ابن خلدون کی مشکلات

ابن خلدون فلسفہ تاریخ کے بانی اور عمرانیات کے امام اور پیشرو سمجھے جاتے ہیں۔ ابن خلدون کو ان کے ’’مقدمہ‘‘ سے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ اس کے باوجود ان کی زندگی کے پورے حالات دستیاب نہیں ہوتے۔ یوں تو ابن خلدون نے بھی ایک کتاب اپنے ذاتی حالات و واقعات پر لکھی ہے لیکن اس میں بھی ان کی پوری زندگی کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہوتی ہیں۔ ابن خلدون کے بارے میں یہ بات اب بھی وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کی جو شہرت اور وقعت اسلامی ممالک میں ہونی چاہیے تھی وہ انہیں آج تک حاصل نہیں ہو سکی۔

مغرب کا ایک قابل تحسین کام یہ بھی ہے کہ اس کے سکالرز نے ابن خلدون کے صحیح مقام کا تعین کیا اور ابن خلدون کی عظمت و علمی برتری کو پھیلایا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ خود ابن خلدون کی اپنی زندگی میں اور اس کے بعد عالم اسلام میں بعض بااثر شخصیات نے جیسے جیسے الزامات تراشے اور اس کے عظیم کام کو دفن کرنے کی کوشش کی اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو آج ابن خلدون کا کوئی نام بھی نہ جانتا۔ ابن خلدون کی تصنیف ’’مقدمہ‘‘ ایک ایسی تصنیف ہے جو دنیا کی بڑی کتابوں میں شامل کرنا لازمی ہے۔ مقدمہ نے ابن خلدون کو فلسفہ تاریخ کے بانی کی حیثیت سے پیش کیا۔ اس طرح وہ عمرانیات کے امام اور پیشرو تسلیم کیے جاتے ہیں۔

ابن خلدون 732 ہجری (1332ئ) میں تیونس میں پیدا ہوئے۔ ان کے حالات زندگی کے بارے میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ ابن خلدون کی ابتدائی تعلیم قرآن پاک سے شروع ہوئی۔ انہوں نے قرآن پاک کا درس ساتوں قرأتوں کے ساتھ لیا۔ اس کے بعد احادیث کا درس لیا۔ وہ سترہ برس کے تھے کہ ان کے والدین کا انتقال ہو گیا۔ ابن خلدون کے مزاج کی دو خصوصیات کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ جوانی میں ہی اتنا علم حاصل کر چکے تھے کہ وہ کسی کو کم ہی خاطر میں لاتے تھے۔ ان کی شخصیت کا دوسرا پہلو ان کی اقتدار اور جاہ پسندی ہے۔ انہوں نے جیسی زندگی گزاری وہ بے حد حیران کن اور غیرمعمولی نوعیت کی ہے۔

اقتدار اور مرتبے کے حصول کے لیے ابن خلدون کسی کی پروا نہ کرتے تھے۔تیونس کے امیر اسحاق الحصفی کے دربار تک رسائی حاصل کی۔ انہیں کاتب کا عہدہ ملا۔ جو ابن خلدون کو پسند نہ تھا۔ امیر ابو زید کے خلاف جب امیر اسحاق کا لشکر لڑائی کے لیے روانہ ہوا تو ابن خلدون بھی ہمراہ ہو گئے۔ ارادہ تھا کہ اس طرح امیر اسحاق کی ملازمت سے بھاگ نکلیں گے اور امیر ابو زید کو فتح ہوئی تو اس کا ساتھ دے کر اعلیٰ مرتبہ حاصل کریں گے۔ لیکن لشکر کو شکست ہوئی۔ ابن خلدون نے ایک گاؤں میں پناہ لی اور پھر بہت عرصے تک یوں ہی چھپے رہے۔ ابو عنان امیر مراکش کو ان کی موجودگی کی خبر ملی تو ابن خلدون کو اپنے درباریوں میں شامل کر لیا۔ ان کو سیکرٹری (امیر اسرار) تک عہدہ ملا۔

مگر ابن خلدون اس سے بھی مطمئن نہ تھے۔ ابن خلدون جس دور کی پیداوار ہیں اس دور میں عالم اسلام کی مرکزیت بہت حد تک ختم ہو چکی تھی۔ آپس میں اقتدار کی جنگیں ہوتی تھیں اور ایک دوسرے کے خلاف بڑی بڑی سازشیں کی جاتی تھیں۔ بجایہ کا والی ابو عبداللہ امیر مراکش ابو عنان کی قید میں تھا۔ ابن خلدون نے ایک منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا کہ ابو عبداللہ کو ابو عنان کی قید سے نکال کر بادشاہ بنایا جائے۔ ابن خلدون اور ابو عبداللہ کے درمیان طے پایا کہ اگر ابن خلدون کا منصوبہ کامیاب ہوا تو ابو عبداللہ ان کو اپنا وزیر بنائے گا۔ لیکن ابن خلدون کا منصوبہ فاش ہو گیا۔ اور ابن خلدون کو زندان کا منہ دیکھنا پڑا۔ انہیں اس وقت رہائی ہوئی جب ابو عنان کا انتقال ہو گیا۔

نئے حکمران الحسن بن عمر نے ابن خلدون پر خاص احسان کرتے ہوئے ان کو رہا کیا تھا۔ مگر ابن خلدون نے اس کے خلاف بھی منصوبے میں حصہ لیا۔ ابوالمنصور حکمران بنا۔ مگر اس سے بھی ابن خلدون کی زیادہ دیر نہ نبھ سکی۔ ابو سالم تخت کا دعوے دار ہوا تو ابن خلدون اس کے ساتھ ہو لیے۔ ابوسالم نے ابن خلدون کو اپنا مشیر خاص اور وزیر بنایا۔ لیکن ابن خلدون کو یہ منصب جلیلہ بھی راس نہ آیا۔ حکومت کے دوسرے لوگ خلاف ہو گئے۔ اب ابن خلدون نے اپنے ایک ساتھی سے مل کر ابو سالم کی حکومت کا تختہ الٹا دیا۔ لیکن ابن خلدون اقتدار سے محروم رہے اس کا دوست تخت پر قابض ہو گیا۔ ابن خلدون تیونس سے بھاگے اور ہسپانیہ چلے آئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب غرناطہ کے ابو عبداللہ خامس کو اقتدار سے الگ کیا جا چکا تھا۔ ابن خلدون نے پھر ایک نئی سازش اور ایک نیا منصوبہ تیار کیا۔

ابو عبداللہ خامس کو غرناطہ کا تخت دلانے کے لیے ابن خلدون نے اپنی سازشیں اور کوششیں شروع کر دیں۔ 1364ء میں ابو عبداللہ تخت پر براجمان ہو گیا۔ اس نے ابن خلدون کی خدمات کے عوض اپنا مقرب خاص بنا لیا اسے وزیر کا عہدہ بھی ملا۔ مگر ابن خلدون پھر اقتدار میں تبدیلی کے خواہاں تھے، جب ابو عبداللہ کے چچیرے بھائی نے حکمران کے خلاف منصوبہ بنایا تو اعانت کرنے لگے۔ ان کی ذہانت اور منصوبہ بندیوں کی وجہ سے ان کی مخالفت کا بازار گرم ہوا۔ ابن خلدون نے بھاگنا چاہا لیکن گرفتار کر لیے گئے۔ کچھ عرصے کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔ وہ افریقہ بھاگ نکلے۔ کچھ عرصہ سلطان ابو حمود کے ساتھ بھی رفاقت کر لی لیکن ابن خلدون کی دلی آرزو کہ وہ پورا اقتدار حاصل کر سکیں کبھی پوری نہ ہوئی۔

انہوں نے سیاست ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ گھریلو زندگ بسر کرنے کی خواہش قوی ہوئی۔ لیکن ان کے اس فیصلے اور کنارہ کشی کے باوجود ان کی سابقہ شہرت کی وجہ سے حکام اور حکمران ان سے خائف رہے کہ وہ پھر کسی نئی سازش کا ڈول نہ ڈال دیں۔ ان کے علمی کام کی تیونس کے مفتی اعظم اور فقیہہ نے شدید مخالفت کی۔ ان کے خلاف بادشاہ کو بھڑکایا۔ ابن خلدون اب تیونس سے بھاگے تو مصر جا کر دم لیا۔ یہاں ان کی شہرت پہلے سے پہنچ چکی تھی۔ کچھ عرصہ جامعہ ازہر میں درس دیا پھر ان کو قضا کا عہد سونپ دیا گیا۔ رشوت ستانی اور بدعنوانی کے خلاف ابن خلدون نے ایسے سخت احکام اور اقدامات جاری کیے کہ عمال اور حکام ان کے مخالف ہو گئے۔ ایک بار پھر ابن خلدون نے گوشہ نشینی اختیار کی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب اس کی بدبختی اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ بیوی بچے تیونس سے مصر آ رہے تھے کہ جہاز راہ میں غرق ہوا اور وہ سب ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ جب ابن خلدون کو خبر ملی تو اس کی زبان سے یہ جملہ نکلا۔ “اس حادثے سے میں مالی خوش بختی اور اولاد سب سے محروم ہو گیا۔”

ستار طاہر

Advertisements

یورپ نے تحقیق مسلمانوں سے لی

رابرٹ بریفالٹ نے کہا ہے کہ اِس بات کا غالب اِمکان ہے کہ عرب مشاہیر سے خوشہ چینی کئے بغیر جدید یورپی تہذیب دورِ حاضر کا وہ اِرتقائی نقطۂ عروج کبھی حاصل نہیں کر سکتی تھی جس پر وہ آج فائز ہے۔ یوں تو یورپی فکری نشو و نما کے ہر شعبے میں اِسلامی ثقافت کا اثر نمایاں ہے لیکن سب سے نمایاں اثر یورپی تہذیب کے اُس مقتدِر شعبے میں ہے جسے ہم تسخیرِ فطرت اور سائنسی وجدان کا نام دیتے ہیں۔ یورپ کی سائنسی ترقی کو ہم جن عوامل کی وجہ سے پہچانتے ہیں وہ جستجو، تحقیق، تحقیقی ضابطے، تجربات، مُشاہدات، پیمائش اور حسابی مُوشگافیاں ہیں۔ یہ سب چیزیں یورپ کو معلوم تھیں اور نہ یونانیوں کو، یہ سارے تحقیقی اور فکری عوامل عربوں کے حوالے سے یورپ میں متعارف ہوئے۔

ابن سینا اور ابن خلدون کا نظریہ ریاست

جہاں تک ابن سینا کے سیاسی فلسفے کا تعلق ہے، تین عوامل اس میں مدغم ہوگئے تھے : یونانی افکار، ان پر فارابی کے اضافے اور ترامیم، اور خلافت کے بارے میں راسخ العقیدگی پر مبنی نظریات جو فقہا نے پیش کیے تھے۔ ابن سینا بھی فارابی اور یونانی مفکرین کی طرح یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ انسان کا اصلی مقصد ’’حصولِ مسرّت‘‘ ہے۔ اس کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ جو ریاست پیغمبرِ قانون ساز پر نازل شدہ وحی پر مبنی شریعت کے مطابق قائم ہوئی تھی، وہ طاقت (ملک) کے بل پر قائم کردہ ریاست سے کہیں زیادہ اعلیٰ اور بلند تھی۔

جہاں تک خلافت کا تعلق ہے، ابن سینا کا خیال تھا کہ خلیفہ جسے شریعت کا مکمل علم حاصل ہونا چاہیے، اس کی اطاعت اس لیے کرنی چاہیے کہ وہ پیغمبر ِقانون ساز کا وارث ہے۔ اس نے بھی خلیفہ کے وہی فرائض، ذمہ داریاں اور اوصاف بتائے ہیں جو فقہا نے گنوائے ہیں۔ البتہ یہ اضافہ کیا کہ خلیفہ کا انتخاب پوری امتِ مسلمہ کو کرنا چاہیے۔ ابن سینا نے فقہا سے معنوی لحاظ سے اختلاف کیا، جب اس نے کہا کہ غاصب (متغلّب) حکمران کے خلاف جنگ کرنی چاہیے اور ممکن ہو تو اسے قتل کر دینا چاہیے۔ اس نے تو یہاں تک کہا کہ جو شہری غاصب کے خلاف جنگ کے وسائل رکھنے کے باوجود جنگ نہیں کرتے، وہ مستوجب سزا ہیں۔

بے شک ابن سینا کا مرتبہ عالی اور بلند ہے، لیکن بدقسمتی سے اس کے نظریات میں بھی تضاد پایا جاتا ہے۔ اس نے دلیل کے ساتھ کہا تھا کہ اگر ایک کمزور اور نااہل خلیفہ کو ہٹا کر اس کی جگہ ایک طاقتور اور عقل مند باغی کو تخت پر بٹھا دیا جائے تو شہریوں کو چاہیے کہ وہ باغی کا دعویٰ تسلیم کریں، بشرطیکہ دوسرے اعتبارات سے بھی وہ اِس منصب کے اہل ہو۔ گویا ابن سینا نے اپنا سابقہ سخت اور بے لچک موقف ایک ایسے حکمران کے حق میں بدل لیا جس کی حکمرانی طاقت اور ذہانت پر مبنی ہو۔ ظاہر ہے کہ اس نے اس نکتے پر زور دیا کہ ایک طاقتور اور ذہین، مگر کم پارسا، غاصب حکمران ایک کمزور اور نااہل، مگر متقی خلیفہ کے مقابلے میں بہتر اور قابلِ ترجیح ہے۔ 

ابن سینا نے عبادات اور معاملات میں بھی امتیاز روا رکھا۔ اس نے کہا کہ عبادات کی انجام دہی ضروری ہے، اس لیے کہ یہ ملتِ اسلامیہ کے ہر فرد کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن امام کو بنیادی طور پر شہریوں کے معاملات سے تعلق رکھنا چاہیے۔ معاشرتی تعلقات کی تنظیم ایسی قانون سازی سے کرنی چاہیے جو شہریوں کی جان و مال اور لین دین کے معاملات کا تحفظ کر سکے۔ اس نے سفارش کی کہ شریعت کا نفاذ ہونا چاہیے اور جو لوگ شریعت کے مخالف ہوں، انھیں ریاست سے نکال باہر کرنا چاہیے۔ اس کا حصولِ مسرت کا دوگونہ تصور بھی یعنی موجودہ دنیا میں انسان کی خوشحالی اور آخرت میں نعمتوں کے حصول کی تیاری، شریعت پر پوری پابندی کے ساتھ عمل کرنے سے وابستہ ہے۔

دوسرے مسلمان مفکرین کی طرح ابن رشد کا بھی یہی خیال تھا کہ انسان مسرت یا کاملیت عالم تنہائی میں حاصل نہیں کر سکتا۔ اسے دوسرے انسانوں سے سیاسی تعلقات ضرور استوار کرنے چاہئیں۔ وہ ریاست کے بغیر زندہ بھی نہیں رہ سکتا۔ اس کا یہ اصرار عین منطقی ہے، کیونکہ ایک اچھی ریاست یقینا قانون پر مبنی ہوتی ہے۔ مثالی ریاست وہ ہوتی ہے جس کی بنیاد وحی پر رکھی گئی ہو اور سچی خوشی یا اعلیٰ ترین کاملیت ایسی ہی ریاست میں حاصل ہو سکتی ہے۔ مثالی ریاست کا آئین شریعت ہے۔ چونکہ صرف فلسفی ہی شریعت کے گہرے اسرار و معانی سمجھنے کی قابلیت رکھتا ہے، اور وہی ان کی صحیح تشریح کر سکتا ہے، لہٰذا اسے مثالی ریاست کی سیاست میں انتہائی اہم کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ 

ابن رشد اگرچہ خود بھی عالمِ دین تھا، مالکی مکتب کا فقیہہ تھا، قرطبہ کا قاضی تھا، تاہم وہ شریعت کی تفہیم و تشریح کے معاملے میں فلاسفہ کو علمائے دین اور فقہا کے مقابلے میں بہتر اور قابل ترجیح سمجھتا تھا۔ ابن خلدون نے شریعت کی بنیاد پر قائم شدہ ریاست (سیاستِ دینیہ) اور عقل کی بنیاد پر قائم شدہ ریاست (سیاست عقلیہ) کے درمیان خطِ امتیاز کھینچا ہے اس کا نظریہ تاریخ زیادہ تر ’’عصبیت‘‘ کے تصور پر استوار ہے۔ عصبیت کا مطلب ہے، ایک گروہ یا خاندان کا دعویٰ حکمرانی، اجتماعی کارناموں اور فتوحات کی وجہ سے حاصل شدہ شہرت ، عزمِ صمیم اور زبردست طاقت کی اساس پر۔ 

ابن خلدون کے نظریے کے مطابق جب تک ایک گروپ (مثلاً قبیلہ قریش) یا خاندان (مثلاً سلجوق) اپنی کمزوری اور زوال کے آثار ظاہر نہیں کرتا، اس وقت تک وہ ریاست کے اوپر اپنا اقتدار برقرار رکھتا ہے۔ اور جب ایک گروپ یا خاندان اقتدار کھودیتا ہے تو دوسرا گروپ یا خاندان تازہ ’’عصبیت‘‘ کے ساتھ اقتدار سنبھال لیتا ہے۔ ابن خلدون کے وقتوں میں بیشتر موجود مسلم ریاستیں مقتدر ریاستیں تھیں یعنی وہ طاقت کے بل پر اقتدار میں آئی تھیں۔ اس کی اپنی اصطلاح میں یہ ریاستیں ’’انسان کے خود ساختہ قوانین پر‘‘ قائم ہوئی تھیں۔ اس کا طرز استدلال یہ تھا کہ رسول کریمؐ قانون ساز امام تھے۔ آپؐ نے مسلمانوں کو شریعت کے تحت متحد و منظم کر دیا تھا، جس کی بالادستی کو خلفائے راشدینؓ کے پوری عہدِ خلافت میں تسلیم کیا جاتا رہا تھا۔ بعدازاں مذہبی جوش و تحریک میں کمی آنے کی وجہ سے خلافت ملوکیت میں بدل گئی، جس میں حکمرانی انسانی عقل کے وضع کردہ قوانین کے تحت کی جاتی تھی، حالانکہ دعویٰ یہ کیا جاتا تھا کہ ان کا اصل سرچشمہ شریعت ہے۔ 

ابن خلدون نے مذہبی و سیاسی ادارے کی حیثیت سے خلافت کی اہمیت پر بھی بحث کی ہے اور ماوردی کی اِس رائے سے اتفاق کیا ہے کہ خلیفہ کا کام دینِ اسلام کا تحفظ اور کاروبارِ ریاست کا انصرام ہے۔ لیکن ابن خلدون کے زمانے میں خلافت خالص مذہبی ادارے کی حیثیت سے صرف قاہرہ میں باقی بچ گئی تھی، جبکہ مدت ہوئی، خلیفہ کا انتظامی یا سرکاری معاملات سے کوئی سروکار نہ رہا تھا۔ ابن خلدون کو ایک عمل پسند مفکر کی حیثیت سے یقین تھا کہ ایک مقتدر ریاست (ملوکیت) بھی انسان کے بنائے ہوئے خود ساختہ قوانین کے ذریعے اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر سکتی ہے۔

اس نے سفارش کی تھی کہ ملوکیت کو اپنا رشتہ شریعت سے منقطع نہیں کر لینا چاہیے، کیونکہ ملوکیت اصل میں خلافت ہی سے نکلی ہے۔ ابن خلدون نے شریعت کی نظری و اصولی اہمیت کو تسلیم کرنے کے باوجود، ریاست کو بھی اس کی اصلیت و حقیقت کے ساتھ قبول کیا اور کہا کہ ایک ’’مخلوط‘‘ ریاست بھی جس کا نظمِ حکومت جزواً شریعت کے مطابق اور جزواً انسان کے خود ساختہ قوانین کے تحت چلایا جاتا ہو، اپنے شہریوں کی خدمت بجا لا سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک ایسی مسلم ریاست جس کا نظمِ حکومت انسانی عقل کے وضع کردہ قوانین کے تحت چلتا ہو، وہ بھی اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر جاوید اقبال

 

عظیم کیمیا دان جابر ابن حیان : کیمیا کی تاریخ اسے فراموش نہیں کر سکتی

آپ کو ایک ایسے مسلمان کیمیا دان کا حال سناتے ہیں جس کی محنت اور کوشش سے علم کیمیا کو بڑی ترقی ملی اور وہ موجودہ حالت پر آیا۔ اس کا نام جابر ابن حیان تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ سب سے پہلا کیمیا دان تھا۔ اس کا تعلق عرب کے جنوبی حصے کے ایک قبیلے ازد سے تھا۔ اس کے خاندان کے لوگ کوفے میں آباد ہو گئے تھے۔ لیکن جابر 722ء میں خراسان کے شہر طوس میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ حیان کوفے سے یہاں آ گیا تھا۔ جابر ابھی بچہ ہی تھا کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس کی ماں اس کی ننھی جان کو ساتھ لے کر عرب چلی گئی اور وہاں اپنے قبیلے کے لوگوں میں رہنے لگی۔ 

جابر نے یہاں ہی تعلیم پائی۔ دینی تعلیم کے علاوہ اس نے ریاضی اور دوسرے علوم کا مطالعہ بھی کیا۔ جب وہ جوان ہوا تو اپنے قبیلے کو چھوڑ کر مدینہ منورہ میں آگیا۔ یہاں اس نے امام جعفر صادقؓ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ امام جعفر صادقؓ نہایت عالم اور باکمال امام تھے۔ ان ہی کی صحبت کا اثر تھا کہ جابر اگرچہ بعد میں سائنس دان بنا لیکن اس پر مذہب کا رنگ بھی غالب رہا۔ مدینہ منورہ سے جابر کوفہ آیا، جہاں اس کے بزرگ رہتے تھے۔ یہاں اس نے اپنی تجربہ گاہ قائم کی اور کیمیا پر تحقیقات کیں جن کی بنا پر وہ دنیا کا پہلا کیمیا دان کہلایا۔ جابر نے بچپن ہی سے بہت محنت کی اور برابر تجربات کرتا رہا۔ اس نے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ وہ عربی کے علاوہ یونانی زبان بھی اچھی طرح جانتا تھا۔ اسی لیے اس نے یونانی علم کو عربی زبان میں پیش کیا اور پرانے علوم سے فائدہ اٹھایا۔ 786ء میں جابر عمررسیدہ تھا تو مشہور عباسی خلیفہ ہارون الرشید بغداد میں تخت سلطنت پر بیٹھا۔ وہ پڑھے لکھے لوگوں کی بڑی قدر کرتا تھا۔ اس کے وزیر بھی بڑے لائق تھے اور علم کی قدر کرتے تھے۔ انہوں نے جابر کی شہرت سنی تو اسے بغداد بلا لیا لیکن کچھ عرصہ بعد جابر پھر کوفے واپس آ گیا۔ 

اب تو علم کیمیا بہت ترقی کر چکا ہے۔ اس کی بہت سی شاخیں ہیں، لیکن جابر کے زمانے میں اس علم کا مطلب یہ تھا کہ معمولی دھاتوں کو سونے میں تبدیل کر دیا جائے۔ کسی کو اس میں کامیابی تو حاصل نہیں ہوئی لیکن کوشش سب کرتے تھے۔ جابر نے اپنا وقت صرف اس خیال پر ضائع نہیں کیا۔ اس نے تجرباتی کیمیا پر زور دیا۔ وہ بہت سے تجربات سے واقف تھا جو آج بھی آپ اپنی تجربہ گاہ میں کرتے ہیں، مثلاً حل کرنا، کشیدکرنا، فلٹر کرنا، اشیا کا جوہر اڑانا اور مختلف چیزوں کی قلمیں بنانا، سچ تو یہ ہے کہ جابرتجرباتی کیمیا کا بانی ہے۔ اپنی کتاب میں وہ لکھتا ہے: ’’کیمیا میں سب سے ضروری چیز تجربہ ہے ۔ جو شخص اپنے علم کی بنیاد تجربے پر نہیں رکھتا، وہ ہمیشہ غلطی کھاتا ہے۔ پس اگر تم کیمیا کا صحیح علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو تجربے پر انحصار کرو اور صرف اسی علم کو صحیح جانو جو تجربے سے ثابت ہو جائے۔ کسی کیمیا دان کی قابلیت کا اندازہ اس سے نہیں لگایا جاتا کہ اس نے کیا کیا پڑھا ہے بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس نے تجربے کے ذریعے کیا کچھ ثابت کیا جاتا ہے۔‘‘ 

جابر دھاتوں کو گرمی پہنچا کر ان سے کشتہ بنانا جانتا تھا۔ اس نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے اپنی کتابوں میں فولاد بنانے، چمڑا رنگنے، دھاتوں کو صاف کرنے، موم جامہ بنانے، لوہے کو زنگ سے بچانے کے لیے اس پر وارنش کرنے، بالوں کا خضاب تیار کرنے اور اسی قسم کی درجنوں مفید چیزیں بنانے کے طریقے بیان کیے ہیں۔ اس کے علاوہ جابر نے اپنی کتابوں میں تیزابوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ وہ تیزاب بنانا جانتا تھا اور بعض ان چیزوں سے اچھی طرح واقف تھا جو آج بھی اسی شکل میں محفوظ ہیں۔ کیمیائی آلات میں جابر کی سب سے اچھی ایجاد قرع انبیق ہے جس سے کشید کرنے، عرق کھینچنے اور ست یا جوہر تیار کرنے کا کام لیا جاتا تھا۔ 

جابر نے اپنی تحقیقات سے علم کیمیا کو ایک نیا روپ دیا اور اسے کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عرب کے ایک بدوی قبیلے کا ایک بچہ جو بالکل چھوٹی عمر میں ہی یتیم ہو گیا تھا، کس طرح اس مرتبے تک پہنچا کہ کیمیا کی تاریخ اسے فراموش نہیں کر سکتی۔ مغرب نے اس سے بہت کچھ سیکھا۔ آج یورپ میں اسے Jeber کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسلامی عہد میں سنہری کارنامے انجام دینے والایہ سائنس دان 817ء میں فوت ہوا جب اس کی عمر پچانوے سال تھی۔

جیمز واٹ

 

ابن بطوطہ کا شہر طنجہ

1977 میں جبکہ میں صرف نو برس کی تھی میرے والدین مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو شمالی مراکش میں طنجہ کی سیاحت کو لے گئے۔ یہ موسم گرما کا وسط تھا۔ شہر کی قدیم بستی عدینہ میں خواتین چوڑے کناروں والے تنکوں کے ہیٹ پہنے اور سرخ و سفید دھاریوں والے کمبل لٹکائے گلیوں میں گھوم پھر کر پودینہ اور کدو بیچتی پھر رہی تھیں۔ لڑکے ان کھلے ڈبوں کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے جو اسپین سے آنے والی ممنوعہ اشیا، یعنی ٹرانسسٹر ریڈیو، پلاسٹک کی گھڑیوں، استعمال کے بعد ناکارہ اشیا سے بھرے پڑے تھے۔

دارالحکومت رباط سے تعلق رکھنے والی چھوٹی سی بچی کے لیے لباس، رسوم و رواج اور بولیوں میں علاقائی فرق اس امر کا ثبوت تھا کہ طنجہ ایک مختلف شہر تھا۔ طنجہ تاریخی روایات کا حامل ہے، طنجہ پرفسوں شہر ہے۔ اسی دنوں میں نے اپنے تصویری انسائیکلوپیڈیا میں یونانی اساطیر بشمول ہرکولیس کا مطالعہ کیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اپنی 12 ریاضتوں کے اختتام پر اس نے طنجہ کے قریب آ کر آرام کیا۔ لہٰذا جب اگلے روز ہم شہر سے 14 کلومیٹر دور ہر کولیس کے غار دیکھنے گئے تو خاص طورپر پُر جوش تھی۔

ہمیں اندر جا کر جو نظارہ دیکھنے کو ملا وہ قابل دید تھا۔ دیوار کے اندر افریقہ کی الٹی شکل کی طرح کا ایک خلا تھا جس کے مقابل فیروزی مائل نیلے آسمان اور گہرے نیلے بحراوقیانوس کی شبیہ دکھائی گئی تھی۔ جبکہ میں اپنے والد کا ہاتھ تھامے ڈر رہی تھی کہ کہیں گہرے پانی میں نہ گر پڑوں، چند نوجوان لڑکوں نے بڑی دلیری سے سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ آیا ہرکولیس کا غار ایک ارضیاتی عجوبہ تھا یا انتہائی باہنر قبائل کی جانفشانی کا نتیجہ، کوئی بھی میرے سوال کی تشفی نہ کر سکا۔ طنجہ میں افسانے اور حقیقت کے مابین بہت خفیف فرق پایا جاتا ہے۔ ہرکولیس وہ واحد سیاح نہیں تھا جسے شہر کے اندر جنت ملی تھی۔ 

رومن یہاں ایک صدی قبل مسیح پہنچے تھے، پھر جرمن غارت گر، بنوامیہ، بنو عباس، ادریسی، مریندیسی اور بہت سی دیگر بادشاہتیں، بربر یا عرب مسلمان یا عیسائی، مقامی یا غیر مقامی آئے، پرتگیزی پندرھویں صدی میں حملہ آور ہوئے، طنجہ کے لوگ بھی ہسپانوی حکومت کے زیرنگین آ گئے تھے۔ چند برس بعد انگریز آ گئے۔ یہ سب ایک ہی چیز کے طلب گار تھے۔ ایک ایسا شہر جس کا براعظم کے عین سرے پر وقوع انہیں اس قابل بنا دے گا کہ وہ اندروں ملک سے ہونے والی بہت سی تجارت کو کنٹرول کر سکیں گے۔ وہ سب پھر وہاں سے چلے گئے، اگرچہ ہرکولیس کی طرح وہ اپنی کچھ نہ کچھ یادگار یا نشانی طنجہ میں چھوڑ گئے۔ ہسپانویوں نے چودہ سو نشستوں پر مشتمل تھیٹر بنوایا جہاں ان کے موسیقی اور اوپرا کے سب سے بڑے ستاروں نے دو عالمی جنگوں کے درمیان اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

برطانویوں کی یادگار چرچ آف سینٹ اینڈریو ہے جو اس قطعہ زمین پر تعمیر کیا گیا تھا جو انہیں سلطان نے عطیہ کیا تھا، اور جس کا ٹاور ایک مینار کی طرح نظر آتا ہے۔ طنجہ آپ کو اپنی طرف راغب کرتا ہے، اور پھر پرے دھکیل دیتا ہے، آپ کو دوبارہ اپنی طرف کھینچنے کے لیے۔ حتیٰ کہ تقریباً 25 برس دور رہنے کے بعد اس کا مشہور ترین سپوت ابن بطوطہ بھی واپس لوٹ آیا تھا۔ یہی کچھ میں نے کیا، بار بار۔ اس مرتبہ اپنے خاوند کے ساتھ۔ پہلی نظر میں مجھے شہر ویسے کا ویسا نظر آیا جیسا کہ میں اسے چھوڑ کر گئی تھی۔ 

لیلیٰ لالامی

(ترجمہ: اعزاز باقر)
 

الفارابی کے نظریات

فارابی وہ پہلا ترک فلسفی تھا جسے بہت زیادہ شہرت نصیب ہوئی۔ فارابی نے نہ صرف فلسفہ یونان کا گہری نظر سے مطالعہ کیا بلکہ ارسطو کے فلسفہ کی تشریح لکھی اور اسے آسان بنایا۔ اس نے فلسفہ یونان اور اسلامی تعلیمات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ فارابی نے انسانی عقل کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک عقل عملی اور عقل نظری۔ عقل عملی ہمیں عمل کے بارے میں بتاتی ہے یعنی ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ جبکہ عقل نظری ہمیں استکمال ( perfection) حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ فارابی نے عقل نظری کو مزید تین حصوں میں تقسیم کیا۔ عقل ہیولانی عقل نالفعل اور عقل مستفاد۔

فارابی نے عقل نظری کو عقل عملی پر ترجیح دی۔ اس کا خیال تھا کہ اگر کوئی شخص کسی شے کا علم رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا یا اس علم کے مطابق اپنے کردار کو نہیں ڈھالتا تو وہ اس شخص سے بہرحال بہتر ہے جو اعمال تو نیک بجا لاتا ہے لیکن اس کے بارے میں علم نہیں رکھتا۔ اصل میں یہ بات اس نے سقراط کے زیر اثر کہی تھی یعنی سوچ سمجھ کر برائی کرنا بلا سوچے سمجھے نیکی کرنے سے بدرجہا بہتر ہے کیونکہ علم انسانی کو نتائج اور عواقب سے بچا سکتا ہے۔ فارابی نے ذہنی صحت کے سلسلے میں معاشرے کو بے حد اہمیت دی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ذہنی آسودگی اور کامیابی کا انحصار مل جل کر زندگی بسر کرنے میں ہے۔

اس نے معاشرے کی دو اقسام بیان کیں۔ کامل معاشرہ اور غیر کامل معاشرہ۔ کامل معاشرہ وہ ہے جس میں لوگ اتحاد و یگانگت سے رہیں اور غیر کامل معاشرہ وہ ہے جہاں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہو۔ ہر شخص محض اپنا مفاد ہی سوچے اور محض اپنی خاطر جئے۔ افلاطون نے بہترین معاشرے کا نام جمہوریت رکھا تھا۔ فارابی نے اسے شہر فضیلت کا نام دیا۔ یعنی وہ ایسی مثالی ریاست ہو گی جہاں لوگ ایک دوسرے سے تعاون کریں گے اور اپنی اور دوسروں کی زندگی کو خوشگوار بنانے میں ممدومعاون ثابت ہوں گے ۔

محمد عاصم صحرائی

 

الغ بیگ کی رصد گاہیں

سمرقند میں الغ بیگ کی سولہویں صدی میں تعمیر کردہ تحقیقاتی رصد گاہ جو آسمانوں کی تسخیر کی بنیادیں فراہم کرتی ہے‘ اس حقیقت کی غماز ہے کہ تسخیر کائنات کیلئے دین کے علم کے ساتھ سائنسی علوم بھی ضروری ہیں۔ الغ بیگ کی رصدگاہ کی تفصیل سے پہلے چوک ریگستان کا ذکر ہو جائے۔ سمرقند کے حوالے سے ریگستان چوک کا نام بار بار آتا ہے۔ کہاں سمرقند اور کہاں ریگستان چوک۔ اس حوالے سے ذہن میں کوئی تصویر بھی نہیں ابھرتی۔ اول تو ریگستان میں سمت دریافت کرنا ہی مشکل ہے‘ پھر ریگستان میں چوک کیسا ہو گا۔ شرف مرزا اس بارے میں پہلے سے کچھ بتانے سے قصداً گریز کر رہے تھے۔

وہ یقینا ہمارے تجسس کو قائم رکھنا چاہتے تھے کہ ہم خود دیکھیں کہ یہ ہے کیا؟ سمرقند کے وسط میں یہ تاریخی چوک ہے‘ جس میں تین انتہائی خوبصورت‘ عالیشان اور پرشکوہ مدارس کی عمارتیں ہیں۔ چودھویں صدی میں یہ دور تیموری میں ایشیا کا سب سے بڑا بازار تھا‘ جہاں دنیا بھر کے تجارتی قافلے آتے تھے۔ اس کے چاروں طرف صناعوں اور کاریگروں کی دکانیں تھیں۔ پندرھویں صدی میں تیمور کے پوتے الغ بیگ نے اس چوک میں سب سے پہلا مدرسہ قائم کیا تھا۔ وہ اپنے زمانے کا مانا ہوا فلسفی‘ ریاضی دان‘ سائنس دان اور ماہر نجوم حکمران تھا اور خود اپنے مدرسے کا پہلا استاد تھا۔ مدرسے‘ ڈیوڑھی اور صحن کے گرد برآمدوں اور چھوٹے چھوٹے کمروں میں تحائف کی دکانیں ہیں۔

روغنی مٹی کے مجسمے جو یہاں کا تہذیبی عکس لئے ہوئے ہیں‘ سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ غرض قدیم سے لے کر جدید تزئین و آرائش کی مصنوعات دستیاب ہیں اور یہ سب ہاتھوں کی کاریگری ہے۔ جو وسطی ایشیا میں مسلمانوں کا تہذیبی ورثہ تھی‘ روسیوں نے ان کی خرید و فروخت کے ساتھ ان کے بنانے پر بھی پابندی لگا دی تھی تا کہ لوگ صرف ان کے مقاصد کی تکمیل کیلئے پیداواری عمل میں مصروف رہیں۔ لوگوں نے اپنا قیمتی‘ تہذیبی اور ثقافتی ورثہ جو تباہ ہونے سے بچ گیا تھا‘ تہہ خانوں میں چھپا دیا۔ آج وہ سارے قدیم شاہکار اور دستکاری کے نادر اور نایاب نمونے نکال نکال کر عجائب گھروں میں سجا دئیے گئے ہیں۔ سمرقند کے مضافات میں افراسیاب ، الغ بیگ کی تعمیر کردہ رصد گاہ ہے۔ رصدگاہ کی اونچائی 33 میٹر ہے۔

ستاروں کی حرکات‘ چاند گرہن اور فلکیاتی علوم کی تحقیق کا جو کام بھی الغ بیگ نے کیا‘ بعد میں آنے والے ریاضی دان اور ماہرین فلکیات اسے رد نہ کر سکے۔ الغ بیگ نے عناصر کائنات یعنی آگ‘ ہوا‘ مٹی اور پانی کے بارے میں بہت کام کیا۔ آزادی کے بعد اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی مدد سے ازبک قوم اپنے مایہ ناز اور قابل فخر آبائو اجداد پر ازبک‘ انگریزی اور روسی زبانوں میں کتابیں شائع کر رہی ہے۔ ان قابل فخر شخصیات میں امیر تیمور‘بابر اور الغ بیگ نمایاں ہیں۔     الغ بیگ کی حاکمیت سمرقند میں چالیس سال قائم رہی۔ اس کے بیٹے پر بھی حاکم بننے کا جنون سوار تھا۔ چند انتہا پسند لوگ الغ بیگ کی سائنسی تحقیق و جستجو‘ اس کے علم و فن اور اس سے متعلق سرگرمیوں کو غیر اسلامی سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے بیٹے کو باپ کے خلاف اس قدر بھڑکایا کہ اس نے اپنے باپ کے خون سے ہاتھ رنگ لئے‘ مگر صرف چھ ماہ بعد وہ خود بھی قتل ہو گیا۔

الغ بیگ کے شاگرد علی قشمی نے اپنے استاد کے علوم کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ازبکستان میں الغ بیگ کا نام نئی نسل میں بہت مقبول ہے۔ اسی طرح تیمور اور بابر بھی بہت عام نام ہیں۔ جس کے تین چار بیٹے ہوں‘ ان میں سے ایک نام ضرور الغ بیگ‘ بابر یا تیمور ہو گا۔ تاشقند میں زمین دوز ریلوے میٹرو کے دو اسٹیشن امیر تیمور اور الغ بیگ کے نام پر ہیں۔ دونوں سٹیشنز سے باہر نکل کر ان اکابرین کے نام پر شاندار پارک ہیں۔ میٹرو کے الغ بیگ سٹیشن سے اوپر جائیں تو سڑک کے اس پار الغ بیگ پارک کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔ اونچے اور گھنے درختوں سے تو پورا شہر ہی بھرا ہوا ہے۔

فریدہ حفیظ

مسلم دنیا کے بھلا دیے گئے سائنسی ستارے

ایران میں جنم لینی والی مریم مرزا خانی، جو ریاضیات میں بلا کی ذہین تھیں، 14 جولائی 2017 کو کینسر کے باعث 40 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ 2014 میں انہیں فیلڈز ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو کہ ریاضی کے شعبے میں نوبیل انعام کے برابر ہے۔ ملکہءِ ریاضیات کے لقب سے مشہور مریم مرزا خانی یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی خاتون اور پہلی مسلمان تھیں۔ انہوں نے عام طور پر مردوں کا شعبہ سمجھے جانے والے اس شعبے کا اعلیٰ ترین ایوارڈ حاصل کر کے اس تاثر کو غلط ثابت کیا کہ یہ صرف مردوں کا شعبہ ہے۔ اس قدر ذہین خاتون کو اتنی جلدی گنوا دینا ایک سانحہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کی طرح ان کے ملک ایران میں بھی ان کی وفات پر سوگ منایا گیا جبکہ ان کی کامیابیوں کو یاد کیا گیا۔ ایران سے باہر، اسلامی دنیا کے دیگر ممالک میں ان کی وفات ایک غیر اہم واقعہ رہی۔ پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بمشکل ہی ان کا نام لیا گیا۔ یہ بھی ان کی وفات کی طرح ایک مایوس کن صورتحال ہے۔

مرزا خانی نے ‘کمپلیکس جیومیٹری’ کے وسیع میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ فیلڈز میڈل ایوارڈ کمیٹی نے ‘رائمن سرفیسز کی جیومیٹری اور ڈائنیمکس اور ان کے موڈیولی اسپیسز’ پر ان کے کام کو بنیاد بنا کر ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سب میری سمجھ سے باہر ہے کیوں کہ آج کی ریاضی 1960 میں جب میں نے ماسٹرز کیا تھا، کی ریاضی سے اتنی ہی مختلف ہے جتنے کہ آج کے موبائل فون اس دور کے ٹیلی فونز سے۔ مرزاخانی نے فرزانیگان اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور 1999 میں تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنولوجی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 2004 میں ہارورڈ سے پی ایچ ڈی کی اور پرنسٹن اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ ایسی تعلیمی اداروں، جو مرزاخانی جیسے ماہرینِ ریاضی پیدا کر سکیں، کی موجودگی پر ایرانی نظامِ تعلیم مبارک باد کا مستحق ہے۔

پاکستان میں برطانیہ نے اچھے تعلیمی ادارے چھوڑے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری مادرِ علمی پنجاب یونیورسٹی کے پرانے کیمپس کے شعبہءِ کیمیا میں یہ تختی نصب تھی: “کومپٹن افیکٹ کے تجربے کو یہاں 1929 میں دوبارہ دہرایا گیا تھا۔ ” 1923 کا یہ بنیادی تجربہ وہ تھا جس نے کوانٹم فزکس کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ بھی ہم نے کئی مایہ ناز سائنسدان پیش کیے۔ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام ایسے لیجنڈ ہیں جنہوں نے میری نسل کے طلباء کو متاثر کیا۔ 1960 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان تمام ترقی پذیر ممالک سے زیادہ ماہرِ تھیوریٹیکل فزکس پیدا کر رہا تھا۔ 1960 میں پاکستان اٹامک اینرجی کمیشن (پی اے ای سی) مکمل طور پر پاکستانی سائنسدانوں نے قائم کیا اور اس کا انتظام سنبھالا۔ اس وقت پاکستان نیوکلیئر ہتھیاروں کی طرف راغب نہیں تھا۔ پی اے ای سی کے سابق سربراہ ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی کو اس بات کا افسوس تھا۔ میری ان سے نیویارک میں 1979 میں ملاقات ہوئی تھی۔

جب انہیں میرے تعلیمی پس منظر کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے بتایا کہ کس طرح ‘بیوروکریٹس’ نے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کے حصول کی ان کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رکھی تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اہم موقع گنوا چکا تھا اور یہ کہ سینٹری فیوج ٹیکنولوجی ایک ‘فراڈ’ تھی۔ ان کا سوال تھا، ‘متھا (مکھن نکالنے کا عمل) ٹیکنولوجی ایٹم بم کس طرح بنا سکتی ہے؟’ مگر پھر بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں ایک نئی روح پھونک دی۔ سائنسدانوں کی اپنی پرعزم ٹیم کے ساتھ انہوں نے ایک نئی ٹیکنولوجی تیار کی جسے پہلے کہیں آزمایا نہیں کیا گیا تھا۔ نتیجہ سب کے سامنے تھا اور ان لیے باعثِ پیچ و تاب، جنہیں لگتا تھا کہ پاکستان ‘دھوکے بازی’ کر رہا ہے۔

سی آئی اے کے سابق سربراہ جارج ٹینیٹ (1997 تا 2004) اپنی کتاب ‘ایٹ دی سینٹر آف دی اسٹورم’ میں افسردگی سے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر خان نے “تقریباً اکیلے ہی پاکستان کو نیوکلیئر طاقت میں تبدیل کر دیا۔” پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا ایک تیسرا روٹ متعارف کروا ڈالا جبکہ اس سے پہلے رائج دو دیگر طریقے 1940 کی دہائی کے اوائل میں مین ہٹن پراجیکٹ میں تیار کیے گئے تھے۔
ہمارے پاس تکمیل تک نہ پہنچ پانے والے ٹیلنٹ کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ مجھے شفاعت حسین یاد ہیں جو میرے ایک سال سینیئر تھے اور انتہائی نایاب ذہانت اور معیار کے حامل تھے۔ ہم نے 1964 میں ایک ساتھ ٹوپولوجی کی تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ ایک ابتدائی بحث کے دوران ہمارے بہترین سپروائزر اور دوست ڈاکٹر ممتاز حسین قاضی، جو حال ہی میں ہارورڈ سے لوٹے تھے، نے ہمیں ایک غیر حل شدہ تھیورم سمجھایا۔

شفاعت نے اس دن سے کلاسوں میں آنا بند کر دیا اور دو ماہ کے اندر اندر تھیورم کا حل پیش کر کے ایک ریسرچ پیپر تحریر کر لیا جو کہ ریاضی کے ایک مشہور جریدے جرنل آف دی لندن میتھمیٹیکل سوسائٹی میں شائع ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر شفاعت کو رات میں کوئی خیال آجاتا اور انہیں کوئی کاغذ نا ملتا تو وہ اپنے بستر کی سفید چادر پر ہی لکھ ڈالتے، اور صبح اپنی والدہ سے کہتے کہ ان کی چادر نہ دھوئی جائے۔ انہوں نے پھر پی ایچ ڈی کی اور کینیڈا میں پوسٹ ڈاکٹورل کام شروع کیا۔ چند سال بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ تبلیغی بن چکے تھے۔ وہ کہا کرتے کہ انہیں ایک دو راہے کا سامنا تھا؛ کہ “خدا کا انتخاب کریں یا ریاضی کا۔” اس کے چند سال بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنے جنون، یعنی ریاضی کی سختی تلے دب چکے تھے۔ ان کی زندگی کے سفر میں میں اپنے معاشرے کی کہانی دیکھتا ہوں۔

1960 سے لے کر اب تک ہمارے تعلیمی ادارے پسماندگی کا شکار ہیں۔ 1960 کی دہائی کے وسط میں پوری دنیا کے تعلیمی اداروں میں سیاسی لہر دوڑ گئی تھی۔ دوسری جگہوں پر یہ کچھ سالوں میں دم توڑ گئی مگر پاکستان میں اس کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر سائنسی تعلیم ہوئی۔ اسلامی دنیا میں ہم کبھی سائنس میں سب سے آگے تھے، اب ہم سے یہ اعزاز چھن چکا ہے۔

ہمارا بنیادی تعلیمی نظام انگلش میڈیم اسکولوں، گزارے لائق اور خستہ حال سرکاری اسکولوں، اور مدرسوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔ ایچی سن کالج جیسے انگلش میڈیم اسکول سائنسدان اور انجینیئر پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیے جاتے۔ مرکزی دھارے کے سرکاری اسکولوں کا معیار شرمناک حد تک گرا ہوا ہے۔ مدرسے عمومی اور سائنسی تعلیم کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ اور ہم اس چیلنج سے فکری، معاشرتی اور سیاسی طور پر نمٹنے میں نااہل ثابت ہو رہے ہیں۔ مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سائنس اور زندگی پر سائنس کے اثرات ہی ہیں جو آج کے دور میں اقوام کو عزت دلواتے ہیں اور ان کی قوت ثابت ہوتے ہیں۔ ان خیالات کے ساتھ میں مریم مرزاخانی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ وہ مسلم دنیا میں موجود حالیہ تاریکی کے درمیان امید کی ایک کرن بن کر ابھریں۔

ریاض محمد خان
یہ مضمون ڈان اخبار میں 31 جولائی 2017 کو شائع ہوا۔
 

حنین ابن اسحاق : ایک جلیل القدر طبیب

ابوزید حنین ابن اسحاق العبادی 810ء میں پیدا ہوا اور 877ء میں وفات پائی۔ یہ عہد عباسی کا ایک جلیل القدر طبیب تھا۔ حنین ابن اسحاق کے تذکرے کے بغیر عہد عباسی کی تاریخ نا تمام رہتی ہے۔ ابن ندیم نے الفہرست میں لکھا ہے کہ اس کا پورا نام حنین ابن اسحاق عبادی تھا اور ابو زید اس کی کنیت تھی۔ یہ بنو موسیٰ کے دربار میں یونانی مخطوطات کو جمع کرنے اور ان کے تراجم پرمامور تھا۔ اس نے طبی کتابوں کے تراجم سب سے زیادہ کیے ہیں۔ حنین علمی منازل طے کرتا ہوا اس درجے پر جا پہنچا کہ علوم و فنون کا سرچشمہ تصور کیا جانے لگا۔ اس کی رسائی خلیفہ مامون رشید تک ہوئی جس نے حنین کو اپنے دربار میں بلا کر خلعتیں عطا کیں اور بیت الحکمت کا مہتمم مقرر کیا۔ 

مامون رشید اس کے تالیف وتراجم کی جس طرح قدر کرتا تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ حنین کو اجرت کے طورپر اس کی ہرتالیف کے ہم وزن سونا عطا کرتا تھا۔ حنین اپنے عہد کا ممتاز طبیب ہی نہیں بلکہ یونانی طب کا سب سے بڑا مترجم ہے۔ حنین نے جالینوس کی 95 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے سریانی اور39 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے عربی میں کیا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے شاگردوں کے ذریعے کیے گئے تراجم پر نظر ثانی کی اورصلاح و مشورہ دیا۔ حنین ہی کی سربراہی میں دنیا کی انتہائی اہم اور نایاب کتاب ’کتاب الخشائش‘ (جس کا اصل مصنف دیسقوریدوس ہے) کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا۔ حنین عربی، فارسی، یونانی اورسریانی زبانوں کا جید عالم تھا۔ 

اگرچہ حنین ابن اسحاق کئی کتابوں کا مصنف تھا لیکن علمی دنیا میں اس کی شہرت مترجم کی حیثیت سے زیادہ ہوئی۔ حنین ابن اسحاق کی تصانیف میں کتاب المصائب، کتاب العشر مقالات فی العین، کتاب العین خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ ان ابی اُصیبعہ کے بیان کے مطابق 70 سال کی عمر میں ذرب (Sprue) کے عارضہ سے حنین کا انتقال ہوا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حنین کی موت سخت دماغی صدمے کی وجہ سے ہوئی یا پھر اس نے تنگ آکر زہر کھا کر خود کشی کر لی۔

نوید احمد

مسلم انجینئر نے ’’ذہین ٹی شرٹ‘‘ ایجاد کر لی

کینیڈا کی یونیورسٹی آف لاوال میں پروفیسر یونس مصدق کی سربراہی میں ماہرین نے ایک ایسی ذہین ٹی شرٹ ایجاد کر لی ہے جو نہ صرف اپنے پہننے والے کے سانس لینے کی رفتار پر نظر رکھتی ہے بلکہ اسے متعدد بار دھویا بھی جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد سانس کی رفتار کے ذریعے تنفسی امراض (سانس کی بیماریوں) پر نظر رکھنا اور دمہ، بے خوابی اور سانس کے مختلف امراض کی تشخیص کرنا ہے۔ تحقیقی جریدے ’’سینسرز‘‘ کے تازہ شمارے میں اس منفرد ٹی شرٹ کی شائع شدہ تفصیلات کے مطابق اس میں سینے کے مقام پر ایک ننھا، نرم اور لچک دار قسم کا انٹینا سلا ہوا ہے جو ایک کھوکھلے بصری ریشے (آپٹیکل فائبر) پر مشتمل ہے جس کی اندرونی سطح پر چاندی کی پرت چڑھائی گئی ہے جبکہ بیرونی ماحول سے حفاظت کے لیے اس پر ایک مضبوط لیکن لچک دار پولیمر کی بیرونی پرت موجود ہے۔

یہ سینسر بیک وقت دو کام کرتا ہے: یہ سینے کے پھیلنے اور سکڑنے کی بنیاد پر سانس لینے کی رفتار نوٹ کرتا ہے جبکہ نوٹ کی گئی ان پیمائشوں کو ساتھ ہی ساتھ وائرلیس سگنلوں کی شکل میں نشر بھی کرتا رہتا ہے جو قریب رکھے ہوئے کمپیوٹر یا پھر صارف کے اسمارٹ فون پر وصول کیے جاسکتے ہیں۔ سانس کی رفتار پر مسلسل رکھنے والے دوسرے طریقوں اور ماضی میں بنائی گئی دوسری اسمارٹ ٹی شرٹس کے برخلاف اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ میں ایسا کوئی تار، برقیرہ یا سینسر نہیں جو براہِ راست انسانی جسم کو چھوتا ہو جبکہ یہ اتنی آرام دہ ہے کہ اسے پہننے والے کو کسی خاص انداز میں اٹھنے بیٹھنے کی پابندی کرنا نہیں ہوتی۔ پروفیسر یونس کہتے ہیں، ’’ہمارے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ (ٹی شرٹ) اپنے پہننے والے کی فطری حرکات میں رکاوٹ نہیں ڈالتی اور اسے پہن کر کھڑے ہونے، اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے پھرنے جیسے معمولات بھی اسی طرح انجام دیئے جا سکتے ہیں جیسے کوئی عام سی ٹی شرٹ پہنی ہو۔‘‘

تجربات کے دوارن اس ٹی شرٹ کو 20 سے زائد مرتبہ دھویا گیا لیکن پانی اور واشنگ پاؤڈر سے بہت دیر تک سامنا ہونے کے باوجود بھی اس ٹی شرٹ کو کچھ نہیں ہوا اور یہ پہلے کی طرح کام کرتی رہی۔ اب یہ ماہرین کسی ایسے ادارے کی تلاش میں ہیں جو اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ کو تجارتی پیمانے پر تیار کرکے طبّی استعمال کےلیے فروخت کر سکے۔ پروفیسر یونس مصدق کا تعلق لاوال یونیورسٹی، کیوبیک کی فیکلٹی آف سائنس اینڈ انجینئرنگ کے سینٹر فار آپٹکس، فوٹونکس اینڈ لیزرز سے ہے جبکہ وہ ’’کینیڈا ایکسی لینس ریسرچ چیئر اِن فوٹونک انوویشنز‘‘ کا اعلی اعزاز بھی رکھتے ہیں۔