حنین ابن اسحاق : ایک جلیل القدر طبیب

ابوزید حنین ابن اسحاق العبادی 810ء میں پیدا ہوا اور 877ء میں وفات پائی۔ یہ عہد عباسی کا ایک جلیل القدر طبیب تھا۔ حنین ابن اسحاق کے تذکرے کے بغیر عہد عباسی کی تاریخ نا تمام رہتی ہے۔ ابن ندیم نے الفہرست میں لکھا ہے کہ اس کا پورا نام حنین ابن اسحاق عبادی تھا اور ابو زید اس کی کنیت تھی۔ یہ بنو موسیٰ کے دربار میں یونانی مخطوطات کو جمع کرنے اور ان کے تراجم پرمامور تھا۔ اس نے طبی کتابوں کے تراجم سب سے زیادہ کیے ہیں۔ حنین علمی منازل طے کرتا ہوا اس درجے پر جا پہنچا کہ علوم و فنون کا سرچشمہ تصور کیا جانے لگا۔ اس کی رسائی خلیفہ مامون رشید تک ہوئی جس نے حنین کو اپنے دربار میں بلا کر خلعتیں عطا کیں اور بیت الحکمت کا مہتمم مقرر کیا۔

مامون رشید اس کے تالیف وتراجم کی جس طرح قدر کرتا تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ حنین کو اجرت کے طورپر اس کی ہرتالیف کے ہم وزن سونا عطا کرتا تھا۔ حنین اپنے عہد کا ممتاز طبیب ہی نہیں بلکہ یونانی طب کا سب سے بڑا مترجم ہے۔ حنین نے جالینوس کی 95 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے سریانی اور39 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے عربی میں کیا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے شاگردوں کے ذریعے کیے گئے تراجم پر نظر ثانی کی اورصلاح و مشورہ دیا۔ حنین ہی کی سربراہی میں دنیا کی انتہائی اہم اور نایاب کتاب ’کتاب الخشائش‘ (جس کا اصل مصنف دیسقوریدوس ہے) کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا۔ حنین عربی، فارسی، یونانی اورسریانی زبانوں کا جید عالم تھا۔

اگرچہ حنین ابن اسحاق کئی کتابوں کا مصنف تھا لیکن علمی دنیا میں اس کی شہرت مترجم کی حیثیت سے زیادہ ہوئی۔ حنین ابن اسحاق کی تصانیف میں کتاب المصائب، کتاب العشر مقالات فی العین، کتاب العین خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ ان ابی اُصیبعہ کے بیان کے مطابق 70 سال کی عمر میں ذرب (Sprue) کے عارضہ سے حنین کا انتقال ہوا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حنین کی موت سخت دماغی صدمے کی وجہ سے ہوئی یا پھر اس نے تنگ آکر زہر کھا کر خود کشی کر لی۔

نوید احمد

 

The surface of the Sun

The Sun is the star at the center of the Solar System. It is a nearly perfect sphere of hot plasma, with internal convective motion that generates a magnetic field via a dynamo process. It is by far the most important source of energy for life on Earth. Its diameter is about 109 times that of Earth, and its mass is about 330,000 times that of Earth, accounting for about 99.86% of the total mass of the Solar System. About three quarters of the Sun’s mass consists of hydrogen (~73%); the rest is mostly helium (~25%), with much smaller quantities of heavier elements, including oxygen, carbon, neon, and iron.
The Sun is a G-type main-sequence star (G2V) based on its spectral class. As such, it is informally referred to as a yellow dwarf. It formed approximately 4.6 billion years ago from the gravitational collapse of matter within a region of a large molecular cloud. Most of this matter gathered in the center, whereas the rest flattened into an orbiting disk that became the Solar System. The central mass became so hot and dense that it eventually initiated nuclear fusion in its core. It is thought that almost all stars form by this process.
The Sun is roughly middle-aged; it has not changed dramatically for more than four billion years, and will remain fairly stable for more than another five billion years. After hydrogen fusion in its core has diminished to the point at which it is no longer in hydrostatic equilibrium, the core of the Sun will experience a marked increase in density and temperature while its outer layers expand to eventually become a red giant. It is calculated that the Sun will become sufficiently large to engulf the current orbits of Mercury and Venus, and render Earth uninhabitable.
The enormous effect of the Sun on Earth has been recognized since prehistoric times, and the Sun has been regarded by some cultures as a deity. The synodic rotation of Earth and its orbit around the Sun are the basis of the solar calendar, which is the predominant calendar in use today.
 The Sun is composed primarily of the chemical elements hydrogen and helium; they account for 74.9% and 23.8% of the mass of the Sun in the photosphere, respectively. All heavier elements, called metals in astronomy, account for less than 2% of the mass, with oxygen (roughly 1% of the Sun’s mass), carbon (0.3%), neon (0.2%), and iron (0.2%) being the most abundant.

 

 

 

 

 

مسلم دنیا کے بھلا دیے گئے سائنسی ستارے

ایران میں جنم لینی والی مریم مرزا خانی، جو ریاضیات میں بلا کی ذہین تھیں، 14 جولائی 2017 کو کینسر کے باعث 40 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ 2014 میں انہیں فیلڈز ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو کہ ریاضی کے شعبے میں نوبیل انعام کے برابر ہے۔ ملکہءِ ریاضیات کے لقب سے مشہور مریم مرزا خانی یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی خاتون اور پہلی مسلمان تھیں۔ انہوں نے عام طور پر مردوں کا شعبہ سمجھے جانے والے اس شعبے کا اعلیٰ ترین ایوارڈ حاصل کر کے اس تاثر کو غلط ثابت کیا کہ یہ صرف مردوں کا شعبہ ہے۔ اس قدر ذہین خاتون کو اتنی جلدی گنوا دینا ایک سانحہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کی طرح ان کے ملک ایران میں بھی ان کی وفات پر سوگ منایا گیا جبکہ ان کی کامیابیوں کو یاد کیا گیا۔ ایران سے باہر، اسلامی دنیا کے دیگر ممالک میں ان کی وفات ایک غیر اہم واقعہ رہی۔ پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بمشکل ہی ان کا نام لیا گیا۔ یہ بھی ان کی وفات کی طرح ایک مایوس کن صورتحال ہے۔

مرزا خانی نے ‘کمپلیکس جیومیٹری’ کے وسیع میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ فیلڈز میڈل ایوارڈ کمیٹی نے ‘رائمن سرفیسز کی جیومیٹری اور ڈائنیمکس اور ان کے موڈیولی اسپیسز’ پر ان کے کام کو بنیاد بنا کر ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سب میری سمجھ سے باہر ہے کیوں کہ آج کی ریاضی 1960 میں جب میں نے ماسٹرز کیا تھا، کی ریاضی سے اتنی ہی مختلف ہے جتنے کہ آج کے موبائل فون اس دور کے ٹیلی فونز سے۔ مرزاخانی نے فرزانیگان اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور 1999 میں تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنولوجی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 2004 میں ہارورڈ سے پی ایچ ڈی کی اور پرنسٹن اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ ایسی تعلیمی اداروں، جو مرزاخانی جیسے ماہرینِ ریاضی پیدا کر سکیں، کی موجودگی پر ایرانی نظامِ تعلیم مبارک باد کا مستحق ہے۔

پاکستان میں برطانیہ نے اچھے تعلیمی ادارے چھوڑے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری مادرِ علمی پنجاب یونیورسٹی کے پرانے کیمپس کے شعبہءِ کیمیا میں یہ تختی نصب تھی: “کومپٹن افیکٹ کے تجربے کو یہاں 1929 میں دوبارہ دہرایا گیا تھا۔ ” 1923 کا یہ بنیادی تجربہ وہ تھا جس نے کوانٹم فزکس کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ بھی ہم نے کئی مایہ ناز سائنسدان پیش کیے۔ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام ایسے لیجنڈ ہیں جنہوں نے میری نسل کے طلباء کو متاثر کیا۔ 1960 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان تمام ترقی پذیر ممالک سے زیادہ ماہرِ تھیوریٹیکل فزکس پیدا کر رہا تھا۔ 1960 میں پاکستان اٹامک اینرجی کمیشن (پی اے ای سی) مکمل طور پر پاکستانی سائنسدانوں نے قائم کیا اور اس کا انتظام سنبھالا۔ اس وقت پاکستان نیوکلیئر ہتھیاروں کی طرف راغب نہیں تھا۔ پی اے ای سی کے سابق سربراہ ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی کو اس بات کا افسوس تھا۔ میری ان سے نیویارک میں 1979 میں ملاقات ہوئی تھی۔

جب انہیں میرے تعلیمی پس منظر کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے بتایا کہ کس طرح ‘بیوروکریٹس’ نے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کے حصول کی ان کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رکھی تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اہم موقع گنوا چکا تھا اور یہ کہ سینٹری فیوج ٹیکنولوجی ایک ‘فراڈ’ تھی۔ ان کا سوال تھا، ‘متھا (مکھن نکالنے کا عمل) ٹیکنولوجی ایٹم بم کس طرح بنا سکتی ہے؟’ مگر پھر بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں ایک نئی روح پھونک دی۔ سائنسدانوں کی اپنی پرعزم ٹیم کے ساتھ انہوں نے ایک نئی ٹیکنولوجی تیار کی جسے پہلے کہیں آزمایا نہیں کیا گیا تھا۔ نتیجہ سب کے سامنے تھا اور ان لیے باعثِ پیچ و تاب، جنہیں لگتا تھا کہ پاکستان ‘دھوکے بازی’ کر رہا ہے۔

سی آئی اے کے سابق سربراہ جارج ٹینیٹ (1997 تا 2004) اپنی کتاب ‘ایٹ دی سینٹر آف دی اسٹورم’ میں افسردگی سے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر خان نے “تقریباً اکیلے ہی پاکستان کو نیوکلیئر طاقت میں تبدیل کر دیا۔” پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا ایک تیسرا روٹ متعارف کروا ڈالا جبکہ اس سے پہلے رائج دو دیگر طریقے 1940 کی دہائی کے اوائل میں مین ہٹن پراجیکٹ میں تیار کیے گئے تھے۔
ہمارے پاس تکمیل تک نہ پہنچ پانے والے ٹیلنٹ کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ مجھے شفاعت حسین یاد ہیں جو میرے ایک سال سینیئر تھے اور انتہائی نایاب ذہانت اور معیار کے حامل تھے۔ ہم نے 1964 میں ایک ساتھ ٹوپولوجی کی تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ ایک ابتدائی بحث کے دوران ہمارے بہترین سپروائزر اور دوست ڈاکٹر ممتاز حسین قاضی، جو حال ہی میں ہارورڈ سے لوٹے تھے، نے ہمیں ایک غیر حل شدہ تھیورم سمجھایا۔

شفاعت نے اس دن سے کلاسوں میں آنا بند کر دیا اور دو ماہ کے اندر اندر تھیورم کا حل پیش کر کے ایک ریسرچ پیپر تحریر کر لیا جو کہ ریاضی کے ایک مشہور جریدے جرنل آف دی لندن میتھمیٹیکل سوسائٹی میں شائع ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر شفاعت کو رات میں کوئی خیال آجاتا اور انہیں کوئی کاغذ نا ملتا تو وہ اپنے بستر کی سفید چادر پر ہی لکھ ڈالتے، اور صبح اپنی والدہ سے کہتے کہ ان کی چادر نہ دھوئی جائے۔ انہوں نے پھر پی ایچ ڈی کی اور کینیڈا میں پوسٹ ڈاکٹورل کام شروع کیا۔ چند سال بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ تبلیغی بن چکے تھے۔ وہ کہا کرتے کہ انہیں ایک دو راہے کا سامنا تھا؛ کہ “خدا کا انتخاب کریں یا ریاضی کا۔” اس کے چند سال بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنے جنون، یعنی ریاضی کی سختی تلے دب چکے تھے۔ ان کی زندگی کے سفر میں میں اپنے معاشرے کی کہانی دیکھتا ہوں۔

1960 سے لے کر اب تک ہمارے تعلیمی ادارے پسماندگی کا شکار ہیں۔ 1960 کی دہائی کے وسط میں پوری دنیا کے تعلیمی اداروں میں سیاسی لہر دوڑ گئی تھی۔ دوسری جگہوں پر یہ کچھ سالوں میں دم توڑ گئی مگر پاکستان میں اس کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر سائنسی تعلیم ہوئی۔ اسلامی دنیا میں ہم کبھی سائنس میں سب سے آگے تھے، اب ہم سے یہ اعزاز چھن چکا ہے۔

ہمارا بنیادی تعلیمی نظام انگلش میڈیم اسکولوں، گزارے لائق اور خستہ حال سرکاری اسکولوں، اور مدرسوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔ ایچی سن کالج جیسے انگلش میڈیم اسکول سائنسدان اور انجینیئر پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیے جاتے۔ مرکزی دھارے کے سرکاری اسکولوں کا معیار شرمناک حد تک گرا ہوا ہے۔ مدرسے عمومی اور سائنسی تعلیم کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ اور ہم اس چیلنج سے فکری، معاشرتی اور سیاسی طور پر نمٹنے میں نااہل ثابت ہو رہے ہیں۔ مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سائنس اور زندگی پر سائنس کے اثرات ہی ہیں جو آج کے دور میں اقوام کو عزت دلواتے ہیں اور ان کی قوت ثابت ہوتے ہیں۔ ان خیالات کے ساتھ میں مریم مرزاخانی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ وہ مسلم دنیا میں موجود حالیہ تاریکی کے درمیان امید کی ایک کرن بن کر ابھریں۔

ریاض محمد خان
یہ مضمون ڈان اخبار میں 31 جولائی 2017 کو شائع ہوا۔

الغ بیگ کی رصد گاہیں

سمرقند میں الغ بیگ کی سولہویں صدی میں تعمیر کردہ تحقیقاتی رصد گاہ جو آسمانوں کی تسخیر کی بنیادیں فراہم کرتی ہے‘ اس حقیقت کی غماز ہے کہ تسخیر کائنات کیلئے دین کے علم کے ساتھ سائنسی علوم بھی ضروری ہیں۔ الغ بیگ کی رصدگاہ کی تفصیل سے پہلے چوک ریگستان کا ذکر ہو جائے۔ سمرقند کے حوالے سے ریگستان چوک کا نام بار بار آتا ہے۔ کہاں سمرقند اور کہاں ریگستان چوک۔ اس حوالے سے ذہن میں کوئی تصویر بھی نہیں ابھرتی۔ اول تو ریگستان میں سمت دریافت کرنا ہی مشکل ہے‘ پھر ریگستان میں چوک کیسا ہو گا۔ شرف مرزا اس بارے میں پہلے سے کچھ بتانے سے قصداً گریز کر رہے تھے۔

وہ یقینا ہمارے تجسس کو قائم رکھنا چاہتے تھے کہ ہم خود دیکھیں کہ یہ ہے کیا؟ سمرقند کے وسط میں یہ تاریخی چوک ہے‘ جس میں تین انتہائی خوبصورت‘ عالیشان اور پرشکوہ مدارس کی عمارتیں ہیں۔ چودھویں صدی میں یہ دور تیموری میں ایشیا کا سب سے بڑا بازار تھا‘ جہاں دنیا بھر کے تجارتی قافلے آتے تھے۔ اس کے چاروں طرف صناعوں اور کاریگروں کی دکانیں تھیں۔ پندرھویں صدی میں تیمور کے پوتے الغ بیگ نے اس چوک میں سب سے پہلا مدرسہ قائم کیا تھا۔ وہ اپنے زمانے کا مانا ہوا فلسفی‘ ریاضی دان‘ سائنس دان اور ماہر نجوم حکمران تھا اور خود اپنے مدرسے کا پہلا استاد تھا۔ مدرسے‘ ڈیوڑھی اور صحن کے گرد برآمدوں اور چھوٹے چھوٹے کمروں میں تحائف کی دکانیں ہیں۔

روغنی مٹی کے مجسمے جو یہاں کا تہذیبی عکس لئے ہوئے ہیں‘ سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ غرض قدیم سے لے کر جدید تزئین و آرائش کی مصنوعات دستیاب ہیں اور یہ سب ہاتھوں کی کاریگری ہے۔ جو وسطی ایشیا میں مسلمانوں کا تہذیبی ورثہ تھی‘ روسیوں نے ان کی خرید و فروخت کے ساتھ ان کے بنانے پر بھی پابندی لگا دی تھی تا کہ لوگ صرف ان کے مقاصد کی تکمیل کیلئے پیداواری عمل میں مصروف رہیں۔ لوگوں نے اپنا قیمتی‘ تہذیبی اور ثقافتی ورثہ جو تباہ ہونے سے بچ گیا تھا‘ تہہ خانوں میں چھپا دیا۔ آج وہ سارے قدیم شاہکار اور دستکاری کے نادر اور نایاب نمونے نکال نکال کر عجائب گھروں میں سجا دئیے گئے ہیں۔ سمرقند کے مضافات میں افراسیاب ، الغ بیگ کی تعمیر کردہ رصد گاہ ہے۔ رصدگاہ کی اونچائی 33 میٹر ہے۔

ستاروں کی حرکات‘ چاند گرہن اور فلکیاتی علوم کی تحقیق کا جو کام بھی الغ بیگ نے کیا‘ بعد میں آنے والے ریاضی دان اور ماہرین فلکیات اسے رد نہ کر سکے۔ الغ بیگ نے عناصر کائنات یعنی آگ‘ ہوا‘ مٹی اور پانی کے بارے میں بہت کام کیا۔ آزادی کے بعد اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی مدد سے ازبک قوم اپنے مایہ ناز اور قابل فخر آبائو اجداد پر ازبک‘ انگریزی اور روسی زبانوں میں کتابیں شائع کر رہی ہے۔ ان قابل فخر شخصیات میں امیر تیمور‘بابر اور الغ بیگ نمایاں ہیں۔     الغ بیگ کی حاکمیت سمرقند میں چالیس سال قائم رہی۔ اس کے بیٹے پر بھی حاکم بننے کا جنون سوار تھا۔ چند انتہا پسند لوگ الغ بیگ کی سائنسی تحقیق و جستجو‘ اس کے علم و فن اور اس سے متعلق سرگرمیوں کو غیر اسلامی سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے بیٹے کو باپ کے خلاف اس قدر بھڑکایا کہ اس نے اپنے باپ کے خون سے ہاتھ رنگ لئے‘ مگر صرف چھ ماہ بعد وہ خود بھی قتل ہو گیا۔

الغ بیگ کے شاگرد علی قشمی نے اپنے استاد کے علوم کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ازبکستان میں الغ بیگ کا نام نئی نسل میں بہت مقبول ہے۔ اسی طرح تیمور اور بابر بھی بہت عام نام ہیں۔ جس کے تین چار بیٹے ہوں‘ ان میں سے ایک نام ضرور الغ بیگ‘ بابر یا تیمور ہو گا۔ تاشقند میں زمین دوز ریلوے میٹرو کے دو اسٹیشن امیر تیمور اور الغ بیگ کے نام پر ہیں۔ دونوں سٹیشنز سے باہر نکل کر ان اکابرین کے نام پر شاندار پارک ہیں۔ میٹرو کے الغ بیگ سٹیشن سے اوپر جائیں تو سڑک کے اس پار الغ بیگ پارک کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔ اونچے اور گھنے درختوں سے تو پورا شہر ہی بھرا ہوا ہے۔

فریدہ حفیظ

ابن زُہر : ایک عظیم طبیب

ابن زُہر خلافت مغربی کا ایک بڑا مفکر اور بلند پایہ طبیب تھا۔ طبیب ہونے کے باعث وہ معقولات کا بدرجہ اتم قائل تھا۔ مابعد الطبیعاتی نکتہ نظر اور فلسفیانہ خیال آرائیوں کوناپسند کرتا تھا۔ اس لیے وہ ’قانون شیخ‘ پر دوسرے اطبا کی طرح مبالغہ آمیز عقیدت و پسندیدگی کا اظہار نہیں کرتا۔ ابن زہر ادویہ مفردہ و مرکبہ میں یدطولیٰ رکھتا تھا۔ اس نے اندلس اور دیگر ممالک میں کافی شہرت پائی۔ اطبا کو اس کی تصنیفات سے زیادہ شغف رہا۔ اس کے زمانے میں اس کے برابر فن طب کا ماہر اور کوئی نہیں تھا۔ امراض کی تشخیص اور ان کے علاج میں اس کوخاص دسترس حاصل تھی۔ اندلس کا مشہور قاضی، فلسفی اورطبیب ابن رشد اس کا دوست اوررفیق کار تھا۔ ان کے کہنے پر اس نے ’کتاب التیسیر‘ لکھی جوکہ ابن رشد کی کتاب ’الکلیات‘ کے متوازی معالجہ کی کتاب ثابت ہوئی۔

ابن رشد اس کی صداقت اور لیاقت کا دل سے قائل تھا اوراس نے اپنی کلیات میں اکثر جگہ اس کی تعریف کی ہے اور اس کو جالینوس کے بعد سب سے بڑا طبیب قرار دیا ہے۔ بہرحال وہ رازی کے بعد مسلمانوں کے عروج کے عہد میں جلیل القدر طبیب تھا۔ ایک رائے ہے کہ ابن زہر وہ پہلا محقق ہے جس نے ’’ہڈیوں میں احساس پایا جاتا ہے‘‘ کے مسئلے پربحث و تحقیق کی ۔ اپنی مایہ ناز تصنیف ’کتاب التیسیر‘ میں طبی اعمال اورسرجری پر بحث کی گئی ہے، اس میں وہ ہدایت کرتا ہے کہ طبیب کے لیے تجربہ مشعل راہ ہونا چاہیے نہ کہ قیاس محض۔

وہ دوائوں کی تیاری کی تفصیلات درج کرتا ہے اور نقرئی قنولہ (Canula) کے ذریعہ مریض کو غذا دینے کا طریقہ بیان کرتا ہے۔ مصلی التہاب نامور (ورم خلاف قلب) اور خراج منصفی کابیان نہایت وضاحت و خوبی سے دیتا ہے۔ ابن زہر خود اس خراج کا شکار ہوگیا تھا اوراپنی شکایات کی نہایت دلچسپ انداز میں توضیحات چھوڑی ہیں۔ دق و سل کے بیماروں کے لیے بکری کے دودھ کی توصیف کرتا ہے۔ نیز وہ سنگ گردہ اور فتح القصبہ کا علمی اسلوب بتاتا ہے۔ نزول الما کے عملی انقباض حدقہ انبساط حدقہ اور امراض چشم میں لفاح (ایٹروپین) کے استعمال کی تصریح درج کرتا ہے۔

ملکی ترقی میں انجینئرز کا کردار : ڈاکٹر عبدالقدیر خان

میں آج ملکی ترقی میں انجینئرز کے کردار پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ وہ اس لئے کہ
میں خودبھی انجینئر ہوں اور میں نے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ دونوں اعلیٰ یونیورسٹیوں سے کئے ہیں۔ مگر سب سے پہلے میں سر جارج تھامسن (نوبیل انعام یافتہ) کا ایک قول بتانا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا تھا کہ، ’’ہم نے کچھ عرصہ سے اپنی تہذیب کو ان دھاتوں سے منسوب کیا ہے جو عوام اس وقت استعمال کررہے تھے مثلاً پتھروں کا زمانہ، بُرونز (Bronze) کا زمانہ، لوہے کا زمانہ وغیرہ وغیرہ‘‘۔ کسی بھی تہذیب (زمانہ) کی ترقی یا جہالت کا انحصار اس تہذیب کے پاس جو دھاتیں ہوتی ہیں ان کےصحیح یا غلط استعمال یا کوئی استعمال نا کرنے پر منحصر ہوتا ہے۔ موجودہ دور لوہے اور نئی طاقتور دھاتوں کا ہے۔

میرا اپنا خیال یہ ہے کہ ہم اب بہت منفرد اور اعلیٰ دھاتوں کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں نہایت حسّاس اور اعلیٰ ٹیکنالوجی پر منحصر صنعتوں کا پھیلائو بغیر اعلیٰ دھاتوں کے ناممکن ہے۔ آجکل بہت طاقتور دھاتیں اور ہائی ٹمپریچر دھاتیں، سِرامکس، کمپوزٹس، پولیمرس پر کام ہو رہا ہے کہ ان کو منفرد اور خاص صنعتوں کی تعمیر میں استعمال کیا جا سکے۔ دور جدید کی ایجادات مثلاً اسپیس شٹل، آپٹیکل فائبرز اور چھوٹے منفرد کمپیوٹرز کی تیاری بغیر اعلیٰ اور خاص دھاتوں کی موجودگی میں ناممکن ہوتی۔ اعلیٰ اور پیچیدہ صنعتوں میں استعمال کے لئے تیار کردہ دھاتیں آہستہ آہستہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے لگتی ہیں۔

میں اس موضوع پر یہ کالم اس لئے لکھ رہا ہوں کہ اس سے پیشتر اس موضوع پر کسی نے طبع آزمائی نہیں کی ہے۔ اب جبکہ نئی صنعتیں لگائی جا رہی ہیں میں کوشش کر رہا ہوں کہ عوام کی رہنمائی کروں۔ اس سے لوگوں میں اعلیٰ دھاتوں کو استعمال کرنے کی سمجھ بوجھ آ جاتی ہے اور وہ ان دھاتوں کی خصوصیات مثلاً ان کی فزیکل اور میکنیکل خصوصیات، آکسی ڈیشن اور کور وژن (زنگ لگنا)، زنگ سے دھاتوں کو محفوظ کرنا(کوٹنگ) اور ان دھاتوں کو الیکٹران بیم سے پہچانا اور علیحدہ رکھا جانا، سے واقف ہوجاتے ہیں۔ دیکھئے اچھی دھاتوں کی تیاری اور اس کا معائنہ بغیر اعلیٰ آلات (جانچنے والے) کے ناممکن ہے۔ دور جدید میں ٹیسٹ کرنیوالے نہایت حساس و اعلیٰ آلات کی ضرورت ہے انکے بغیر آپ اعلیٰ جانچ؍ ٹیسٹ نہیں کر سکتے۔ اچھے آلات تو نہایت باریک خصوصیات کا پتہ چلا لیتے ہیں دراصل یہ جانچ و ٹیسٹ کرنے والے آلات میں ایکسرے، نیوٹران اور الیکٹران ڈِفریکشن اسپکٹراسکوپی آجکل موجود ہیں اور ان کی مدد سے کسی بھی دھات کی ساخت، کمپوزیشن، اور میکانیکل خصوصیات (پراپرٹیز)، کیمیائی خصوصیات معلوم کر لی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ ان آلات کی مدد سے ایٹم کی تقسیم و پھیلائو کا بھی علم ہو جاتا ہے۔ مجھے یہ بتانے میں فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے KRL میں ان تمام اہم و حساس آلات کا بندوبست کر لیا تھا اور ان کی مدد سے ہم نہایت پیچیدہ اور اہم معلومات حاصل کر لیتے تھے۔ پہلے ڈاکٹر ایف ایچ ہاشمی، پھر پروفیسر ڈاکٹر انوار الحق اور پھر ڈاکٹر محمد فاروق اس ڈویژن کے سربراہ تھے۔ ڈاکٹر ہاشمی نے لندن یونیورسٹی سے، ڈاکٹر انوارلحق نے جرمنی سے اور ڈاکٹر فاروق نے آکسفورڈ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کی تھیں اور تینوں بہت ذہین اور قابل سائنسدان تھے۔

نمونوں کو بغیر توڑے پھوڑے (NDT – Nondestructive Testing) ان کی خصوصیات و کمپوزیشن کا معلوم کرنا بہت پیچیدہ اور مشکل کام ہے، ہمارے یہاں انجینئر نورالمصطفیٰ اور مشتاق پٹھان اس کے ماہر تھے۔ اس سلسلہ میں یہ بھی بتلاتا چلوں کہ دھاتوں اور دھاتوں سے تیارکردہ کمپونینٹس (Components) کی عمر یا مفید استعمال کا دور جاننے کے لئے تھکاوٹ (Fatique)، ٹوٹنا (Fracture) اور آہستہ آہستہ کمپونینٹس کے سائز بڑھنا (Creep) وغیرہ نہایت اہم خصوصیات ہیں جن کا پاکستان میں استعمال اور سمجھ بوجھ بہت کم ہے اور یہ وہ خصوصیات ہیں جو نہایت اہم ہیں اور ہر آلے اور مشینری کے استعمال اور ان میں تبدیلی وغیرہ کو جانچتے رہنا بہت اہم ہے۔ میرے پاس اوپر بیان کردہ اعلیٰ سائنسدان اور انجینئرز تھے اور ہم نے اس میدان میں اعلیٰ صلاحیت حاصل کرلی تھی۔

دیکھئے مشکل و اعلیٰ ٹیکنالوجی کے حصول میں ہمیں ہر فیلڈ میں ترقی کرنا چاہئے جب تک ہماری بنیاد (یعنی فائونڈیشن) مضبوط نہیں ہو گی ہم نئی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی نہ حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ یورپ، امریکہ، جاپان، چین اور انگلینڈ میں یہ مضامین شروع میں ہی پڑھا دیئے جاتے ہیں اور تمام آلات کا استعمال بھی سکھا دیتے ہیں۔ ان کے ماہرین (پروفیسرز) اکٹھے بیٹھ کر ایک پورا پروگرام بنا لیتے ہیں جو ان کی صنعتوں کے لئے بے حد مفید و موثر ہوتا ہے اور پھر یہ طلبا ریسرچ کا کام سنبھال لیتے ہیں اور اس طرح یہ ممالک ترقی کرتے جاتے ہیں۔ ہمیں بھی اپنی سائنس و ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لئے یہی طریقہ کار استعمال کرنا چاہئے۔ بدقسمتی سے یہ چیز یہاں عنقا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم بین الاقوامی سطح پر دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ہمیں نہ صرف اپنی تعلیم پر بلکہ ٹیکنیکل تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ ہم ہمیشہ پسماندہ ہی رہیں گے۔ ہمیں ٹیکنیکل سیمینار کرنا چاہئے اور غیرملکی ماہرین کو دعوت دینا چاہئے تا کہ ہمارے طلباء نئی ایجادات سے بہرہ ور ہو سکیں۔ ہمیں زیادہ طلبا کو غیر ممالک بھیجنا چاہئے کہ وہاں سے وہ دور جدید کی اعلیٰ ٹیکنیکل تعلیم حاصل کر سکیں اور پھر واپس آ کر ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹائیں۔

بدقسمتی سے اربوں روپیہ معمولی پروجیکٹس پر خرچ کر دیئے جاتے ہیں اور تعلیم کو صرف ایک بے فائدہ ورزش سمجھ رکھا ہے۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) نے ایک ہوٹل میں ایک شاندار ڈنر کا اہتمام کیا اور مجھے چیف گیسٹ بنایا۔ میں نے ہمارے ایٹمی سفر پر روشنی ڈالی اور انجینئرز کو بتلایا کہ کس طرح اہم ملکی پروجیکٹس پر کام کیا اور کرنا چاہئے۔ میں نے جب ان کو بتایا کہ میں نے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ دونوں اعلیٰ تعلیمی اداروں سےکئے ہیں اور یہ دونوں ڈگریاں انجینئرنگ میں ہیں یعنی M.Sc Tech اور Dr. Eng تو تمام انجینئرز بے حد خوش ہوئے کہ ان کا ایک ہم پیشہ اتنا اہم کام کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ میں نے ان کو صاف صاف بتلا دیا کہ اگر میں انجینئر نہ ہوتا اور انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کی ہوتی تو یہ پروجیکٹ کبھی بھی کامیاب نہ ہوتا اور یہ حقیقت بھی ہے۔

دیکھئے دنیا میں کوئی اعلیٰ کام، اعلیٰ ریسرچ میٹالرجی میں مہارت کے بغیر تکمیل نہیں پا سکتی۔ کمپیوٹرز، روبوٹس، سپرسانک ہوائی جہاز، خلائی شٹلز، سٹیلائٹس، خلائی کمیونیکیشن، نیوکلیرانرجی وغیرہ کی تیاری میں میٹالرجی کا اہم رول ہے۔ تمام ایم (M) کے استعمال میں یعنی افرادی قوت (Manpower)، میٹریلز(Materials)، مشینز(Machines)، طریقہ تیاری(Methods)، اور رقوم (Money) میں میٹیریلز ان کی تیاری اور ان کا استعمال ہی بہت اہم بلکہ اہم ترین فیکٹر ہے۔ بغیر اس کے آپ کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

وہ مسلم سائنسداں جن کا نام کمپیوٹر سائنس میں آج تک زندہ ہے

آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والا ہر شخص ’’الجبرا‘‘ سے ضرور واقف ہوتا ہے اور ریاضی کا یہ مضمون جدید سائنس کے تقریباً ہر شعبے میں انتہائی مفید ثابت ہو رہا ہے۔ دوسری جانب کمپیوٹر سائنس کا ہر طالب علم اور ہر سافٹ ویئر انجینئر ’’الگورتھم‘‘ کے بارے میں ضرور جانتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کا تعلق ’’محمد بن موسی الخوارزمی‘‘ سے ہے جو آٹھویں اور نویں صدی عیسوی کے مشہور مسلم ریاضی داں گزرے ہیں۔ محمد بن موسی الخوارزمی کا مختصر تعارف یہ ہے کہ وہ لگ بھگ 780 عیسوی میں فارس کے علاقے ’’خوارزم‘‘ میں پیدا ہوئے جو موجودہ ازبکستان میں واقع ہے اور ’’خیوہ‘‘ کہلاتا ہے۔ ریاضی کے مختلف شعبہ جات میں مہارت حاصل کرنے کے بعد وہ بغداد چلے آئے اور خلافتِ عباسیہ کے تحت قائم ’’بیت الحکمت‘‘ سے بطور عالم (اسکالر) وابستہ ہو گئے اور 850 عیسوی میں اپنی وفات تک یہیں مقیم رہے۔

بیت الحکمت میں رہتے ہوئے الخوارزمی نے ہندوستانیوں کے ایجاد کردہ ’’اعشاری نظام‘‘ (decimal system) اور اس میں شامل ’’صفر‘‘ (Zero) کو عملی مثالوں کے ذریعے عام فہم بنا کر پیش کیا؛ اور اسی کام کی بدولت آج ہم جمع، نفی، ضرب اور تقسیم جیسے حسابی عوامل کو زبردست سہولت کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں۔ لیکن محمد بن موسی الخوارزمی کا عظیم ترین کارنامہ ان کی تصنیف ’’کتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ‘‘ ہے جسے ’’الجبرا‘‘ پر دنیا کی سب سے پہلی کتاب قرار دیا جاتا ہے جس میں انہوں نے تفصیل سے یہ بتایا کہ الجبرا کی مدد سے روزمرہ حسابی مسائل کیسے حل کیے جاسکتے ہیں اور نامعلوم مقداریں کیسے معلوم کی جاسکتی ہیں۔

آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ آج سے 1200 سال پہلے لکھی گئی اس کتاب میں الجبرا کے جو بنیادی اصول اور قواعد بیان کیے گئے ہیں، وہ آج تک بالکل اسی طرح استعمال ہو رہے ہیں جیسے الخوارزمی نے پیش کیے تھے۔ ’’کتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ‘‘ اس قدر مقبول کتاب تھی کہ یہ مسلم عہدِ زریں میں ریاضی کی اہم ترین نصابی کتاب رہی۔ بعد ازاں لاطینی اور دوسری متعدد یورپی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوئے اور یوں یہ آئندہ کئی صدیوں تک یورپی ممالک کی اعلی تعلیمی درسگاہوں (یونیورسٹیز) میں بھی جدید ریاضی کی کلیدی کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی رہی۔

یورپی زبانوں میں ترجمے کے دوران ہی اس نئے ریاضیاتی مضمون کا عربی عنوان مختصر کر کے ’’الجبرا‘‘ کر دیا گیا جو آج تک چلا آرہا ہے۔ علاوہ ازیں لاطینی میں الخوارزم کا نام ’’الگورتھم‘‘ (Algorithm) کر دیا گیا اور یہ مسلمان ریاضی دان اسی نام سے مغرب میں مشہور ہوا۔ بیسویں صدی عیسوی میں جب کمپیوٹر ایجاد ہوا تو اس شعبے کے ماہرین نے کمپیوٹر پروگرام یا سافٹ ویئر لکھنے کا منظم طریقہ وضع کیا جسے محمد بن موسی الخوارزمی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ’’الگورتھم‘‘ کہا جانے لگا۔

واضح رہے کہ ’’الگورتھم‘‘ کا تعلق کسی کمپیوٹر پروگرامنگ لینگویج سے نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی مخصوص کام کو انجام دینے والے قواعد و ضوابط کا منظم اور ترتیب وار مجموعہ ہوتا ہے جسے سامنے رکھتے ہوئے کوئی کمپیوٹر پروگرام (یعنی سافٹ ویئر) لکھا جاتا ہے۔ کمپیوٹر سائنس کے علاوہ طب (میڈیسن) کے شعبے میں بھی امراض کی تشخیص سے لے کر علاج معالجے تک کے منظم اور ترتیب وار طریقہ کار کو بھی ’’الگورتھم‘‘ ہی کہا جاتا ہے۔ اس طرح محمد بن موسی الخوارزمی کا نام جدید سائنس میں آج تک زندہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کا مسلمان خود کو عمومی طور پر ’’ذہین صارف‘‘ سے آگے نہیں بڑھا پایا ہے اور اپنے بزرگوں کے کارنامے پڑھ کر فخر ضرور کرتا ہے لیکن ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش نہیں کرتا۔

 

مسلم انجینئر نے ’’ذہین ٹی شرٹ‘‘ ایجاد کر لی

کینیڈا کی یونیورسٹی آف لاوال میں پروفیسر یونس مصدق کی سربراہی میں ماہرین نے ایک ایسی ذہین ٹی شرٹ ایجاد کر لی ہے جو نہ صرف اپنے پہننے والے کے سانس لینے کی رفتار پر نظر رکھتی ہے بلکہ اسے متعدد بار دھویا بھی جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد سانس کی رفتار کے ذریعے تنفسی امراض (سانس کی بیماریوں) پر نظر رکھنا اور دمہ، بے خوابی اور سانس کے مختلف امراض کی تشخیص کرنا ہے۔ تحقیقی جریدے ’’سینسرز‘‘ کے تازہ شمارے میں اس منفرد ٹی شرٹ کی شائع شدہ تفصیلات کے مطابق اس میں سینے کے مقام پر ایک ننھا، نرم اور لچک دار قسم کا انٹینا سلا ہوا ہے جو ایک کھوکھلے بصری ریشے (آپٹیکل فائبر) پر مشتمل ہے جس کی اندرونی سطح پر چاندی کی پرت چڑھائی گئی ہے جبکہ بیرونی ماحول سے حفاظت کے لیے اس پر ایک مضبوط لیکن لچک دار پولیمر کی بیرونی پرت موجود ہے۔

یہ سینسر بیک وقت دو کام کرتا ہے: یہ سینے کے پھیلنے اور سکڑنے کی بنیاد پر سانس لینے کی رفتار نوٹ کرتا ہے جبکہ نوٹ کی گئی ان پیمائشوں کو ساتھ ہی ساتھ وائرلیس سگنلوں کی شکل میں نشر بھی کرتا رہتا ہے جو قریب رکھے ہوئے کمپیوٹر یا پھر صارف کے اسمارٹ فون پر وصول کیے جاسکتے ہیں۔ سانس کی رفتار پر مسلسل رکھنے والے دوسرے طریقوں اور ماضی میں بنائی گئی دوسری اسمارٹ ٹی شرٹس کے برخلاف اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ میں ایسا کوئی تار، برقیرہ یا سینسر نہیں جو براہِ راست انسانی جسم کو چھوتا ہو جبکہ یہ اتنی آرام دہ ہے کہ اسے پہننے والے کو کسی خاص انداز میں اٹھنے بیٹھنے کی پابندی کرنا نہیں ہوتی۔ پروفیسر یونس کہتے ہیں، ’’ہمارے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ (ٹی شرٹ) اپنے پہننے والے کی فطری حرکات میں رکاوٹ نہیں ڈالتی اور اسے پہن کر کھڑے ہونے، اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے پھرنے جیسے معمولات بھی اسی طرح انجام دیئے جا سکتے ہیں جیسے کوئی عام سی ٹی شرٹ پہنی ہو۔‘‘

تجربات کے دوارن اس ٹی شرٹ کو 20 سے زائد مرتبہ دھویا گیا لیکن پانی اور واشنگ پاؤڈر سے بہت دیر تک سامنا ہونے کے باوجود بھی اس ٹی شرٹ کو کچھ نہیں ہوا اور یہ پہلے کی طرح کام کرتی رہی۔ اب یہ ماہرین کسی ایسے ادارے کی تلاش میں ہیں جو اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ کو تجارتی پیمانے پر تیار کرکے طبّی استعمال کےلیے فروخت کر سکے۔ پروفیسر یونس مصدق کا تعلق لاوال یونیورسٹی، کیوبیک کی فیکلٹی آف سائنس اینڈ انجینئرنگ کے سینٹر فار آپٹکس، فوٹونکس اینڈ لیزرز سے ہے جبکہ وہ ’’کینیڈا ایکسی لینس ریسرچ چیئر اِن فوٹونک انوویشنز‘‘ کا اعلی اعزاز بھی رکھتے ہیں۔

حنین ابن اسحاق : ایک جلیل القدر طبیب

ابوزید حنین ابن اسحاق العبادی 810ء میں پیدا ہوا اور 877ء میں وفات پائی۔ یہ عہد عباسی کا ایک جلیل القدر طبیب تھا۔ حنین ابن اسحاق کے تذکرے کے بغیر عہد عباسی کی تاریخ نا تمام رہتی ہے۔ ابن ندیم نے الفہرست میں لکھا ہے کہ اس کا پورا نام حنین ابن اسحاق عبادی تھا اور ابو زید اس کی کنیت تھی۔ یہ بنو موسیٰ کے دربار میں یونانی مخطوطات کو جمع کرنے اور ان کے تراجم پرمامور تھا۔ اس نے طبی کتابوں کے تراجم سب سے زیادہ کیے ہیں۔ حنین علمی منازل طے کرتا ہوا اس درجے پر جا پہنچا کہ علوم و فنون کا سرچشمہ تصور کیا جانے لگا۔ اس کی رسائی خلیفہ مامون رشید تک ہوئی جس نے حنین کو اپنے دربار میں بلا کر خلعتیں عطا کیں اور بیت الحکمت کا مہتمم مقرر کیا۔

مامون رشید اس کے تالیف وتراجم کی جس طرح قدر کرتا تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ حنین کو اجرت کے طورپر اس کی ہرتالیف کے ہم وزن سونا عطا کرتا تھا۔ حنین اپنے عہد کا ممتاز طبیب ہی نہیں بلکہ یونانی طب کا سب سے بڑا مترجم ہے۔ حنین نے جالینوس کی 95 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے سریانی اور39 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے عربی میں کیا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے شاگردوں کے ذریعے کیے گئے تراجم پر نظر ثانی کی اورصلاح و مشورہ دیا۔ حنین ہی کی سربراہی میں دنیا کی انتہائی اہم اور نایاب کتاب ’کتاب الخشائش‘ (جس کا اصل مصنف دیسقوریدوس ہے) کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا۔ حنین عربی، فارسی، یونانی اورسریانی زبانوں کا جید عالم تھا۔

اگرچہ حنین ابن اسحاق کئی کتابوں کا مصنف تھا لیکن علمی دنیا میں اس کی شہرت مترجم کی حیثیت سے زیادہ ہوئی۔ حنین ابن اسحاق کی تصانیف میں کتاب المصائب، کتاب العشر مقالات فی العین، کتاب العین خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ ان ابی اُصیبعہ کے بیان کے مطابق 70 سال کی عمر میں ذرب (Sprue) کے عارضہ سے حنین کا انتقال ہوا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حنین کی موت سخت دماغی صدمے کی وجہ سے ہوئی یا پھر اس نے تنگ آکر زہر کھا کر خود کشی کر لی۔

نوید احمد

 

کاغذ کا راز مسلمانوں تک کیسے پہنچا ؟

کاغذ کی دریافت اور اس کی تیاری نے دنیائے کتاب داری میں جو انقلاب پیدا کیا
اس نے کتاب کی تیاری میں بڑی آسانیاں فراہم کر دی تھیں۔ اس کے فیوض و برکات دنیا کے دور دراز ممالک تک پہنچنے لگے تھے۔ علم و ادب کا حصول اب عام متوسط طبقہ تک ہو چلا تھا جو ویلم اور پارچمنٹ جیسے تحریری مواد کے انتہائی قیمتی ہونے کی وجہ سے دولت مند لوگوں کی یا نوابین کی میراث بن کر رہ گیا تھا۔ 105ء میں کاغذ کی ایجاد کا سہرا چین کے ایک ذہین شخص تسائی لن کی محنت کا نتیجہ تھا لیکن تقریباً سات سو سال تک باقی دنیا اس کی تیاری سے نا واقف رہی تھی۔

کاغذ کی صنعت عربوں کے ذریعے بارہویں صدی عیسوی میں اسپین اور وہاں سے یورپ پہنچی۔ مغرب مؤرخین کا خیال ہے کہ مسلمان عربوں نے چین سے کاغذ سازی کا نسخہ حاصل کر لیا تھا۔ دنیا میں جب پیپائرس اور جانوروں کی کھالوں کو تحریری مواد کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا اور وہاں کے کتاب خانوں میں پارچمنٹ اور ویلم پر کتابیں لکھی جاتی تھیں‘ اس وقت چین میں ریشم پر کتابیں لکھنے کا رواج تھا۔ اس سے قبل چین میں لکڑی کی تختیوں پر لکھنے کا عام رواج تھا۔ تسائی لن نے چین میں پرانے سوتی کپڑوں سے کاغذ کی لبدی تیار کی اور اس سے قدرے خام شکل کا کاغذ تیار کیا جو آج کے نفیس کاغذ کی ابتدائی شکل تھی۔

 

کاغذ کی ایجاد نے چین میں بہت جلد مقبولیت حاصل کر لی اور آئندہ دو صدیوں میں چین میں بڑی تعداد میں کتابیں تیار کی گئیں۔ ان کتابوں کے نمونے جو بعد میں دریافت ہوئے‘ آج بھی برطانیہ‘ فرانس کے عجائب گھروں میں محفوظ ہیں۔ سات سو سال تک چین نے کاغذ کی ایجاد کو صیغہ راز میں رکھا۔ حتیٰ کہ عرب ترکستان علاقے میں چینیوں سے یہ راز معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پہلا کاغذ سازی کا کارخانہ آٹھویں صدی عیسوی میں ثمرقند میں قائم کیا۔ جس سے نصابی کتب اور علمی کتابوں کی تیاری بڑے پیمانے پر کی جانے لگی۔ طالب علم کاغذ سازی کے مشغلے کو گائوں گائوں اور قریہ قریہ تک لے گئے۔

چنانچہ آٹھویں صدی سے لے کر اٹھارہویں صدی عیسوی تک مسلم ممالک میں اس کی فیکٹریاں دن رات کام کرنے لگیں۔ کاغذ سازی کی صنعت ترکستان کے بعد دمشق‘ قاہرہ بغداد اور قرطبہ میں قائم ہو گئی تھی۔ یورپ کی سرزمین پر عربوں نے کاغذ سازی کا پہلا کارخانہ 1085ء میں سپین کے ایک شہر میں قائم کیا جبکہ دوسرا کارخانہ 1270ء میں عرب مسلمانوں کی مدد سے اطالیہ میں قائم ہوا۔ جو کرسچین یورپ میں پہلا کارخانہ تھا۔

انگلستان میں کاغذ سازی 1490ء میں ہرٹ فورٹ شائر کے مقام سے شروع ہوئی اور انیسویں صدی تک انگلستان میں کاغذ سازی کی دستکاری باقاعدہ صنعت میں تبدیل ہو گئی۔ حتیٰ کہ 1884ء میں کاغذ کو بلیچ اور مزید صاف کر کے نفیس کاغذ میں تبدیل کر دیا گیا۔ جس پر بعد میں کتابوں کی طباعت کا کام بہت آسان ہو گیا اور چھاپہ خانہ کی ایجاد نے کتابوں کے حصول کو ہرعام و خاص کے لیے آسان بنا دیا۔ کاغذ کی تیاری اور چھاپہ خانہ کی ایجاد نے کتابوں کی تیاری میں وہ ہلچل پیدا کی کہ علم و ادب کے دھارے انسانی فکر کی بلندیوں کو چھونے لگی۔

اشرف علی