وہ مسلم سائنسداں جن کا نام کمپیوٹر سائنس میں آج تک زندہ ہے

آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والا ہر شخص ’’الجبرا‘‘ سے ضرور واقف ہوتا ہے اور ریاضی کا یہ مضمون جدید سائنس کے تقریباً ہر شعبے میں انتہائی مفید ثابت ہو رہا ہے۔ دوسری جانب کمپیوٹر سائنس کا ہر طالب علم اور ہر سافٹ ویئر انجینئر ’’الگورتھم‘‘ کے بارے میں ضرور جانتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کا تعلق ’’محمد بن موسی الخوارزمی‘‘ سے ہے جو آٹھویں اور نویں صدی عیسوی کے مشہور مسلم ریاضی داں گزرے ہیں۔ محمد بن موسی الخوارزمی کا مختصر تعارف یہ ہے کہ وہ لگ بھگ 780 عیسوی میں فارس کے علاقے ’’خوارزم‘‘ میں پیدا ہوئے جو موجودہ ازبکستان میں واقع ہے اور ’’خیوہ‘‘ کہلاتا ہے۔ ریاضی کے مختلف شعبہ جات میں مہارت حاصل کرنے کے بعد وہ بغداد چلے آئے اور خلافتِ عباسیہ کے تحت قائم ’’بیت الحکمت‘‘ سے بطور عالم (اسکالر) وابستہ ہو گئے اور 850 عیسوی میں اپنی وفات تک یہیں مقیم رہے۔

بیت الحکمت میں رہتے ہوئے الخوارزمی نے ہندوستانیوں کے ایجاد کردہ ’’اعشاری نظام‘‘ (decimal system) اور اس میں شامل ’’صفر‘‘ (Zero) کو عملی مثالوں کے ذریعے عام فہم بنا کر پیش کیا؛ اور اسی کام کی بدولت آج ہم جمع، نفی، ضرب اور تقسیم جیسے حسابی عوامل کو زبردست سہولت کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں۔ لیکن محمد بن موسی الخوارزمی کا عظیم ترین کارنامہ ان کی تصنیف ’’کتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ‘‘ ہے جسے ’’الجبرا‘‘ پر دنیا کی سب سے پہلی کتاب قرار دیا جاتا ہے جس میں انہوں نے تفصیل سے یہ بتایا کہ الجبرا کی مدد سے روزمرہ حسابی مسائل کیسے حل کیے جاسکتے ہیں اور نامعلوم مقداریں کیسے معلوم کی جاسکتی ہیں۔

آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ آج سے 1200 سال پہلے لکھی گئی اس کتاب میں الجبرا کے جو بنیادی اصول اور قواعد بیان کیے گئے ہیں، وہ آج تک بالکل اسی طرح استعمال ہو رہے ہیں جیسے الخوارزمی نے پیش کیے تھے۔ ’’کتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ‘‘ اس قدر مقبول کتاب تھی کہ یہ مسلم عہدِ زریں میں ریاضی کی اہم ترین نصابی کتاب رہی۔ بعد ازاں لاطینی اور دوسری متعدد یورپی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوئے اور یوں یہ آئندہ کئی صدیوں تک یورپی ممالک کی اعلی تعلیمی درسگاہوں (یونیورسٹیز) میں بھی جدید ریاضی کی کلیدی کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی رہی۔

یورپی زبانوں میں ترجمے کے دوران ہی اس نئے ریاضیاتی مضمون کا عربی عنوان مختصر کر کے ’’الجبرا‘‘ کر دیا گیا جو آج تک چلا آرہا ہے۔ علاوہ ازیں لاطینی میں الخوارزم کا نام ’’الگورتھم‘‘ (Algorithm) کر دیا گیا اور یہ مسلمان ریاضی دان اسی نام سے مغرب میں مشہور ہوا۔ بیسویں صدی عیسوی میں جب کمپیوٹر ایجاد ہوا تو اس شعبے کے ماہرین نے کمپیوٹر پروگرام یا سافٹ ویئر لکھنے کا منظم طریقہ وضع کیا جسے محمد بن موسی الخوارزمی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ’’الگورتھم‘‘ کہا جانے لگا۔

واضح رہے کہ ’’الگورتھم‘‘ کا تعلق کسی کمپیوٹر پروگرامنگ لینگویج سے نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی مخصوص کام کو انجام دینے والے قواعد و ضوابط کا منظم اور ترتیب وار مجموعہ ہوتا ہے جسے سامنے رکھتے ہوئے کوئی کمپیوٹر پروگرام (یعنی سافٹ ویئر) لکھا جاتا ہے۔ کمپیوٹر سائنس کے علاوہ طب (میڈیسن) کے شعبے میں بھی امراض کی تشخیص سے لے کر علاج معالجے تک کے منظم اور ترتیب وار طریقہ کار کو بھی ’’الگورتھم‘‘ ہی کہا جاتا ہے۔ اس طرح محمد بن موسی الخوارزمی کا نام جدید سائنس میں آج تک زندہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کا مسلمان خود کو عمومی طور پر ’’ذہین صارف‘‘ سے آگے نہیں بڑھا پایا ہے اور اپنے بزرگوں کے کارنامے پڑھ کر فخر ضرور کرتا ہے لیکن ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش نہیں کرتا۔

 

Advertisements

مسلمان سائنس دانوں کے کارنامے

     

شاید ہی دنیا کا کوئی علم ایسا ہو جسے مسلمانوں نے حاصل نہ کیا ہو۔ اسی طرح سائنس کے میدان میں بھی مسلمانوں نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔ گوکہ آج اہل یورپ کا دعویٰ ہے کہ سائنس کی تمام تر ترقی میں صرف ان کا حصہ ہے مگر اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ تجرباتی سائنس کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی ہے اور اس کا اعتراف آج کی ترقی یافتہ دنیا نے بھی کیا ہے۔ اس ضمن میں ایک انگریز مصنف اپنی کتاب ’’میکنگ آف ہیومینٹی‘‘ میں لکھتا ہے :’’مسلمان عربوں نے سائنس کے شعبہ میں جو کردار ادا کیا وہ حیرت انگیز دریافتوں یا انقلابی نظریات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی ترقی یافتہ سائنس ان کی مرہون منت ہے‘‘ایک دوسرا انگریز مصنف جان ولیم ڈریپرا اپنی کتاب ’’یورپ کی ذہنی ترقی‘‘ میں لکھتا ہے کہ مسلمان عربوں نے سائنس کے میدان میں جو ایجادات و اختراعات کیں وہ بعد میں یورپ کی ذہنی اور مادی ترقی کا باعث بنیں۔

آٹھویں صدی سے بارہویں صدی عیسوی میں مسلمان سائنس پر چھائے رہے۔ جس وقت مسلمان سائنس میں نئی نئی ایجادات اور انکشافات کر رہے تھے‘ اس وقت سارا یورپ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ اس دور میں الخوارزمی‘ رازی‘ ابن الہیشم‘ الاہروی‘ بو علی سینا‘ البیرونی‘ عمر خیام‘ جابر بن حیان اور فارابی جیسے سائنس دان پیدا ہوئے۔اگر یہ کہا جائے کہ دنیا ابھی تک البیرونی جیسی شخصیت پیش نہیں کر سکی تو غلط نہ ہو گا۔ جو بیک وقت ماہر طبیعات و ماہر لسانیات و ماہر ریاضیات‘ و ماہر اراضیات وجغرافیہ دان و ادیب و طبیب و مورخ ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر اور کیمیا دان بھی تھا۔ البیرونی نے ایک سو اسی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ البیرونی نے ثابت کیا کہ روشنی کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ ہوتی ہے۔

فلکیات پرالبیرونی نے کئی کتابیں تحریر کیں۔ دنیا آج بھی البیرونی کو بابائے فلکیات کے نام سے یاد کرتی ہے۔ بو علی سینا فلسفہ اور طب میں مشرق و مغرب کے امام مانے جاتے ہیں۔ ابن سینا نے تقریبا 100 کے قریب تصانیف چھوڑی ہیں۔ بو علی سینا کے بارے میں پروفیسر برائون کا کہنا ہے کہ جرمنی کی درس گاہوں میں آج بھی بوعلی سینا کی کاوشوں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ بو علی سینا اور محمد بن ذکریا الرازی کی تصاویر اب بھی پیرس یونیورسٹی کے شعبہ طب میں آویزاں ہیں۔ ساری دنیا آج بھی جابر بن حیان کو بابائے کیمیا مانتی ہے۔ جابر بن حیان نے شورے ، گندھک اور نمک کا تیزاب ایجاد کیا۔ واٹر پروف اور فائر پروف کاغذ بھی جابر بن حیان کی ایجاد ہے۔ روشنی پر دنیا کی سب سے پہلے جامع کتاب ’’المناظر‘‘ ابن الہیشم نے لکھی۔ پن ہول کیمرے کا اصول بھی پہلے انہوں نے دریافت کیا۔ ابن الہیشم بابائے بصریات بھی کہلاتے ہیں۔

مشہور مسلمان ماہر فلکیات و ریاضی دان اور شاعر عمر خیام نے ’’التاریخ الجلالی‘‘ کے نام سے ایک ایسا کلینڈر بنایا جو آج کل کے رائج کردہ گریگورین کلینڈر سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ ابو القاسم الزاہروی آج بھی جراحت (سرجری) کے امام مانے جاتے ہیں۔ ان کی سب سے مشہور کتاب ’’التصریف‘‘ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے زخم کو ٹانکا لگانے ‘ مثانے سے پتھری نکالنے اور جسم کے مختلف حصوں کی چیر پھاڑ کے متعلق بتایا۔ یہ کتاب کئی صدیوں تک یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی گئی۔ ابو جعفر محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے فلکیات ‘ ریاضی اور جغرافیہ میں نام پیدا کیا۔ گنتی کا موجودہ رسم الخط ایجاد کیا اور گنتی میں صفر کا استعمال سب سے پہلے انہوں نے کیا۔ الجبرے کا علم معلوم کیا اور مثلث ایجاد کی۔ الجبرے پر ان کی مشہور کتاب ’’حساب الجبر و المقابلہ‘‘ اٹھارہویں صدی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی جاتی رہی۔ موسیقی میں ابتدائی سائنسی تحقیق ابو نصر محمد فارابی نے کی۔

 چیچک کا ٹیکہ سب سے پہلے محمد بن زکریا نے ایجاد کیا۔ رازی دنیا کے پہلے طبیب تھے جنہوں نے چیچک اور خسرہ پر مکمل تحقیقات کیں اور چیچک کا ٹیکہ ایجاد کیا۔ اس کا اعتراف انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی موجود ہے۔ ابن یونس نے پنڈولیم کا اصول ایجاد کیا۔ ابو الحسن نامی مسلمان سائنسدان نے سب سے پہلے دوربین ایجاد کی۔ انسانی جسم میں خون گردش کرتا ہے۔ یہ نظریہ سب سے پہلے ابن النفیس نے پیش کیا۔ یہ ہیں مسلمان سائنس دانوں کے وہ روشن کارنامے جن سے اہل یورپ والے بھی روشنی لیتے رہے لیکن کئی مغربی مصنفوں اور مورخین نے اسے اپنے سائنس دانوں سے منسوب کر دیا۔ ستم تو یہ ہوا کہ خود ہمارے لکھنے والوں نے اسے انگریزوں اور دوسرے یورپی سائنس دانوں کا کارنامہ سمجھا اور لکھا۔ یہ سب کچھ مغربی مصنفین کی تحریروں پر اندھا اعتماد کرنے سے ہوا۔

شیخ عبدالحمید عابد

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے اور اہلِ مغرب کی تنگ نظری

muslim-contributions-in-medicinegeographyastronomy-4-638آج جو سائنس اہلِ مغرب کے لیے نقطہِ  عروج  سمجھی جا رہی ہے اور جس نے مسلمانوں کی نظروں کو خیرہ کر کے انہیں احساسِ کمتری کا شکار بنادیا ہے، انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس برگ وبار کو ان کے اسلاف ہی نے کئی صدیوں تک اپنے خونِ جگر سے سینچ کر پروان چڑھایا ہے۔ یہ سائنس جس کے برگ وبار سے  دنیا  آج لطف اندوز ہورہی ہے اور جو دیگر ضروریاتِ زندگی کی طرح انسانی زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ اور لازمہ بن چکی ہے، اس کی تخم ریزی ہمارے پرکھوں ہی نے بدستِ خویش کی تھی۔

سائنس کی دنیا میں اقوامِ عالم نے ہمارے ہی بزرگوں کی انگشت پکڑ کر چلنا سیکھا ہے۔ سائنس جس پر آپ اہلِ مغرب کی اجارہ داری ہے یہ درحقیقت مسلم خانوادے کی چشم وچراغ ہے، اغیار کے گھرانے اس کے لیے بانجھ  تھے۔ اہلِ یونان صرف اس کی تمنا ہی گوشہِ جگر میں پال سکتے تھے کیونکہ ان کے یہاں اس کی تخم پاشی کے لیے سرے سے عوامل ہی ناپید تھے اور یورپ میں حال یہ تھا کہ وہاں ایسی اولاد کی تمنا حاشیہِ خیال میں لانا بھی جرم تھا۔ اگر کوئی اس کی خواہش بھی کرتا تو کلیسا کی آگ میں جلا کر خاکستر کردیا جاتا۔ سائنس اپنے وجود کی بقا اور ترقی کے لیے ہمارے آبا واجداد  کی صدیوں تک مرہونِ منت رہی ہے، بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ انکے گلی کوچوں میں کاسہ گداگری  وکشکول لیے تحقیقات اور انکشافات کی بھیک مانگتی رہی ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس آج وہ  ہمارے لیے متاعِ گمشدہ ہے۔muslim_contribution_exhibit

اس بات سے قطعا ً انکار نہیں کہ  انسان ہر دور میں ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کی خاطر کائنات کی مختلف اشیاء کے مابین ربط پیدا کر کے کچھ نہ کچھ ایجاد کرتا رہا ہے لیکن اگر  اسلام کے عہدِ زریں خلافتِ راشدہ سے لے کر مسلمانوں کے عروج  بلکہ اسلامی سلطنتوں کے رو بہ زوال  ہونے تک کئی صدیوں پہ محیط ایک طویل عرصے پر اگر دنیا خصوصاً مغربی دنیا تعصب   کا عینک اتار کر حقیقت پسندی و حق شناسی کی نگاہوں سے دیکھے تو اس میدان میں مسلمانوں کے علاوہ  دور دور تک اور کہیں سے کہیں تک   کوئی دوسرا نظر نہیں آئے گا۔

عہدِوسطی کا وہ طویل تاریخی  دور جب  مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین حق وباطل کی معرکہ آرائیاں بڑی سطح پر چل رہی تھیں تو مسلمانوں نے قلعہ شکن ہتھیار  منجنیق ایجاد کیا جو مظبوط اور ناقابلِ تسخیر  سمجھے جانے والے قلعوں اور برجوں کو چند لمحوں میں ملبہ کا ڈھیر بنا دیتا تھا۔ اس زمانے میں مسلمانوں کا یہ ایک عظیم ہتھیار تھا۔ دورِ جدید میں میزائلیں اور توپیں اسی منجنیق کی ارتقائی شکل ہیں۔

عہدِ خلافت میں جب بحری جنگوں کی ضرورت پیش آئی تو مسلمانوں نے بحری بیڑے ایجاد کیے جس سے سمندری جنگوں کا مسئلہ حل ہوا آج مختلف ملکوں کے پاس جو وسیع و عریض بحری بیڑے موجود ہیں یہ اسی کی ترقی یافتہ شکلیں ہیں۔

عہدِ اموی کے ابتدائی دور میں خالد بن ولید بن یزید بن معاویہ عالمِ اسلام کا پہلا سائنس داں گزرا ہے جس نے علمِ کیمیاء اور علمِ ہیئت پر خاص توجہ دی ۔ اس نے مصر اور اسکندریہ سے کئی اہلِ علم بلوائے اوران سے علمی مسائل پر بحث ومباحثہ کرتا تھا اور ان حکماء اور اصحابِ علم سے کئی علمی کتابوں کے ترجمے کروائے، سائنس  کی دنیا میں یہ اس دور کا سب سے پہلا ترجمہ تھا۔ اسکے علاوہ اس نے اپنے ہاتھوں سے ایک کرہ (گیند) تیار کیا تھا، کاغذ سازی کا عمل اسی عہد میں مسلمانوں نے  شروع کیا۔

دورِ عباسی میں خلیفہ مامون رشید نے بیت الحکمت نامی ایک ادارہ قائم کر کے اس میں مختلف زبانوں کے نامی گرامی حکماء ، فلاسفہ، اطباء، منجمین، مہندسین  کیمیا داں اور ریاضی داں جمع کیے جنہوں نے حکمت، فلسفہ، علمِ نجوم ، ہندسہ   علمِ کیمیا  اورریاضی کے گزشتہ کارناموں پر غیر معمولی اضافہ کیا اور جہاں مختلف زبانوں سے عربی میں ترجمے  اور اختراع اور انکشاف کے مختلف کارہائے نمایاں انجام دیئے جات تھے۔ اسی بیت الحکمت  نامی ادارہ کا ایک سند یافتہ ابو العباس احمد الفرغانی نامی ایک سائنس داں ہے جب اس نے سائنس کے میدان میں قدم رکھا تو بہت کچھ کام ہو چکا تھا، اس کا تاریخی کارنامہ یہ ہے کہ اس نے خلیفہ مامون رشید کے حکم سے علمِ پیمائش کے ماہرین اور ہیئت دانوں کو ساتھ لے کر زمین کا محیط نہایت علمی انداز سے معلوم کیا ۔ اس سے پہلے یونانی ہیئت داں ارسطو اور بطلیموس  نے زمین کی پیمائش کر کے اس کا محیط پینتالیس ہزار نو سو چوسٹھ میل بتایا تھا جب کہ زمین کا صحیح محیط چوبیس ہزارآٹھ سو اٹھاون میل ہے اورفرغانی  کی پیمائش کے مطابق زمین کا محیط پچیس ہزار نو میل ہے جو اصل سے قریب ترین ہے گرچہ تھوڑی سی  غلطی ہوئی ہے لیکن یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ ہزاروں سال کی ناکام کوششوں کے بعد پہلی بار ایک مسلمان سائنس داں نے قریب قریب صحیح محیط معلوم کیا۔

عہدِ وسطی میں مسلمانوں نے دنیاوی علوم وفنون میں جس دیدہ روی اور تحقیق وتفتیش کا ثبوت دیا آج تک دنیا اس کی نظیر پیش نہ کر سکی، انہوں نے تاریخ، جغرافیہ ، معدنیات، نباتات، حیوانات، علمِ کیمیا، طبعیات، فلکیات، ریاضیات، طب اور فلسفہ  جیسے علوم میں انسانیت کو اپنے کارہائے نمایاں کی جو سوغات پیش کی ہے انہیں پڑھ کر عقل محوِ حیرت رہ جاتی ہے۔  ساتویں صدی سے پندرہویں عیسوی تک صفِ اول کے فلسفی، منطقی، کیمیا داں، ریاضی داں، تاریخ نگار، طبیب، محقق یعنی سائنس کے  تمام شعبوں میں  عرب، ایران، اندلس، اور ہندستان میں وہ علمی سرمایہ چھوڑ گئے ہیں جس کی بدولت آج اہلِ یورپ کو ترقی حاصل ہے۔

امریکی سائنسی  مورخ جارج سارٹن  اپنی مشہور کتاب انٹروڈکشن ٹو دی ہسٹری آف سائنس  میں دسویں صدی عیسوی کے نصف اول کے نمایاں کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ بنی نوع انسان کا اہم کام مسلمانوں نے انجام دیا ہے ۔ سب سے بڑا فلسفی الفارابی تھا، مسلمانوں کا سب سے بڑا  ریاضی داں ابو کامل اور ابراہیم مسلمان تھے۔ سب سے بڑا جغرافیہ داں المسعودی تھا  اور سب سے بڑا مورخ الطبری مسلمان تھا۔ ایک اور غیر جانبدار معروف امریکی سائنسی مورخ  چارلس گیلسپی  نے اپنی مایا ناز کتاب ڈکشنری آف سائنٹفک بایوگرافی میں عہدِ وسطی کے ایک سو بتیس ان سائنس دانوں کی فہرست مرتب کی ہے جنہوں نے اپنی تحقیقات سے سائنس کو فروغ دیا اور ان کی تحقیقات آج سائنس کی بنیاد بنیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ اس فہرست میں ایک سو پانچ سائنس دانوں کا تعلق اسلامی دنیا سے ہے۔  دس بارہ یوروپ سے تعلق رکھتے ہیں  جبکہ باقی کا تعلق یوروپ کے علاوہ دیگر قوموں  سے ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عہدِ وسطی میں کم وبیش اسّی سے پچاسی فیصد سائنس داں مسلمان تھے جب کہ آج  دنیا کی کل آبادی کے مقابلےمسلمانوں کی پوری آبادی پچیس فیصد سے زیادہ ہے لیکن سائنس کے میدان میں انکا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

مسلمانوں کے سائنسی کارناموں کا احاطہ محال نہیں تو مشکل ضرور  ہے یہاں پر ان کے چند سائنسی کارناموں کا  تذکرہ بطور مثال کیا جا رہا ہے۔ توپ سب سے پہلے کندی نے بنائی تھی، دور بین ابن سینا کے استاذ  ابو الحسن نے ایجاد کی تھی، ابو القاسم عباس بن فرناس نے تین چیزیں ایجاد کرکے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ عینک کا شیشہ ، بے نظیر گھڑی اور ایک مشین جو ہوا میں پرواز کر سکتی تھی۔ حسن الزاجہ نے راکٹ سازی کی طرف توجہ دی اور اس میں تارپیڈو کا اضافہ کیا۔ مسلمانوں کی دیگر ایجادات  میں بارود، قطب نما، زیتون کا تیل، عرقِ گلاب، خوشبو، عطر سازی، ادویہ سازی، کاغذ سازی، معدنی وسائل میں ترقی، پارچہ بافی، صابون سازی، شیشہ سازی اور آلاتِ حرب شامل ہیں۔

مسلمانوں کی کتنی  ایجادات ہیں جو اہلِ مغرب نے مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل رکھی ہیں حالانکہ دنیا کی مفید اور ضروری ایجادات بیشتر مسلمانوں  کی مرہونِ منت ہیں۔ اور وہ اسی وقت ایجاد ہوئی ہیں جب کہ متمدن دنیا میں کہیں یوروپ اور اہلِ یوروپ کا ذکر تک نہ تھا۔ یوروپ نے جابر بن حیان کو جیبر ، ابنِ رشد کو اویروز ، ابنِ سینا کو اویسینا ،  ابن الہیثم کو الہازین ،  الفارابی کو الفرابی اس، اور موسی بن میمون کو مائمونائڈس کہنا شروع کیا  تاکہ ان کا مسلمان ہونا  ثابت نہ ہو۔ مستشرقین یوروپ کی یہ خاص عادت رہی ہے کہ وہ مسلمانوں کی ایجاد یا ان کے کسی کارنامے کو یوروپ ، چین یا کسی یا کسی دوسرے مشرقی ملک کے غیر مسلم شخص  سےمنسوب کر کے بزعمِ خویش صلیبی جنگوں کی ہزیمتوں کا بدلہ لیتے ہیں مگر خود یوروپ کا انصاف پسند طبقہ ان کی اس روش سے نالاں ہے۔

فرانس کا نامور مورخ موسید سیدیو لکھتا ہے کہ اب ہمیں یہ بیان کرنا ہے کہ مسلمانوں نے کاغذ، قطب نما، بارود اور توپ ایجاد کیا اور ان کی ایجاد سے تمام دنیا کی ادبی، سیاسی اور فوجی حالت میں کیسا انقلابِ عظیم رونما ہوا اور بعض یوروپی اہلِ قلم جنہوں نے مسلمانوں سے ان چیزوں کے ایجاد کا شرف زبردستی چھین لیا ہے، ان کے بیان پر کوئی التفات اور اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ اصل یہ ہے کہ ان اشیاء کے موجد مسلمان ہیں اور مسلمانوں ہی نے اہلِ یوروپ کو ان کا استعمال سکھایا ہے،

اہلِ مغرب نے ہمارے اسلاف کے روشن اور نمایاں کارناموں پر از راہِ عناد اور تعصب  صدہا دبیز پردے ڈال رکھے ہیں مگر روشنی کی جو چند کرنیں ان پردوں کو چاک کر کے باہر آرہی ہیں خود رشکِ آفتاب ہیں۔ سائنس کی ترقی میں مسلمانوں کے شاندار کارناموں کا عہدِ زریں دوچار برس یا نصف صدی ہی تک محدود نہیں بلکہ عہدِ وسطی کی ہزار سالہ مدت تک فرشِ خاک پر سایہ فگن  رہا۔ یہ وہ دور تھا  جب اسلام ہی سائنس میں اقوامِ عالم کی رہبری کر رہا تھا اور مسلمانوں کو ہی علوم وفنون کی سرپرستی حاصل تھی ،جب کہ اس طویل عرصہ تک سائنس یوروپ میں خوابیدہ تھی اور اہلِ مغرب خواب خرگوش میں مست تھے، سائنس کا تصور ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہ تھا۔

پندرہوں صدی عیسوی کے بعد جب اہلِ مغرب کے اندر سائنس کا ذرا ذوق اور روشنی کے لیے تڑپ پیدا ہوئی ، اورعلم وآگہی  کے آنگن میں جھانکنے کی ان کے دلوں میں للک بیدار ہوئی تو بغداد، اندلس اور قرطبہ کا سفر کیا اور وہاں کے مدارس میں صدیوں تک سائنسی تحقیقات کی بھیک مانگتے رہے۔ ان کے اندر اختراع اور ایجاد کی جو صلاحیت پیدا ہوئی وہ ہمارے اسلاف ہی کی دین ہے۔

راجر بیکن جسے جدید سائنس کا بانی مانا جاتا ہے ،امریکی مورخ ولیم جیمس ڈیورانٹلکھتا ہے کہ اگر  ابن  الہیثم نہ ہوتا تو راجر بیکن کا نام سننے میں نہ آتا۔ کوپرنکس، نیوٹن، کیلر، گلیلیو اور ٹائیکو براہے جنہیں یوروپ وامریکہ کے سائنسی دنیا کا ہیرو مانا جاتا ہے یہ سب مسلم سائنس دانوں کے چیلے ہیں مگر کون کہے :  شامل ہے مرا خونِ جگر تیری حنا میں ! (ساحر لدھیانوی)۔

علمی سرقے کا ناپسندیدہ عمل دوسری قوموں کے مقابلے اہلِ یوروپ میں زیادہ عام ہے۔ اہلِ یوروپ نے مسلمانوں کے علمی کتابوں کی جس قدر چوری کی اور جس بے دردی کے ساتھ مسلمانوں کے ورثے پر ہاتھ صاف کیا وہ علم ودانش کا طویل ترین سیاہ باب ہے۔ کوپرنکس ہوں یا کیلر،  گلیلیو ہوں  یا ٹائیکو براہے سب نے مسلمانوں کے علمی انکشافات اور ایجادات پر ہاتھ صاف کر کے اس دزدِ دلاور کی طرح انہیں اپنے نام سے مشہور کردیا جو رات کا مال ِمسروق صبح کو سرِ عام اپنا مال چلا چلا کر نیلام کردیتا ہے۔ لہٍذا آج اگر عہدِ وسطی کے مسلم دانشوروں اور سائنس دانوں کے متعلق کچھ معلوم کرنا چاہیں تو مغربی ممالک کے کتب خانوں اور لائبریریوں میں جانا ہوگا جہاں جابر بن حیان ، ابنِ سینا، زکریا الرازی، البیرونی، الخوارزمی، الکندی، ابونصرالفارابی، ابنِ رشد، ابنِ زہر، ابنِ خلدون، ابو معثر،  ابن الہیثم، اور نصر الدین الطوسی جیسے بے شمار مسلم سائنس دانوں کی تصنیفات، کتابیں، رسائل اور دیگر اسلامی لٹریچرس محفوظ ہیں۔

قرونِ وسطی کے سائنسی علوم کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں مسلمانوں نےاپنی  خدمات انجام دی ہوں  اور ان میں سے اکثر انکشافات و ایجادات کو اہلِ مغرب سے منسوب نہ کیا گیا ہو۔ نئی دنیا کی دریافت کا سہرا   اطالوی  ملاح کرسٹوفر  کولمبس کے سر باندھا جاتا ہے لیکن بعض  انصاف پسند امریکی محققین کے نزدیک عرب کولمبس سےبہت  پہلے امریکہ پہنچ گئے تھے۔  دورانِ خون کی دریافت ابن النفس کی ہے جبکہ اہلِ مغرب اسکا موجد مائیکل سرفیٹس اور ریلڈو کولمبو کو ٹھہراتے ہیں ، وقت کی پیمائش کے لیے پنڈولم کا استعمال سب سے پہلے ابن یونس نے کیا مگر اہلِ مغرب اسے گلیلیوکی دریافت بتاتے ہیں ، کشش کا نظریہ مسلمانوں نے پیش کیا مگر اب اسے مغرب کی متاعِ دریافت کہا جاتا ہے۔

حیف صد حیف اہلِ مغرب پر جو مسلمانوں کے سائنسی کارناموں کو تاریخ کے صفحوں سے کھرچ کھرچ کر ناپید کرنے میں کوشاں ہیں حالانکہ ابھی انہوں نے سائنسی دنیا میں صرف پانچ صدیاں گزاریں ہیں  جبکہ اس سے قبل مسلمانوں نے سائنسی میدان میں ایک ہزار سالہ انقلابی دور گزارا ہے۔ مگر افسوس پندرہویں صدی عیسوی میں اندلس میں مسلمانوں کے خلاف  انکوئزیشن  جیسی مذہبی وبا  پھیلا کر عیسائیوں کے ذریعہ مسلمانوں  کا وہاں سے نکالا جانا ، وسطِ ایشیا میں تاتاریوں کے مسلسل حملے، ہلاکو کے ذریعہ بغداد کی تباہی،  بغداد، قاہرہ  اور اسکندریہ  میں موجود سیکڑوں لائبریریوں کا نذرِ آتش کرنا، مسلکی اختلافات کا پروان چڑھنا ، یہ وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے مسلمان زوال کا شکار ہوگئے  اور ان کی سیاسی ، علمی، سائنسی  ساری قوتیں مفلوج ہو کر رہ گئیں ۔

دورِ حاضر میں سائنس کے میدان میں مسلمانوں میں قدرے بیداری پیدا ہوئی ہے جو مسلمانوں کے حق میں حوصلہ افزا  کہی جا سکتی ہے۔ بعض مسلم ممالک نے اپنی  سرپرستی میں اس طرف توجہ دینی شروع کی ہے ، یونیورسٹیوں میں باقاعدہ سائنٹفک لیبو ریٹریز کا قیام اور ریسرچ کا  کام بڑے پیمانے پہ شروع کیا جا چکا ہے، روز بروز مسلم ریسرچ اسکالرز ، انجینئرس ، ڈاکٹرس اور  نوجوان سائنس دانوں کی ایک بڑی کھیپ تیار ہو رہی ہے جو مستقبل میں   دنیا کے منظر نامے کو تبدیل کرنے میں بڑی مدد گار ثابت ہوگی۔ اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی عظمتِ رفتہ  کی بازیابی کے لیے دل وجان سے محنت کریں  ،  اپنے اسلاف کے ذریعہ چھوڑے گئے علمی خزانوں  سے اور دورِ جدید کے تجربوں سے استفادہ کریں اور دوسروں پر منحصر رہنے کے بجائے سائنسی میدان میں اہل اورخود مختار  بنیں۔

افضل ضیاء شہزادہ

مضمون نگار ، ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

سائنسی ترقی میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمات

کچھ روز قبل، میں نے ایک تقریری مقابلے میں حصہ لیا، یہ کوئی ایسا ویسا تقریری مقابلہ نہیں تھا، کراچی کی تاریخ کا پہلا پارلیمانی طرز کا تقریری مقابلہ تھا جس میں تمام پاکستان سے طلبا نے شرکت کی تھی۔ پی اے ایف کیٹ میں منعقد اس تین روزہ مقابلے میں شریک تمام دستوں کو چار موضوعات پر بحث کرنا پڑی، 4 دستے سیمی فائنل اور 2 دستے فائنل میں پہنچے۔ خوشی کی بات یہ تھی کے روایتی موضوعات کا یہاں کوئی عمل دخل نہیں تھا، لفاظی ڈھیر ہوگئی تھی اور فقط منطق و دلائل کا راج تھا۔ میں بھی شرکا میں شامل تھا، فائنل میں بمع دستے کے پہنچا ۔۔۔۔۔ پر تمام منصفین کو قائل نہ کرسکا اور ثانوی مسند پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔

خیر مباحثے میں جو سوالات یا قرارداد پیش کی گئیں وہ تو ہم نے کسی نہ کسی طرح نمٹا دیں۔ لیکن مباحثے کو دوسرے روز ایاز میمن موتی والا ہم سب کو صحیح ٹینشن دے گئے تھے۔ وہ سوال اٹھائے جا رہے تھے اور ہم جناب پیر زادہ قاسم کی یہ نظم گنگنائے جا رہے تھے کہ،

ابھی تو آپ ہیں اور آپ کا زورِ خطابت ہے

بہت الفاظ ہیں نادر، بہت بے ساختہ جملے

ابھی تو لب کشائی آپ کی اپنی گواہی ہے

ابھی تو آپ ہیں ظلِ الٰہی، آپ ہی کی بادشاہی ہے

ابھی تو علم و حکمت، لفظ و گوہر آپ ہی کے ہیں

ابھی سب فیصلے، سب مُہر و محور آپ ہی کے ہیں

ابھی سب زر، جواہر، مال و دولت آپ ہی کے ہیں

ابھی سب شہرت و اسبابِ شہرت آپ ہی کے ہیں

ابھی کیا ہے، ابھی تو آپ کا جبروت لہجے میں عیاں ہوگا

ابھی تو آپ ہی کے نطق و لب سے آپ کا قصہ بیاں ہوگا

ابھی تو محترم بس آپ ہیں، خود اپنی نظروں میں

معظم، محتشم القاب ہیں خود اپنی نظروں میں

ابھی تو گونجتے اونچے سُروں میں آپ ہی ہیں نغمہ خواں اپنے

سبھی لطف و کرم گھر کے، مکان و لا مکاں اپنے

ابھی تو آپ ہی کہتے ہیں کتنا خوب کہتے ہیں

جو دل میں آئے کہتے ہیں، جو ہو مطلوب کہتے ہیں

مگر جب آپ کی سیرت پہ ساری گفتگو ہولے

تو یہ بھی یاد رکھیے گا ابھی تک ہم نہیں بولے

تو بھئی آج ہم بول رہے ہیں! آپ نے پوچھا تھا آج تک ہم نے کیا ایجاد کیا؟ اور آپ کا دوسرا سوال تھا کہ اس سے پاکستان کا نام کیسے روشن ہوا؟ ہم سے آپ کی مراد ہم پاکستانیوں کی بھی ہوسکتی ہے، ہم اہلیانِ برصغیر کی بھی ہوسکتی ہے، ہم مسلمانوں کی بھی ہوسکتی اور اس ایوان میں موجود کم و بیش 50 نوجوان سخنوران و مقررین کی بھی ہوسکتی ہے۔ پاکستان کا نام کیسے روشن ہوا سے آپ کی مراد یہی ہوگی کہ دنیا نے اس فعل، ایجاد یا کارنامے کی پذیرائی کب، کس طرح اور کتنی کی ہو، اس پر کتنے تبصرے اور تحاریر رقم کی گئی ہوں؟

میں جواب دیئے دیتا ہوں، اگر انعامی اسکیم ابھی چل رہی ہو تو خاکسار خوشی سے نہال ہوجائے گا! مسلمانوں نے تو بہت کچھ ایجاد کیا ہے، عموماً زیادہ تر ایجادات مسلمانوں کے سنہری دور میں ہوئی تھیں، انکا کریڈٹ لینا موزوں نہ ہوگا۔ اور نہ ہی ان سے پاکستان کا نام روشن ہوا، البتہ ان ایجادات سے وہ علاقے ضرور مشہور ہوئے جہاں سے ان مسلمان ماہرین و فلسفیوں کا تعلق رہا تھا، چند ایک کا ذکر کئے دیتا ہوں۔ آج سے تقریباً ایک ہزار سولہ سال قبل قدیم قرطبہ المعروف ہسپانیہ میں ابو القاسم خلف ابن العباس الزہواری انگریزی میں المعروف Albucasis نے جدید سرجری ایجاد کی تھی۔ کافی یا قہوہ بھی مسلمانوں کی ایجاد ہے، نویں صدی عیسوی میں یمن میں کوکوا کی پھلیوں سے کافی یا قہوہ بنایا گیا تھا، آج پورا یورپ و امریکا، کافی پیئے بغیر کام کر نہیں سکتا ہے۔ کافی مسلم صوفیا کا پسندیدہ مشروب تھا، اسے پی کر صوفیا کرام رات بھر عبادت کیا کرتے تھے۔ 859 عیسوی میں دو مسلم شہزادیوں (فاطمة بنت محمد الفهرية القرشية اور ان کی بہن مریم) نے مراکش کے شہر فاس میں دنیا کی پہلی ڈگری جاری کرنے والی جامعہ، جامعة القرويين قائم کی تھی۔ جو آج بھی الحمدللہ قائم و دائم ہے! الجبرا بھی مسلم سائنسدان ابو عبد الله محمد بن موسى الخوارزمی اور حکیم ابوالفتح عمر خیال بن ابراہیم المعروف عمر خیام کی ایجاد ہے۔ الخوارزمی کا تعلق ایران کے شہر خوارزم سے تھا لفظ الگورتھم Algorithm بذات خود آپ کے نام سے اخذ کیا گیا ہے، اور عمر خیام کا تعلق ایران کے شہر نیشاپور سے تھا۔ کارنامے اور بھی ہیں، لیکن جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ان کا کریڈٹ لینا تو صحیح نہیں ہوگا۔

برصغیر میں بھی بہت سی ایجادات ہوئی ہیں، ان میں اولین ایجاد ہے جمہوریت! مغربی تاریخ دان کہتے ہیں کہ قدیم ایتھنز کی شہری حکومتیں ہی جمہوریت کی اصل شکل ہیں۔ لیکن ان سے بھی پہلے اس برصغیر میں گاؤں کی سطح پر اسمبلیاں موجود تھیں۔ ایک اور مشہور ایجاد تو سیوریج سسٹم ہے جو موئن جو دڑو کی تہذیب کا شاہکار ہے۔ اس کا کریڈٹ لینا بھی صحیح نہ ہوگا کیونکہ اب تو کراچی اور ملک کے دیگر شہروں کا سیوریج سسٹم ناکارہ ہے۔

اب پاکستان کی بات کرلیتے ہیں، اس کا کریڈٹ لینا تو میں اپنا حق سمجھتا ہوں۔ پہلی ایجاد ہے گرینڈ یونیفیکیشن تھیوری ہے جو کہ ڈاکٹر عبدالسلام اور ان دیگر ساتھیوں کی دریافت تھی، اس دریافت پر ان کو طبیعات کا نوبل انعام بھی ملا تھا۔ دوسری ایجاد ہے اجملائین Ajmalinine۔ یہ کارنامہ جناب سلیم الزماں صدیقی صاحب نے سنہ 1931 میں انجام دیا تھا۔ اجملائین یہ ایک مرکب ہے جس کا استعمال دوائیوں میں ہوتا ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ دریافت تو پاکستان بننے سے پہلے کی ہے؟ تو جواب دیئے دیتا ہوں، اس مرکب کا نام جناب حکیم اجمل کے نام پر رکھا گیا تھا، حکیم اجمل تحریکِ آزادی کے ایک عظیم رہنما تھے اور آج بھی ملک بھر میں دواخانہ اجمل کے نام سے آپ کا نام روشن و جاویداں ہے۔ سلیم الزماں صدیقی صاحب نے ایک دریافت پر بس نہیں کی تھی، آپ نے بعد میں Ajmalicine, Isoajmaline, Neoajmaline Serpentine and Serpentinine بھی دریافت کئے اور ان کا استعمال آج بھی امراض قلب اور ذہنی امراض کے علاج میں ہوتا ہے۔

تیسری ایجاد ہے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس ایچ ڈی آئی۔ تمام دنیا میں مروج انسانی ترقی پانے کا سب سے جامع اور مفصل اعشاریہ ہے۔ اس کے خالق ایک پاکستانی ماہر معاشیات جناب محبوب الحق ہیں۔ یہ ڈاکٹر محبوب الحق ہی تھے جنہوں نے پہلی بار جملہ ’’پاکستان میں 22 خاندانوں کی اجارہ داری ہے‘‘ استعمال کیا تھا، بعد میں یہ مصرعہ ایک ضرب المثل اور سیاسی نعرہ بن گیا تھا۔ ڈاکٹر محبوب الحق پاکستان کے فنانس منسٹر بھی رہے تھے اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی سے منسلک بھی رہے تھے۔ پاکستان کے لئے بنایا ہوا آپ ہی کا پانچ سالہ ترقیاتی پلان جنوبی کوریا نے استعمال کیا تھا اور ایشیائی ٹائیگر بن گیا تھا۔ یہ ہیں کمال کی ایجادات۔ لیکن سوال اٹھتا ہے کہ 70 سال میں فقط تین ایجادات یا کارنامے؟

بھئی یہ تو میری ذاتی اور ناقص رائے ہے! باقی 50 افراد بھی تھے اس ایوان میں اگر باقی سب بھی دماغ لڑائیں تو عین ممکن ہے کہ 150 ایجادات گن لیں! اب بہتر لگ رہا ہے، اس عمل کو کراؤڈ سورسنگ کہتے ہیں۔ ویسے میں چاہوں تو قول محال یعنی کہ Paradox جس کا استعمال میرے دوست جاوید میرانی نے بھی کیا تھا کا استعمال کرتے ہوئے لاکھوں پاکستانی ایجادات گنوا سکتا ہوں اور مغالطہ ریاضی یعنی کہ Mathematical Fallacy جس کا استعمال ہمیں شبر ویرانی نے سکھایا تھا کا اطلاق کرتے ہوئے اپنی بات ثابت کرسکتا ہوں، لیکن مزہ نہیں آئے گا!

میں آپ کو ایک سولڈ 24 قیراطی ثبوت دیتا ہوں! آپ کے خطاب کا اہم ترین لفظ تھا ’’ایجاد‘‘ پرانے زمانے میں ایجادات ایجاد ہوتے ہی عام ہوجایا کرتی تھیں، پرانے سے میری مراد قدیم ادوار کی ہے۔ اگر اس دور میں فکری ملکیت کا تصور موجود ہوتا اور موجدین کو ان کی ایجاد یا تخلیق کا معاوضہ ملتا تو آج دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا، میں دوبارہ مسلمانوں کے دورِ عظمت کی مثال دوں گا، مسلم دانشوروں، فلسفیوں اور مفکروں نے آٹھویں سے تیرہویں صدی کے درمیان ان گنت ایجادات کیں اور یورپی ان کے تراجم کرتے چلے گئے، کوئی پیسہ پائی نہ لگا، محنت بہت لگی ہوگی، لیکن ترجمہ کرنا بہرحال ایجاد کرنے سے آسان ہے۔ مغرب میں علم و ادب کا عروج کم و بیش تیرہویں صدی سے شروع ہوا اور سولہویں صدی تک جاری رہا، اس دور کو رنے ساں کہا جاتا ہے، اور سولہویں صدی میں ہی فکری ملکیت کے تحفظ کا رجحان زور پکڑنے لگا تھا۔

سنہ 1624 میں رائج ہونے والا Statue of Monopolies اور سنہ 1709 میں رائج ہونے والا Statue of Anne کاپی رائٹ اور پیٹنٹ لا کی ابتدا کا درجہ رکھتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر intellectual property وجود میں آئی۔ اس کے بعد سنہ 1883 میں Paris Convention رائج ہوا، سنہ 1884 میں Berne Convention کا اطلاق ہوا اور 1891 میں Madrid Agreement طے پایا۔ اس وقت مسلمان کیا کر رہے تھے؟ ہم اس وقت انگریزوں کے ہاتھوں پٹ رہے تھے! لٹ رہے تھے اور تذلیل کا شکار ہو رہے تھے، وجہ؟ یورپ میں جمہوریت رائج ہوچکی تھی، اور مشرق ظل الہیٰ یعنی کہ بادشاہت کے زیرعتاب تھا، مندرجہ بالا قوانین مقننہ و پارلیمان میں منظور ہوئے تھے اس کے برعکس بادشاہوں کے درباروں میں ایسا کوئی سین نہیں تھا۔

یہ پکاؤ کہانی سنانے کا مقصد یہ تھا کہ ہر وہ چیز جو انسان اپنی سوچ سے تخلیق کرتا ہے، مشین، تصنیف، نغمہ، تصویر، حتیٰ کہ کپڑوں کے ڈیزائن تک یہ سب اپنے موجد کی ملکیت ہوتے ہیں اور قانون انہی ان ایجادات و افکار کے جملہ حقوق محفوظ رکھنے کا حق دیتا ہے۔ پھر انہی ایجادات کی لائسنسنگ کے ذریعے موجد کماتے ہیں۔ ایک اور بات ہر موجد اسٹیو جابز اور بل گیٹس نہیں ہوتا ہے یعنی کہ مشہور، مقبول، کامیاب و کامران۔ اس کی سب سے بڑی مثال نکولا ٹیسلا کی ہے جس کا سب سے بڑا دشمن ایڈیسن تھا! جی ہاں ایڈیسن ایک موجد کم اور ایک ساہوکار زیادہ تھا، وہ دراصل دوسرے موجدین کی ایجادات کو اپنے نام سے رجسٹر کرواتا تھا اور پیسہ کماتا تھا۔

پاکستانی ہر سال بہت سی کتابیں لکھتے ہیں، یہ سب ان کی Intellectual Property یعنی کہ فکری ملکیت کہلاتی ہیں اور یہ تصانیف انقلاب بپا کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر منٹو، جالب، احمد فراز، ابنِ صفی اور نسیم حجازی ان مصنفین کی تصانیف ہی ان کی ایجادات ہیں۔ ویسے کبھی کسی سافٹ ویئر ہاؤس کا چکر لگا لیجیئے گا، آپ کو سینکڑوں پاکستانی نوجوان موبائل اپلیکیشنز ایجاد کرتے ہوئے نظر آئیں گے، لیکن وہ ان ایجادات کو اپنا نام نہیں دے پاتے ہیں بلکہ فرنگیوں کو بیچ دیتے ہیں۔ یہ تحریر بھی میری فکری ملکیت ہے اور میں اس کو بغیر کسی معاوضے کے ناشر کو دے رہا ہوں تاکہ میرا پیغام عام ہوسکے، مجھ جیسے کئی افراد روزانہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں تصانیف ایجاد کر رہے ہیں اور انٹرنیٹ پر دنیا کے بھلے کے لئے مفت شائع کر رہے ہیں۔

ایجاد فقط وہ نہیں ہوتی جسے چھوا جاسکے، جس مقابلے میں آپ تشریف لائے تھے وہاں کم و بیش 180 تقاریر کی گئی تھیں اور ہر تقریر خطیب کی ایجاد تھی۔ آپ نے سولر پینلز کا حوالہ بھی دیا تھا کہ ان پینلز کو درآمد نہ کیا جائے بلکہ اپنے ملک میں بنایا جائے تو بھائی صاحب غور سے سنیئے! پاکستان نہ پلانٹ لگانے سے ترقی کرسکتا ہے اور نہ انڈسٹریاں لگانے سے، گلوبلائیزیشن کا دور ہے ماس پروڈکشن سستی پڑتی ہے برآمدات نہیں دراصل ڈیوٹی مہنگی پڑتی ہے۔

ہمارے تعلیمی ادارے ہمیں موجد، مفکر اور فلسفی بننے کی ترغیب نہیں دیتے ہیں۔ ملازم بننے کی ترغیب و تعلیم دیتے ہیں۔ آپ سچ میں فکرمند ہیں تو Knowledge Based Economy کو فروغ دیں۔ میں مخاطب آپ سے ہوں لیکن میرا پیغام ہزاروں افراد تک ضرور پہنچے گا۔ آخری بات! اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں نے آپ کے سوالات کے جوابات دے دیئے ہیں تو 20 لاکھ دے دیں! ویسے نہ  بھی دیں تو بھی کوئی بات نہیں، آپ نے سوچنے اور لکھنے کے لئے سوال مہیا کردیئے یہی کافی ہے۔

عندیل علی

‘Abd al-Hamīd ibn Turk

ʿAbd al-Hamīd ibn Turk (fl. 830), known also as ʿAbd al-Hamīd ibn Wase ibn Turk Jili was a ninth-century Turkic Muslim mathematician. Not much is known about his biography. The two records of him, one by Ibn Nadim and the other by al-Qifti are not identical. However al-Qifi mentions his name as ʿAbd al-Hamīd ibn Wase ibn Turk Jili. Jili means from Gilan.[1]
He wrote a work on algebra of which only a chapter called “Logical Necessities in Mixed Equations”, on the solution of quadratic equations, has survived.
 
He authored a manuscript entitled Logical Necessities in Mixed Equations, which is very similar to al-Khwarzimi’s Al-Jabr and was published at around the same time as, or even possibly earlier than, Al-Jabr.[2] The manuscript gives exactly the same geometric demonstration as is found in Al-Jabr, and in one case the same example as found in Al-Jabr, and even goes beyond Al-Jabr by giving a geometric proof that if the determinant is negative then the quadratic equation has no solution.[2] The similarity between these two works has led some historians to conclude that algebra may have been well developed by the time of al-Khwarizmi and ‘Abd al-Hamid.[2]
Enhanced by Zemanta

Muḥammad ibn Mūsā al-Khwārizmī

Abū ʿAbdallāh Muḥammad ibn Mūsā al-Khwārizmī earlier transliterated as Algoritmi or   was a Persian[2][5] mathematician, astronomer and geographer during the Abbasid Empire, a scholar in the House of Wisdom in Baghdad. In the twelfth century, Latin translations of his work on the Indian numerals introduced the decimal positional number system to the Western world.[4] His Compendious Book on Calculation by Completion and Balancing presented the first systematic solution of linear and quadratic equations in Arabic. In Renaissance Europe, he was considered the original inventor of algebra, although it is now known that his work is based on older Indian or Greek sources.[6] He revised Ptolemy‘s Geography and wrote on astronomy and astrology. Some words reflect the importance of al-Khwarizmi’s contributions to mathematics. “Algebra” is derived from al-jabr, one of the two operations he used to solve quadratic equations. Algorism and algorithm stem from Algoritmi, the Latin form of his name.[7] His name is

Life

He was born in a Persian[2][5] family, and his birthplace is given as Chorasmia[9] by Ibn al-Nadim.
Few details of al-Khwārizmī’s life are known with certainty. His name may indicate that he came from Khwarezm (Khiva), then in Greater Khorasan, which occupied the eastern part of the Greater Iran, now Xorazm Province in Uzbekistan. Al-Tabari gave his name as Muhammad ibn Musa al-Khwārizmī al-Majousi al-Katarbali (محمد بن موسى الخوارزميّ المجوسـيّ القطربّـليّ). The epithet al-Qutrubbulli could indicate he might instead have come from Qutrubbul (Qatrabbul),[10] a viticulture district near Baghdad. However, Rashed[11] suggests:
There is no need to be an expert on the period or a philologist to see that al-Tabari’s second citation should read “Muhammad ibn Mūsa al-Khwārizmī and al-Majūsi al-Qutrubbulli,” and that there are two people (al-Khwārizmī and al-Majūsi al-Qutrubbulli) between whom the letter wa [Arabic ‘و‘ for the article ‘and‘] has been omitted in an early copy. This would not be worth mentioning if a series of errors concerning the personality of al-Khwārizmī, occasionally even the origins of his knowledge, had not been made. Recently, G. J. Toomer … with naive confidence constructed an entire fantasy on the error which cannot be denied the merit of amusing the reader.
Regarding al-Khwārizmī’s religion, Toomer writes:
Another epithet given to him by al-Ṭabarī, “al-Majūsī,” would seem to indicate that he was an adherent of the old Zoroastrian religion. This would still have been possible at that time for a man of Iranian origin, but the pious preface to al-Khwārizmī’s Algebra shows that he was an orthodox Muslim, so al-Ṭabarī’s epithet could mean no more than that his forebears, and perhaps he in his youth, had been Zoroastrians.[12]
Ibn al-Nadīm‘s Kitāb al-Fihrist includes a short biography on al-Khwārizmī, together with a list of the books he wrote. Al-Khwārizmī accomplished most of his work in the period between 813 and 833. After the Islamic conquest of Persia, Baghdad became the centre of scientific studies and trade, and many merchants and scientists from as far as China and India traveled to this city, as did Al-Khwārizmī. He worked in Baghdad as a scholar at the House of Wisdom established by Caliph al-Maʾmūn, where he studied the sciences and mathematics, which included the translation of Greek and Sanskrit scientific manuscripts. D. M. Dunlop suggests that it may have been possible that Muḥammad ibn Mūsā al-Khwārizmī was in fact the same person as Muḥammad ibn Mūsā ibn Shākir, the eldest of the three Banū Mūsā.[13][year missing]

Contributions

Al-Khwārizmī’s contributions to mathematics, geography, astronomy, and cartography established the basis for innovation in algebra and trigonometry. His systematic approach to solving linear and quadratic equations led to algebra, a word derived from the title of his 830 book on the subject, “The Compendious Book on Calculation by Completion and Balancing” (al-Kitab al-mukhtasar fi hisab al-jabr wa’l-muqabalaالكتاب المختصر في حساب الجبر والمقابلة). On the Calculation with Hindu Numerals written about 825, was principally responsible for spreading the Indian system of numeration throughout the Middle East and Europe. It was translated into Latin as Algoritmi de numero Indorum. Al-Khwārizmī, rendered as (Latin) Algoritmi, led to the term “algorithm“. Some of his work was based on Persian and Babylonian astronomy, Indian numbers, and Greek mathematics.
 
Al-Khwārizmī systematized and corrected Ptolemy‘s data for Africa and the Middle East. Another major book was Kitab surat al-ard (“The Image of the Earth”; translated as Geography), presenting the coordinates of places based on those in the Geography of Ptolemy but with improved values for the Mediterranean Sea, Asia, and Africa. He also wrote on mechanical devices like the astrolabe and sundial. He assisted a project to determine the circumference of the Earth and in making a world map for al-Ma’mun, the caliph, overseeing 70 geographers.[14]When, in the 12th century, his works spread to Europe through Latin translations, it had a profound impact on the advance of mathematics in Europe. He introduced Arabic numerals into the Latin West, based on a place-value decimal system developed from Indian sources.[15]

Algebra 

Al-Kitāb al-mukhtaṣar fī ḥisāb al-jabr wa-l-muqābala (Arabic: الكتاب المختصر في حساب الجبر والمقابلة‎, ‘The Compendious Book on Calculation by Completion and Balancing’) is a mathematical book written approximately 830 CE. The book was written with the encouragement of the Caliph al-Ma’mun as a popular work on calculation and is replete with examples and applications to a wide range of problems in trade, surveying and legal inheritance.[16] The term algebra is derived from the name of one of the basic operations with equations (al-jabr, meaning completion, or, subtracting a number from both sides of the equation) described in this book. The book was translated in Latin as Liber algebrae et almucabala by Robert of Chester (Segovia, 1145) hence “algebra”, and also by Gerard of Cremona. A unique Arabic copy is kept at Oxford and was translated in 1831 by F. Rosen. A Latin translation is kept in Cambridge.[17]
It provided an exhaustive account of solving polynomial equations up to the second degree,[18] and discussed the fundamental methods of “reduction” and “balancing”, referring to the transposition of subtracted terms to the other side of an equation, that is, the cancellation of like terms on opposite sides of the equation.[19]
Al-Khwārizmī’s method of solving linear and quadratic equations worked by first reducing the equation to one of six standard forms (where b and c are positive integers)
  • squares equal roots (ax2 = bx)
  • squares equal number (ax2 = c)
  • roots equal number (bx = c)
  • squares and roots equal number (ax2 + bx = c)
  • squares and number equal roots (ax2 + c = bx)
  • roots and number equal squares (bx + c = ax2)
by dividing out the coefficient of the square and using the two operations al-jabr (Arabic: الجبر‎ “restoring” or “completion”) and al-muqābala (“balancing”). Al-jabr is the process of removing negative units, roots and squares from the equation by adding the same quantity to each side. For example, x2 = 40x − 4x2 is reduced to 5x2 = 40x. Al-muqābala is the process of bringing quantities of the same type to the same side of the equation. For example, x2 + 14 = x + 5 is reduced to x2 + 9 = x.
The above discussion uses modern mathematical notation for the types of problems which the book discusses. However, in al-Khwārizmī’s day, most of this notation had not yet been invented, so he had to use ordinary text to present problems and their solutions. For example, for one problem he writes, (from an 1831 translation)
“If some one say: “You divide ten into two parts: multiply the one by itself; it will be equal to the other taken eighty-one times.” Computation: You say, ten less thing, multiplied by itself, is a hundred plus a square less twenty things, and this is equal to eighty-one things. Separate the twenty things from a hundred and a square, and add them to eighty-one. It will then be a hundred plus a square, which is equal to a hundred and one roots. Halve the roots; the moiety is fifty and a half. Multiply this by itself, it is two thousand five hundred and fifty and a quarter. Subtract from this one hundred; the remainder is two thousand four hundred and fifty and a quarter. Extract the root from this; it is forty-nine and a half. Subtract this from the moiety of the roots, which is fifty and a half. There remains one, and this is one of the two parts.”[16]
In modern notation this process, with ‘x’ the “thing” (shay’) or “root”, is given by the steps,
(10-x)^2=81 x
x^2 - 20 x + 100 = 81 x
x^2+100=101 x
Let the roots of the equation be ‘p’ and ‘q’. Then \tfrac{p+q}{2}=50\tfrac{1}{2}, pq =100 and
\frac{p-q}{2} = \sqrt{\left(\frac{p+q}{2}\right)^2 - pq}=\sqrt{2550\tfrac{1}{4} - 100}=49\tfrac{1}{2}
So a root is given by
x=50\tfrac{1}{2}-49\tfrac{1}{2}=1
Several authors have also published texts under the name of Kitāb al-jabr wa-l-muqābala, including |Abū Ḥanīfa al-Dīnawarī, Abū Kāmil Shujā ibn Aslam, Abū Muḥammad al-ʿAdlī, Abū Yūsuf al-Miṣṣīṣī, ‘Abd al-Hamīd ibn Turk, Sind ibn ʿAlī, Sahl ibn Bišr, and Šarafaddīn al-Ṭūsī.
J. J. O’Conner and E. F. Robertson wrote in the MacTutor History of Mathematics archive:
“Perhaps one of the most significant advances made by Arabic mathematics began at this time with the work of al-Khwarizmi, namely the beginnings of algebra. It is important to understand just how significant this new idea was. It was a revolutionary move away from the Greek concept of mathematics which was essentially geometry. Algebra was a unifying theory which allowed rational numbers, irrational numbers, geometrical magnitudes, etc., to all be treated as “algebraic objects”. It gave mathematics a whole new development path so much broader in concept to that which had existed before, and provided a vehicle for future development of the subject. Another important aspect of the introduction of algebraic ideas was that it allowed mathematics to be applied to itself in a way which had not happened before.”[20]
R. Rashed and Angela Armstrong write:
“Al-Khwarizmi’s text can be seen to be distinct not only from the Babylonian tablets, but also from DiophantusArithmetica. It no longer concerns a series of problems to be resolved, but an exposition which starts with primitive terms in which the combinations must give all possible prototypes for equations, which henceforward explicitly constitute the true object of study. On the other hand, the idea of an equation for its own sake appears from the beginning and, one could say, in a generic manner, insofar as it does not simply emerge in the course of solving a problem, but is specifically called on to define an infinite class of problems.”[21]also the origin of (Spanish) guarismo[8] and of (Portuguese) algarismo, both meaning digit.
Enhanced by Zemanta