الغ بیگ کی رصد گاہیں

سمرقند میں الغ بیگ کی سولہویں صدی میں تعمیر کردہ تحقیقاتی رصد گاہ جو آسمانوں کی تسخیر کی بنیادیں فراہم کرتی ہے‘ اس حقیقت کی غماز ہے کہ تسخیر کائنات کیلئے دین کے علم کے ساتھ سائنسی علوم بھی ضروری ہیں۔ الغ بیگ کی رصدگاہ کی تفصیل سے پہلے چوک ریگستان کا ذکر ہو جائے۔ سمرقند کے حوالے سے ریگستان چوک کا نام بار بار آتا ہے۔ کہاں سمرقند اور کہاں ریگستان چوک۔ اس حوالے سے ذہن میں کوئی تصویر بھی نہیں ابھرتی۔ اول تو ریگستان میں سمت دریافت کرنا ہی مشکل ہے‘ پھر ریگستان میں چوک کیسا ہو گا۔ شرف مرزا اس بارے میں پہلے سے کچھ بتانے سے قصداً گریز کر رہے تھے۔

وہ یقینا ہمارے تجسس کو قائم رکھنا چاہتے تھے کہ ہم خود دیکھیں کہ یہ ہے کیا؟ سمرقند کے وسط میں یہ تاریخی چوک ہے‘ جس میں تین انتہائی خوبصورت‘ عالیشان اور پرشکوہ مدارس کی عمارتیں ہیں۔ چودھویں صدی میں یہ دور تیموری میں ایشیا کا سب سے بڑا بازار تھا‘ جہاں دنیا بھر کے تجارتی قافلے آتے تھے۔ اس کے چاروں طرف صناعوں اور کاریگروں کی دکانیں تھیں۔ پندرھویں صدی میں تیمور کے پوتے الغ بیگ نے اس چوک میں سب سے پہلا مدرسہ قائم کیا تھا۔ وہ اپنے زمانے کا مانا ہوا فلسفی‘ ریاضی دان‘ سائنس دان اور ماہر نجوم حکمران تھا اور خود اپنے مدرسے کا پہلا استاد تھا۔ مدرسے‘ ڈیوڑھی اور صحن کے گرد برآمدوں اور چھوٹے چھوٹے کمروں میں تحائف کی دکانیں ہیں۔

روغنی مٹی کے مجسمے جو یہاں کا تہذیبی عکس لئے ہوئے ہیں‘ سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ غرض قدیم سے لے کر جدید تزئین و آرائش کی مصنوعات دستیاب ہیں اور یہ سب ہاتھوں کی کاریگری ہے۔ جو وسطی ایشیا میں مسلمانوں کا تہذیبی ورثہ تھی‘ روسیوں نے ان کی خرید و فروخت کے ساتھ ان کے بنانے پر بھی پابندی لگا دی تھی تا کہ لوگ صرف ان کے مقاصد کی تکمیل کیلئے پیداواری عمل میں مصروف رہیں۔ لوگوں نے اپنا قیمتی‘ تہذیبی اور ثقافتی ورثہ جو تباہ ہونے سے بچ گیا تھا‘ تہہ خانوں میں چھپا دیا۔ آج وہ سارے قدیم شاہکار اور دستکاری کے نادر اور نایاب نمونے نکال نکال کر عجائب گھروں میں سجا دئیے گئے ہیں۔ سمرقند کے مضافات میں افراسیاب ، الغ بیگ کی تعمیر کردہ رصد گاہ ہے۔ رصدگاہ کی اونچائی 33 میٹر ہے۔

ستاروں کی حرکات‘ چاند گرہن اور فلکیاتی علوم کی تحقیق کا جو کام بھی الغ بیگ نے کیا‘ بعد میں آنے والے ریاضی دان اور ماہرین فلکیات اسے رد نہ کر سکے۔ الغ بیگ نے عناصر کائنات یعنی آگ‘ ہوا‘ مٹی اور پانی کے بارے میں بہت کام کیا۔ آزادی کے بعد اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی مدد سے ازبک قوم اپنے مایہ ناز اور قابل فخر آبائو اجداد پر ازبک‘ انگریزی اور روسی زبانوں میں کتابیں شائع کر رہی ہے۔ ان قابل فخر شخصیات میں امیر تیمور‘بابر اور الغ بیگ نمایاں ہیں۔     الغ بیگ کی حاکمیت سمرقند میں چالیس سال قائم رہی۔ اس کے بیٹے پر بھی حاکم بننے کا جنون سوار تھا۔ چند انتہا پسند لوگ الغ بیگ کی سائنسی تحقیق و جستجو‘ اس کے علم و فن اور اس سے متعلق سرگرمیوں کو غیر اسلامی سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے بیٹے کو باپ کے خلاف اس قدر بھڑکایا کہ اس نے اپنے باپ کے خون سے ہاتھ رنگ لئے‘ مگر صرف چھ ماہ بعد وہ خود بھی قتل ہو گیا۔

الغ بیگ کے شاگرد علی قشمی نے اپنے استاد کے علوم کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ازبکستان میں الغ بیگ کا نام نئی نسل میں بہت مقبول ہے۔ اسی طرح تیمور اور بابر بھی بہت عام نام ہیں۔ جس کے تین چار بیٹے ہوں‘ ان میں سے ایک نام ضرور الغ بیگ‘ بابر یا تیمور ہو گا۔ تاشقند میں زمین دوز ریلوے میٹرو کے دو اسٹیشن امیر تیمور اور الغ بیگ کے نام پر ہیں۔ دونوں سٹیشنز سے باہر نکل کر ان اکابرین کے نام پر شاندار پارک ہیں۔ میٹرو کے الغ بیگ سٹیشن سے اوپر جائیں تو سڑک کے اس پار الغ بیگ پارک کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔ اونچے اور گھنے درختوں سے تو پورا شہر ہی بھرا ہوا ہے۔

فریدہ حفیظ

Advertisements

وہ مسلم سائنسداں جن کا نام کمپیوٹر سائنس میں آج تک زندہ ہے

آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والا ہر شخص ’’الجبرا‘‘ سے ضرور واقف ہوتا ہے اور ریاضی کا یہ مضمون جدید سائنس کے تقریباً ہر شعبے میں انتہائی مفید ثابت ہو رہا ہے۔ دوسری جانب کمپیوٹر سائنس کا ہر طالب علم اور ہر سافٹ ویئر انجینئر ’’الگورتھم‘‘ کے بارے میں ضرور جانتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کا تعلق ’’محمد بن موسی الخوارزمی‘‘ سے ہے جو آٹھویں اور نویں صدی عیسوی کے مشہور مسلم ریاضی داں گزرے ہیں۔ محمد بن موسی الخوارزمی کا مختصر تعارف یہ ہے کہ وہ لگ بھگ 780 عیسوی میں فارس کے علاقے ’’خوارزم‘‘ میں پیدا ہوئے جو موجودہ ازبکستان میں واقع ہے اور ’’خیوہ‘‘ کہلاتا ہے۔ ریاضی کے مختلف شعبہ جات میں مہارت حاصل کرنے کے بعد وہ بغداد چلے آئے اور خلافتِ عباسیہ کے تحت قائم ’’بیت الحکمت‘‘ سے بطور عالم (اسکالر) وابستہ ہو گئے اور 850 عیسوی میں اپنی وفات تک یہیں مقیم رہے۔

بیت الحکمت میں رہتے ہوئے الخوارزمی نے ہندوستانیوں کے ایجاد کردہ ’’اعشاری نظام‘‘ (decimal system) اور اس میں شامل ’’صفر‘‘ (Zero) کو عملی مثالوں کے ذریعے عام فہم بنا کر پیش کیا؛ اور اسی کام کی بدولت آج ہم جمع، نفی، ضرب اور تقسیم جیسے حسابی عوامل کو زبردست سہولت کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں۔ لیکن محمد بن موسی الخوارزمی کا عظیم ترین کارنامہ ان کی تصنیف ’’کتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ‘‘ ہے جسے ’’الجبرا‘‘ پر دنیا کی سب سے پہلی کتاب قرار دیا جاتا ہے جس میں انہوں نے تفصیل سے یہ بتایا کہ الجبرا کی مدد سے روزمرہ حسابی مسائل کیسے حل کیے جاسکتے ہیں اور نامعلوم مقداریں کیسے معلوم کی جاسکتی ہیں۔

آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ آج سے 1200 سال پہلے لکھی گئی اس کتاب میں الجبرا کے جو بنیادی اصول اور قواعد بیان کیے گئے ہیں، وہ آج تک بالکل اسی طرح استعمال ہو رہے ہیں جیسے الخوارزمی نے پیش کیے تھے۔ ’’کتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ‘‘ اس قدر مقبول کتاب تھی کہ یہ مسلم عہدِ زریں میں ریاضی کی اہم ترین نصابی کتاب رہی۔ بعد ازاں لاطینی اور دوسری متعدد یورپی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوئے اور یوں یہ آئندہ کئی صدیوں تک یورپی ممالک کی اعلی تعلیمی درسگاہوں (یونیورسٹیز) میں بھی جدید ریاضی کی کلیدی کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی رہی۔

یورپی زبانوں میں ترجمے کے دوران ہی اس نئے ریاضیاتی مضمون کا عربی عنوان مختصر کر کے ’’الجبرا‘‘ کر دیا گیا جو آج تک چلا آرہا ہے۔ علاوہ ازیں لاطینی میں الخوارزم کا نام ’’الگورتھم‘‘ (Algorithm) کر دیا گیا اور یہ مسلمان ریاضی دان اسی نام سے مغرب میں مشہور ہوا۔ بیسویں صدی عیسوی میں جب کمپیوٹر ایجاد ہوا تو اس شعبے کے ماہرین نے کمپیوٹر پروگرام یا سافٹ ویئر لکھنے کا منظم طریقہ وضع کیا جسے محمد بن موسی الخوارزمی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ’’الگورتھم‘‘ کہا جانے لگا۔

واضح رہے کہ ’’الگورتھم‘‘ کا تعلق کسی کمپیوٹر پروگرامنگ لینگویج سے نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی مخصوص کام کو انجام دینے والے قواعد و ضوابط کا منظم اور ترتیب وار مجموعہ ہوتا ہے جسے سامنے رکھتے ہوئے کوئی کمپیوٹر پروگرام (یعنی سافٹ ویئر) لکھا جاتا ہے۔ کمپیوٹر سائنس کے علاوہ طب (میڈیسن) کے شعبے میں بھی امراض کی تشخیص سے لے کر علاج معالجے تک کے منظم اور ترتیب وار طریقہ کار کو بھی ’’الگورتھم‘‘ ہی کہا جاتا ہے۔ اس طرح محمد بن موسی الخوارزمی کا نام جدید سائنس میں آج تک زندہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کا مسلمان خود کو عمومی طور پر ’’ذہین صارف‘‘ سے آگے نہیں بڑھا پایا ہے اور اپنے بزرگوں کے کارنامے پڑھ کر فخر ضرور کرتا ہے لیکن ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش نہیں کرتا۔

 

مسلم انجینئر نے ’’ذہین ٹی شرٹ‘‘ ایجاد کر لی

کینیڈا کی یونیورسٹی آف لاوال میں پروفیسر یونس مصدق کی سربراہی میں ماہرین نے ایک ایسی ذہین ٹی شرٹ ایجاد کر لی ہے جو نہ صرف اپنے پہننے والے کے سانس لینے کی رفتار پر نظر رکھتی ہے بلکہ اسے متعدد بار دھویا بھی جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد سانس کی رفتار کے ذریعے تنفسی امراض (سانس کی بیماریوں) پر نظر رکھنا اور دمہ، بے خوابی اور سانس کے مختلف امراض کی تشخیص کرنا ہے۔ تحقیقی جریدے ’’سینسرز‘‘ کے تازہ شمارے میں اس منفرد ٹی شرٹ کی شائع شدہ تفصیلات کے مطابق اس میں سینے کے مقام پر ایک ننھا، نرم اور لچک دار قسم کا انٹینا سلا ہوا ہے جو ایک کھوکھلے بصری ریشے (آپٹیکل فائبر) پر مشتمل ہے جس کی اندرونی سطح پر چاندی کی پرت چڑھائی گئی ہے جبکہ بیرونی ماحول سے حفاظت کے لیے اس پر ایک مضبوط لیکن لچک دار پولیمر کی بیرونی پرت موجود ہے۔

یہ سینسر بیک وقت دو کام کرتا ہے: یہ سینے کے پھیلنے اور سکڑنے کی بنیاد پر سانس لینے کی رفتار نوٹ کرتا ہے جبکہ نوٹ کی گئی ان پیمائشوں کو ساتھ ہی ساتھ وائرلیس سگنلوں کی شکل میں نشر بھی کرتا رہتا ہے جو قریب رکھے ہوئے کمپیوٹر یا پھر صارف کے اسمارٹ فون پر وصول کیے جاسکتے ہیں۔ سانس کی رفتار پر مسلسل رکھنے والے دوسرے طریقوں اور ماضی میں بنائی گئی دوسری اسمارٹ ٹی شرٹس کے برخلاف اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ میں ایسا کوئی تار، برقیرہ یا سینسر نہیں جو براہِ راست انسانی جسم کو چھوتا ہو جبکہ یہ اتنی آرام دہ ہے کہ اسے پہننے والے کو کسی خاص انداز میں اٹھنے بیٹھنے کی پابندی کرنا نہیں ہوتی۔ پروفیسر یونس کہتے ہیں، ’’ہمارے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ (ٹی شرٹ) اپنے پہننے والے کی فطری حرکات میں رکاوٹ نہیں ڈالتی اور اسے پہن کر کھڑے ہونے، اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے پھرنے جیسے معمولات بھی اسی طرح انجام دیئے جا سکتے ہیں جیسے کوئی عام سی ٹی شرٹ پہنی ہو۔‘‘

تجربات کے دوارن اس ٹی شرٹ کو 20 سے زائد مرتبہ دھویا گیا لیکن پانی اور واشنگ پاؤڈر سے بہت دیر تک سامنا ہونے کے باوجود بھی اس ٹی شرٹ کو کچھ نہیں ہوا اور یہ پہلے کی طرح کام کرتی رہی۔ اب یہ ماہرین کسی ایسے ادارے کی تلاش میں ہیں جو اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ کو تجارتی پیمانے پر تیار کرکے طبّی استعمال کےلیے فروخت کر سکے۔ پروفیسر یونس مصدق کا تعلق لاوال یونیورسٹی، کیوبیک کی فیکلٹی آف سائنس اینڈ انجینئرنگ کے سینٹر فار آپٹکس، فوٹونکس اینڈ لیزرز سے ہے جبکہ وہ ’’کینیڈا ایکسی لینس ریسرچ چیئر اِن فوٹونک انوویشنز‘‘ کا اعلی اعزاز بھی رکھتے ہیں۔

کاغذ کا راز مسلمانوں تک کیسے پہنچا ؟

کاغذ کی دریافت اور اس کی تیاری نے دنیائے کتاب داری میں جو انقلاب پیدا کیا
اس نے کتاب کی تیاری میں بڑی آسانیاں فراہم کر دی تھیں۔ اس کے فیوض و برکات دنیا کے دور دراز ممالک تک پہنچنے لگے تھے۔ علم و ادب کا حصول اب عام متوسط طبقہ تک ہو چلا تھا جو ویلم اور پارچمنٹ جیسے تحریری مواد کے انتہائی قیمتی ہونے کی وجہ سے دولت مند لوگوں کی یا نوابین کی میراث بن کر رہ گیا تھا۔ 105ء میں کاغذ کی ایجاد کا سہرا چین کے ایک ذہین شخص تسائی لن کی محنت کا نتیجہ تھا لیکن تقریباً سات سو سال تک باقی دنیا اس کی تیاری سے نا واقف رہی تھی۔

کاغذ کی صنعت عربوں کے ذریعے بارہویں صدی عیسوی میں اسپین اور وہاں سے یورپ پہنچی۔ مغرب مؤرخین کا خیال ہے کہ مسلمان عربوں نے چین سے کاغذ سازی کا نسخہ حاصل کر لیا تھا۔ دنیا میں جب پیپائرس اور جانوروں کی کھالوں کو تحریری مواد کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا اور وہاں کے کتاب خانوں میں پارچمنٹ اور ویلم پر کتابیں لکھی جاتی تھیں‘ اس وقت چین میں ریشم پر کتابیں لکھنے کا رواج تھا۔ اس سے قبل چین میں لکڑی کی تختیوں پر لکھنے کا عام رواج تھا۔ تسائی لن نے چین میں پرانے سوتی کپڑوں سے کاغذ کی لبدی تیار کی اور اس سے قدرے خام شکل کا کاغذ تیار کیا جو آج کے نفیس کاغذ کی ابتدائی شکل تھی۔

 

کاغذ کی ایجاد نے چین میں بہت جلد مقبولیت حاصل کر لی اور آئندہ دو صدیوں میں چین میں بڑی تعداد میں کتابیں تیار کی گئیں۔ ان کتابوں کے نمونے جو بعد میں دریافت ہوئے‘ آج بھی برطانیہ‘ فرانس کے عجائب گھروں میں محفوظ ہیں۔ سات سو سال تک چین نے کاغذ کی ایجاد کو صیغہ راز میں رکھا۔ حتیٰ کہ عرب ترکستان علاقے میں چینیوں سے یہ راز معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پہلا کاغذ سازی کا کارخانہ آٹھویں صدی عیسوی میں ثمرقند میں قائم کیا۔ جس سے نصابی کتب اور علمی کتابوں کی تیاری بڑے پیمانے پر کی جانے لگی۔ طالب علم کاغذ سازی کے مشغلے کو گائوں گائوں اور قریہ قریہ تک لے گئے۔

چنانچہ آٹھویں صدی سے لے کر اٹھارہویں صدی عیسوی تک مسلم ممالک میں اس کی فیکٹریاں دن رات کام کرنے لگیں۔ کاغذ سازی کی صنعت ترکستان کے بعد دمشق‘ قاہرہ بغداد اور قرطبہ میں قائم ہو گئی تھی۔ یورپ کی سرزمین پر عربوں نے کاغذ سازی کا پہلا کارخانہ 1085ء میں سپین کے ایک شہر میں قائم کیا جبکہ دوسرا کارخانہ 1270ء میں عرب مسلمانوں کی مدد سے اطالیہ میں قائم ہوا۔ جو کرسچین یورپ میں پہلا کارخانہ تھا۔

انگلستان میں کاغذ سازی 1490ء میں ہرٹ فورٹ شائر کے مقام سے شروع ہوئی اور انیسویں صدی تک انگلستان میں کاغذ سازی کی دستکاری باقاعدہ صنعت میں تبدیل ہو گئی۔ حتیٰ کہ 1884ء میں کاغذ کو بلیچ اور مزید صاف کر کے نفیس کاغذ میں تبدیل کر دیا گیا۔ جس پر بعد میں کتابوں کی طباعت کا کام بہت آسان ہو گیا اور چھاپہ خانہ کی ایجاد نے کتابوں کے حصول کو ہرعام و خاص کے لیے آسان بنا دیا۔ کاغذ کی تیاری اور چھاپہ خانہ کی ایجاد نے کتابوں کی تیاری میں وہ ہلچل پیدا کی کہ علم و ادب کے دھارے انسانی فکر کی بلندیوں کو چھونے لگی۔

اشرف علی

مسلمان سائنس دانوں کے کارنامے

     

شاید ہی دنیا کا کوئی علم ایسا ہو جسے مسلمانوں نے حاصل نہ کیا ہو۔ اسی طرح سائنس کے میدان میں بھی مسلمانوں نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔ گوکہ آج اہل یورپ کا دعویٰ ہے کہ سائنس کی تمام تر ترقی میں صرف ان کا حصہ ہے مگر اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ تجرباتی سائنس کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی ہے اور اس کا اعتراف آج کی ترقی یافتہ دنیا نے بھی کیا ہے۔ اس ضمن میں ایک انگریز مصنف اپنی کتاب ’’میکنگ آف ہیومینٹی‘‘ میں لکھتا ہے :’’مسلمان عربوں نے سائنس کے شعبہ میں جو کردار ادا کیا وہ حیرت انگیز دریافتوں یا انقلابی نظریات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی ترقی یافتہ سائنس ان کی مرہون منت ہے‘‘ایک دوسرا انگریز مصنف جان ولیم ڈریپرا اپنی کتاب ’’یورپ کی ذہنی ترقی‘‘ میں لکھتا ہے کہ مسلمان عربوں نے سائنس کے میدان میں جو ایجادات و اختراعات کیں وہ بعد میں یورپ کی ذہنی اور مادی ترقی کا باعث بنیں۔

آٹھویں صدی سے بارہویں صدی عیسوی میں مسلمان سائنس پر چھائے رہے۔ جس وقت مسلمان سائنس میں نئی نئی ایجادات اور انکشافات کر رہے تھے‘ اس وقت سارا یورپ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ اس دور میں الخوارزمی‘ رازی‘ ابن الہیشم‘ الاہروی‘ بو علی سینا‘ البیرونی‘ عمر خیام‘ جابر بن حیان اور فارابی جیسے سائنس دان پیدا ہوئے۔اگر یہ کہا جائے کہ دنیا ابھی تک البیرونی جیسی شخصیت پیش نہیں کر سکی تو غلط نہ ہو گا۔ جو بیک وقت ماہر طبیعات و ماہر لسانیات و ماہر ریاضیات‘ و ماہر اراضیات وجغرافیہ دان و ادیب و طبیب و مورخ ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر اور کیمیا دان بھی تھا۔ البیرونی نے ایک سو اسی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ البیرونی نے ثابت کیا کہ روشنی کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ ہوتی ہے۔

فلکیات پرالبیرونی نے کئی کتابیں تحریر کیں۔ دنیا آج بھی البیرونی کو بابائے فلکیات کے نام سے یاد کرتی ہے۔ بو علی سینا فلسفہ اور طب میں مشرق و مغرب کے امام مانے جاتے ہیں۔ ابن سینا نے تقریبا 100 کے قریب تصانیف چھوڑی ہیں۔ بو علی سینا کے بارے میں پروفیسر برائون کا کہنا ہے کہ جرمنی کی درس گاہوں میں آج بھی بوعلی سینا کی کاوشوں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ بو علی سینا اور محمد بن ذکریا الرازی کی تصاویر اب بھی پیرس یونیورسٹی کے شعبہ طب میں آویزاں ہیں۔ ساری دنیا آج بھی جابر بن حیان کو بابائے کیمیا مانتی ہے۔ جابر بن حیان نے شورے ، گندھک اور نمک کا تیزاب ایجاد کیا۔ واٹر پروف اور فائر پروف کاغذ بھی جابر بن حیان کی ایجاد ہے۔ روشنی پر دنیا کی سب سے پہلے جامع کتاب ’’المناظر‘‘ ابن الہیشم نے لکھی۔ پن ہول کیمرے کا اصول بھی پہلے انہوں نے دریافت کیا۔ ابن الہیشم بابائے بصریات بھی کہلاتے ہیں۔

مشہور مسلمان ماہر فلکیات و ریاضی دان اور شاعر عمر خیام نے ’’التاریخ الجلالی‘‘ کے نام سے ایک ایسا کلینڈر بنایا جو آج کل کے رائج کردہ گریگورین کلینڈر سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ ابو القاسم الزاہروی آج بھی جراحت (سرجری) کے امام مانے جاتے ہیں۔ ان کی سب سے مشہور کتاب ’’التصریف‘‘ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے زخم کو ٹانکا لگانے ‘ مثانے سے پتھری نکالنے اور جسم کے مختلف حصوں کی چیر پھاڑ کے متعلق بتایا۔ یہ کتاب کئی صدیوں تک یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی گئی۔ ابو جعفر محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے فلکیات ‘ ریاضی اور جغرافیہ میں نام پیدا کیا۔ گنتی کا موجودہ رسم الخط ایجاد کیا اور گنتی میں صفر کا استعمال سب سے پہلے انہوں نے کیا۔ الجبرے کا علم معلوم کیا اور مثلث ایجاد کی۔ الجبرے پر ان کی مشہور کتاب ’’حساب الجبر و المقابلہ‘‘ اٹھارہویں صدی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی جاتی رہی۔ موسیقی میں ابتدائی سائنسی تحقیق ابو نصر محمد فارابی نے کی۔

 چیچک کا ٹیکہ سب سے پہلے محمد بن زکریا نے ایجاد کیا۔ رازی دنیا کے پہلے طبیب تھے جنہوں نے چیچک اور خسرہ پر مکمل تحقیقات کیں اور چیچک کا ٹیکہ ایجاد کیا۔ اس کا اعتراف انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی موجود ہے۔ ابن یونس نے پنڈولیم کا اصول ایجاد کیا۔ ابو الحسن نامی مسلمان سائنسدان نے سب سے پہلے دوربین ایجاد کی۔ انسانی جسم میں خون گردش کرتا ہے۔ یہ نظریہ سب سے پہلے ابن النفیس نے پیش کیا۔ یہ ہیں مسلمان سائنس دانوں کے وہ روشن کارنامے جن سے اہل یورپ والے بھی روشنی لیتے رہے لیکن کئی مغربی مصنفوں اور مورخین نے اسے اپنے سائنس دانوں سے منسوب کر دیا۔ ستم تو یہ ہوا کہ خود ہمارے لکھنے والوں نے اسے انگریزوں اور دوسرے یورپی سائنس دانوں کا کارنامہ سمجھا اور لکھا۔ یہ سب کچھ مغربی مصنفین کی تحریروں پر اندھا اعتماد کرنے سے ہوا۔

شیخ عبدالحمید عابد