید سائنس ان قدیم سائنس دانوں کی خدمات فراموش نہیں کر سکتی۔ ارشمیدس جزیرہ سسلی کے شہر سیراکیوز میں 287 قبل از مسیح میں پیدا ہوا۔ اسے وہاں کے بادشاہ کی سرپرستی حاصل ہوئی۔

شاید آپ نے یہ قصہ سنا ہو کہ بادشاہ نے اپنے لیے سنار سے ایک تاج بنوایا، لیکن جب تاج بن کر آیا تو بادشاہ کو اس کے خالص ہونے پر شک ہوا۔ بادشاہ سنار کو سزا دینا چاہتا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی ذریعہ نہیں تھا جس سے وہ ثابت کر سکے کہ تاج کے سونے میں کسی سستی دھات کی ملاوٹ کر دی گئی ہے۔ اس نے یہ کام ارشمیدس کے سپرد کیا۔ جو اس زمانے میں ریاضی کا استاد مانا جاتا تھا۔ اب تو یہ معمولی سی بات ہے۔ سونے کو کسوٹی پر پرکھ کر کھرا کھوٹا معلوم کیا جا سکتا ہے، لیکن اس وقت یہ کام بڑا مشکل تھا۔ ارشمیدس بھی سوچ میں پڑ گیا۔

وہ اس معمولی کام کو سائنس کی روشنی میں انجام دینا چاہتا تھا۔ اسے نہاتے وقت خیال آیا کہ ٹب میں ہمیں اپنا جسم ہلکا کیوں محسوس ہوتا ہے۔ وہ شہر کے غسل خانوں میں جاتا اور کافی دیر ٹب میں پڑا ہوا یہ تجربہ کرتا رہتا۔ ایک دن نہاتے نہاتے ارشمیدس کو نہیں معلوم کیا ہوا کہ وہ فوراً ٹب سے باہر کود پڑا اور ’’یوریکا‘‘، ’’یوریکا‘‘ کہتا ہوا غسل خانے سے نکل گیا۔ جس کا مطلب ہوتا ہے: میں نے معلوم کر لیا، مجھے معلوم ہو گیا ہے۔ وہ خوشی میں ایسا دیوانہ ہوا کہ شہر کے ایک بارونق بازار میں عجیب و غریب حالت میں نکل آیا۔ یہی وہ مشہور واقعہ ہے جس کا ذکر ہم نے اس کہانی کے شروع میں کیا ہے اور جس سے علم کے اس شیدائی کے شوق اور محنت کا پتا چلتا ہے۔

اگر انسان محنت کرے تو کوئی کام ناممکن نہیں ہے۔ گھر پہنچتے ہی ارشمیدس نے اپنا معلوم کیا ہوا اصول پھر تجربوں کی مدد سے جانچا۔ تجربے کے بعد اس نے کہا کہ کوئی جسم پورے یا جزوی طور پر ڈبویا جاتا ہے تو اس کے وزن میں کچھ کمی پیدا ہو جاتی ہے اور یہ کمی اس مائع کے وزن کے برابر ہوتی ہے، جو اس جسم کے ڈوبنے کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے۔ اسی تجربے اور اصول کی وجہ سے ارشمیدس نے بادشاہ کو بتایا کہ اس کے تاج میں کتنا خالص سونا ہے اور کتنا کھوٹ ہے۔ اب بھی ارشمیدس کا یہ اصول اسی طرح مشہور چلا آ رہا ہے۔ اس انوکھے واقعے سے ارشمیدس اور بھی مشہور ہو گیا۔ یوں بھی وہ ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور اس کے باپ نے جو ایک ہیئت داں تھا، اس کی تعلیم و تربیت پر پوری توجہ دی تھی۔ ارشمیدس کی ابتدائی تعلیم مصر کے شہر اسکندریہ میں ہوئی۔ مصر شروع سے ہی ایک زرعی ملک رہا ہے۔

ارشمیدس کو شروع سے انجینئرنگ سے دلچسپی تھی۔ اس نے آب پاشی کے لیے پیچ دار مشین ایجاد کی۔ آج ہماری بہت سی مشینیں اسی اصول پر کام کرتی ہیں۔ اس نے بعد میں مزید کئی مشینیں ایجاد کیں۔ آپ نے لیور یا بیرم کے بارے میں تو پڑھا ہوگا۔ ارشمیدس نے اسی سادہ مشین کے بارے میں کہا تھا مجھے ایک بڑا بیرم دے دو اور کھڑا ہونے کے لیے جگہ تو میں پوری زمین کو اٹھا دوں گا۔ خیر یہ بات تو ممکن نہیں تھی، لیکن ارشمیدس نے ایسی سادہ مشینیں ضرور ایجاد کیں جن کی مدد سے جہازوں پر سامان لادا اور اتارا جا سکتا تھا۔ آج بھی ہم بعض ایسی مشینیں استعمال کرتے ہیں۔ ارشمیدس نے اپنے ملک کو دشمنوں کے حملے سے بچانے کے لیے اور دشمن کو شکست فاش دینے میں بھی غیر معمولی خدمات سر انجام دیں۔

یہ اس وقت ہوا جب رومن جنرل مرسلیس نے ارشمیدس کے شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیا لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ارشمیدس نے ساحل پر ایسی مشینیں لگا رکھی ہیں جن کی مدد سے بڑے سے بڑا جہاز بھی غرق کیا جا سکتا ہے۔ کچھ جہازوں کو ارشمیدس نے رسیوں سے کھینچ کر چٹانوں سے ٹکرا ٹکرا کر پاش پاش کر دیا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے چند عدسوں اور شیشوں کی مدد سے رومنوں کے جہازی بیڑے میں آگ لگا دی تھی۔ الغرض رومن فوج اس یونانی ریاضی داں کی نت نئی ایجادات سے بوکھلا گئی اور بھاگ کھڑی ہوئی۔ اس قدر شہرت اور قابلیت کے باوجود ارشمیدس کی زندگی نہایت ہی سادہ تھی۔ غرور اسے چھو کر بھی نہیں گیا تھا۔ حد یہ ہے کہ اس نے اپنی ایجادات کو کتابی شکل میں جمع کرنے تک سے انکار کر دیا۔

اسے اپنا نام چھوڑجانے کی کوئی خوشی نہیں تھی۔ اپنی علمی قابلیت ہی کے بل بوتے پر تین سال تک اس نے رومن فوجوں کو اپنے ملک سے دور رکھا، لیکن پھر جنرل مرسلیس نے دھوکے بازی سے علم پر فتح پا لی اور شہر میں داخل ہو گیا۔ جنرل مرسلیس اچھی طرح جانتا تھا کہ ارشمیدس ہی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اس کے باوجود وہ قابلیت و ذہانت کی وجہ سے ارشمیدس سے محبت کرتا تھا۔ اس نے ارشمیدس سے ملنا چاہا اور ایک سپاہی اسے بلانے کے لیے بھیجا۔ جب سپاہی ارشمیدس کے گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ فرش پر بیٹھا ٹیڑھی میڑھی لکیریں کھینچ رہا ہے۔ وہ اپنے خیالات میں اتنا محو تھا کہ اسے سپاہی کے آنے کا پتا تک نہ چلا۔ سپاہی نے ایک دو مرتبہ اسے اپنے جنرل کے پاس چلنے کے لیے کہا، لیکن اس نے پروا نہ کی۔ اس پر سپاہی نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ڈاکٹر لوئیجی گیلوانی

سیارچے کے ٹکراﺅ سے برپا قیامت انسانی نسل کا خاتمہ کر دے گی : اسٹیفن ہاکنگ

معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ تیس برسوں کے دوران انسانوں نے خلاء میں نیا ٹھکانہ نہ ڈھونڈا تو انسانیت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
ناروے میں ایک سائنس فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ تیس برسوں میں انسانوں کو لازمی طور پر زمین چھوڑنا ہو گی ورنہ کسی سیارچے کے ٹکراﺅ سے برپا قیامت انسانی نسل کا خاتمہ کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں کو مریخ اور چاند پر نئی دنیا کو آباد کرنا ہو گا اور پودوں، جانوروں اور دیگر حیات کو بھی وہاں بسانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بہت کم وقت رہ گیا ہے جب زمین کسی سیارچے کے ٹکرانے، درجہ حرارت بڑھنے یا حد سے زیادہ آبادی کے نتیجے میں تباہ ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دیگر سیاروں میں جانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں کیونکہ خطرات بہت بڑے اور بہت زیادہ ہیں۔ ان کے بقول ‘میں اس بات کا قائل ہوں کہ انسانوں کو زمین چھوڑ دینی چاہیے، یہ سیارہ ہمارے لیے بہت چھوٹا ہو گیا ہے، ہمارے ذرائع خطرناک شرح سے ختم ہو رہے ہیں’۔ انہوں نے مزید کہا ‘ ہم نے اپنے سیارے کو موسمیاتی تبدیلیوں، بڑھتے درجہ حرارت اور قطبی برفانی خطوں میں کمی، جنگلات اور جانوروں کے خاتمے جیسے تباہ کن تحائف دیئے ہیں، اور ہم تیزی سے اپنے انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں’۔ اسٹیفن ہاکنگ کے مطابق ہمارے پاس جگہ ختم ہو رہی ہے اور اب رہنے کے لیے دیگر سیارے ہی بچے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زمین جلد کسی تباہ کن سیارچے سے ٹکرائے گی ‘یہ کوئی سائنس فکشن نہیں بلکہ فزکس کے قوانین کی ضمانت ہے، خلاء میں پھیلنے سے ہم انسانیت کے مستقبل کو مکمل طور پر بدل سکتے ہیں، اس سے ہی تعین ہو گا کہ ہمارا کوئی مستقبل ہے بھی یا نہیں’۔ انہوں نے کہا کہ چاند اور مریخ پہلی انسانی آبادیوں کے لیے بہترین مقامات ہیں، تاہم انسانوں کو نظام شمسی سے نکل کر قریبی ستاروں کے نظام تک جانا ہو گا۔

الفارابی کے نظریات

فارابی وہ پہلا ترک فلسفی تھا جسے بہت زیادہ شہرت نصیب ہوئی۔ فارابی نے نہ صرف فلسفہ یونان کا گہری نظر سے مطالعہ کیا بلکہ ارسطو کے فلسفہ کی تشریح لکھی اور اسے آسان بنایا۔ اس نے فلسفہ یونان اور اسلامی تعلیمات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ فارابی نے انسانی عقل کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک عقل عملی اور عقل نظری۔ عقل عملی ہمیں عمل کے بارے میں بتاتی ہے یعنی ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ جبکہ عقل نظری ہمیں استکمال ( perfection) حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ فارابی نے عقل نظری کو مزید تین حصوں میں تقسیم کیا۔ عقل ہیولانی عقل نالفعل اور عقل مستفاد۔

فارابی نے عقل نظری کو عقل عملی پر ترجیح دی۔ اس کا خیال تھا کہ اگر کوئی شخص کسی شے کا علم رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا یا اس علم کے مطابق اپنے کردار کو نہیں ڈھالتا تو وہ اس شخص سے بہرحال بہتر ہے جو اعمال تو نیک بجا لاتا ہے لیکن اس کے بارے میں علم نہیں رکھتا۔ اصل میں یہ بات اس نے سقراط کے زیر اثر کہی تھی یعنی سوچ سمجھ کر برائی کرنا بلا سوچے سمجھے نیکی کرنے سے بدرجہا بہتر ہے کیونکہ علم انسانی کو نتائج اور عواقب سے بچا سکتا ہے۔ فارابی نے ذہنی صحت کے سلسلے میں معاشرے کو بے حد اہمیت دی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ذہنی آسودگی اور کامیابی کا انحصار مل جل کر زندگی بسر کرنے میں ہے۔

اس نے معاشرے کی دو اقسام بیان کیں۔ کامل معاشرہ اور غیر کامل معاشرہ۔ کامل معاشرہ وہ ہے جس میں لوگ اتحاد و یگانگت سے رہیں اور غیر کامل معاشرہ وہ ہے جہاں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہو۔ ہر شخص محض اپنا مفاد ہی سوچے اور محض اپنی خاطر جئے۔ افلاطون نے بہترین معاشرے کا نام جمہوریت رکھا تھا۔ فارابی نے اسے شہر فضیلت کا نام دیا۔ یعنی وہ ایسی مثالی ریاست ہو گی جہاں لوگ ایک دوسرے سے تعاون کریں گے اور اپنی اور دوسروں کی زندگی کو خوشگوار بنانے میں ممدومعاون ثابت ہوں گے ۔

محمد عاصم صحرائی

ابن بطوطہ کا شہر طنجہ

1977 میں جبکہ میں صرف نو برس کی تھی میرے والدین مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو شمالی مراکش میں طنجہ کی سیاحت کو لے گئے۔ یہ موسم گرما کا وسط تھا۔ شہر کی قدیم بستی عدینہ میں خواتین چوڑے کناروں والے تنکوں کے ہیٹ پہنے اور سرخ و سفید دھاریوں والے کمبل لٹکائے گلیوں میں گھوم پھر کر پودینہ اور کدو بیچتی پھر رہی تھیں۔ لڑکے ان کھلے ڈبوں کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے جو اسپین سے آنے والی ممنوعہ اشیا، یعنی ٹرانسسٹر ریڈیو، پلاسٹک کی گھڑیوں، استعمال کے بعد ناکارہ اشیا سے بھرے پڑے تھے۔

دارالحکومت رباط سے تعلق رکھنے والی چھوٹی سی بچی کے لیے لباس، رسوم و رواج اور بولیوں میں علاقائی فرق اس امر کا ثبوت تھا کہ طنجہ ایک مختلف شہر تھا۔ طنجہ تاریخی روایات کا حامل ہے، طنجہ پرفسوں شہر ہے۔ اسی دنوں میں نے اپنے تصویری انسائیکلوپیڈیا میں یونانی اساطیر بشمول ہرکولیس کا مطالعہ کیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اپنی 12 ریاضتوں کے اختتام پر اس نے طنجہ کے قریب آ کر آرام کیا۔ لہٰذا جب اگلے روز ہم شہر سے 14 کلومیٹر دور ہر کولیس کے غار دیکھنے گئے تو خاص طورپر پُر جوش تھی۔

ہمیں اندر جا کر جو نظارہ دیکھنے کو ملا وہ قابل دید تھا۔ دیوار کے اندر افریقہ کی الٹی شکل کی طرح کا ایک خلا تھا جس کے مقابل فیروزی مائل نیلے آسمان اور گہرے نیلے بحراوقیانوس کی شبیہ دکھائی گئی تھی۔ جبکہ میں اپنے والد کا ہاتھ تھامے ڈر رہی تھی کہ کہیں گہرے پانی میں نہ گر پڑوں، چند نوجوان لڑکوں نے بڑی دلیری سے سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ آیا ہرکولیس کا غار ایک ارضیاتی عجوبہ تھا یا انتہائی باہنر قبائل کی جانفشانی کا نتیجہ، کوئی بھی میرے سوال کی تشفی نہ کر سکا۔ طنجہ میں افسانے اور حقیقت کے مابین بہت خفیف فرق پایا جاتا ہے۔ ہرکولیس وہ واحد سیاح نہیں تھا جسے شہر کے اندر جنت ملی تھی۔

رومن یہاں ایک صدی قبل مسیح پہنچے تھے، پھر جرمن غارت گر، بنوامیہ، بنو عباس، ادریسی، مریندیسی اور بہت سی دیگر بادشاہتیں، بربر یا عرب مسلمان یا عیسائی، مقامی یا غیر مقامی آئے، پرتگیزی پندرھویں صدی میں حملہ آور ہوئے، طنجہ کے لوگ بھی ہسپانوی حکومت کے زیرنگین آ گئے تھے۔ چند برس بعد انگریز آ گئے۔ یہ سب ایک ہی چیز کے طلب گار تھے۔ ایک ایسا شہر جس کا براعظم کے عین سرے پر وقوع انہیں اس قابل بنا دے گا کہ وہ اندروں ملک سے ہونے والی بہت سی تجارت کو کنٹرول کر سکیں گے۔ وہ سب پھر وہاں سے چلے گئے، اگرچہ ہرکولیس کی طرح وہ اپنی کچھ نہ کچھ یادگار یا نشانی طنجہ میں چھوڑ گئے۔ ہسپانویوں نے چودہ سو نشستوں پر مشتمل تھیٹر بنوایا جہاں ان کے موسیقی اور اوپرا کے سب سے بڑے ستاروں نے دو عالمی جنگوں کے درمیان اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

برطانویوں کی یادگار چرچ آف سینٹ اینڈریو ہے جو اس قطعہ زمین پر تعمیر کیا گیا تھا جو انہیں سلطان نے عطیہ کیا تھا، اور جس کا ٹاور ایک مینار کی طرح نظر آتا ہے۔ طنجہ آپ کو اپنی طرف راغب کرتا ہے، اور پھر پرے دھکیل دیتا ہے، آپ کو دوبارہ اپنی طرف کھینچنے کے لیے۔ حتیٰ کہ تقریباً 25 برس دور رہنے کے بعد اس کا مشہور ترین سپوت ابن بطوطہ بھی واپس لوٹ آیا تھا۔ یہی کچھ میں نے کیا، بار بار۔ اس مرتبہ اپنے خاوند کے ساتھ۔ پہلی نظر میں مجھے شہر ویسے کا ویسا نظر آیا جیسا کہ میں اسے چھوڑ کر گئی تھی۔

لیلیٰ لالامی

(ترجمہ: اعزاز باقر)

مسلمان سائنس دان

ابو القاسم مسلمہ بن احمد المجریطی : علم ہندسہ فلکیات اور دیگر ریاضیاتی علوم کا ماہر تھا۔ اس نے ریاضی المعاملات کے نام سے پہلی تجارتی کتاب لکھی۔

ابوبکر محمد بن حسن الحاسب الکرخی : اس نے الجبرے میں دو درجی مساوات کے دونوں حل نکالنے کا مکمل کلیہ مع ثبوت کے پیش کرنے کے علاوہ مقاد پر اصم کی جمع و تفریق کے طریقے معلوم کیے۔ اس نے دو کتابیں ’’کتاب الفخری‘‘ اور ’’الکافی فی الحساب‘‘ تحریر کیں۔

ابو علی الحسن بن عبداللہ بن سینا (ابن سینا): قانون فی الطب اور الشفا جیسی غیر معمولی کتابوں کا مصنف تھا۔ اس نے حرکت اتصال قوت خلا لا نسیایت اور حرارت کا مطالعہ کیا۔ وزن پر بحث اور فن طب و جراحت میں امام کی حیثیت کے حامل ہیں۔ ان کی کتابوں کا ترجمہ لاطینی ‘ انگریزی‘ فرانسیسی‘ زبانوں میں شائع ہو چکا ہے۔

علامہ تفضل حسین خان وفات 1800ء: جید عالم اور ریاضی دان تھے۔ ان کی مشہور تصنیف کتاب فی الجبر ہے۔

یعقوب الکندی: اصل وجہ شہرت طب ہے جبکہ وہ علم ریاضیات کا بھی ماہر تھا۔ ریاضیات کے متعلق اس کی رائے تھی کہ اس علم کے فلسفہ کے بغیر اچھی طرح سمجھنا ممکن نہیں ہے۔

ثابت بن قرہ: موسیٰ خورازمی کا ہونہار شاگرد جس نے ریاضی میں جیومیٹری کی بعض اشکال کے متعلق ایسے مسائل اور کلیات دریافت کیے جو اس سے پہلے معلوم نہ تھے۔ علم اعداد میں اس نے موافق عددوں کے متعلق مختلف کلیوں کا استعمال کرنے کا طریقہ رائج کیا۔ وہ پچاس کتابوں کا مصنف تھا۔ اس کی کتابوں میں کتاب فی المخروط المہ کافی، کتاب المختصر فی علم الہندسہ، کتاب فی الانوا و دیگر شامل ہیں۔

ابوبکر رازی: اس نے پہلی بار ثابت کرنے کی کوشش کی کہ زمین کی شکل ’’کروی‘‘ اور اس کے دو محیط ہیں جن کے گرد زمین گردش کرتی ہے۔ سورج زمین سے بڑا اور چاند چھوٹا ہے۔

عمر خیام: 1039ء تا 1124ء ریاضی دان، منجم اور شاعر ہے۔ رباعیات کے حوالے سے مشہور شاعر نے اصفہان میں ایک رصد گاہ تعمیر کی جہاں اس نے سب سے زیادہ مشاہدات شمسی سال کے حوالے سے کیے۔ اس کی تحقیقات کے مطابق شمسی سال کی پیمائش 365 دن 5 گھنٹے 49 منٹ تھی۔ موجودہ زمانے کی پیمائش اوراس کی پیمائش میں صرف 11.3 سیکنڈ کا فرق پایا جاتا ہے۔ عمر خیام نے ایک زیج بھی مرتب کی۔ علاوہ ازیں کتاب الجبر و المقابلہ لکھ کر موسیٰ خوارزمی کی غلطیوں کی نشاندہی کی۔

یعقوب الفرازی: خلیفہ المنصور کے دربار کا ہیئت دان تھا، سب سے پہلے مسلمانوں میں اصطرلاب تیار کیا۔ اس موضوع پر ان کی کتاب کا نام العمل بالاصطراب المسطح ہے۔ دوسری مشہور کتاب کا نام سند الہند الکبیر ہے۔

موسیٰ بن شاکر: خلیفہ مامون رشید کا درباری تھا۔ وہ اور اس کی اولاد علم ریاضیات کے امام ہیں۔ بنو موسیٰ شاکر نے مراکز اثقال ہندسہ‘ مخروطات‘ آلات حربیہ اور دیگر موضوعات پر کتابیں لکھیں۔ ان کی ایک مشہور کتاب کتاب قسمتہ الزاویہ الی ثلاۃ اقسام مشاوریۃ کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

محمد بن موسیٰ الخوارزمی: خلیفہ مامون الرشید کا مصاحب تھا۔ اس نے علم ریاضیات میں الجبرا کو الگ اور مستقل حیثیت دینے کے علاوہ صفر کا ہندسہ ایجاد کیا۔ اس لیے موسیٰ الخوارزمی کو کمپیوٹر کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ گنتی کا موجودہ طریقہ موسیٰ خوارزمی کا کارنامہ ہے۔ خوارزمی کی مشہور کتابیں زیخ السند ہند اور کتاب صورۃ الارض ہیں۔ اس کتاب کا ترجمہ لاطینی زبان میں 1831ء میں شائع ہوا۔

محمد احمد بن ابوریحان البیرونی 973ء تا 1048ء : ریاضی دان و ماہر فلکیات البیرونی نے معدنیاتی نمونے جمع کر کے ان کے مختلف اجزا (اشیا) کو الگ الگ تول کر اوزان مخصوصہ کے نقشے تیار کیے جو آج تک رائج ہیں۔ قانون مسعودی مشہو رعالم کتاب ہے محیط اراضی کی مقدار ناپنے یا نکالنے اور دریا یا زمین کی گہرائی ناپنے کا طریقہ ایجاد کیا۔

حسن الحسن بن الہیثم 965ء تا 1043ء : طبیب و ماہر فلکیات ابن الہیثم نے قوس قزح پر تحقیق کی۔ موضوع بصریات پر دنیا کی پہلی کتاب المناظر بھی تحریر کی تھی۔ جس میں اس نے بتایا تھا کہ نگہ آنکھ سے نکل کر دوسری چیزوں پر نہیں پڑتی ہے بلکہ خارجی چیزوں کا عکس آنکھ کے تل پر پڑتا ہے جسے دماغ کا ایک پٹھا محسوس کرتا ہے۔ اس نے رنگ اور روشنی کے انتشار اور انعکاس نور پر بھی بحث کی ہے۔ علم ہیئت و میکانیات پر اس نے 44 رسالے تصنیف کیے۔

البستانی: سورج کی اوج مدار کی حرکت کا انکشاف کیا۔ چاند اورستاروں کی حرکات کی تصحیح کی۔ اسی نے علم مثلث کے تناسبات کے متعلق اولین تصورات رائج کیے جواب تک مستعمل ہیں۔ البستانی کی مشہور کتاب الزیح الصابی کا ترجمہ اطالوی محقق ینلینو کارلو الفانسو 1872ء تا 1938ء نے کیا تھا۔

ابو الوفابوز جانی:ابو الوفا نے قمر (چاند) پر شاندار تحقیق کی۔ چاند کی تیسری حالت (انحراف) کا انکشا ف بھی اسی نے کیا تھا۔ علم ہندسہ اور جبر و مقابلہ میں اس کی تصانیف کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔

نصیر الدین طوسی : ماہر فلکیات، الجبراء ، طبیعیات

نصیرالدین طوسی نے ایک فلکیاتی رصد گاہ بھی بنائی اور اس وقت کے نامور سائنسدانوں کو اس رصد گاہ میں کام کرنے کے لیے اپنے ساتھ شامل کر لیا جن میں المؤید العرضی جو دمشق سے آئے تھے، الفخر المراغلی الموصلی، النجم دبیران القزوینی اور محیی الدین المغربی الحلبی شامل ہیں۔ انہیں مختلف علوم جیسے : فقہ، اصول ، عقاید اسلامی، طبیعیات ، ریاضیات، ھیات ، حدیث و کلام پر بہت زیادہ مہارت حاصل تھی ، علوم اسلامی اور علوم بشری کو مختلف ابعاد میں گسترش دینے کی وجہ سے ان کو استاد البشر کے لقب سے نوازا گیا ۔

فقہ، کلام، علوم عقلی و نقلی اور طبیعیات میں ان کی تاثیر اس حد تک ہے کہ مغربی دانشور نے بھی ان کی تعریف کی ہے ان میں سے ایک جرمن کے پروفیسر بروکلمان ہیں جس نے ان کو علم او ایل (۱) کے سرکردہ کہا ہے اور ان کو چھٹی ہجری کے مشہور ترین عالم کا خطاب دیا ہے ۔ خواجہ کو شعری ذوق بھی حاصل تھا ، انہوں نے اپنے دیوان منازل السالکین میں بارہ سو اشعار لکھے ہیں ۔ انہوں نے بہت ساری تصانیف چھوڑیں جن میں سب سے اہم کتاب شکل القطاع ہے، یہ پہلی کتاب تھی جس نے مثلثات کے حساب کو علمِ فلک سے الگ کیا، انہوں نے جغرافیہ ، حکمت، موسیقی، فلکی کیلینڈر، منطق، اخلاق اور ریاضی پر بیش قیمت کتابیں لکھیں جو ان کی علمی مصروفیت کی دلیل ہیں، انہوں بعض کتبِ یونان کا بھی ترجمہ کیا اور ان کی تشریح وتنقید کی، اپنی رصد گاہ میں انہوں نے فلکیاتی ٹیبل (زیچ) بنائے جن سے یورپ نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

انہوں نے بہت سارے فلکیاتی مسائل حل کیے اور بطلیموس سے زیادہ آسان کائناتی ماڈل پیش کیا، ان کے تجربات نے بعد میں کوپرنیکس زمین کو کائنات کے مرکز کی بجائے سورج کو نظام شمسی کا مرکز قرار دینے میں مدد دی، اس سے پہلے زمین کو کائنات کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے آج کے جدید علمِ فلک کی ترقی کی راہ ہموار کی، اس کے علاوہ انہوں نے جبر اور ہندسہ کے بہت سارے نظریات میں نئے انداز کے طریقے شامل کیے ساتھ ہی ریاضی کے بہت سارے مسائل کو نئے براہین سے حل کیا، سارٹن ان کے بارے میں کہتے ہیں : طوسی اسلام کے سب سے عظیم سائنسدان اور ان کے سب سے بڑے ریاضی دان تھے، ریگو مونٹینوس نے اپنی کتاب المثلثات کی تصنیف میں طوسی کی کتب سے استفادہ کیا۔

انہوں نے علم کلام ، فقہ، اخلاق، نجوم، حدیث اور تاریخ میں مختلف کتابیں تالیف اور تصنیف کی ہیں جن کے نام یہ ہیں :1. تجرید الاعقاید (تجرید الکلام یا تجرید الاعتقاد) 2. بقاء النفس بعد بوار البدن 3. جواہر الفراید فی الفقہ.، 4. الفرایض النصیریہ .، 5. آداب المتعلمین .6. رسالہ فی الامامہ 7. رسالہ فی العصمہ .، 8. تلخیص المحصل .،9. الجبر و الاختیار .،10. جوابات الطوسی لصدر الدین قونوی .،11. الفصول النصیریہ ،12. قواید العقاید .،13. اساس الاقتباس (فی المعانی والبیان) .،14. خلافت نامہ .،15. اخلاق ناصری .،16. الاربعون حدیثا،7. تزکیہ الارواح عن موانع الافلاح .،اسی طرح مختلف موضوعات پر ان کے تقریبا 180 مقالات ہیں .

طیب رضا عابدی

سائنس کی دلچسپ دنیا : ڈاکٹر عطاء الرحمٰن

سائنس کے تقریباً ہر شعبے میں حیرت انگیز دریافتیں وقوع پزیر ہو رہی ہیں جو کہ ہماری زندگی میں ایک غیر متوقع انداز سے اثر انداز ہو رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کا شعبہ جس رفتار سے ارتقا پذیر ہے اس سے اس سیارے سے انسانی نسلوں کے ختم ہونے کا واضح خطرہ لاحق ہو گیا ہے لہٰذا اس شعبے کے ارتقاء کو فوری طور پر سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ الیکٹرک کار کی کمپنی ٹیسلا اور خلائی نقل و حمل کی کمپنی SpaceX کے سربراہ، ایلون مسک (Elon Musk) نےاس ابھرتے ہوئے خطرے پر ایک انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں امریکہ میں قومی گورنرز ایسوسی ایشن کے موسم گرما کے اجلاس میں مختلف امریکی ریاستوں کے گورنرز سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت ’’سب سے بڑا خطرہ ہے جس کا اس تہذیب کو سامنا ہے ‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں۔ اگر مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو بہت دیر ہو جائیگی کیونکہ ہم کچھ ہی عرصے میں روبوٹ استعمال کر رہے ہونگے جو ہر طرح سے ہمارے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوشیار ہوں گے، اور وہ اپنی غلطیوں سے تیزی سے سیکھنے کے قابل ہو جائیں گے حتیٰ کہ انسانوں سے کہیں زیادہ ذہین ’’انواع‘‘ اگلی چند دہائیوں میں بن جائیں ۔ صنعتیں جلد ہی خود مختار ہو جائیں گی اور نتیجے میں کروڑوں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔ اس سےقومی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اگر مناسب قواعد و ضوابط پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کافی بڑی تعداد میں حکومتیں ان      آنے والے حالات و خطرات سے نا آشنا ہیں۔ لہٰذا اس سلسلے میں ضروری کارروائی کی فوری ضرورت ہے اس سے پہلے کہ معاملات ہمارے اختیارسے باہر نکل جائیں۔ فلم سیریز ’ دی ٹرمینٹر‘ میں پیش کردہ منظر ایک حقیقت بننے جا رہا ہے۔ جنگوں میں انسانی فوجیوں کی جگہ مشینیں لڑا کریں گی جوانسانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوشیار ہیں، اور ہوشیار ترین کمپیوٹرز والے ممالک دنیا پر حکومت کریں گے، وہ دن زیادہ دور نہیں جب انسانوں کی ضرورت ان کی کمزوریوں مثلاً غصہ وغیرہ کی وجہ سےختم ہو جائیگی اور ’برقی انواع‘ غالب ہو جائیں گی جو عمر کی قید سے مستثنیٰ اور ہر لحاظ سے سمجھدار ہونگی۔ مسک نے کہا کہ جب لوگوں کو اندازہ ہو گا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے تو وہ بہت ڈر جائیں گے۔

ایک اور شعبہ جو بڑی تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے وہ جینیات کا شعبہ ہے۔ نباتات و حیوانات میں جینیاتی معلومات ان کےجین میں موجود ہوتی ہیں۔ ایک چھوٹے سالماتی ہار (ڈی این اے) کا تصورکریں جس میں 3 ارب موتی پروئے ہوئے ہیں۔ یہ موتی چار اقسام کے ہوتے ہیں، اوران موتیوں کی ترتیب ہم انسانوں کے بارے میں، ہمارے رنگ، قد، ہمارے جسم کی ساخت، ہماری ذہانت اور بیماریوں سے ہماری قوت مدافعت کی حدود وغیرہ سب کچھ بتاتی ہے۔ یہ ترتیب جینیاتی کوڈ کے طور پر جانی جاتی ہے۔ 2007ء میں انسانوں میں پہلا کوڈ پروفیسر جم واٹسن کا متعین کیا گیا تھا اگرچہ ا یک جزوی انسانی جینوم کے تعین کے بارے میں 2003 ءمیں امریکی صدر بل کلنٹن کی طرف سے بھی اعلان کیا گیا تھا۔ اس دریافت میں کئی ملین ڈالرکی لاگت آئی تھی اور کئی سال لگے تھے۔

اب تیزی سے جینوم کی ترتیب معلوم کرنے والی مشینیں دستیاب ہیں، یہ ایک ہفتےکےاندر اندر تقریباً پانچ ہزارڈالر کی لاگت پر ترتیب معلوم کر سکتی ہیں۔ جامعہ کراچی میں جمیل الرحمٰن مرکز برائے جینیاتی تحقیق، میرے والد کے نام سے اور میرے ذاتی عطیے سے بنایا گیا ہے، اس میں پاکستان کےسب سے جدید و اعلیٰ درجے کے جین کی ترتیب معلوم کرنے والے آلے نصب کئے گئے ہیں اور یہاں انتہائی کمال فن کے ساتھ انسانی اور نباتاتی جین پر تحقیقات جاری ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں میں اس میدان میں حیرت انگیز پیش رفت ہوئی ہے۔ چونکہ ایک نوع کی تمام خصوصیات اس کی جینیاتی ترتیب سے طے کی جاتی ہیں، لہٰذا اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ مخصوص خصوصیات کے حامل جین کو دوسرے انواع کے پودوں یا جانوروں میں منتقل کیا جائے تاکہ اس نوعیت کی خصوصیات ان جانوروں اور پودوں میں بھی پیدا ہو جائیں۔

ہم میں سے بہت سے لوگ جگنوؤں کواندھیرے میں چمکتا ہوا دیکھ چکے ہیں، یہ کیسے ہوتا ہے؟ اس کے پس پردہ دلچسپ بنیادی کیمیائی مرکب “luciferin” ہوتا ہے۔ Luciferin کو آکسیجن کے ساتھ یکجا کر سکتے ہیں، اور نتیجے میں روشنی خارج ہوتی ہے۔ اسی طرح چمکنے کا طریقہ کار گہرے سمندر میں رہنے والی جیلی مچھلی میں بھی موجود ہوتا ہے جو گہرے سمندر میں اپنے ارد گرد کا ماحول روشن کر دیتی ہے۔ کچھ سال پہلے کچھ اسرائیلی سائنس دانوں نے روشنی کی پیداوار کے ذمہ دار جینوں کوشناخت کر کے اور انہیں اورکیڈ کے پھولوں میں منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی اور نتیجے میں ایسے آرکیڈ پھول حاصل ہوئے جو اندھیرے میں چمک سکتے تھے۔ اسی طرح دیگر نباتاتی جینیاتی خصوصیات جیسے مختلف بیماریوں سے مدافعت وغیرہ کو گندم، مکئی، چاول اور دیگر فصلوں میں داخل کیا جا رہا ہے، اور جینیاتی طور پر ترمیم شدہ فصلیں دنیا کے مختلف حصوں میں وسیع پیمانے پر لگائی جا رہی ہیں۔

اسکے علاوہ خلوی جاندار جو خود دوبارہ اپنی افزائش نسل بھی کر سکیں کو مصنوعی طریقے سے لیبارٹری میں پیدا کرنے کی شاندار کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ امریکہ میں جے کریگ وینٹر انسٹی ٹیوٹ کے ڈان گبسن اور ان کے ساتھیوں نے2013 ء میں سائنسی جریدے ’’سائنس‘‘ میں بیکٹیریل جینوم کے پورے حصے کی تیاری کی اطلاع دی تھی جو کہ مصنوعی طور پر (تیار کردہ) 582 ،970 بنیادی حصوں کی جوڑیوں کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل تھا جسے ایک جراثیم ( Mycoplasma genitalium) کے ماڈل پر تیار کیا گیا تھا۔اب وہ وقت زیادہ دور نہیں جب زندگی کی عمارت کے ان بنیادی افعال کی ایک گہری تفہیم کے بعد، ہم اپنی ضروریات کے مطابق نئے پودے اور جانوروں کی انواع و اقسام لیبارٹری میں پیدا کرنے کے قابل ہو جائیں گے بلکہ یہ عمل شروع ہو بھی چکا ہے۔

تیز رفتار ترقی کی جانب گامزن ایک اور شعبہ نئے مواد کا ہے۔ اب آپ چیزوں کا ایک مخصوص مواد سےاحاطہ کر سکتے ہیں جو انہیں پوشیدہ بنا سکتی ہیں اس مواد کو’’metamaterials‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے اس مواد میں روشنی کو موڑنے کی قابل ذکر صلاحیت ہوتی ہے۔ اس مواد کو امریکہ اور جرمنی کے سائنسدانوں نے تیار کیا ہے اور اب یہ دشمن سے ٹینکوں، طیاروں اور آبدوزوں کو پوشیدہ کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ آج چشم زدن میں غائب ہونے والا جادو کا چوغہ ایک حقیقت بن گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں تیار کیا گیا ایک اور مواد ’گریفین‘ ہے۔ یہ خالص کاربن سے بنا ہوتا ہے، یہ لوہے سے تقریباً 200 گنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور اس کا برقیات کی صنعت، دواسازی اور گھریلو آلات وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔ جامعہ مرکزی فلوریڈامیں سب سے ہلکا ٹھوس مواد بھی تیار ہو گیا ہے۔ یہ اسقدر ہلکا ہے کہ اسے’منجمد دھواں‘ کا بھی نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک نیم شفاف مواد’ ایرو جیل‘ ہے جو کاربن کی باریک نلکیوں سے بنا ہے۔ ایرو جیل 99.8 % ہوا پر مشتمل ہوتے ہیں اور شیشے سے ہزار گنا ہلکے ہوتے ہیں۔ یہ کاربن فائبر مواد کے مقابلے میں 39 گنا بہتر موصل ہوتے ہیں۔

یہ مواد انتہائی لچکدار ہوتا ہے، اور ہزار گنا کھنچاؤ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مندرجہ بالا شعبوں میں پاکستان میں کام ان شاءاللہ اگلے سال سے پاک آسٹرین جامعہ برائے اطلاقی انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی جو کہ ہری پور ہزارہ میں واقع ہو گی اور پاک-اطالوی جامعہ برائے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی جو کہ لاہور نالج پارک میں قائم کی جا رہی ہیں کی سرپرستی میں شروع ہو جائے گا ۔ یہ دونوں جامعات میری پیش کردہ تجاویز پر دونوں صوبائی حکومتوں کی جانب سے قائم کی جا رہی ہیں۔ دونوں جامعات کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر میری کوشش ہے کہ اہم تجارتی پیش رفت ممکن ہو سکے اور ممتاز غیر ملکی اداروں کی ڈگری پاکستانی طالب علموں کو اپنے ملک سے باہر جائے بغیر حاصل ہو سکے۔

پاکستان تاریخ کے اس دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ملک میں بیس سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد تقریباً دس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے ہم انہیں ایسی تعلیم دیں جہاں سائنس، ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور تجارتی مہم جوئی پروان چڑھ سکے۔ تب ہی پاکستان تیزی سے ایک مضبوط قوم کے طور پر ابھر کر سامنے آ سکتا ہے جیسا کہ چین نے کیا ہے ۔ تاہم اگر ہم تعلیم اور سائنس کو نظر انداز کرنا جاری رکھتے ہیں جیسا کہ پاکستان کی متعدد حکومتوں نے کیا ہے تو پھریہ ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی ہو گی۔

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن

خلائی جہاز کیسینی زحل سے ٹکرا کر تباہ

خلائی جہاز کیسینی زحل سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا ہے۔ سائنس دانوں نے اس جہاز کا رخ اس طرح سے متعین کیا تھا کہ وہ زحل سے ٹکرا جائے۔ کیسینی کا ایندھن ختم ہو گیا تھا اور امریکی خلائی ادارے ناسا نے فیصلہ اسے ادھر ادھر بھٹکنے کے چھوڑنے سے بہتر ہے کہ اسے زحل سے ٹکرا کر ختم کر دیا جائے۔ خلائی جہاز سے سگنل مقررہ وقت پر آنا بند ہو گئے۔ کیلی فورنیا میں واقع مشن کنٹرول سینٹر کے مطابق جہاز کو جی ایم ٹی کے مطابق 11:55 پر زحل سے ٹکرانا تھا۔
سگنل بند ہونے کا مطلب یہ ہےکہ جہاز سیارے کی فضا میں داخل ہونے کے چند سیکنڈ کے اندر اندر تباہ ہو گیا۔ اس طرح ناسا کی تاریخ کے کامیاب ترین مشنوں میں سے ایک اختتام کو پہنچا۔

چار ارب ڈالر مالیت کا یہ مشن 13 برس پر محیط تھا۔ ٹکراتے وقت جہاز کی متوقع رفتار ایک لاکھ 20 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور یہ سیارے کی فضا میں داخل ہونے کے ایک منٹ کے اندر اندر پاش پاش ہو گیا۔ سائنس دانوں کو امید ہے کہ وہ جہاز کے سگنل ختم ہوتے ہوتے زحل کی فضا میں موجود گیسوں کے بارے میں نئی معلومات حاصل کر پائیں گے۔ اس موقعے پر کیسینی کے مشن سے وابستہ سینکڑوں سائنس دان لاس اینجلس کے قریب واقع پیساڈینا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری پہنچ گئے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کی سابق سربراہ ایلن سٹوفین نے بی بی سی کو بتایا: ‘ہم نے حیرت انگیز سائنس سر انجام دی ہے۔ ہماری ٹیم بہت زبردست تھی۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم اس موقعے پر خوشی منا سکتے ہیں کیوں کہ ہم نے کیسینی خلائی جہاز سے ہم ممکن سائنس کشید کر لی ہے۔’ کیسینی نے زحل کے بارے میں معلومات میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس نے زحل پر عظیم طوفانوں کا مشاہدہ کیا اور اس سیارے کے گرد واقع پیچیدہ حلقوں کے اندر برف کے ذرات کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ اس کے علاوہ کیسینی نے زحل کے چاندوں ٹائٹن اور اینسیلاڈس کا بھی بغور جائزہ لیا۔ ان چاندوں کی سطح کے نیچے مائع پانی موجود ہے اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہاں سادہ زندگی پائے جانے کے امکانات ہیں۔

کیسینی نے حلقہ دار سیارے زحل کے بارے میں بیش قیمت معلومات اکٹھی کی ہیں
اس میں بس چند کلوگرام ایندھن ہی باقی رہ گیا تھا اور ناسا کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتی کہ ایندھن ختم ہونے کے بعد کیسینی بےقابو ہو کر نظامِ شمسی میں ادھر ادھر بھٹکتا پھرے۔ ناسا میں کیسینی کے پروجیکٹ مینیجر ارل میز نے کہا: ‘یہی بہترین حل ہے۔ ہم کیسینی کو کہیں اور بھیج سکتے تھے، لیکن اس کا کوئی سائنسی فائدہ نہیں تھا۔’ اس کے برعکس کیسینی کے ‘خودکش’ مشن سے منفرد ڈیٹا حاصل ہو گا۔ زحل کے قریب جا کر اس جہاز نے سیارے کے حلقوں کے عمر، زحل کی اندرونی ساخت اور اس کی گیسوں کے بارے میں نئی معلومات اکٹھی کی ہیں۔ سیارے کی فضا کے اندر پہنچ کر کیسینی کے آٹھ آلات آن کر دیے جائیں گے جو جلنے تک زمین کی جانب سگنل بھیجتے رہیں گے۔ امکان ہے کہ زمین پر موجود دوربینیں کیسینی کے جلنے کا عمل دیکھ سکیں گی۔ تاہم بدقسمتی سے ہبل خلائی دوربین اس وقت کہیں اور دیکھ رہی ہو گی۔

بشکریہ بی بی سی اردو