کاغذ کا راز مسلمانوں تک کیسے پہنچا ؟

کاغذ کی دریافت اور اس کی تیاری نے دنیائے کتاب داری میں جو انقلاب پیدا کیا
اس نے کتاب کی تیاری میں بڑی آسانیاں فراہم کر دی تھیں۔ اس کے فیوض و برکات دنیا کے دور دراز ممالک تک پہنچنے لگے تھے۔ علم و ادب کا حصول اب عام متوسط طبقہ تک ہو چلا تھا جو ویلم اور پارچمنٹ جیسے تحریری مواد کے انتہائی قیمتی ہونے کی وجہ سے دولت مند لوگوں کی یا نوابین کی میراث بن کر رہ گیا تھا۔ 105ء میں کاغذ کی ایجاد کا سہرا چین کے ایک ذہین شخص تسائی لن کی محنت کا نتیجہ تھا لیکن تقریباً سات سو سال تک باقی دنیا اس کی تیاری سے نا واقف رہی تھی۔

کاغذ کی صنعت عربوں کے ذریعے بارہویں صدی عیسوی میں اسپین اور وہاں سے یورپ پہنچی۔ مغرب مؤرخین کا خیال ہے کہ مسلمان عربوں نے چین سے کاغذ سازی کا نسخہ حاصل کر لیا تھا۔ دنیا میں جب پیپائرس اور جانوروں کی کھالوں کو تحریری مواد کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا اور وہاں کے کتاب خانوں میں پارچمنٹ اور ویلم پر کتابیں لکھی جاتی تھیں‘ اس وقت چین میں ریشم پر کتابیں لکھنے کا رواج تھا۔ اس سے قبل چین میں لکڑی کی تختیوں پر لکھنے کا عام رواج تھا۔ تسائی لن نے چین میں پرانے سوتی کپڑوں سے کاغذ کی لبدی تیار کی اور اس سے قدرے خام شکل کا کاغذ تیار کیا جو آج کے نفیس کاغذ کی ابتدائی شکل تھی۔

 

کاغذ کی ایجاد نے چین میں بہت جلد مقبولیت حاصل کر لی اور آئندہ دو صدیوں میں چین میں بڑی تعداد میں کتابیں تیار کی گئیں۔ ان کتابوں کے نمونے جو بعد میں دریافت ہوئے‘ آج بھی برطانیہ‘ فرانس کے عجائب گھروں میں محفوظ ہیں۔ سات سو سال تک چین نے کاغذ کی ایجاد کو صیغہ راز میں رکھا۔ حتیٰ کہ عرب ترکستان علاقے میں چینیوں سے یہ راز معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پہلا کاغذ سازی کا کارخانہ آٹھویں صدی عیسوی میں ثمرقند میں قائم کیا۔ جس سے نصابی کتب اور علمی کتابوں کی تیاری بڑے پیمانے پر کی جانے لگی۔ طالب علم کاغذ سازی کے مشغلے کو گائوں گائوں اور قریہ قریہ تک لے گئے۔

چنانچہ آٹھویں صدی سے لے کر اٹھارہویں صدی عیسوی تک مسلم ممالک میں اس کی فیکٹریاں دن رات کام کرنے لگیں۔ کاغذ سازی کی صنعت ترکستان کے بعد دمشق‘ قاہرہ بغداد اور قرطبہ میں قائم ہو گئی تھی۔ یورپ کی سرزمین پر عربوں نے کاغذ سازی کا پہلا کارخانہ 1085ء میں سپین کے ایک شہر میں قائم کیا جبکہ دوسرا کارخانہ 1270ء میں عرب مسلمانوں کی مدد سے اطالیہ میں قائم ہوا۔ جو کرسچین یورپ میں پہلا کارخانہ تھا۔

انگلستان میں کاغذ سازی 1490ء میں ہرٹ فورٹ شائر کے مقام سے شروع ہوئی اور انیسویں صدی تک انگلستان میں کاغذ سازی کی دستکاری باقاعدہ صنعت میں تبدیل ہو گئی۔ حتیٰ کہ 1884ء میں کاغذ کو بلیچ اور مزید صاف کر کے نفیس کاغذ میں تبدیل کر دیا گیا۔ جس پر بعد میں کتابوں کی طباعت کا کام بہت آسان ہو گیا اور چھاپہ خانہ کی ایجاد نے کتابوں کے حصول کو ہرعام و خاص کے لیے آسان بنا دیا۔ کاغذ کی تیاری اور چھاپہ خانہ کی ایجاد نے کتابوں کی تیاری میں وہ ہلچل پیدا کی کہ علم و ادب کے دھارے انسانی فکر کی بلندیوں کو چھونے لگی۔

اشرف علی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s