متعدد وائرسوں کو بیک وقت تباہ کرنے والے نینو ذرات

بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے نینومیٹر جسامت والے انتہائی مختصر ذرّات یعنی نینو پارٹیکلز کو اس قابل بنا لیا ہے کہ اب وہ کئی اقسام کے وائرسوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں اب بھی متعدد اقسام کے وائرس کروڑوں افراد کو موت کے دہانے تک پہنچا رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک ہمارے پاس ان گنت اقسام کے وائرسوں کو روکنے والی دوائیاں موجود نہیں۔ یونیورسٹی آف الینوئے، شکاگو کے پروفیسر پیٹر کرال کی نگرانی میں بین الاقوامی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایسے نینو ذرات بنائے ہیں جو کئی طرح کے وائرسوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔

یہ نینو پارٹیکلز ہرپس سمپلکس وائرس، ہیومن پیپی لوما وائرس یا ایچ پی وی، ڈینگی اور لینٹی وائرس کا قلع قمع کر سکتے ہیں۔ قبل ازیں جو نینو ذرات بنائے گئے تھے وہ خلیے کے اندر وائرس جانے سے روکتے ہیں لیکن یہ نئے ذرات وائرس کو براہِ راست تباہ کرتے ہیں۔ اس پیش رفت کی ابتدائی تحقیقات ’’نیچر مٹیریلز‘‘ میں شائع ہوئی ہیں جن کے مطابق ان ماہرین نے ایسے نینو ذرات بنائے ہیں جو ایچ ایس پی جی کے تحت عمل کرتے ہیں (جس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں)۔ اس طریقے پر عمل کر کے یہ وائرس سے مضبوطی کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور اسے تباہ کر کے چھوڑتے ہیں۔

خلوی سطح پر عمل کرنے والا ایک پروٹین ہیپیرن سلفیٹ پروٹیو گلاکن (ایچ ایس پی جی) کہلاتا ہے۔ وائرس عام طور پر اسی پروٹین کے ذریعے صحت مند انسانی خلیات کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ عین یہی عمل نینو ذرات بھی کرتے ہیں اور کسی خلیے کے بجائے وائرس سے چمٹ کر اسے تباہ کرتے ہیں۔ ماہرین نے اپنی کاوش کو کامیاب بنانے کےلیے سوئٹزر لینڈ، اٹلی، فرانس اور چیک ری پبلک کے ماہرین کو اپنی ٹیم میں شامل کیا جن میں تجرباتی علوم کے ماہر، وائرس کا علم رکھنے والے سائنس دان اور بایوکیمسٹ بھی شامل تھے۔

ٹیم نے پہلے نینو پارٹیکلز اور ان کے کام کی کئی کمپیوٹر نقول (سمیولیشنز) بنائیں اور ذرات کو اپنے کام کے لحاظ سے تیار کیا۔ اس ضمن میں کمپیوٹر ماڈلنگ نے بھرپور مدد کی اور ایک ایک ایٹم کا کام نوٹ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ایسے نینو ذرات وجود میں آئے جو کئی اقسام کے خوفناک وائرسوں سے جڑکر انہیں تباہ کرتے ہیں جبکہ صحت مند خلیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ تجربہ گاہ میں نینو پارٹیکلز نے بہت کامیابی سے ہرپس سمپلکس وائرس، ہیومن پیپی لوما وائرس یا ایچ پی وی، ڈینگی، لینٹی وائرس اور دیگر اقسام کے وائرسوں کو ختم کر دکھایا۔ اگلے مرحلے پر مزید تجربات کیے جائیں گے تاکہ ان ذرات کو پہلے جانوروں اور کامیابی کی صورت میں انسانوں پر آزمایا جا سکے۔

Advertisements

سال رواں کی دو اہم دریافتیں

سال رواں اختتام کے قریب ہے۔ اس میں دو اہم دریافتیں ہوئیں۔ ماہرینِ فلکیات نے کم و بیش ہمارے سیارے یعنی زمین جیسے حجم کے سات سیارے دریافت کیے جو ایک ستارے کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق ان ساتوں سیاروں پر مائع پانی ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ ان کا ماحول ہمارے نظام سے ملتا جلتا ہے۔ ان کے مطابق ان سات سیاروں میں سے تین تو خلا میں اس علاقے میں گردش کر رہے ہیں جہاں زندگی پائے جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ان سیاروں کو ناسا کی سپٹزر سپیس ٹیلی سکوپ اور دیگر آبزرویٹریز نے دریافت کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ثقلیت کی لہروں کی پہلی مرتبہ نشاندہی سے علمِ فلکیات میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ رواں سال سائنس دانوں نے بتایا کہ انہوں نے زمین سے ایک ارب نوری سال سے زیادہ کے فاصلے پر واقع دو بلیک ہولز کے تصادم کی وجہ سے ’’سپیس ٹائم‘‘ میں ہونے والی تبدیلی کا مشاہدہ کیا ہے۔ یوں 2017 میں سائنسدانوں نے خلا میں ثقلیت کی لہروں کو تلاش کر لیا ۔ سائنس دانوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو بلیک ہولز کے تصادم سے خارج ہونے والی ثقلیت کی لہروں کا امریکا میں دو تجربہ گاہوں میں مشاہدہ کیا گیا۔

سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہم کہاں کھڑے ہیں : ڈاکٹر عبدالقدیر خان

 مغربی اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں ایک ہی چیز مشترک ہے، ایمانداری، محنت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت۔ یہ وہی اصول ہیں جن کی تعلیم اسلام ہمیں دیتا ہے۔ کلام مجید میں سورۃ طہٰ آیت 114 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’دعا کرو کہ اے میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے‘‘۔ اگرچہ یہ بہت ہی مختصر پیغام ہے مگر اس کی وسعت ہمارے قیاس سے کہیں زیادہ ہے اور قرآن کی علم و تعلیم پر احاطہ کی وسعت ظاہر کرتا ہے اور ہمارے پیارے نبیؐ نے خود فرمایا ہے کہ اے رب العزّت مجھے تمام چیزوں کا مکمل علم عطا فرما۔ یہاں علم کا مطلب صرف معلومات نہیں ہے بلکہ دنیا کی مادی حیثیت کی حقیقت و سچائی کو بھی جاننا ہے۔ دنیا میں اس وقت جس قدر معلومات ہیں ان کے پیچھے ہزاروں لوگوں کی محنت و مشقت، جستجو ہے۔ 

لاتعداد سائنسدان، انجینئر (حقیقی معنوں میں) گمنام رہ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ عصر جدید میں آپ کو انسان کی سخت جستجو، محنت نظر آتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرے۔ ارسطو نے کہا تھا کہ ’’تمام بنی نوع انسان کی قدرتی فطرت ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کرے‘‘۔ اور ہمارے پیارے نبی ؐ نے فرمایا کہ’’ تم کو اگر علم حاصل کرنے کے لئے چین (یعنی دور دراز ملک) بھی جانا پڑے تو جائو‘‘۔ اس پیغام میں رسول اللہ ؐنے یہ بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی کہ تعلیم و علم کے حصول میں نہ تو لِسّانی اور نہ ہی مذہبی اور نہ ہی ثقافتی رکاوٹوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ علم و تعلیم اور چیزوں کو جاننے اور سمجھنے کا علم اسلام کا اہم اور ناقابل علیحدگی جز ہے۔

جب مسلمان اپنے عروج پر تھے اس وقت بھی انھوں نے بیت الحکمہ جات قائم کئے تھے اور یہاں پر اعلیٰ تعلیم دی جاتی تھی۔ اس وقت ستارے اور فلک بینی تجربہ گاہیں قائم کیں اور اعلیٰ ریسرچ اسکالرز جمع کئے تھے ان میں فلسفی، سائنٹسٹ، اور انجینئرز وغیرہ پوری دنیا سے جمع کئے گئے تھے۔ اس زمانہ کے چند معروف نام آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ الفارابی، ابن سینا، ابن رُشد، خوارزمی، راضی، مسعودی، وفا، البیرونی، طوسی، نصیرالدین، ابن نفیس، ابن باجہ، ابن طفیل، الکندی وغیرہ نے تاریخ میں اپنے نام اور شاندار کام چھوڑے ہیں ۔ اس وقت پورے یورپ میں ان کی دھوم تھی اور ان کے کاموں کی تقلید کی جاتی تھی اور آج بھی ان کے کاموں کا ریکارڈ موجود ہے۔

مسلمان ساتویں صدی عیسوی سے گیارویں صدی عیسوی تک عروج پر تھے اس کے بعد ان کی تمام توجہ محلات اورباغات پر مبذول ہو گئی اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ آہستہ آہستہ ہم نے اسپین، مشرق وسطیٰ، سینٹرل ایشیا، مشرق بعید، افریقہ سب حکومتیں کھو دیں۔ اسپین میں الحمرا محل آج بھی عجوبہ ہے اور دنیا کا سب سے زیادہ سیاحوں کی آمد کا مرکز ہے۔ عجوبہ تو قائم ہے مگر عجوبہ پیدا کرنے والے ذلیل و خوار اور شکست خوردہ ہو کر گمنام ہو گئے۔ سورۃ جاثیہ، آیت 13 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ’’(اے محمدؐ!) مومنوں سے کہدو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو اپنے حکم سے تمھارے کام میں لگا دیا ہے جو لوگ غور و خوض کرتے ہیں ان کے لئے اس میں قدرت کی نشانیاں ہیں‘‘۔

اتنے اعلیٰ ماضی اور ورثے کے وارث ہونے کے باوجود مسلمان آجکل انتہائی پسماندگی کا شکار ہیں۔ ہم ہر ٹیکنالوجی، سائنس، علم کے لئے مغرب، جاپان، چین کے محتاج ہیں۔ ہم روزمرّہ کی معمولی سے معمولی چیز نہیں بنا سکتے۔ ہم ذرا اپنی حالت زار پر غور کریں۔ ہم ایٹمی اور میزائل قوت ہیں مگر قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ہماری درآمدات ہماری برآمدات کے 50 فیصد سے بھی کم ہیں۔ ایک زرعی ملک ہوکر ہم ٹماٹر، پیاز، لہسن، ادرک درآمد کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے لئے (بلکہ ہمارے حکمرانوں کے لئے بھی) قابل مذمت اور قابل شرم مقام ہے۔

آج کل مغرب، جاپان اور چین ترقی کی رفتار اور سمت طے کر رہے ہیں اور ہم یعنی ہمارے حکمراں ہر وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ وہ کونسی اشیاء ہیں جن کی خریداری میں آمدنی کے امکانات زیادہ ہیں۔ خاص طور پر ہتھیاروں کی خریداری پر اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں گویا یہ حالت جنگ میں ہیں اور چند سال بعد وہ ہتھیار فرسودہ ہو جاتے ہیں تو نئے خریدنے میں مہارت قابل دید ہے۔ میں نے ابھی ذکر کیا تھا کہ ہم اتنے نااہل ہیں کہ زرعی ملک ہوکر ہم ٹماٹر، پیاز، لہسن، ادرک منگواتے ہیں۔ اس سے بھی بڑی برائی جس سے عوام واقف نہیں ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اربوں روپیہ کی دالیں درآمد کرتے ہیں۔

آپ زرا ان نااہل اور حکمرانوں کو دیکھئے کہ صبح سے شام تک ڈینگیں مارتے ہیں کہ جیسے اس پسماندہ ملک کو ٹاپ ٹین میں لاکھڑا کیا ہے۔ قرض لے لے کر قوم کو تباہ کر دیا ہے اور ملک کو بیچ دیا ہے۔ آج سے 40 سال پیشتر چین ہمارے مقالے میں بے حد غریب تھا آج وہ دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت ہے وجہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی میں ترقی، ایمانداری، سخت محنت، رشوت خوری اور جرائم کا خاتمہ ہے۔ ہمارے یہاں بدعنوانوں کی بھرمار ہے۔ ان خراب حالات کے ہم خود ذمّہ دار ہیں دوسروں کو الزام دینا غلط ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان
 

سائنسی انداز فکر کیا ہے؟

کائنات اور اس کے مظاہر کو سمجھنے کی کسی شعوری کوشش کے بغیر ہم اپنی زندگی کے روزانہ مشاغل میں بے فکری سے مصروف رہتے ہیں۔ نہ ہم اس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں نہ اس طرف کوئی خیال جاتا ہے کہ وہ کون سی ’’مشینری‘‘ ہے جو سورج کی دھوپ کو پیدا کرتی ہے یا کس وجہ سے زمین پر زندگی کا وجود ہے۔ ہم اس کشش ثقل کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سے ہم زمین پر قائم ہیں ورنہ اس کشش ثقل کے بغیر تو ہم زمین سے اڑ کر فضا میں پہنچ جاتے۔ ان ایٹمی ذروں کی طرف بھی کوئی دھیان نہیں جاتا جس سے ساری کائنات، ہماری زمین، سارے جاندار اور ہم خود بنے ہوئے ہیں اور جن کی استقامت پر ہم بنیادی طور پر بھروسہ کرتے ہیں۔

انسانی فطرت میں شوق تجسس ذوق و شوقِ تجسس انسانی فطرت میں داخل ہے۔ جو شخص جتنا ذہین ہوتا ہے اس میں کرید کا مادہ اور شوق تجسس اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ کائنات اور اس کے مظاہر کے متعلق ہر ذہین انسان سوچتا ہے۔ تہذیب کے ہر دور میں لوگ ایسے سوال پوچھتے رہے ہیں اور ان کے ذہنوں میں جستجو رہی ہے کہ کائنات ایسی کیوں ہے جیسی وہ ہے اور یہ کہ کائنات کیسے وجود میں آئی اور کہاں سے آئی ہے۔ حضرت غالب کے ذہن میں بھی کافی تجسس تھا۔ دریافت فرماتے ہیں: سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے مزید یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا کائنات ہمیشہ سے موجود تھی؟ اور اگر اس کا آغاز ہوا تو کیسے ہوا؟ بچوں کی فطرت میں شوق تجسس بے حد ہوتا ہے۔ وہ قدرتی طور پر ہر طرح کے سوال کرتے ہیں اور ہر چیز کی نوعیت اور ماہیت کو جاننا چاہتے ہیں۔

موجودہ زمانے میں بعض ذہین بچے تو یہاں تک جاننا چاہتے ہیں کہ بلیک ہول کیا ہوتا ہے اور مادہ کا سب سے چھوٹا ذرہ کون سا ہے؟ ہمارے معاشرے میں یہ عام قاعدہ ہے کہ بچے اگر اپنے والدین یا استادوں سے ایسے چبھتے ہوئے سوال کریں اور اگر جواب معلوم نہ ہو تو لاعلمی چھپانے کے لیے یا تو اپنے کندھے اچکا دیتے ہیں یا بعض لوگ بے حد گھبرا جاتے ہیں۔ اس لیے کہ انسانی سوجھ بوجھ کی حد اس قدر واضح طور پر سامنے آ جاتی ہے۔ بچوں کا اپنے والدین پر مکمل انحصار اور اعتماد ہوتا ہے لیکن جب بچے ان سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں پاتے اور انہیں ڈانٹ کر خاموش کر دیا جاتا ہے تو رفتہ رفتہ ان کی تجسس کی حس اور انفرادی آزادانہ سوچ بچار کی قابلیت مدھم یا مفقود ہو جاتی ہے۔

سائنس کو انسانی فطرت اور کائنات کے عوامل اور مظاہر سے کسی طور جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ سماجی، معاشی، معاشرتی، سیاسی، مذہبی اور فلسفیانہ مسائل سے سائنس کا ہر قدم پر واسطہ پڑتا ہے اور کبھی کبھی ٹکراؤ بھی ہو جاتا ہے۔ سائنسی تکنیک سے ہر شخص فائدے حاصل کر سکتا ہے۔ سائنس دان اپنا نقطہ نظر پیش کر دیتے ہیں لیکن اس پر اصرار نہیں کرتے کہ یہ حرف آخر ہے۔ سائنس کی بنیاد سائنس خیالی مفروضوں پر مبنی نہیں ہے۔ اس کی بنیاد بیشتر تجربوں پر ہے۔ تجربوں کے دوران واقعات کی دریافت اور مشاہدات سے ان پر غور و خوض کے بعد ایک مفروضہ یا ہائپوتھیسس بنایا جاتا ہے۔

اگر بعد کے تجربات یا دوسرے سائنس دانوں کے آزادانہ تجربوں سے اس کی توثیق ہوتی ہے تو اسے قبول کر لیتے ہیں ورنہ یا تو اسے رد کر دیا جاتا ہے یا اس میں ضروری ترمیم اور تبدیلی کر لی جاتی ہے۔ نئے تجربے اور مشاہدات مسلسل جاری رہتے ہیں جن کی بنیاد پر نئے مفروضے اور کلیے بنائے جاتے ہیں۔ سائنس کا علم ہمیشہ آزمائشی اور تجرباتی ہے جس میں دیر یا سویر موجودہ نظریوں میں تبدیلیاں متوقع ہوتی ہیں۔ اس کا احساس رہنا چاہیے کہ سائنس کا طریق کار ہی ایسا ہے کہ منطقی طور پر کسی مکمل یا آخری حل کا حاصل کرنا ناممکن ہے۔ اسے لازمی طور پر ایسا ہونا ہی چاہیے کیوں کہ سائنس کا علم ہمیشہ تغیر پذیر اور ارتقائی ہے۔

مزید علم اور نئی معلومات کے ساتھ تبدیلیاں اس لیے ضروری ہیں کہ مفروضوں اور نظریوں کی زیادہ سے زیادہ صحت حاصل ہو سکے۔ پھر بھی پرانے نظریے قابل عمل رہتے ہیں اور ان سے حاصل شدہ فائدوں سے استفادہ جاری رہتا ہے اور ان نظریوں کی عملی صداقت قائم رہتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ سائنس مطلق صداقتوں (Absolute Truth ) کی کھوج اور تفتیش کی تائید نہیں کرتی بلکہ اس سے دور رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ اس لیے کہ سائنس میں مطلق صداقت کا کوئی وجود نہیں ہے۔ نئے تجربے اور انوکھے خیالات گتھیوں کو مسلسل سلجھانے اور فطرت کے رازوں کا انکشاف کرتے رہتے ہیں۔ سائنس کا مقصد سائنس کا مقصد یہ جاننے کی کوشش ہے کہ کائنات اور یہ دنیا کیسے بنی ہے اور زندگی کس طرح پیدا ہوئی اور یہ کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے۔

اس امر کی کوشش کی جاتی ہے کہ کائنات کے اندرونی رازوں کا انکشاف کیا جائے مثلاً تحت ایٹمی ذروں (sub atomic particles) جن سے کہ ساری کائنات بنی ہے ان کی نوعیت اور ماہیت دریافت کی جائے۔ اس کے علاوہ یہ بھی مقصد ہوتا ہے کہ حیاتیاتی انواع اور انسان کی معاشی اور معاشرتی تنظیم بلکہ بحیثیت مجموعی پوری کائنات کا جائزہ لیا جائے اور اس کی اصلیت دریافت کی جائے۔ اس سلسلے میں محض جبلت اور چھٹی حس دھوکا دے سکتی ہے۔ سائنسی رویہ سائنس بنیادی طور پر ایک رویہ اور انداز فکر ہے نہ کہ محض معلومات کا ذریعہ۔ سائنٹفک رویہ اب ایک عام گھریلو لفظ بن گیا ہے لیکن اس کے صحیح مفہوم سے کم ہی لوگ آشنا ہیں۔ اس لیے یہ برمحل بلکہ بے حد ضروری ہے کہ سائنٹفک رویہ کی صحیح تعریف سے کماحقہ، واقفیت حاصل کی جائے۔ سائنسی رویہ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ کائنات اور اس کے مظاہر فطرت، انسانی ذہن، اس کے شعور اور لاشعور کو سمجھنے کی کوشش کی جائے اور ان کو سمجھنے کے قابل بنایا جائے۔ 

ڈاکٹر محمود علی

(کتاب ’’فلسفہ سائنس اور کائنات‘‘ سے اقتباس)
 

سائنس نے سو سال میں دنیا کیسے بدل دی؟

بی بی سی کے لیے لکھے جانے والے ایک مضمون میں نوبیل انعام یافتہ سائنس دان اور برطانیہ کی رائل سوسائٹی کے صدر سر وینکی رام کرشنن نے سائنسی دریافت کے موضوع پر روشنی ڈالی ہے کہ اس نے کیسے ایک مختصر دورانیے میں ہمارا تصورِ کائنات بدل کر رکھ دیا ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیوں آج بھی اپنی تحقیق کے استعمال کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔ اگر ہم معجزاتی طور پر سنہ 1900 سے ذہین ترین افراد کو آج کی دنیا میں لے آئیں تو وہ یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ جائیں گے کہ جن مسائل نے انسان کو صدیوں سے پریشان کر رکھا تھا ہم نے ان کا حل بڑی حد تک تلاش کر لیا ہے۔

صرف ایک سو سال پہلے لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وراثت اگلی نسلوں کو کیسے منتقل ہوتی ہے یا ایک خلیہ کیسے تقسیم ہو کر پورا جاندار بن جاتا ہے۔
انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ایٹم کی اندرونی ساخت بھی ہوتی ہے، حالانکہ خود لفظ ایٹم کا مطلب ‘ناقابلِ تقسیم’ ہے۔ انھیں معلوم نہیں تھا کہ کائنات یا زندگی کا آغاز کیسے ہوا۔ آج بنیادی دریافتوں کی بدولت ہم ان سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں یا کم از کم کوشش کر سکتے ہیں۔ ان جوابات نے ہمارا کائنات کے بارے میں اور خود اپنی روزمرہ زندگی کے بارے میں تصور بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج ہم جن چیزوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے وہ بھی بنیادی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کو آگے بڑھاتی ہیں۔

تقریباً ہر ایجاد کے پیچھے ایک یا ایک سے زیادہ بنیادی دریافتیں ہوتی ہیں۔ بعض اوقات بنیادی دریافت صدیوں پرانی ہوتی ہے۔ نیوٹن کے قوانینِ حرکت سمجھے بغیر جیٹ انجن یا راکٹ ایجاد کرنا ممکن نہیں تھا۔ ان سو سالوں میں سائنس میں کئی بڑے لمحے آئے۔ جیسے ڈی این اے کی ساخت کی دریافت۔ لیکن خود یہ دریافت بھی ڈارون اور مینڈل کی وجہ سے ممکن ہو سکی اور اس نے بعد میں بائیو ٹیکنالوجی کے دروازے کھول دیے۔ آج ہم انسان کے مکمل ڈی این اے (جسے ‘جینوم’ کہتے ہیں) کا آسانی سے جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملی ہے کہ جینیاتی بیماریاں کیسے لاحق ہوتی ہیں اور انھیں کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں سائنس دانوں نے ایک بچی کے جینز میں تبدیلی لا کر اسے لاحق کینسر کا مرض دور کر دیا۔

تاہم انسانی جینوم اس قدر پیچیدہ ہے کہ ہم نے یہ سمجھنا ابھی حال ہی میں شروع کیا ہے کہ جین کیسے ماحول کے ساتھ مل کر ہمارے جسم کا نظام چلاتے ہیں۔
بگ بینگ تھیوری نے ہمیں بتایا کہ کائنات کیسے وجود میں آئی۔ سو سال قبل اس سوال کا جواب صرف مذہب ہی دے سکتا تھا۔ جب ہمیں پتہ چلا کہ کائنات جامد نہیں ہے بلکہ مسلسل پھیل رہی ہے اور کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہٹتی جا رہی ہیں، تو اس سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ آغاز میں تمام مادہ ایک ہی جگہ پر مرکوز تھا اور کائنات ایک عظیم دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آئی۔

اس علم نے ہمیں سب سے بڑے سوال کا جواب دینے کے لیے مواد فراہم کیا ہے۔ اور وہ سوال ہے، ہر چیز کہاں سے آئی؟ اس سے ہمارا ننھا سا سیارہ مزید چھوٹا لگنے لگا ہے، تاہم ہمارے اندر جو علم کی تڑپ ہے، اس نے ہمیں احساسِ کمتری کا شکار ہونے سے بچائے رکھا ہے۔ اپالو مشن سے لے کر کیسینی خلائی جہاز تک اور ہبل خلائی دوربین سے لے کر ثقلی موجوں کی دریافت تک، یہ تمام انکشافات ہمیں خلا کے بارے میں مزید سوالوں کے جواب ڈھونڈے پر اکساتے ہیں۔
آج ہم دنیا کو بڑی حد تک ایک الیکٹرانک سکرین پر دیکھتے ہیں۔ کمپیوٹر مختلف شکلوں میں علم کا ماخذ ہیں، لیکن وہ اس بات کا بھی تعین کرتے جا رہے ہیں کہ ہم بقیہ دنیا اور دوسرے انسانوں کے ساتھ کس طرح سے پیش آتے ہیں۔

آج کے دور کی ایک انتہائی عام چیز یعنی سمارٹ فون بھی کئی بنیادی دریافتوں کی مرہونِ منت ہے۔ اس کے اندر موجود کمپیوٹر انٹی گریٹڈ چپ کی مدد سے کام کرتا ہے۔ خود انٹی گریٹڈ چپ ٹرانزسٹروں سے بنی ہوتی ہے، جن کی دریافت کوانٹم مکینکس کی تفہیم کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ فون کے اندر موجود جی پی ایس آئن سٹائن کے نظریۂ اضافیت میں وقت کے تصور کی تفہیم پر کام کرتا ہے۔ حالانکہ ایک زمانے میں لوگوں کا خیال تھا کہ یہ نظریہ عام زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈال سکے گا۔

اس وقت کمپیوٹر نئی دریافتوں میں مدد دے رہے ہیں جن کی وجہ سے ہمارا دنیا کے بارے میں تصور بدلتا جا رہا ہے۔ اس وقت ہمارے درمیان ایسی مشینیں موجود ہیں جو خود سیکھ سکتی ہیں اور وہ ہماری دنیا کو تبدیل کر رہی ہیں۔ کمپیوٹر صحت اور سماجی میدانوں میں پیش رفت کے وسیع امکانات رکھتے ہیں، اور ہم جلد ہی اپنے درمیان بغیر ڈرائیور والی کاریں اور جدید روبوٹ دیکھ سکیں گے، لیکن ہمیں اس بارے میں بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہوں گے کہ ہمیں ذہین مشینوں کو کس تک دخل اندازی کی اجازت دینی چاہیے۔ ایجادات اخلاقی طور پر نہ بری نہ اچھی ہوتی ہیں، ہمارا استعمال انھیں اچھا یا برا بنا دیتا ہے۔ ایک دریافت جس نے ہمیں دو حصوں میں تقسیم کر دیا وہ ایٹم کی تقسیم تھی۔ اس دریافت نے دنیا کے خطرناک ترین ہتھیار ایجاد کرنے کی راہ ہموار کی۔

تباہی کے خوف نے امن قائم کیا ہے لیکن یہ صورتِ حال زیادہ پائیدار نہیں ہے
بعض لوگ کہتے ہیں کہ مکمل تباہی کا خوف امن جاری رکھنے کی ضمانت ہے۔ لیکن یہ کوئی پائیدار حل نہیں ہے جس کا ایک ثبوت شمالی کوریا کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ دوسری طرف ایٹم کی تقسیم نے ہمیں توانائی کا ایک سستا ذریعہ بھی فراہم کیا ہے۔ سائنس خود ہمارے بارے میں اور ہمارے ارد گرد کی دنیا کے بارے میں جاننے کی جستجو کا نام ہے۔ اسی جستجو نے ہمارے دنیا کے بارے میں تصورات بھی بدلے ہیں اور ہماری زندگیوں کو بھی بدل دیا ہے۔ آج ہماری عمریں 1900 کے مقابلے پر دگنی ہیں اور معیارِ زندگی بھی پہلے سے کہیں بہتر ہے۔ لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال نے صرف سائنس دانوں ہی پر اثر نہیں ڈالا۔ ان کا انحصار ثقافتی، معاشی اور سیاسی عوامل پر ہے۔ سائنس انسانی علم کی فتح ہے، اور اس کی تفہیم اور استعمال سے ہمیں دور رس فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

وینکی رام کرشنن
صدر رائل سوسائٹی

بشکریہ بی بی سی اردو
 

تیس ہزار سے زائد سائنسی مطالعے غلط ہو سکتے ہیں، رپورٹ

سائنسی مطالعوں کے حوالے سے ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق

تیس ہزار سے زائد سائنسی مطالعے غلط ہو سکتے ہیں۔ نیدر لینڈ کی رادبود یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ہزاروں تجربات میں استعمال کئے گئے 451 خلوی کاشت آلودہ ہو گئے ہیں۔ محققین نے تنبیہ کی ہے کہ حکام کی جانب سے غلط طور پر منظور کئے گئے ان تجربات سے بہت سے علاج غیر موثر ہو سکتے ہیں۔ آلودہ خلیات میں سے کچھ کی ابتدا 1951 سے ہوئی اور انہیں چھ سے زائد عشروں تک لیبارٹریز میں استعمال کیا جا چکا ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ آلودہ خلیات کا استعمال تحقیقاتی ماحول میں اب بھی جاری ہے ، محققین نے تنبیہ کی ہے کہ اس مسئلے پر میڈیکل کمیونٹی کی جانب سے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

حافظ محمد نعمان

سائنس کی دلچسپ دنیا : ڈاکٹر عطاء الرحمٰن

سائنس کے تقریباً ہر شعبے میں حیرت انگیز دریافتیں وقوع پزیر ہو رہی ہیں جو کہ ہماری زندگی میں ایک غیر متوقع انداز سے اثر انداز ہو رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کا شعبہ جس رفتار سے ارتقا پذیر ہے اس سے اس سیارے سے انسانی نسلوں کے ختم ہونے کا واضح خطرہ لاحق ہو گیا ہے لہٰذا اس شعبے کے ارتقاء کو فوری طور پر سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ الیکٹرک کار کی کمپنی ٹیسلا اور خلائی نقل و حمل کی کمپنی SpaceX کے سربراہ، ایلون مسک (Elon Musk) نےاس ابھرتے ہوئے خطرے پر ایک انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں امریکہ میں قومی گورنرز ایسوسی ایشن کے موسم گرما کے اجلاس میں مختلف امریکی ریاستوں کے گورنرز سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت ’’سب سے بڑا خطرہ ہے جس کا اس تہذیب کو سامنا ہے ‘‘۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں۔ اگر مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو بہت دیر ہو جائیگی کیونکہ ہم کچھ ہی عرصے میں روبوٹ استعمال کر رہے ہونگے جو ہر طرح سے ہمارے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوشیار ہوں گے، اور وہ اپنی غلطیوں سے تیزی سے سیکھنے کے قابل ہو جائیں گے حتیٰ کہ انسانوں سے کہیں زیادہ ذہین ’’انواع‘‘ اگلی چند دہائیوں میں بن جائیں ۔ صنعتیں جلد ہی خود مختار ہو جائیں گی اور نتیجے میں کروڑوں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔ اس سےقومی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اگر مناسب قواعد و ضوابط پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کافی بڑی تعداد میں حکومتیں ان      آنے والے حالات و خطرات سے نا آشنا ہیں۔ لہٰذا اس سلسلے میں ضروری کارروائی کی فوری ضرورت ہے اس سے پہلے کہ معاملات ہمارے اختیارسے باہر نکل جائیں۔ فلم سیریز ’ دی ٹرمینٹر‘ میں پیش کردہ منظر ایک حقیقت بننے جا رہا ہے۔ جنگوں میں انسانی فوجیوں کی جگہ مشینیں لڑا کریں گی جوانسانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوشیار ہیں، اور ہوشیار ترین کمپیوٹرز والے ممالک دنیا پر حکومت کریں گے، وہ دن زیادہ دور نہیں جب انسانوں کی ضرورت ان کی کمزوریوں مثلاً غصہ وغیرہ کی وجہ سےختم ہو جائیگی اور ’برقی انواع‘ غالب ہو جائیں گی جو عمر کی قید سے مستثنیٰ اور ہر لحاظ سے سمجھدار ہونگی۔ مسک نے کہا کہ جب لوگوں کو اندازہ ہو گا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے تو وہ بہت ڈر جائیں گے۔

ایک اور شعبہ جو بڑی تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے وہ جینیات کا شعبہ ہے۔ نباتات و حیوانات میں جینیاتی معلومات ان کےجین میں موجود ہوتی ہیں۔ ایک چھوٹے سالماتی ہار (ڈی این اے) کا تصورکریں جس میں 3 ارب موتی پروئے ہوئے ہیں۔ یہ موتی چار اقسام کے ہوتے ہیں، اوران موتیوں کی ترتیب ہم انسانوں کے بارے میں، ہمارے رنگ، قد، ہمارے جسم کی ساخت، ہماری ذہانت اور بیماریوں سے ہماری قوت مدافعت کی حدود وغیرہ سب کچھ بتاتی ہے۔ یہ ترتیب جینیاتی کوڈ کے طور پر جانی جاتی ہے۔ 2007ء میں انسانوں میں پہلا کوڈ پروفیسر جم واٹسن کا متعین کیا گیا تھا اگرچہ ا یک جزوی انسانی جینوم کے تعین کے بارے میں 2003 ءمیں امریکی صدر بل کلنٹن کی طرف سے بھی اعلان کیا گیا تھا۔ اس دریافت میں کئی ملین ڈالرکی لاگت آئی تھی اور کئی سال لگے تھے۔ 

اب تیزی سے جینوم کی ترتیب معلوم کرنے والی مشینیں دستیاب ہیں، یہ ایک ہفتےکےاندر اندر تقریباً پانچ ہزارڈالر کی لاگت پر ترتیب معلوم کر سکتی ہیں۔ جامعہ کراچی میں جمیل الرحمٰن مرکز برائے جینیاتی تحقیق، میرے والد کے نام سے اور میرے ذاتی عطیے سے بنایا گیا ہے، اس میں پاکستان کےسب سے جدید و اعلیٰ درجے کے جین کی ترتیب معلوم کرنے والے آلے نصب کئے گئے ہیں اور یہاں انتہائی کمال فن کے ساتھ انسانی اور نباتاتی جین پر تحقیقات جاری ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں میں اس میدان میں حیرت انگیز پیش رفت ہوئی ہے۔ چونکہ ایک نوع کی تمام خصوصیات اس کی جینیاتی ترتیب سے طے کی جاتی ہیں، لہٰذا اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ مخصوص خصوصیات کے حامل جین کو دوسرے انواع کے پودوں یا جانوروں میں منتقل کیا جائے تاکہ اس نوعیت کی خصوصیات ان جانوروں اور پودوں میں بھی پیدا ہو جائیں۔

ہم میں سے بہت سے لوگ جگنوؤں کواندھیرے میں چمکتا ہوا دیکھ چکے ہیں، یہ کیسے ہوتا ہے؟ اس کے پس پردہ دلچسپ بنیادی کیمیائی مرکب “luciferin” ہوتا ہے۔ Luciferin کو آکسیجن کے ساتھ یکجا کر سکتے ہیں، اور نتیجے میں روشنی خارج ہوتی ہے۔ اسی طرح چمکنے کا طریقہ کار گہرے سمندر میں رہنے والی جیلی مچھلی میں بھی موجود ہوتا ہے جو گہرے سمندر میں اپنے ارد گرد کا ماحول روشن کر دیتی ہے۔ کچھ سال پہلے کچھ اسرائیلی سائنس دانوں نے روشنی کی پیداوار کے ذمہ دار جینوں کوشناخت کر کے اور انہیں اورکیڈ کے پھولوں میں منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی اور نتیجے میں ایسے آرکیڈ پھول حاصل ہوئے جو اندھیرے میں چمک سکتے تھے۔ اسی طرح دیگر نباتاتی جینیاتی خصوصیات جیسے مختلف بیماریوں سے مدافعت وغیرہ کو گندم، مکئی، چاول اور دیگر فصلوں میں داخل کیا جا رہا ہے، اور جینیاتی طور پر ترمیم شدہ فصلیں دنیا کے مختلف حصوں میں وسیع پیمانے پر لگائی جا رہی ہیں۔

اسکے علاوہ خلوی جاندار جو خود دوبارہ اپنی افزائش نسل بھی کر سکیں کو مصنوعی طریقے سے لیبارٹری میں پیدا کرنے کی شاندار کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ امریکہ میں جے کریگ وینٹر انسٹی ٹیوٹ کے ڈان گبسن اور ان کے ساتھیوں نے2013 ء میں سائنسی جریدے ’’سائنس‘‘ میں بیکٹیریل جینوم کے پورے حصے کی تیاری کی اطلاع دی تھی جو کہ مصنوعی طور پر (تیار کردہ) 582 ،970 بنیادی حصوں کی جوڑیوں کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل تھا جسے ایک جراثیم ( Mycoplasma genitalium) کے ماڈل پر تیار کیا گیا تھا۔اب وہ وقت زیادہ دور نہیں جب زندگی کی عمارت کے ان بنیادی افعال کی ایک گہری تفہیم کے بعد، ہم اپنی ضروریات کے مطابق نئے پودے اور جانوروں کی انواع و اقسام لیبارٹری میں پیدا کرنے کے قابل ہو جائیں گے بلکہ یہ عمل شروع ہو بھی چکا ہے۔

تیز رفتار ترقی کی جانب گامزن ایک اور شعبہ نئے مواد کا ہے۔ اب آپ چیزوں کا ایک مخصوص مواد سےاحاطہ کر سکتے ہیں جو انہیں پوشیدہ بنا سکتی ہیں اس مواد کو’’metamaterials‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے اس مواد میں روشنی کو موڑنے کی قابل ذکر صلاحیت ہوتی ہے۔ اس مواد کو امریکہ اور جرمنی کے سائنسدانوں نے تیار کیا ہے اور اب یہ دشمن سے ٹینکوں، طیاروں اور آبدوزوں کو پوشیدہ کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ آج چشم زدن میں غائب ہونے والا جادو کا چوغہ ایک حقیقت بن گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں تیار کیا گیا ایک اور مواد ’گریفین‘ ہے۔ یہ خالص کاربن سے بنا ہوتا ہے، یہ لوہے سے تقریباً 200 گنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور اس کا برقیات کی صنعت، دواسازی اور گھریلو آلات وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔ جامعہ مرکزی فلوریڈامیں سب سے ہلکا ٹھوس مواد بھی تیار ہو گیا ہے۔ یہ اسقدر ہلکا ہے کہ اسے’منجمد دھواں‘ کا بھی نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک نیم شفاف مواد’ ایرو جیل‘ ہے جو کاربن کی باریک نلکیوں سے بنا ہے۔ ایرو جیل 99.8 % ہوا پر مشتمل ہوتے ہیں اور شیشے سے ہزار گنا ہلکے ہوتے ہیں۔ یہ کاربن فائبر مواد کے مقابلے میں 39 گنا بہتر موصل ہوتے ہیں۔

یہ مواد انتہائی لچکدار ہوتا ہے، اور ہزار گنا کھنچاؤ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مندرجہ بالا شعبوں میں پاکستان میں کام ان شاءاللہ اگلے سال سے پاک آسٹرین جامعہ برائے اطلاقی انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی جو کہ ہری پور ہزارہ میں واقع ہو گی اور پاک-اطالوی جامعہ برائے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی جو کہ لاہور نالج پارک میں قائم کی جا رہی ہیں کی سرپرستی میں شروع ہو جائے گا ۔ یہ دونوں جامعات میری پیش کردہ تجاویز پر دونوں صوبائی حکومتوں کی جانب سے قائم کی جا رہی ہیں۔ دونوں جامعات کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر میری کوشش ہے کہ اہم تجارتی پیش رفت ممکن ہو سکے اور ممتاز غیر ملکی اداروں کی ڈگری پاکستانی طالب علموں کو اپنے ملک سے باہر جائے بغیر حاصل ہو سکے۔

پاکستان تاریخ کے اس دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ملک میں بیس سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد تقریباً دس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے ہم انہیں ایسی تعلیم دیں جہاں سائنس، ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور تجارتی مہم جوئی پروان چڑھ سکے۔ تب ہی پاکستان تیزی سے ایک مضبوط قوم کے طور پر ابھر کر سامنے آ سکتا ہے جیسا کہ چین نے کیا ہے ۔ تاہم اگر ہم تعلیم اور سائنس کو نظر انداز کرنا جاری رکھتے ہیں جیسا کہ پاکستان کی متعدد حکومتوں نے کیا ہے تو پھریہ ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی ہو گی۔

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن
 

سائنس و ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز دنیا

ای میل روکنے کا نیا بٹن بعض اوقات ہم ای میل کرتے ہیں تو اس میں کوئی نہ
کوئی غلطی رہ جاتی ہے یا پھر ہم اس میں کچھ جملوں کا اضافہ کر کے ترمیم کرنا چاہتے ہیں، لیکن Send کرنے کے بعد ہم اس ای میل کو روک نہیں سکتے۔ بعض اوقات Send کی آپشن کلک کرنے کے بعد ہمیں کوئی ایسا لفظ نظر آ جاتا ہے کہ جو شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن ہمارے پاس اس کو روکنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ گوگل نے Gmail کا اکائونٹ رکھنے والے اپنے صارفین کے لیے Unsend کا بٹن متعارف کروایا، جس کے ذریعے آپ ارادہ بدلنے پر اپنی ای میل کو روک سکتے ہیں۔ گوگل نے یہ فیچر اپنے آئی فون ایپ میں شامل کیا ہے اور یہ بھیجی گئی ای میل کو صرف 5 سیکنڈ کے اندراندر روک سکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈیسک ٹاپ سے ای میل کرنے والوں کے لیے پیغام کو روکنے کے لیے 30 سیکنڈ کا وقت رکھنے کی آپشن بھی دی گئی ہے۔

تین کروڑ روپے کا ہیک نہ ہونے والا فون سسٹم
ہیک نہ ہونے والے جدید سمارٹ فونز بننا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کے لیے تین کروڑ روپے کی لاگت سے نئی ٹیکنالوجی کا حامل فون سسٹم تیار کر لیا گیا ہے۔سائبر حملوں سے بچائو کے لیے یہ انٹرنل نیٹ ورک سسٹم بنایا ہے، اس سے منسلک ہونے کے باعث سمارٹ فونز ہیک نہیں کیے جا سکیں گے۔ بعض ممالک میں فوج کو ائیرمین سے لے کر آفیسرز تک یہ ہی سمارٹ فونز دئیے جائیںگے تا کہ کسی بھی قسم کی حساس معلومات کو ریکارڈ یا موبائل کو ہیک نہ کیا جا سکے۔

ذکا وائرس سے بچائو
ذکا وائرس کے متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والی ذکا وائرس کی وبا نے برازیل سمیت کئی ممالک کو پچھلے کچھ ماہ تک اپنی لپیٹ میں لیے رکھا اور اس کے متاثرین میں درجنوں نومولود بھی شامل ہیں جو کہ ماں کے پیٹ میں ہی اس وائرس کاشکار بن گئے۔ امریکی ماہرین نے متاثرہ حاملہ مائوں کو اس کے اثرات سے بچانے کے لیے غیر طبی تھراپی سے علاج کا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ ذکا وائرس نومولود کے دماغ کو متاثر کرتا ہے، اس لیے اینٹی باڈی تھراپی کے ذریعے ماں اور بچوں کے خون کے خلیوں کے بہائو کو اس وائرس کے خلاف لڑنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چین کا بڑا افلاک نما
چین کے شہر شنگھائی کے ضلع پیوڈنگ میں ایک بڑا افلاک نما بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جس کو دیکھنے کے لیے آنے والے اپنے آپ کو ستاروں اور سیاروں میں گھرا محسوس کریں گے۔ یہ عمارت 38,164 سکوئر میٹرپر مشتمل ہو گی، جس میں ایک شمسی ٹاور اور نوجوانوں کے مشاہدے کے لیے تجربہ گاہ بھی بنائی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین اسے 2020ء تک کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس عمارت میں بارش کے پانی کو قابل استعمال بنانے اور توانائی کو پھر سے قابل تجدید کرنے کی ٹیکنالوجی بھی اس پروجیکٹ کا حصہ ہو گی۔ منتظمین کے مطابق لوگ اس کے ذریعے ستاروں کو دیکھ سکیں گے اور کائنات کے وجود کے مفروضوں کو سمجھنے میں آسانی ملے گی۔

امریکی افواج کے لیے برقی دماغ امریکی فوجی سائنسدانوں نے عسکری اہلکاروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے برقی دماغ کے استعمال کا تجربہ کیا ہے، جوکہ خصوصی طور پر فضائی عملے ، ڈرون آپریٹرز اور مسلح فوجیوں کی مہارت میں اضافی کرے گا۔ کام کے انتہائی دبائو کے اوقات میں مرد و خواتین فوجیوں کے دماغ میں برقی لہروں کی مدد سے ان کی توجہ عسکری امور پر بنائے رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل فوجیوں کو دماغی طور پر چاک و چوبند رہنے کے لیے ادویات دی جاتی ہیں ،جوکہ صحت پر برااثر بھی ڈالتی ہیں، لہٰذا امریکی عسکری سائنسدانوں کی جانب سے اہلکاروں کودماغی طور پر تروتازہ رکھنے کیلیے برقی دماغ کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔

آن لائن ڈیٹا سے چھیڑخانی روکنے کامنصوبہ
ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آن لائن سسٹم سے چھیڑ خوانی بہت سے ممالک کی معیشت کو مہنگی پڑ رہی ہے اورترقی یافتہ ممالک کو حفاظتی اقدامات کے طور پرڈیٹا آڈٹ اور تحقیقات کی مد میں کروڑوں روپے ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ حال ہی میں 30 لاکھ اے ٹی ایم کارڈز ہولڈر متاثر ہوئے، ان کو اس مسئلے سے آئندہ بچانے کے لیے ایک ملک کے بینکنگ سیکٹر کو کروڑوں خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق اداروں کو نہ صرف سسٹم اپ گریڈ کرنے کے لیے خطیر رقم لگانا پڑ رہی ہے بلکہ متاثر ہونیوالے صارف بھی پھر کمپنی کی سروسز سے کنارہ کر لیتے ہیں، جس کے باعث بزنس مارکیٹ بھی خراب ہوتی ہے۔ ڈیٹا کی چوری کا تناسب بڑھنے سے معیشت کو ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیز اور بینکنگ سیکٹر کی جانب سے منصوبہ بنایا جا رہا ہے، تا کہ اس چھیڑ خانی کو روکا جا سکے۔

عمیرلطیف