عظیم کیمیا دان جابر ابن حیان : کیمیا کی تاریخ اسے فراموش نہیں کر سکتی

آپ کو ایک ایسے مسلمان کیمیا دان کا حال سناتے ہیں جس کی محنت اور کوشش سے علم کیمیا کو بڑی ترقی ملی اور وہ موجودہ حالت پر آیا۔ اس کا نام جابر ابن حیان تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ سب سے پہلا کیمیا دان تھا۔ اس کا تعلق عرب کے جنوبی حصے کے ایک قبیلے ازد سے تھا۔ اس کے خاندان کے لوگ کوفے میں آباد ہو گئے تھے۔ لیکن جابر 722ء میں خراسان کے شہر طوس میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ حیان کوفے سے یہاں آ گیا تھا۔ جابر ابھی بچہ ہی تھا کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس کی ماں اس کی ننھی جان کو ساتھ لے کر عرب چلی گئی اور وہاں اپنے قبیلے کے لوگوں میں رہنے لگی۔

جابر نے یہاں ہی تعلیم پائی۔ دینی تعلیم کے علاوہ اس نے ریاضی اور دوسرے علوم کا مطالعہ بھی کیا۔ جب وہ جوان ہوا تو اپنے قبیلے کو چھوڑ کر مدینہ منورہ میں آگیا۔ یہاں اس نے امام جعفر صادقؓ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ امام جعفر صادقؓ نہایت عالم اور باکمال امام تھے۔ ان ہی کی صحبت کا اثر تھا کہ جابر اگرچہ بعد میں سائنس دان بنا لیکن اس پر مذہب کا رنگ بھی غالب رہا۔ مدینہ منورہ سے جابر کوفہ آیا، جہاں اس کے بزرگ رہتے تھے۔ یہاں اس نے اپنی تجربہ گاہ قائم کی اور کیمیا پر تحقیقات کیں جن کی بنا پر وہ دنیا کا پہلا کیمیا دان کہلایا۔ جابر نے بچپن ہی سے بہت محنت کی اور برابر تجربات کرتا رہا۔ اس نے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ وہ عربی کے علاوہ یونانی زبان بھی اچھی طرح جانتا تھا۔ اسی لیے اس نے یونانی علم کو عربی زبان میں پیش کیا اور پرانے علوم سے فائدہ اٹھایا۔ 786ء میں جابر عمررسیدہ تھا تو مشہور عباسی خلیفہ ہارون الرشید بغداد میں تخت سلطنت پر بیٹھا۔ وہ پڑھے لکھے لوگوں کی بڑی قدر کرتا تھا۔ اس کے وزیر بھی بڑے لائق تھے اور علم کی قدر کرتے تھے۔ انہوں نے جابر کی شہرت سنی تو اسے بغداد بلا لیا لیکن کچھ عرصہ بعد جابر پھر کوفے واپس آ گیا۔

اب تو علم کیمیا بہت ترقی کر چکا ہے۔ اس کی بہت سی شاخیں ہیں، لیکن جابر کے زمانے میں اس علم کا مطلب یہ تھا کہ معمولی دھاتوں کو سونے میں تبدیل کر دیا جائے۔ کسی کو اس میں کامیابی تو حاصل نہیں ہوئی لیکن کوشش سب کرتے تھے۔ جابر نے اپنا وقت صرف اس خیال پر ضائع نہیں کیا۔ اس نے تجرباتی کیمیا پر زور دیا۔ وہ بہت سے تجربات سے واقف تھا جو آج بھی آپ اپنی تجربہ گاہ میں کرتے ہیں، مثلاً حل کرنا، کشیدکرنا، فلٹر کرنا، اشیا کا جوہر اڑانا اور مختلف چیزوں کی قلمیں بنانا، سچ تو یہ ہے کہ جابرتجرباتی کیمیا کا بانی ہے۔ اپنی کتاب میں وہ لکھتا ہے: ’’کیمیا میں سب سے ضروری چیز تجربہ ہے ۔ جو شخص اپنے علم کی بنیاد تجربے پر نہیں رکھتا، وہ ہمیشہ غلطی کھاتا ہے۔ پس اگر تم کیمیا کا صحیح علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو تجربے پر انحصار کرو اور صرف اسی علم کو صحیح جانو جو تجربے سے ثابت ہو جائے۔ کسی کیمیا دان کی قابلیت کا اندازہ اس سے نہیں لگایا جاتا کہ اس نے کیا کیا پڑھا ہے بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس نے تجربے کے ذریعے کیا کچھ ثابت کیا جاتا ہے۔‘‘

جابر دھاتوں کو گرمی پہنچا کر ان سے کشتہ بنانا جانتا تھا۔ اس نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے اپنی کتابوں میں فولاد بنانے، چمڑا رنگنے، دھاتوں کو صاف کرنے، موم جامہ بنانے، لوہے کو زنگ سے بچانے کے لیے اس پر وارنش کرنے، بالوں کا خضاب تیار کرنے اور اسی قسم کی درجنوں مفید چیزیں بنانے کے طریقے بیان کیے ہیں۔ اس کے علاوہ جابر نے اپنی کتابوں میں تیزابوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ وہ تیزاب بنانا جانتا تھا اور بعض ان چیزوں سے اچھی طرح واقف تھا جو آج بھی اسی شکل میں محفوظ ہیں۔ کیمیائی آلات میں جابر کی سب سے اچھی ایجاد قرع انبیق ہے جس سے کشید کرنے، عرق کھینچنے اور ست یا جوہر تیار کرنے کا کام لیا جاتا تھا۔

جابر نے اپنی تحقیقات سے علم کیمیا کو ایک نیا روپ دیا اور اسے کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عرب کے ایک بدوی قبیلے کا ایک بچہ جو بالکل چھوٹی عمر میں ہی یتیم ہو گیا تھا، کس طرح اس مرتبے تک پہنچا کہ کیمیا کی تاریخ اسے فراموش نہیں کر سکتی۔ مغرب نے اس سے بہت کچھ سیکھا۔ آج یورپ میں اسے Jeber کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسلامی عہد میں سنہری کارنامے انجام دینے والایہ سائنس دان 817ء میں فوت ہوا جب اس کی عمر پچانوے سال تھی۔

جیمز واٹ

Advertisements

الفارابی کے نظریات

فارابی وہ پہلا ترک فلسفی تھا جسے بہت زیادہ شہرت نصیب ہوئی۔ فارابی نے نہ صرف فلسفہ یونان کا گہری نظر سے مطالعہ کیا بلکہ ارسطو کے فلسفہ کی تشریح لکھی اور اسے آسان بنایا۔ اس نے فلسفہ یونان اور اسلامی تعلیمات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ فارابی نے انسانی عقل کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک عقل عملی اور عقل نظری۔ عقل عملی ہمیں عمل کے بارے میں بتاتی ہے یعنی ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ جبکہ عقل نظری ہمیں استکمال ( perfection) حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ فارابی نے عقل نظری کو مزید تین حصوں میں تقسیم کیا۔ عقل ہیولانی عقل نالفعل اور عقل مستفاد۔

فارابی نے عقل نظری کو عقل عملی پر ترجیح دی۔ اس کا خیال تھا کہ اگر کوئی شخص کسی شے کا علم رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا یا اس علم کے مطابق اپنے کردار کو نہیں ڈھالتا تو وہ اس شخص سے بہرحال بہتر ہے جو اعمال تو نیک بجا لاتا ہے لیکن اس کے بارے میں علم نہیں رکھتا۔ اصل میں یہ بات اس نے سقراط کے زیر اثر کہی تھی یعنی سوچ سمجھ کر برائی کرنا بلا سوچے سمجھے نیکی کرنے سے بدرجہا بہتر ہے کیونکہ علم انسانی کو نتائج اور عواقب سے بچا سکتا ہے۔ فارابی نے ذہنی صحت کے سلسلے میں معاشرے کو بے حد اہمیت دی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ذہنی آسودگی اور کامیابی کا انحصار مل جل کر زندگی بسر کرنے میں ہے۔

اس نے معاشرے کی دو اقسام بیان کیں۔ کامل معاشرہ اور غیر کامل معاشرہ۔ کامل معاشرہ وہ ہے جس میں لوگ اتحاد و یگانگت سے رہیں اور غیر کامل معاشرہ وہ ہے جہاں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہو۔ ہر شخص محض اپنا مفاد ہی سوچے اور محض اپنی خاطر جئے۔ افلاطون نے بہترین معاشرے کا نام جمہوریت رکھا تھا۔ فارابی نے اسے شہر فضیلت کا نام دیا۔ یعنی وہ ایسی مثالی ریاست ہو گی جہاں لوگ ایک دوسرے سے تعاون کریں گے اور اپنی اور دوسروں کی زندگی کو خوشگوار بنانے میں ممدومعاون ثابت ہوں گے ۔

محمد عاصم صحرائی

ابن بطوطہ کا شہر طنجہ

1977 میں جبکہ میں صرف نو برس کی تھی میرے والدین مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو شمالی مراکش میں طنجہ کی سیاحت کو لے گئے۔ یہ موسم گرما کا وسط تھا۔ شہر کی قدیم بستی عدینہ میں خواتین چوڑے کناروں والے تنکوں کے ہیٹ پہنے اور سرخ و سفید دھاریوں والے کمبل لٹکائے گلیوں میں گھوم پھر کر پودینہ اور کدو بیچتی پھر رہی تھیں۔ لڑکے ان کھلے ڈبوں کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے جو اسپین سے آنے والی ممنوعہ اشیا، یعنی ٹرانسسٹر ریڈیو، پلاسٹک کی گھڑیوں، استعمال کے بعد ناکارہ اشیا سے بھرے پڑے تھے۔

دارالحکومت رباط سے تعلق رکھنے والی چھوٹی سی بچی کے لیے لباس، رسوم و رواج اور بولیوں میں علاقائی فرق اس امر کا ثبوت تھا کہ طنجہ ایک مختلف شہر تھا۔ طنجہ تاریخی روایات کا حامل ہے، طنجہ پرفسوں شہر ہے۔ اسی دنوں میں نے اپنے تصویری انسائیکلوپیڈیا میں یونانی اساطیر بشمول ہرکولیس کا مطالعہ کیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اپنی 12 ریاضتوں کے اختتام پر اس نے طنجہ کے قریب آ کر آرام کیا۔ لہٰذا جب اگلے روز ہم شہر سے 14 کلومیٹر دور ہر کولیس کے غار دیکھنے گئے تو خاص طورپر پُر جوش تھی۔

ہمیں اندر جا کر جو نظارہ دیکھنے کو ملا وہ قابل دید تھا۔ دیوار کے اندر افریقہ کی الٹی شکل کی طرح کا ایک خلا تھا جس کے مقابل فیروزی مائل نیلے آسمان اور گہرے نیلے بحراوقیانوس کی شبیہ دکھائی گئی تھی۔ جبکہ میں اپنے والد کا ہاتھ تھامے ڈر رہی تھی کہ کہیں گہرے پانی میں نہ گر پڑوں، چند نوجوان لڑکوں نے بڑی دلیری سے سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ آیا ہرکولیس کا غار ایک ارضیاتی عجوبہ تھا یا انتہائی باہنر قبائل کی جانفشانی کا نتیجہ، کوئی بھی میرے سوال کی تشفی نہ کر سکا۔ طنجہ میں افسانے اور حقیقت کے مابین بہت خفیف فرق پایا جاتا ہے۔ ہرکولیس وہ واحد سیاح نہیں تھا جسے شہر کے اندر جنت ملی تھی۔

رومن یہاں ایک صدی قبل مسیح پہنچے تھے، پھر جرمن غارت گر، بنوامیہ، بنو عباس، ادریسی، مریندیسی اور بہت سی دیگر بادشاہتیں، بربر یا عرب مسلمان یا عیسائی، مقامی یا غیر مقامی آئے، پرتگیزی پندرھویں صدی میں حملہ آور ہوئے، طنجہ کے لوگ بھی ہسپانوی حکومت کے زیرنگین آ گئے تھے۔ چند برس بعد انگریز آ گئے۔ یہ سب ایک ہی چیز کے طلب گار تھے۔ ایک ایسا شہر جس کا براعظم کے عین سرے پر وقوع انہیں اس قابل بنا دے گا کہ وہ اندروں ملک سے ہونے والی بہت سی تجارت کو کنٹرول کر سکیں گے۔ وہ سب پھر وہاں سے چلے گئے، اگرچہ ہرکولیس کی طرح وہ اپنی کچھ نہ کچھ یادگار یا نشانی طنجہ میں چھوڑ گئے۔ ہسپانویوں نے چودہ سو نشستوں پر مشتمل تھیٹر بنوایا جہاں ان کے موسیقی اور اوپرا کے سب سے بڑے ستاروں نے دو عالمی جنگوں کے درمیان اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

برطانویوں کی یادگار چرچ آف سینٹ اینڈریو ہے جو اس قطعہ زمین پر تعمیر کیا گیا تھا جو انہیں سلطان نے عطیہ کیا تھا، اور جس کا ٹاور ایک مینار کی طرح نظر آتا ہے۔ طنجہ آپ کو اپنی طرف راغب کرتا ہے، اور پھر پرے دھکیل دیتا ہے، آپ کو دوبارہ اپنی طرف کھینچنے کے لیے۔ حتیٰ کہ تقریباً 25 برس دور رہنے کے بعد اس کا مشہور ترین سپوت ابن بطوطہ بھی واپس لوٹ آیا تھا۔ یہی کچھ میں نے کیا، بار بار۔ اس مرتبہ اپنے خاوند کے ساتھ۔ پہلی نظر میں مجھے شہر ویسے کا ویسا نظر آیا جیسا کہ میں اسے چھوڑ کر گئی تھی۔

لیلیٰ لالامی

(ترجمہ: اعزاز باقر)

حنین ابن اسحاق : ایک جلیل القدر طبیب

ابوزید حنین ابن اسحاق العبادی 810ء میں پیدا ہوا اور 877ء میں وفات پائی۔ یہ عہد عباسی کا ایک جلیل القدر طبیب تھا۔ حنین ابن اسحاق کے تذکرے کے بغیر عہد عباسی کی تاریخ نا تمام رہتی ہے۔ ابن ندیم نے الفہرست میں لکھا ہے کہ اس کا پورا نام حنین ابن اسحاق عبادی تھا اور ابو زید اس کی کنیت تھی۔ یہ بنو موسیٰ کے دربار میں یونانی مخطوطات کو جمع کرنے اور ان کے تراجم پرمامور تھا۔ اس نے طبی کتابوں کے تراجم سب سے زیادہ کیے ہیں۔ حنین علمی منازل طے کرتا ہوا اس درجے پر جا پہنچا کہ علوم و فنون کا سرچشمہ تصور کیا جانے لگا۔ اس کی رسائی خلیفہ مامون رشید تک ہوئی جس نے حنین کو اپنے دربار میں بلا کر خلعتیں عطا کیں اور بیت الحکمت کا مہتمم مقرر کیا۔

مامون رشید اس کے تالیف وتراجم کی جس طرح قدر کرتا تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ حنین کو اجرت کے طورپر اس کی ہرتالیف کے ہم وزن سونا عطا کرتا تھا۔ حنین اپنے عہد کا ممتاز طبیب ہی نہیں بلکہ یونانی طب کا سب سے بڑا مترجم ہے۔ حنین نے جالینوس کی 95 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے سریانی اور39 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے عربی میں کیا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے شاگردوں کے ذریعے کیے گئے تراجم پر نظر ثانی کی اورصلاح و مشورہ دیا۔ حنین ہی کی سربراہی میں دنیا کی انتہائی اہم اور نایاب کتاب ’کتاب الخشائش‘ (جس کا اصل مصنف دیسقوریدوس ہے) کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا۔ حنین عربی، فارسی، یونانی اورسریانی زبانوں کا جید عالم تھا۔

اگرچہ حنین ابن اسحاق کئی کتابوں کا مصنف تھا لیکن علمی دنیا میں اس کی شہرت مترجم کی حیثیت سے زیادہ ہوئی۔ حنین ابن اسحاق کی تصانیف میں کتاب المصائب، کتاب العشر مقالات فی العین، کتاب العین خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ ان ابی اُصیبعہ کے بیان کے مطابق 70 سال کی عمر میں ذرب (Sprue) کے عارضہ سے حنین کا انتقال ہوا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حنین کی موت سخت دماغی صدمے کی وجہ سے ہوئی یا پھر اس نے تنگ آکر زہر کھا کر خود کشی کر لی۔

نوید احمد

 

مسلم دنیا کے بھلا دیے گئے سائنسی ستارے

ایران میں جنم لینی والی مریم مرزا خانی، جو ریاضیات میں بلا کی ذہین تھیں، 14 جولائی 2017 کو کینسر کے باعث 40 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ 2014 میں انہیں فیلڈز ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو کہ ریاضی کے شعبے میں نوبیل انعام کے برابر ہے۔ ملکہءِ ریاضیات کے لقب سے مشہور مریم مرزا خانی یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی خاتون اور پہلی مسلمان تھیں۔ انہوں نے عام طور پر مردوں کا شعبہ سمجھے جانے والے اس شعبے کا اعلیٰ ترین ایوارڈ حاصل کر کے اس تاثر کو غلط ثابت کیا کہ یہ صرف مردوں کا شعبہ ہے۔ اس قدر ذہین خاتون کو اتنی جلدی گنوا دینا ایک سانحہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کی طرح ان کے ملک ایران میں بھی ان کی وفات پر سوگ منایا گیا جبکہ ان کی کامیابیوں کو یاد کیا گیا۔ ایران سے باہر، اسلامی دنیا کے دیگر ممالک میں ان کی وفات ایک غیر اہم واقعہ رہی۔ پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بمشکل ہی ان کا نام لیا گیا۔ یہ بھی ان کی وفات کی طرح ایک مایوس کن صورتحال ہے۔

مرزا خانی نے ‘کمپلیکس جیومیٹری’ کے وسیع میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ فیلڈز میڈل ایوارڈ کمیٹی نے ‘رائمن سرفیسز کی جیومیٹری اور ڈائنیمکس اور ان کے موڈیولی اسپیسز’ پر ان کے کام کو بنیاد بنا کر ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سب میری سمجھ سے باہر ہے کیوں کہ آج کی ریاضی 1960 میں جب میں نے ماسٹرز کیا تھا، کی ریاضی سے اتنی ہی مختلف ہے جتنے کہ آج کے موبائل فون اس دور کے ٹیلی فونز سے۔ مرزاخانی نے فرزانیگان اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور 1999 میں تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنولوجی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 2004 میں ہارورڈ سے پی ایچ ڈی کی اور پرنسٹن اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ ایسی تعلیمی اداروں، جو مرزاخانی جیسے ماہرینِ ریاضی پیدا کر سکیں، کی موجودگی پر ایرانی نظامِ تعلیم مبارک باد کا مستحق ہے۔

پاکستان میں برطانیہ نے اچھے تعلیمی ادارے چھوڑے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری مادرِ علمی پنجاب یونیورسٹی کے پرانے کیمپس کے شعبہءِ کیمیا میں یہ تختی نصب تھی: “کومپٹن افیکٹ کے تجربے کو یہاں 1929 میں دوبارہ دہرایا گیا تھا۔ ” 1923 کا یہ بنیادی تجربہ وہ تھا جس نے کوانٹم فزکس کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ بھی ہم نے کئی مایہ ناز سائنسدان پیش کیے۔ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام ایسے لیجنڈ ہیں جنہوں نے میری نسل کے طلباء کو متاثر کیا۔ 1960 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان تمام ترقی پذیر ممالک سے زیادہ ماہرِ تھیوریٹیکل فزکس پیدا کر رہا تھا۔ 1960 میں پاکستان اٹامک اینرجی کمیشن (پی اے ای سی) مکمل طور پر پاکستانی سائنسدانوں نے قائم کیا اور اس کا انتظام سنبھالا۔ اس وقت پاکستان نیوکلیئر ہتھیاروں کی طرف راغب نہیں تھا۔ پی اے ای سی کے سابق سربراہ ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی کو اس بات کا افسوس تھا۔ میری ان سے نیویارک میں 1979 میں ملاقات ہوئی تھی۔

جب انہیں میرے تعلیمی پس منظر کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے بتایا کہ کس طرح ‘بیوروکریٹس’ نے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کے حصول کی ان کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رکھی تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اہم موقع گنوا چکا تھا اور یہ کہ سینٹری فیوج ٹیکنولوجی ایک ‘فراڈ’ تھی۔ ان کا سوال تھا، ‘متھا (مکھن نکالنے کا عمل) ٹیکنولوجی ایٹم بم کس طرح بنا سکتی ہے؟’ مگر پھر بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں ایک نئی روح پھونک دی۔ سائنسدانوں کی اپنی پرعزم ٹیم کے ساتھ انہوں نے ایک نئی ٹیکنولوجی تیار کی جسے پہلے کہیں آزمایا نہیں کیا گیا تھا۔ نتیجہ سب کے سامنے تھا اور ان لیے باعثِ پیچ و تاب، جنہیں لگتا تھا کہ پاکستان ‘دھوکے بازی’ کر رہا ہے۔

سی آئی اے کے سابق سربراہ جارج ٹینیٹ (1997 تا 2004) اپنی کتاب ‘ایٹ دی سینٹر آف دی اسٹورم’ میں افسردگی سے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر خان نے “تقریباً اکیلے ہی پاکستان کو نیوکلیئر طاقت میں تبدیل کر دیا۔” پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا ایک تیسرا روٹ متعارف کروا ڈالا جبکہ اس سے پہلے رائج دو دیگر طریقے 1940 کی دہائی کے اوائل میں مین ہٹن پراجیکٹ میں تیار کیے گئے تھے۔
ہمارے پاس تکمیل تک نہ پہنچ پانے والے ٹیلنٹ کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ مجھے شفاعت حسین یاد ہیں جو میرے ایک سال سینیئر تھے اور انتہائی نایاب ذہانت اور معیار کے حامل تھے۔ ہم نے 1964 میں ایک ساتھ ٹوپولوجی کی تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ ایک ابتدائی بحث کے دوران ہمارے بہترین سپروائزر اور دوست ڈاکٹر ممتاز حسین قاضی، جو حال ہی میں ہارورڈ سے لوٹے تھے، نے ہمیں ایک غیر حل شدہ تھیورم سمجھایا۔

شفاعت نے اس دن سے کلاسوں میں آنا بند کر دیا اور دو ماہ کے اندر اندر تھیورم کا حل پیش کر کے ایک ریسرچ پیپر تحریر کر لیا جو کہ ریاضی کے ایک مشہور جریدے جرنل آف دی لندن میتھمیٹیکل سوسائٹی میں شائع ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر شفاعت کو رات میں کوئی خیال آجاتا اور انہیں کوئی کاغذ نا ملتا تو وہ اپنے بستر کی سفید چادر پر ہی لکھ ڈالتے، اور صبح اپنی والدہ سے کہتے کہ ان کی چادر نہ دھوئی جائے۔ انہوں نے پھر پی ایچ ڈی کی اور کینیڈا میں پوسٹ ڈاکٹورل کام شروع کیا۔ چند سال بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ تبلیغی بن چکے تھے۔ وہ کہا کرتے کہ انہیں ایک دو راہے کا سامنا تھا؛ کہ “خدا کا انتخاب کریں یا ریاضی کا۔” اس کے چند سال بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنے جنون، یعنی ریاضی کی سختی تلے دب چکے تھے۔ ان کی زندگی کے سفر میں میں اپنے معاشرے کی کہانی دیکھتا ہوں۔

1960 سے لے کر اب تک ہمارے تعلیمی ادارے پسماندگی کا شکار ہیں۔ 1960 کی دہائی کے وسط میں پوری دنیا کے تعلیمی اداروں میں سیاسی لہر دوڑ گئی تھی۔ دوسری جگہوں پر یہ کچھ سالوں میں دم توڑ گئی مگر پاکستان میں اس کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر سائنسی تعلیم ہوئی۔ اسلامی دنیا میں ہم کبھی سائنس میں سب سے آگے تھے، اب ہم سے یہ اعزاز چھن چکا ہے۔

ہمارا بنیادی تعلیمی نظام انگلش میڈیم اسکولوں، گزارے لائق اور خستہ حال سرکاری اسکولوں، اور مدرسوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔ ایچی سن کالج جیسے انگلش میڈیم اسکول سائنسدان اور انجینیئر پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیے جاتے۔ مرکزی دھارے کے سرکاری اسکولوں کا معیار شرمناک حد تک گرا ہوا ہے۔ مدرسے عمومی اور سائنسی تعلیم کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ اور ہم اس چیلنج سے فکری، معاشرتی اور سیاسی طور پر نمٹنے میں نااہل ثابت ہو رہے ہیں۔ مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سائنس اور زندگی پر سائنس کے اثرات ہی ہیں جو آج کے دور میں اقوام کو عزت دلواتے ہیں اور ان کی قوت ثابت ہوتے ہیں۔ ان خیالات کے ساتھ میں مریم مرزاخانی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ وہ مسلم دنیا میں موجود حالیہ تاریکی کے درمیان امید کی ایک کرن بن کر ابھریں۔

ریاض محمد خان
یہ مضمون ڈان اخبار میں 31 جولائی 2017 کو شائع ہوا۔

الغ بیگ کی رصد گاہیں

سمرقند میں الغ بیگ کی سولہویں صدی میں تعمیر کردہ تحقیقاتی رصد گاہ جو آسمانوں کی تسخیر کی بنیادیں فراہم کرتی ہے‘ اس حقیقت کی غماز ہے کہ تسخیر کائنات کیلئے دین کے علم کے ساتھ سائنسی علوم بھی ضروری ہیں۔ الغ بیگ کی رصدگاہ کی تفصیل سے پہلے چوک ریگستان کا ذکر ہو جائے۔ سمرقند کے حوالے سے ریگستان چوک کا نام بار بار آتا ہے۔ کہاں سمرقند اور کہاں ریگستان چوک۔ اس حوالے سے ذہن میں کوئی تصویر بھی نہیں ابھرتی۔ اول تو ریگستان میں سمت دریافت کرنا ہی مشکل ہے‘ پھر ریگستان میں چوک کیسا ہو گا۔ شرف مرزا اس بارے میں پہلے سے کچھ بتانے سے قصداً گریز کر رہے تھے۔

وہ یقینا ہمارے تجسس کو قائم رکھنا چاہتے تھے کہ ہم خود دیکھیں کہ یہ ہے کیا؟ سمرقند کے وسط میں یہ تاریخی چوک ہے‘ جس میں تین انتہائی خوبصورت‘ عالیشان اور پرشکوہ مدارس کی عمارتیں ہیں۔ چودھویں صدی میں یہ دور تیموری میں ایشیا کا سب سے بڑا بازار تھا‘ جہاں دنیا بھر کے تجارتی قافلے آتے تھے۔ اس کے چاروں طرف صناعوں اور کاریگروں کی دکانیں تھیں۔ پندرھویں صدی میں تیمور کے پوتے الغ بیگ نے اس چوک میں سب سے پہلا مدرسہ قائم کیا تھا۔ وہ اپنے زمانے کا مانا ہوا فلسفی‘ ریاضی دان‘ سائنس دان اور ماہر نجوم حکمران تھا اور خود اپنے مدرسے کا پہلا استاد تھا۔ مدرسے‘ ڈیوڑھی اور صحن کے گرد برآمدوں اور چھوٹے چھوٹے کمروں میں تحائف کی دکانیں ہیں۔

روغنی مٹی کے مجسمے جو یہاں کا تہذیبی عکس لئے ہوئے ہیں‘ سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ غرض قدیم سے لے کر جدید تزئین و آرائش کی مصنوعات دستیاب ہیں اور یہ سب ہاتھوں کی کاریگری ہے۔ جو وسطی ایشیا میں مسلمانوں کا تہذیبی ورثہ تھی‘ روسیوں نے ان کی خرید و فروخت کے ساتھ ان کے بنانے پر بھی پابندی لگا دی تھی تا کہ لوگ صرف ان کے مقاصد کی تکمیل کیلئے پیداواری عمل میں مصروف رہیں۔ لوگوں نے اپنا قیمتی‘ تہذیبی اور ثقافتی ورثہ جو تباہ ہونے سے بچ گیا تھا‘ تہہ خانوں میں چھپا دیا۔ آج وہ سارے قدیم شاہکار اور دستکاری کے نادر اور نایاب نمونے نکال نکال کر عجائب گھروں میں سجا دئیے گئے ہیں۔ سمرقند کے مضافات میں افراسیاب ، الغ بیگ کی تعمیر کردہ رصد گاہ ہے۔ رصدگاہ کی اونچائی 33 میٹر ہے۔

ستاروں کی حرکات‘ چاند گرہن اور فلکیاتی علوم کی تحقیق کا جو کام بھی الغ بیگ نے کیا‘ بعد میں آنے والے ریاضی دان اور ماہرین فلکیات اسے رد نہ کر سکے۔ الغ بیگ نے عناصر کائنات یعنی آگ‘ ہوا‘ مٹی اور پانی کے بارے میں بہت کام کیا۔ آزادی کے بعد اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی مدد سے ازبک قوم اپنے مایہ ناز اور قابل فخر آبائو اجداد پر ازبک‘ انگریزی اور روسی زبانوں میں کتابیں شائع کر رہی ہے۔ ان قابل فخر شخصیات میں امیر تیمور‘بابر اور الغ بیگ نمایاں ہیں۔     الغ بیگ کی حاکمیت سمرقند میں چالیس سال قائم رہی۔ اس کے بیٹے پر بھی حاکم بننے کا جنون سوار تھا۔ چند انتہا پسند لوگ الغ بیگ کی سائنسی تحقیق و جستجو‘ اس کے علم و فن اور اس سے متعلق سرگرمیوں کو غیر اسلامی سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے بیٹے کو باپ کے خلاف اس قدر بھڑکایا کہ اس نے اپنے باپ کے خون سے ہاتھ رنگ لئے‘ مگر صرف چھ ماہ بعد وہ خود بھی قتل ہو گیا۔

الغ بیگ کے شاگرد علی قشمی نے اپنے استاد کے علوم کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ازبکستان میں الغ بیگ کا نام نئی نسل میں بہت مقبول ہے۔ اسی طرح تیمور اور بابر بھی بہت عام نام ہیں۔ جس کے تین چار بیٹے ہوں‘ ان میں سے ایک نام ضرور الغ بیگ‘ بابر یا تیمور ہو گا۔ تاشقند میں زمین دوز ریلوے میٹرو کے دو اسٹیشن امیر تیمور اور الغ بیگ کے نام پر ہیں۔ دونوں سٹیشنز سے باہر نکل کر ان اکابرین کے نام پر شاندار پارک ہیں۔ میٹرو کے الغ بیگ سٹیشن سے اوپر جائیں تو سڑک کے اس پار الغ بیگ پارک کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔ اونچے اور گھنے درختوں سے تو پورا شہر ہی بھرا ہوا ہے۔

فریدہ حفیظ

ابن زُہر : ایک عظیم طبیب

ابن زُہر خلافت مغربی کا ایک بڑا مفکر اور بلند پایہ طبیب تھا۔ طبیب ہونے کے باعث وہ معقولات کا بدرجہ اتم قائل تھا۔ مابعد الطبیعاتی نکتہ نظر اور فلسفیانہ خیال آرائیوں کوناپسند کرتا تھا۔ اس لیے وہ ’قانون شیخ‘ پر دوسرے اطبا کی طرح مبالغہ آمیز عقیدت و پسندیدگی کا اظہار نہیں کرتا۔ ابن زہر ادویہ مفردہ و مرکبہ میں یدطولیٰ رکھتا تھا۔ اس نے اندلس اور دیگر ممالک میں کافی شہرت پائی۔ اطبا کو اس کی تصنیفات سے زیادہ شغف رہا۔ اس کے زمانے میں اس کے برابر فن طب کا ماہر اور کوئی نہیں تھا۔ امراض کی تشخیص اور ان کے علاج میں اس کوخاص دسترس حاصل تھی۔ اندلس کا مشہور قاضی، فلسفی اورطبیب ابن رشد اس کا دوست اوررفیق کار تھا۔ ان کے کہنے پر اس نے ’کتاب التیسیر‘ لکھی جوکہ ابن رشد کی کتاب ’الکلیات‘ کے متوازی معالجہ کی کتاب ثابت ہوئی۔

ابن رشد اس کی صداقت اور لیاقت کا دل سے قائل تھا اوراس نے اپنی کلیات میں اکثر جگہ اس کی تعریف کی ہے اور اس کو جالینوس کے بعد سب سے بڑا طبیب قرار دیا ہے۔ بہرحال وہ رازی کے بعد مسلمانوں کے عروج کے عہد میں جلیل القدر طبیب تھا۔ ایک رائے ہے کہ ابن زہر وہ پہلا محقق ہے جس نے ’’ہڈیوں میں احساس پایا جاتا ہے‘‘ کے مسئلے پربحث و تحقیق کی ۔ اپنی مایہ ناز تصنیف ’کتاب التیسیر‘ میں طبی اعمال اورسرجری پر بحث کی گئی ہے، اس میں وہ ہدایت کرتا ہے کہ طبیب کے لیے تجربہ مشعل راہ ہونا چاہیے نہ کہ قیاس محض۔

وہ دوائوں کی تیاری کی تفصیلات درج کرتا ہے اور نقرئی قنولہ (Canula) کے ذریعہ مریض کو غذا دینے کا طریقہ بیان کرتا ہے۔ مصلی التہاب نامور (ورم خلاف قلب) اور خراج منصفی کابیان نہایت وضاحت و خوبی سے دیتا ہے۔ ابن زہر خود اس خراج کا شکار ہوگیا تھا اوراپنی شکایات کی نہایت دلچسپ انداز میں توضیحات چھوڑی ہیں۔ دق و سل کے بیماروں کے لیے بکری کے دودھ کی توصیف کرتا ہے۔ نیز وہ سنگ گردہ اور فتح القصبہ کا علمی اسلوب بتاتا ہے۔ نزول الما کے عملی انقباض حدقہ انبساط حدقہ اور امراض چشم میں لفاح (ایٹروپین) کے استعمال کی تصریح درج کرتا ہے۔