ابن سینا عظیم طبیب اور سائنس دان

ابن سینا 980ء میں بخارہ (موجودہ ازبکستان) کے نزدیک ایک قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم اسی قصبے کے ایک مقامی سکول میں جاری تھی کہ آپ کے والد آپ کو بخارہ لے آئے اور یہاں آپ نے باقاعدگی سے تعلیم حاصل کی۔ آپ نے علم ریاضی، فلسفہ اور اسلامی تعلیم میں خاص دلچسپی لی۔ ابن سینا ایک ذہین طالب علم تھے۔ آپ نے دس سال کی عمر میں ہی قرآن شریف حفظ کر لیا تھا۔ اسلامی تعلیم کے ساتھ فلکیات، ریاضی اور سائنس میں خاص طور سے دلچسپی لینا شروع کر دی۔ وہ رات دن پڑھائی میں مصروف رہتے تھے۔ اس کے علاوہ تحقیقی کاموں میں بھی اپنے آپ کو مشغول رکھتے تھے۔

ابن سینا کو علم طب میں کافی مہارت حاصل تھی۔ آپ بخارہ میں ایک قابل حکیم کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے نیز غریب اور امیر سب کا علاج کرتے تھے۔ آپ اپنی پریکٹس کے ساتھ ساتھ نئی نئی دواؤں کو بنانے اور ان کو استعمال کر کے ان کے ردعمل پر تحقیق بھی کرتے تھے۔ ابن سینا کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک مرتبہ بخارا کے بادشاہ سخت بیمار ہو گئے۔ ابن سینا کو بغرض علاج طلب کیا گیا۔ آپ نے بادشاہ کا پوری توجہ سے علاج کیا اور اس طرح بادشاہ صحت مند ہو گئے۔ اس واقعہ سے ابن سینا کی مقبولیت میں اضافہ ہو گیا۔ دور دور سے لوگ آپ کو دکھانے آنے لگے۔ ابن سینا اب خوش حال نظر آنے لگے ۔

ابن سینا نے علم و سائنس پر بہت سی کتابیں لکھیں جن میں آپ نے اپنے سائنسی تجربات تحریر کیے۔ آپ نے علم طب پر بھی کتابیں لکھیں۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور کتاب ’’القانون‘‘ ہے۔ اس کتاب میں مختلف طرح کے نسخے، بیماریاں اور تجربات کی تفصیل درج ہے۔ اس کتاب کے دوسری زبانوں میں ترجمے کیے گئے۔ طبی علوم میں یہ کتاب سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ابن سینا ایک اعلیٰ پیمانے کے فلسفی، سائنسدان اور قابل حکیم تھے۔ ان کی ساری عمر سائنس کے فروغ کے لیے تھی۔ اس عظیم سائنسدان نے بہت سی ایجادات کیں اور انسان کی فلاح و بہبود کے لیے بہت کچھ کیا۔ ابن سینا اس زمانے کے سائنس دان تھے جب سائنس نے بہت زیادہ کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔ اس کے باوجود ابن سینا نے اپنی کوششوں کی بنیاد پر سائنس کو فروغ دیا۔

احرار حسین

Advertisements

ابن بیطار : سپین کا عظیم مسلم حکیم

اس وقت آپ کے سامنے سپین کے ایک بہت بڑے عالم اور حکیم جلوہ افروز ہیں۔ آپ ابو محمد عبداللہ اور ضیاالدین کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں، بعض کتابوں میں پورا نام ابو عبداللہ احمد المالقی النباتی لکھا ہے اور بعض میں ابو محمد عبداللہ ابن احمد ابن البیطار۔ عام طور پر ابن بیطار اور البیطار المالقی کے نام سے شہرت رکھتے ہیں۔ آپ کے والد کا نام احمد تھا۔ آپ سپین کے ایک مقام بنانا میں 1197ء میں پیدا ہوئے۔ بنانا ملاگا کے آس پاس ہی ایک بستی ہے۔ ملاگا کو عربی میں مالقہ بنا لیا گیا ہے۔ اسی نسبت سے آپ ابن بیطار المالقی مشہور ہوئے۔

ابن بیطار اپنے زمانے کے نہایت مشہور اور قابل طبیب تھے۔ آپ کو جڑی بوٹیوں کے علم میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ صرف سپین ہی کے نہیں بلکہ یورپ اور افریقہ کے نہایت ممتاز طبیب خیال کیے جاتے تھے، نہایت ذہین اور عقل مند تھے، عربی کی تعلیم پانے کے بعد آپ نے ’’علوم حکمیہ‘‘ پڑھا اور اتنی زبردست قابلیت پیدا کی کہ امام اور شیخ کے لقب سے یاد کیے جانے لگے۔ ابن بیطار بہت ہی خوش اخلاق اور بامروت تھے، بادشاہوں کی نگاہوں میں بھی عزت حاصل تھی اور عوام میں بھی ہر دل عزیز اور مقبول تھے۔ دس سال تک ملک الکامل شاہ دمشق کے دربار میں طبیب کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اس کے انتقال کے بعد قاہرہ (مصر) چلے آئے جہاں ملک الکامل کا بیٹا ملک الصالح نجم الدین ایوب فرماں روا تھا۔ آپ اس کے بھی طبیب خاص مقرر ہو گئے۔

آپ کو جڑی بوٹیوں کی تحقیقات اور چھان بین کا بہت شوق تھا۔ اسی دھن میں آپ نے 20 برس کی عمر میں افریقہ کے بیابانوں شمالی افریقہ، مصر، ایشیائے کوچک اور یونان کے جنگلوں، پہاڑوں کا چپا چپا چھان مارا۔ انہوں نے بوٹیوں کے مقام پیدائش کو دیکھا اور ہری بھری حالت میں ان کے پودوں، پتوں اور پھلوں کا معائنہ بھی کیا، اسی کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی غور کیا کہ بوٹیوں کے سوکھ جانے پر ان کی ظاہری شکل و صورت اور تاثیر میں فرق پڑتا ہے۔ ابن بیطار نے بوٹیوں پر لکھی ہوئی یونانی حکیموں کی کتابوں کو گہری توجہ سے پڑھا تھا، پھر مختلف ممالک میں گھوم پھر کر اپنی معلومات میں اضافہ کیا تھا۔

آپ نے جڑی بوٹیوں کے علم پر ایک عمدہ کتاب ’’کتاب الدویہ المفردہ‘‘ لکھی تھی۔ اس کتاب سے یورپ والوں نے بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔ آپ نے دمشق میں بوٹیوں کا ایک باغ لگایا تھا جس میں بہت سی بوٹیاں بوئی گئی تھیں۔ آپ ان بوٹیوں کو بہت غور اور توجہ سے دیکھا کرتے تھے۔ بیماریوں میں ان کے تجربات بھی کرتے تھے۔ دوسرے ملکوں کے مصنف ابن بیطار کی بہت تعریف کرتے ہیں، چناں چہ ’’طب عرب‘‘ (عربین میڈیسن) کے مصنف کیمبل نے لکھا ہے کہ ابن بیطار علم العقاقیر، یعنی جڑی بوٹیوں کا بہت بڑا ماہر تھا۔ اس نے ارسطو وغیرہ کی کتابیں پڑھی تھیں۔ مصر و شام اور ایشیائے کوچک کے جنگلوں کی خاک چھانی تھی۔

آپ نے 14 سو بوٹیوں کے حالات لکھے ہیں۔ ’’نفخ الطیب‘‘ کے مصنف کا خیال ہے کہ ابن بیطار جڑی بوٹیوں کی پہچان اور ان کے متعلق دوسری باتوں میں دنیا بھر میں اپنی مثال آپ تھے۔ عیون الانبا فی طبقات الاطبا کا مصنف ابن ابی اصیبعہ بہت مشہور طبیب اور ابن بیطار کا شاگرد تھا۔ وہ دمشق کے سفر میں ان کیساتھ رہ چکا تھا۔ اس کی پہلی ملاقات دمشق میں ان سے ہوئی تھی۔ وہ لکھتا ہے کہ ابن بیطار نہایت شریف، خوش اخلاق اور بامروت تھے۔ جب انہوں نے دمشق کے آس پاس بوٹیوں کی دیکھ بھال اور چھان بین شروع کی ہے تو میں بھی ان کے ساتھ تھا، اس کے بعد میں نے ان کی کتاب جو بوٹیوں پر انہوں نے لکھی انہیں سے پڑھی۔

ابن بیطار یونان کے بڑے اور نامور مصنفوں مثلاً دیقوریدوس اور جالینوس کی کتابیں یونانی زبان ہی میں پڑھا کرتے تھے اور تقریروں میں ان کی کتابوں کے حوالے بھی دیا کرتے تھے۔ ان کی یادداشت بہت اچھی تھی، علم بھی بہت وسیع تھا۔ نفخ الطیب کے مصنف کا بیان ہے کہ ابن بیطار دواؤں کی تحقیقات ہی میں کام آئے۔ ان کی موت کا سبب ایک مہلک دوا ہی تھی۔ انہوں نے تجربہ کرنے کی دھن میں ایک زہریلی بوٹی کھا لی تھی۔ انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں۔ ان میں ’’کتاب الادویتہ المفردہ‘‘ سب سے زیادہ مشہور ہے۔ اس کتاب میں دواؤں کے متعلق قیمتی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ نئے اور پرانے اطبا کے اقوال بھی لکھے ہیں۔

آخر میں تحقیقات کے نتیجے لکھے ہیں۔ ان کی دوسری کتاب ’’مفردات ابن بیطار‘‘ ہے۔ اس کو ’’جامع الادویہ والا غذیہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کتاب 1291ء میں چھپ گئی تھی۔ اس میں معدنی، نباتی اور حیوانی دواؤں سے علاج کا طریقہ بتایا گیا ہے اور ذاتی تجربات بھی لکھے ہیں۔ ان دو کتابوں کے علاوہ ابن بیطار نے چار اور کتابیں لکھیں۔ یہ بھی کافی مشہور ہیں۔ 642ھ مطابق 1248ء میں ابن بیطار نے دمشق میں انتقال کیا اور وہیں انہیں دفن کیا گیا۔

احرار حسین

عظیم طبیب جالینوس

آپ اپنے براعظم ایشیا سے تو اچھی طرح واقف ہوں گے۔ مغربی ایشیا کا ایک علاقہ ایشیا مائنر یا ایشیائے کوچک کہلاتا ہے۔ یہ علاقہ پرانے زمانے میں علم اور تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ اس زمانے میں یہاں پر پرگیمم نام کا ایک بڑا شہر تھا۔ اب اس کے صرف کچھ آثار باقی رہ گئے ہیں۔ اسی شہر میں 130ء میں طب مشرق کا یہ عظیم ماہر پیدا ہوا جسے تاریخ جالینوس کے نام سے یاد کرتی ہے۔ خوش قسمتی سے اس نے ایک پڑھے لکھے خاندان میں جنم لیا۔ اس کا باپ ایک تعلیم یافتہ شخص تھا، اس لیے اسے اپنے بیٹے کی تعلیم کا خاص خیال تھا۔

ابتدائی حالات

اس زمانے میں یونانی طب کی شہرت تھی۔ جالینوس کو بھی اس کا شوق ہوا، لیکن ابھی وہ بیس برس کا تھا کہ اس کے باپ کا سایہ اس کے سر سے اٹھ گیا۔ اس نے ہمت نہیں ہاری ۔ علم کا شوق اسے جگہ جگہ لیے پھرتا رہا۔ اس زمانے میں سمرنا اور اسکندریہ طب اوردوسرے علوم کے بڑے مرکز تھے لہٰذا جالینوس نے وہاں کا سفر اختیار کیا۔ ابھی جالینوس کا بچپن ہی تھا کہ اس نے طب کی اچھی خاصی تعلیم حاصل کر لی تھی۔ سمرنا اور اسکندریا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد جالینوس وطن آیا اور وہاں اس نے لوگوں کا علاج معالجہ شروع کیا۔ بعض لوگوں کو قدرت پیدائشی طور پر کسی خاص کام کا سلیقہ عطا کرتی ہے۔ محنت اور شوق اس جوہر کو چمکاتے ہیں۔ جالینوس بھی ایسے ہی خوش قسمت افراد میں سے تھا۔

ابھی اس کی عمر تھوڑی ہی تھی کہ اس نے طب میں اچھا خاصا کمال پیدا کرلیا اور اس کی شہرت اس کے اپنے شہر کے علاوہ دوسرے شہروں تک پھیل گئی ۔ کچھ دنوں کے بعد جالینوس نے محسوس کیا کہ صرف یہ شہر اس کی شہرت اور کام کے لیے کافی نہیں۔ اس لیے اس نے روم کا رخ کیا جو اس زمانے میں یورپ کا نہ صرف سب سے بڑا شہر تھا بلکہ تہذیب کا مرکز بھی تسلیم کیا جاتا تھا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، جالینوس کی شہر ت نے اس کے بہت سے دشمن پید ا کر دیے، بعض لوگ اس سے محض اس وجہ سے جلتے تھے کہ وہ پرانی راہوں کو بدلتا تھا اور کسی ایسی بات کو ماننے کو تیار نہ تھا جس کا ثبوت نہ مل سکے۔ حاسد جلتے رہے لیکن جالینوس اپنا کام محنت سے کرتا رہا۔ قدرت محنت کرنے والے کو راحت ضرور دیتی ہے اور محنتی انسان کو عظمت ملتی ہے۔

روم میں آمد

جالینوس روم میں کیا آیا گویا اس کی شہرت کو چار چاند لگ گئے۔ تھوڑے ہی عرصے میں نہ صرف اس کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی بلکہ وہ امیر کبیر ہو گیا، کیوں کہ اس کے علاج سے روم کے بہت سے رئیسوں کو شفا حاصل ہوئی اور انہوں نے اسے دل کھول کر سرمایہ دیا۔ اس کے دروازے پر مریضوں کا ہجوم لگا رہتا تھا۔ لیکن جالینوس نے غیر معمولی شہرت پر کبھی غرور نہیں کیا۔ اس نے غریبوں کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور اسی وجہ سے اس کی عزت میں اضافہ ہوا۔ اتفاق سے روم کا بادشاہ پیٹ کے مرض میں مبتلا ہو ا۔ اس نے جالینوس کو اپنے علاج کے لیے طلب کیا۔

یہی وہ زمانہ تھا کہ اس نے اپنی مشہور دوا جوارش جالینوس تیار کی جس سے نہ صرف بادشاہ وقت کو شفا نصیب ہوئی بلکہ طب مشرق میں وہ آج تک اسی شہرت کی مالک ہے۔ بادشاہ کو شفا حاصل ہوئی تو اسے درباری طبیب کا اعزاز مل گیا اور اس کے مرتبے میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اب روم کے پرانے طبیب اس سے اور بھی زیادہ جلنے لگے اور وہ خوامخواہ اس کے طریق علاج میں عیب نکالنے لگے۔ جالینوس ان کی پروا کیے بغیر اپنے کام میں مصروف رہا۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ قدیم طبی مفروضات کی اصلاح کرے اور اس عظیم فن کو جدید بنیادوں پر استوار کرے۔ اس کام میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ اس وقت کسی انسانی جسم کی چیر پھاڑ کر کے اس کا معائنہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اطبا کو یقین کے ساتھ معلوم نہیں تھا کہ کون سا عضو کہاں ہے۔

کارنامے

جالینوس کو ایک ترکیب سوجھی، وہ جانتا تھا کہ بندروں کا جسم انسان جیسا ہوتا ہے۔ لہٰذا اس نے بندروں پر تجربات شروع کیے ۔ اس نے انسانی جسم کے متعلق بہت سے غلط تصورات کی تردید کی۔ اس لحاظ سے وہ اناٹومی کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ جالینوس سے پہلے انسانی ڈھانچے اور ہڈیوں کے فعل کے بارے قابل ذکر تحقیقات نہ تھیں۔ اتفاق سے جالینوس کو ایک پہاڑ پر مردہ انسانی ڈھانچہ مل گیا ۔ اس نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر انسانی ہڈیوں کے مقام اور فعل کی تشریح کی۔

ایڈورڈ جینز

جراثیموں کے خلاف نئی اینٹی بائیوٹکس بنانے میں شدید مشکلات کا سامنا

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جراثیموں کے خلاف مزاحمت کرنے والی نئی اینٹی بائیوٹکس بنانے کے عمل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت جو ادویات موجود ہیں وہ موجودہ اینٹی بائیوٹکس ہی کی نئی شکلیں ہیں جو کہ قلیل مدتی حل ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ادارے کی جانب سے جن کی نشاندہی کردہ صحت کے لیے سب سے زیادہ خطرات پیدا کرنے والے انفیکشنز کے لیے بہت ہی کم علاج کے بنیادی طریقہ کار موجود ہیں۔ ان بیماریوں میں ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے والی بیماری تب دق بھی شامل ہے جس سے ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

دنیا کی آبادی کی صحت کو لاحق خطرات میں ایک بڑا خطرہ ایسے جراثیم ہیں جن پر کسی قسم کی ادویات اثر نہ کریں۔ گذشتہ فروری میں عالمی ادارہ صحت نے ایسے جراثیموں کی فہرست جاری کی تھی جن پر ادویات کا اثر نہیں ہو رہا اور وہ انسانی صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہینام گیبریئسس کا کہنا ہے کہ ’اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھنے والے انفیکشنز جن میں ٹی بی بھی شامل ہے پر مزید اور فوری تحقیق، سرمایہ کاری اور پیداوار کی ضرورت ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دوسری صورت میں ہم واپس اس وقت میں لوٹ جائیں گے جب لوگ عام جراثیموں سے ڈرتے تھے اور چھوٹی چھوٹی سرجریز میں بھی جان کھو بیٹھیں گے۔‘ اس رپورٹ میں ترجیحاتی بنیادوں پر اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے والے 51 نئے اینٹی بائیوکٹس اور بائیولیجکلز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان تمام نئی اینٹی بائیوٹکس ادویات میں سے صرف آٹھ ایسی ہیں جنھیں ڈبلیو ایچ او نے جدید اور اینٹی بائیوٹک علاج کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں ہر سال 50 ہزار افراد اینٹی بائیوٹکس کے خلاف جراثیم کی مدافعت کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے تب دق پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ماریو راویگلائن کا کہنا ہے کہ ’تب دق پر تحقیق کے لیے فنڈز کی شدید کمی ہے۔ 70 سالوں میں صرف دو نئے اینٹی بائیوٹکس اس بیماری کے لیے مارکیٹ میں لائے جا سکے ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ہم تب دق کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے تحقیق کرنے کے لیے سالانہ 80 کروڑ ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔‘

حنین ابن اسحاق : ایک جلیل القدر طبیب

ابوزید حنین ابن اسحاق العبادی 810ء میں پیدا ہوا اور 877ء میں وفات پائی۔ یہ عہد عباسی کا ایک جلیل القدر طبیب تھا۔ حنین ابن اسحاق کے تذکرے کے بغیر عہد عباسی کی تاریخ نا تمام رہتی ہے۔ ابن ندیم نے الفہرست میں لکھا ہے کہ اس کا پورا نام حنین ابن اسحاق عبادی تھا اور ابو زید اس کی کنیت تھی۔ یہ بنو موسیٰ کے دربار میں یونانی مخطوطات کو جمع کرنے اور ان کے تراجم پرمامور تھا۔ اس نے طبی کتابوں کے تراجم سب سے زیادہ کیے ہیں۔ حنین علمی منازل طے کرتا ہوا اس درجے پر جا پہنچا کہ علوم و فنون کا سرچشمہ تصور کیا جانے لگا۔ اس کی رسائی خلیفہ مامون رشید تک ہوئی جس نے حنین کو اپنے دربار میں بلا کر خلعتیں عطا کیں اور بیت الحکمت کا مہتمم مقرر کیا۔

مامون رشید اس کے تالیف وتراجم کی جس طرح قدر کرتا تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ حنین کو اجرت کے طورپر اس کی ہرتالیف کے ہم وزن سونا عطا کرتا تھا۔ حنین اپنے عہد کا ممتاز طبیب ہی نہیں بلکہ یونانی طب کا سب سے بڑا مترجم ہے۔ حنین نے جالینوس کی 95 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے سریانی اور39 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے عربی میں کیا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے شاگردوں کے ذریعے کیے گئے تراجم پر نظر ثانی کی اورصلاح و مشورہ دیا۔ حنین ہی کی سربراہی میں دنیا کی انتہائی اہم اور نایاب کتاب ’کتاب الخشائش‘ (جس کا اصل مصنف دیسقوریدوس ہے) کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا۔ حنین عربی، فارسی، یونانی اورسریانی زبانوں کا جید عالم تھا۔

اگرچہ حنین ابن اسحاق کئی کتابوں کا مصنف تھا لیکن علمی دنیا میں اس کی شہرت مترجم کی حیثیت سے زیادہ ہوئی۔ حنین ابن اسحاق کی تصانیف میں کتاب المصائب، کتاب العشر مقالات فی العین، کتاب العین خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ ان ابی اُصیبعہ کے بیان کے مطابق 70 سال کی عمر میں ذرب (Sprue) کے عارضہ سے حنین کا انتقال ہوا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حنین کی موت سخت دماغی صدمے کی وجہ سے ہوئی یا پھر اس نے تنگ آکر زہر کھا کر خود کشی کر لی۔

نوید احمد

 

حنین ابن اسحاق : ایک جلیل القدر طبیب

ابوزید حنین ابن اسحاق العبادی 810ء میں پیدا ہوا اور 877ء میں وفات پائی۔ یہ عہد عباسی کا ایک جلیل القدر طبیب تھا۔ حنین ابن اسحاق کے تذکرے کے بغیر عہد عباسی کی تاریخ نا تمام رہتی ہے۔ ابن ندیم نے الفہرست میں لکھا ہے کہ اس کا پورا نام حنین ابن اسحاق عبادی تھا اور ابو زید اس کی کنیت تھی۔ یہ بنو موسیٰ کے دربار میں یونانی مخطوطات کو جمع کرنے اور ان کے تراجم پرمامور تھا۔ اس نے طبی کتابوں کے تراجم سب سے زیادہ کیے ہیں۔ حنین علمی منازل طے کرتا ہوا اس درجے پر جا پہنچا کہ علوم و فنون کا سرچشمہ تصور کیا جانے لگا۔ اس کی رسائی خلیفہ مامون رشید تک ہوئی جس نے حنین کو اپنے دربار میں بلا کر خلعتیں عطا کیں اور بیت الحکمت کا مہتمم مقرر کیا۔

مامون رشید اس کے تالیف وتراجم کی جس طرح قدر کرتا تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ حنین کو اجرت کے طورپر اس کی ہرتالیف کے ہم وزن سونا عطا کرتا تھا۔ حنین اپنے عہد کا ممتاز طبیب ہی نہیں بلکہ یونانی طب کا سب سے بڑا مترجم ہے۔ حنین نے جالینوس کی 95 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے سریانی اور39 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے عربی میں کیا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے شاگردوں کے ذریعے کیے گئے تراجم پر نظر ثانی کی اورصلاح و مشورہ دیا۔ حنین ہی کی سربراہی میں دنیا کی انتہائی اہم اور نایاب کتاب ’کتاب الخشائش‘ (جس کا اصل مصنف دیسقوریدوس ہے) کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا۔ حنین عربی، فارسی، یونانی اورسریانی زبانوں کا جید عالم تھا۔

اگرچہ حنین ابن اسحاق کئی کتابوں کا مصنف تھا لیکن علمی دنیا میں اس کی شہرت مترجم کی حیثیت سے زیادہ ہوئی۔ حنین ابن اسحاق کی تصانیف میں کتاب المصائب، کتاب العشر مقالات فی العین، کتاب العین خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ ان ابی اُصیبعہ کے بیان کے مطابق 70 سال کی عمر میں ذرب (Sprue) کے عارضہ سے حنین کا انتقال ہوا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حنین کی موت سخت دماغی صدمے کی وجہ سے ہوئی یا پھر اس نے تنگ آکر زہر کھا کر خود کشی کر لی۔

نوید احمد