پاکستان کے عظیم ایٹمی سائنسدان , ڈاکٹر اشفاق احمد

پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر اشفاق احمد کا نام اس وقت ملک بھر میں مشہور ہو گیا جب پاکستان نے 28 مئی 1998 ء کو ایٹمی دھماکے کئے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد اس وقت پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین تھے اور ان ہی کی سرپرستی میں دھماکے کئے گئے۔ ان ہی کی سرپرستی میں پاکستان کے ایٹمی بجلی، دفاع، زرعی پیداوار کے فروغ، کینسر کے علاج، ایٹمی توانائی ہسپتالوں و اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ڈاکٹر اشفاق احمد 1930 ء میں گورداسپور میں پیدا ہوئے، جالندھر سے ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ قیام پاکستان کے بعد فیصل آباد آ گئے پھر مزید تعلیم کے لئے لاہور آ نا پڑا۔ 1949ء پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فزکس میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ 1951 ء میں گورنمنٹ کالج سے ایم ایس سی کیا اور پھر 1952 ء میں اسی ادارے میں ہی بطور استاد طلبہ کی علمی پیاس بجھانے لگے۔

سائنس کے میدان میں مزید تعلیم کا شوق آپ کو کینیڈا لے گیا جہاں مانٹریال یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ آپ نے ڈنمارک اور فرانس کی ریسرچ لیبارٹریوں میں خدمات سرانجام دیں۔ آپ نے وہاں رہ کر سوچا کہ ان کے علم کی پاکستان کو ضرورت ہے ، اس لئے وطن لوٹ آئے اور 1960 ء میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے وابستہ ہو گئے۔ جب انڈیا نے پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکہ کیا تو آپ بے چین ہو گئے اور دن رات کی محنت سے اٹامک انرجی کمیشن کے کام میں جت گئے۔ جس طرح ڈاکٹر قدیر نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا اس طرح ڈاکٹر اشفاق احمد کا کردار بھی کسی طرح فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ آپ نے مختلف عہدوں پر 31 سال تک خدمات سرانجام دیں۔ 1991ء میں اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین بنے۔

آپ نے تحقیقاتی پرچوں کا بھی اجرا کیا۔ آپ عالمی نیوکلیائی توانائی باڈی کے ممبر بھی تھے۔ پاکستان کے فوجی و سول ایٹمی پروگرام کو نئی بلندیوں تک پہنچانے والے ڈاکٹر اشفاق احمد بلا شبہ ہمارے قومی ہیروتھے ۔ پاکستان کو جو قابل اعتماد جوہری صلاحیت حاصل ہے وہ مرحوم ڈاکٹر اشفاق احمد کی رہنمائی میں ملکی ایٹمی سائنسدانوں، انجینئرز، ٹیکنیشنز نے حاصل کی۔ پاکستان کا دفاع نا قابل تسخیر ہے اور پاکستان نے جوہری میدان میں دنیا میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ 1991 سے 2001 تک چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن رہے۔

بطور چیئرمین آپ نے بین الاقوامی ادارے سی ای آر این کے ساتھ روابط کو استوار کیا۔ 1988 سے 1991 تک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سینئر ممبر رہے۔ 1976 سے 1988 تک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔ 1971 سے 1975 تک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیو کلیئر سائنسزاینڈ ٹیکنالوجی پنزٹیک کے ڈائریکٹر اور اٹامک انرجی سنٹر لاہور کے 1969 سے 1971 تک انچارج رہے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد پاکستان کے ایٹمی پاور پروگراموں ، زراعت اور صحت کے شعبے میں ایٹمی توانائی کے استعمال اور پاکستان کے متعدد کینسر سنٹروں میں ڈائریکٹر رہے۔

پاکستان کے سویلین نیو کلیئر پاور پلانٹ چشمہ کے قیام میں ان کا کلیدی رول رہا اور پاکستان نیو کلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور نیشنل سنٹر فار سوکس کے سربراہ کی حیثیت سے قوم کی خدمت کرتے رہے۔ ان کی کوششوں سے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک ریسرچ ادارہ بھی قائم کیا گیا۔ آپ وزیر اعظم کے مشیر سٹریٹجک اینڈ سائنٹفک پروگرام بھی رہے ۔ انڈیا نے جب ایٹمی دھماکے کئے تو ڈاکٹر اشفاق احمد اس وقت کینیڈا میں تھے ۔ آپ اپنا دورہ مختصر کر کے فوراً پاکستان پہنچے اور اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملے۔ مختلف میٹنگز کے بعد آپ نے وزیر اعظم کو اعتماد دلایا کہ پاکستان دھماکے کرنے کی پوزیشن میں ہے اور ذاتی طور پر دھماکے کرنے کی تیاریوں میں جت گئے۔

آپ کی اور عملے کی تگ و دو کے بعد چاغی کے مقام پر پاکستان دھماکے کرنے میں کامیاب ہوا ۔ اس طرح پاکستان نے دشمن کو خبردار کیا کہ وہ قوم کو کمزور نہ سمجھے، ہم بھی ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ 2005 ء میں آزاد کشمیر میں زلزلہ آیا تو حکومت پاکستان نے زلزلے کے حوالے سے ڈاکٹر اشفاق احمد کی تکنیکی ہدایات کی روشنی میں اسلام آباد میں ایک ادارہ بنایا جس سے زلزلے کے حوالے سے اقدامات کرنے میں کافی مدد ملی۔ ڈاکٹر اشفاق احمد نے کچھ کتابیں بھی لکھیں جن میں ’’واٹر اینڈ نیو ٹیکنالوجیز‘‘ کافی اہم ہے۔ آپ نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھی کافی ریسرچ ورک کیا۔ پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے 10 سال تک چیئرمین رہنے والے ڈاکٹر اشفاق احمد نمونیے کے مرض میں مبتلا ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد پی اے ای سی ہسپتال میں چند ہفتوں سے زیر علاج تھے ۔ ڈاکٹروں کی انتھک کوشش کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکے اور 18 جنوری 2018ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی عمر 87 سال تھی۔ ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف پر انہیں نشان امتیاز ، ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ۔

طیب رضا عابدی

Advertisements

سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہم کہاں کھڑے ہیں : ڈاکٹر عبدالقدیر خان

 مغربی اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں ایک ہی چیز مشترک ہے، ایمانداری، محنت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت۔ یہ وہی اصول ہیں جن کی تعلیم اسلام ہمیں دیتا ہے۔ کلام مجید میں سورۃ طہٰ آیت 114 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’دعا کرو کہ اے میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے‘‘۔ اگرچہ یہ بہت ہی مختصر پیغام ہے مگر اس کی وسعت ہمارے قیاس سے کہیں زیادہ ہے اور قرآن کی علم و تعلیم پر احاطہ کی وسعت ظاہر کرتا ہے اور ہمارے پیارے نبیؐ نے خود فرمایا ہے کہ اے رب العزّت مجھے تمام چیزوں کا مکمل علم عطا فرما۔ یہاں علم کا مطلب صرف معلومات نہیں ہے بلکہ دنیا کی مادی حیثیت کی حقیقت و سچائی کو بھی جاننا ہے۔ دنیا میں اس وقت جس قدر معلومات ہیں ان کے پیچھے ہزاروں لوگوں کی محنت و مشقت، جستجو ہے۔ 

لاتعداد سائنسدان، انجینئر (حقیقی معنوں میں) گمنام رہ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ عصر جدید میں آپ کو انسان کی سخت جستجو، محنت نظر آتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرے۔ ارسطو نے کہا تھا کہ ’’تمام بنی نوع انسان کی قدرتی فطرت ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کرے‘‘۔ اور ہمارے پیارے نبی ؐ نے فرمایا کہ’’ تم کو اگر علم حاصل کرنے کے لئے چین (یعنی دور دراز ملک) بھی جانا پڑے تو جائو‘‘۔ اس پیغام میں رسول اللہ ؐنے یہ بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی کہ تعلیم و علم کے حصول میں نہ تو لِسّانی اور نہ ہی مذہبی اور نہ ہی ثقافتی رکاوٹوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ علم و تعلیم اور چیزوں کو جاننے اور سمجھنے کا علم اسلام کا اہم اور ناقابل علیحدگی جز ہے۔

جب مسلمان اپنے عروج پر تھے اس وقت بھی انھوں نے بیت الحکمہ جات قائم کئے تھے اور یہاں پر اعلیٰ تعلیم دی جاتی تھی۔ اس وقت ستارے اور فلک بینی تجربہ گاہیں قائم کیں اور اعلیٰ ریسرچ اسکالرز جمع کئے تھے ان میں فلسفی، سائنٹسٹ، اور انجینئرز وغیرہ پوری دنیا سے جمع کئے گئے تھے۔ اس زمانہ کے چند معروف نام آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ الفارابی، ابن سینا، ابن رُشد، خوارزمی، راضی، مسعودی، وفا، البیرونی، طوسی، نصیرالدین، ابن نفیس، ابن باجہ، ابن طفیل، الکندی وغیرہ نے تاریخ میں اپنے نام اور شاندار کام چھوڑے ہیں ۔ اس وقت پورے یورپ میں ان کی دھوم تھی اور ان کے کاموں کی تقلید کی جاتی تھی اور آج بھی ان کے کاموں کا ریکارڈ موجود ہے۔

مسلمان ساتویں صدی عیسوی سے گیارویں صدی عیسوی تک عروج پر تھے اس کے بعد ان کی تمام توجہ محلات اورباغات پر مبذول ہو گئی اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ آہستہ آہستہ ہم نے اسپین، مشرق وسطیٰ، سینٹرل ایشیا، مشرق بعید، افریقہ سب حکومتیں کھو دیں۔ اسپین میں الحمرا محل آج بھی عجوبہ ہے اور دنیا کا سب سے زیادہ سیاحوں کی آمد کا مرکز ہے۔ عجوبہ تو قائم ہے مگر عجوبہ پیدا کرنے والے ذلیل و خوار اور شکست خوردہ ہو کر گمنام ہو گئے۔ سورۃ جاثیہ، آیت 13 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ’’(اے محمدؐ!) مومنوں سے کہدو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو اپنے حکم سے تمھارے کام میں لگا دیا ہے جو لوگ غور و خوض کرتے ہیں ان کے لئے اس میں قدرت کی نشانیاں ہیں‘‘۔

اتنے اعلیٰ ماضی اور ورثے کے وارث ہونے کے باوجود مسلمان آجکل انتہائی پسماندگی کا شکار ہیں۔ ہم ہر ٹیکنالوجی، سائنس، علم کے لئے مغرب، جاپان، چین کے محتاج ہیں۔ ہم روزمرّہ کی معمولی سے معمولی چیز نہیں بنا سکتے۔ ہم ذرا اپنی حالت زار پر غور کریں۔ ہم ایٹمی اور میزائل قوت ہیں مگر قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ہماری درآمدات ہماری برآمدات کے 50 فیصد سے بھی کم ہیں۔ ایک زرعی ملک ہوکر ہم ٹماٹر، پیاز، لہسن، ادرک درآمد کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے لئے (بلکہ ہمارے حکمرانوں کے لئے بھی) قابل مذمت اور قابل شرم مقام ہے۔

آج کل مغرب، جاپان اور چین ترقی کی رفتار اور سمت طے کر رہے ہیں اور ہم یعنی ہمارے حکمراں ہر وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ وہ کونسی اشیاء ہیں جن کی خریداری میں آمدنی کے امکانات زیادہ ہیں۔ خاص طور پر ہتھیاروں کی خریداری پر اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں گویا یہ حالت جنگ میں ہیں اور چند سال بعد وہ ہتھیار فرسودہ ہو جاتے ہیں تو نئے خریدنے میں مہارت قابل دید ہے۔ میں نے ابھی ذکر کیا تھا کہ ہم اتنے نااہل ہیں کہ زرعی ملک ہوکر ہم ٹماٹر، پیاز، لہسن، ادرک منگواتے ہیں۔ اس سے بھی بڑی برائی جس سے عوام واقف نہیں ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اربوں روپیہ کی دالیں درآمد کرتے ہیں۔

آپ زرا ان نااہل اور حکمرانوں کو دیکھئے کہ صبح سے شام تک ڈینگیں مارتے ہیں کہ جیسے اس پسماندہ ملک کو ٹاپ ٹین میں لاکھڑا کیا ہے۔ قرض لے لے کر قوم کو تباہ کر دیا ہے اور ملک کو بیچ دیا ہے۔ آج سے 40 سال پیشتر چین ہمارے مقالے میں بے حد غریب تھا آج وہ دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت ہے وجہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی میں ترقی، ایمانداری، سخت محنت، رشوت خوری اور جرائم کا خاتمہ ہے۔ ہمارے یہاں بدعنوانوں کی بھرمار ہے۔ ان خراب حالات کے ہم خود ذمّہ دار ہیں دوسروں کو الزام دینا غلط ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان
 

پاکستانی سائنسدان کے لیے جرمن ایوارڈ

جرمن وفاقی وزارت برائے تعلیم و تحقیق کی جانب سے 25 بین الاقوامی نوجوان سائنسدانوں کو ’گرین ٹیلنٹ ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ ان میں پاکستانی سائنسدان کاشف رسول بھی شامل ہیں۔  ستائیس اکتوبر کو برلن میں ہونے والی ایک تقریب میں گرین ٹیلنٹ ایوارڈ 2017 وصول کرنے والے پچیس سائنسدانوں میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کاشف رسول بھی شامل تھے۔ 33 سالہ ڈاکٹر کاشف کی تحقیق پائیدار اور سستے طریقے کے ذریعے پینے کے پانی کو آلودگی سے پاک کرنے کے عمل پر مبنی ہے۔ 

’گرین ٹیلنٹس- پائیدار ترقی میں اعلی صلاحیتوں کے بین الاقوامی فورم‘ کی تقریب میں 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے 25 نوجوان سائنسدانوں کو اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 9 ویں گرین ٹیلنٹ مقابلے میں مجموعی طور پر 95 سے زیادہ ممالک سے 602 سائنسدانوں کے مابین مقابلہ ہوا۔ ’گرین ٹیلنٹ’ ایوارڈ کے فاتح ممالک کی فہرست میں پہلی مرتبہ مصر، فیجی، عراق، سلواکیہ، سویڈن اور یوگینڈا کے نوجوان سائنس دان بھی شامل ہیں۔ 

اس مرتبہ جیوری میں شامل اعلیٰ درجے کے تحقیق دانوں نے ’گرین‘ یعنی صاف توانائی پر مبنی تحقیق کرنے والے نوجوان سائنسدانوں کا انتخاب کیا، جو تعلیم و تحقیق کے شعبے میں کام کر کے عالمی ماحولیاتی مسائل کا حل دریافت کرنے کی کوشش میں ہیں۔ پاکستانی نوجوان سائنسدان ڈاکٹر کاشف رسول کی تحقیق سستے اور پائیدار طریقے کے ذریعے پانی کو آلودگی سے پاک کرنے کے عمل پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر کاشف رسول خلیجی ملک قطر کے ماحولیات و توانائی کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں واٹر سائنس اور انجینئرنگ کے شعبہ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے جڑے مسائل میں ایک اہم مسئلہ ’واٹر سکیورٹی‘ کا بھی ہے۔ اس تناظر میں عالمی سطح پر پائیدار واٹر مینیجمنٹ میں تازہ پانی کے زیادہ استعمال کے بجائے صنعتی اور روز مرہ کی زندگی میں استعمال کیے جانے والے پانی کو پینے کے لیے دوبارہ کارآمد بنانے کے عمل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کاشف کی تحقیق کی توجہ کا مرکز بھی قابل تجدید بائیو توانائی کے فروغ کے ساتھ آلودہ پانی سے مضر صحت اجزاء کا خاتمہ ہے۔

جرمن کونسل برائے پائیدار ترقی کے نمائندے فاکول لیخہارٹ نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی سائنسی تعاون کے لیے گرین طلباء پروگرام کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ رواں سال کے ’25 گرین محققین‘ کی سائنسی مہارتوں اور غیر متزلزل حوصلوں سے بہت متاثر ہوئے ہیں، ’’عالمی سطح پر موجود چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ان سائنسدانوں کی تحقیق اہم کردار ادا کرے گی اور مجھے خوشی ہے کہ وہ جرمن تحقیقاتی نظام کا حصہ بن سکیں گے۔‘‘

گرین ٹیلنٹ ایوارڈز حاصل کرنے والے نوجوان سائنسدانوں کو دو ہفتوں کے لیے جرمنی بھی مدعو کیا گیا تاکہ وہ ’سائنس فورم‘ میں شرکت کر سکیں۔ اس دوران انہوں نے جرمنی میں پائیدار تحقیق پر کام کرنے والے ریسرچ سینٹرز کا دورہ بھی کیا۔ سائنس فورم کی ورکشاپس اور دیگر تقاریب کے موضوعات اس سال کے موٹو ’پائیدار پیداوار اور استعمال‘ کے حوالے سے چنے گئے تھے۔ نوجوان محققین نے سائنس فورم کے دوران جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں۔

ان محققین نے معروف ماہرین کے ساتھ خصوصی ملاقاتوں میں خیالات کا تبادلہ بھی کیا۔ یہ سائنس فورم دراصل نوجوان سائنسدانوں کے لیے جرمنی کے جدید نظام سے متعارف ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ممکنہ تعاون کے دیگر مواقع دریافت کرنے کے لیے بھی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ گرین ٹیلنٹ ایوارڈ کے ذریعے ان پچیس سائنسدانوں کی تحقیق کو حتمی مرحلے تک پہنچانے میں تعاون کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سن 2018 میں ان کو اپنی پسند کے جرمن ادارے میں تحقیق جاری رکھنے کی دعوت بھی دی جائے گی۔
 

مسلم انجینئر نے ’’ذہین ٹی شرٹ‘‘ ایجاد کر لی

کینیڈا کی یونیورسٹی آف لاوال میں پروفیسر یونس مصدق کی سربراہی میں ماہرین نے ایک ایسی ذہین ٹی شرٹ ایجاد کر لی ہے جو نہ صرف اپنے پہننے والے کے سانس لینے کی رفتار پر نظر رکھتی ہے بلکہ اسے متعدد بار دھویا بھی جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد سانس کی رفتار کے ذریعے تنفسی امراض (سانس کی بیماریوں) پر نظر رکھنا اور دمہ، بے خوابی اور سانس کے مختلف امراض کی تشخیص کرنا ہے۔ تحقیقی جریدے ’’سینسرز‘‘ کے تازہ شمارے میں اس منفرد ٹی شرٹ کی شائع شدہ تفصیلات کے مطابق اس میں سینے کے مقام پر ایک ننھا، نرم اور لچک دار قسم کا انٹینا سلا ہوا ہے جو ایک کھوکھلے بصری ریشے (آپٹیکل فائبر) پر مشتمل ہے جس کی اندرونی سطح پر چاندی کی پرت چڑھائی گئی ہے جبکہ بیرونی ماحول سے حفاظت کے لیے اس پر ایک مضبوط لیکن لچک دار پولیمر کی بیرونی پرت موجود ہے۔

یہ سینسر بیک وقت دو کام کرتا ہے: یہ سینے کے پھیلنے اور سکڑنے کی بنیاد پر سانس لینے کی رفتار نوٹ کرتا ہے جبکہ نوٹ کی گئی ان پیمائشوں کو ساتھ ہی ساتھ وائرلیس سگنلوں کی شکل میں نشر بھی کرتا رہتا ہے جو قریب رکھے ہوئے کمپیوٹر یا پھر صارف کے اسمارٹ فون پر وصول کیے جاسکتے ہیں۔ سانس کی رفتار پر مسلسل رکھنے والے دوسرے طریقوں اور ماضی میں بنائی گئی دوسری اسمارٹ ٹی شرٹس کے برخلاف اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ میں ایسا کوئی تار، برقیرہ یا سینسر نہیں جو براہِ راست انسانی جسم کو چھوتا ہو جبکہ یہ اتنی آرام دہ ہے کہ اسے پہننے والے کو کسی خاص انداز میں اٹھنے بیٹھنے کی پابندی کرنا نہیں ہوتی۔ پروفیسر یونس کہتے ہیں، ’’ہمارے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ (ٹی شرٹ) اپنے پہننے والے کی فطری حرکات میں رکاوٹ نہیں ڈالتی اور اسے پہن کر کھڑے ہونے، اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے پھرنے جیسے معمولات بھی اسی طرح انجام دیئے جا سکتے ہیں جیسے کوئی عام سی ٹی شرٹ پہنی ہو۔‘‘

تجربات کے دوارن اس ٹی شرٹ کو 20 سے زائد مرتبہ دھویا گیا لیکن پانی اور واشنگ پاؤڈر سے بہت دیر تک سامنا ہونے کے باوجود بھی اس ٹی شرٹ کو کچھ نہیں ہوا اور یہ پہلے کی طرح کام کرتی رہی۔ اب یہ ماہرین کسی ایسے ادارے کی تلاش میں ہیں جو اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ کو تجارتی پیمانے پر تیار کرکے طبّی استعمال کےلیے فروخت کر سکے۔ پروفیسر یونس مصدق کا تعلق لاوال یونیورسٹی، کیوبیک کی فیکلٹی آف سائنس اینڈ انجینئرنگ کے سینٹر فار آپٹکس، فوٹونکس اینڈ لیزرز سے ہے جبکہ وہ ’’کینیڈا ایکسی لینس ریسرچ چیئر اِن فوٹونک انوویشنز‘‘ کا اعلی اعزاز بھی رکھتے ہیں۔

پاکستان : مصنوعی سیارہ خلاء میں بھیجنے والا پہلا اسلامی ملک

پاکستان نے اپنا پہلا مصنوعی سیارہ بدر اول خلا میں 16 جولائی 1990ء کو چھوڑا۔ اس اعتبار سے پاکستان خلاء میں سیارہ چھوڑنے والا پہلا اسلامی ملک بن گیا۔ یہ سیارہ (بدر اول) مکمل طور پر پاکستانی انجنیئروں اور سائنس دانوں نے تیار کیا ہے اور اس کے تمام نظام ذیلی نظام اور مکمل پرزے تک سپارکو کے انجینئروں نے بنائے ہیں یہ دوست ملک چین کے ژی چن کے خلائی مرکز رائٹ لانگ مارچ ٹوائی لارج وہیکل کے ذریعہ مدار میں بھیجا گیا۔ بدر اول کی شکل دائرہ نما ہے اس کی جسامت ساڑھے تین مکعب فٹ ہے۔ اس کے 26 رخ ہیں وزن پچاس کلوگرام ہے اس کا جدید الیکٹرانک نظام زمینی مرکز سے معلومات حاصل کرنے‘ ذخیرہ کرنے اور پھر آگے فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شمسی توانائی سے چلنے والا یہ مصنوعی سیارہ دو فٹ سے ایک ہزار کلومیٹر کی بلندی سے ہر 98 منٹ میں زمین کا چکر لگاتا رہا۔ یہ چوبیس گھنٹوں میں چھ مرتبہ پاکستانی افق سے بھی گزرتا رہا جبکہ یہ دنیا کے گرد اسی مدت کے دوان پندرہ چکر لگاتا ہے اس پر 35 ملین روپے لاگت آئی۔ کراچی اور لاہور میں دو زمینی مراکز بھی قائم کئے گئے جو اسے سگنل دینے کے لیے مخصوص کئے گئے۔ ان میں پہلا سگنل ڈیجیٹل کمیونی کیشن کا تجربہ تھا جس میں کراچی مرکز سے سگنل دیا گیا اور جسے مصنوعی سیارے نے سٹور کر کے لاہور مرکز کو فراہم کیا اس کا دوسرا تجربہ رئیل ٹائم کمیونی کیشن کا تھا۔ جس میں لاہور اور کراچی کے مرکز کے درمیان سیارے کی معرفت رابطہ قائم کیا گیا۔
ژی چنگ جہاں سے پاکستان نے اپنا پہلا مصنوعی سیارہ بدر اول چھوڑا بیجنگ سے دو ہزار میل کے فاصلے پر جنوب کی جانب واقع ہے۔ سپارکو کے چیئرمین ڈاکٹر شفیع احمد نے 19 جولائی 1990ء کو بتایا کہ اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بدر دوم بنانے کی اجازت دے دی۔ بدر اول کی تیاری کے منصوبے میں تیس سائنس دانوں نے کام کیا۔ اسے چھوڑنے کا مقصد مستقبل میں مواصلاتی سیارے چھوڑنے کے لیے درکار معلومات اور تجربہ حاصل کرنا تھا۔ 
اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بدر اول کے کامیابی سے چھوڑے جانے پر اپنے پیغامات میں کہا کہ : پاکستان کے پہلے مواصلاتی سیارے کو زمین کے مدار میں پہنچانے کے نتیجے میں پاکستان بالائی خلا کو پرامن مقاصد کیلئے استعمال کرے گا۔ اپنے پیغام میں کہا کہ یہ بات پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے کہ پاکستان ایک مواصلاتی سیارہ مقامی طور پر ڈیزائن کرنے اور تیار کرنے کا اہل ہو گیا ہے اس تاریخی کامیابی سے اپنے سائنس دانوں اور انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کی اہلیت کے بارے میں ہماری توقعات میں بلاشبہ اضافہ ہوا ہے۔ 
زاہد حسین انجم
(انسائیکلوپیڈیا ،پاکستان میں اوّل اوّل سے انتخاب)
 

’موجودہ امریکی حالات میں پاکستانی ڈاکٹر کو ایوارڈ ملنا فخر کی بات ہے‘

حیاتیاتی ایجنٹس کے خلاف طبی تحقیق میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے پر نیٹو کا سائٹیفک اچیومنٹ کا ایوارڈ حاصل کرنے والے پاکستان سے تعلق رکھنے والے امریکی ڈاکٹر راشد چھوٹانی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک پاکستانی مسلمان کو یہ ایوارڈ ملنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس ایوارڈ کا نام انسدادِ دہشت گردی سے جڑا ہوا ہے اور ایک ایسے وقت میں جب امریکہ میں ہر مسلمان کو شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ان کو یہ ایوارڈ ملنا ایک غیر معمولی بات ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے کام کرنے والی نیٹو کی تنظیم ایس ٹی او نے ڈاکٹر چھوٹانی کو سنہ 2016 کا سائٹیفک اچیومنٹ کا ایوارڈ قدرتی اور انسان کی بنائی ہوئی وبائی بیماریوں کی روک تھام کے سلسلے میں کی جانے والی گراں قدر تحقیق کے اعتراف میں دیا ہے۔ انفیکشن سے متاثر کرنے والی بیماریوں کی تشخیص اور جانچ کے ماہر ڈاکٹر راشد نے واشنگٹن سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ امریکہ کے کیمیکل اور بائیولاجیکل ڈیفنس پروگرام کے چیف سائنٹیسٹ کی حیثیت اور نیٹو کے ساتھ مختلف ادوار میں وبائی بیماریوں کی جلد تشخیص اور ان کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مناسب ویکسینز بنانے سے متعلق کام کر چکے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں بھی ڈاکٹر راشد چھوٹانی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں ارلی وارننگ سسٹم اور ایپی ڈیمک سیل کے انفرااسٹرکچر میں بہتری کے ساتھ ساتھ وبائی امراض کے ماہرین کی رہنمائی بھی کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر راشد کے مطابق ان کی ہمیشہ سے خواہش اور کوشش رہی ہے کہ پاکستان کے لیے ہر ممکن کام کیا جائے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے پاکستان میں کانگو وائرس کی جلد تشخیص اور علاج کی آگاہی کا کافی کام کیا ہے۔ اس وائرس سے متاثر 80 فیصد مریض پاکستان میں ہلاک ہو جاتے تھے، ہم نے مقامی طبی عملے کو اس کی جلد تشخیص کی تربیت دی اور جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شرح اموات اسی فیصد سے کم ہو کر بیس فیصد رہ گئی۔’
اطہر کاظمی
بی بی سی اردو لندن

پاکستان، سائنس کی دنیا کا اہم ملک ؟

پاکستان جلد ہی سائنسی دنیا کا ایک اہم ملک بن جائے گا۔ چین کے ساتھ اس حوالے سے پروجیکٹ کا اہتمام ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ ’’سائنس آفاقی حقائق کی تلاش کا نام ہے‘‘۔ تنظیم برائے اقتصادی تعاون (ای سی او) ایران ترکی اور پاکستان سمیت دیگر رکن ممالک میں اقتصادی، ثقافتی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے میں کوشاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان کے سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن نے جامعہ کراچی میں 4 روزہ 14 ویں یوریشیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے خطاب کرنے والوں میں پروفیسر ڈاکٹر منظور سومرو، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، نادرہ پنجوانی، حسین ابراہیم اور عزیز جمال شامل تھے۔
محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے زیر اہتمام بزنس اینڈ مینجمنٹ کے موضوع پر عالمی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر نے کہا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ باصلاحیت افراد کے ملک میں موجود ہونے کے باوجود ہم ان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’سیاستدانوں کے مقابلے میں ماہرین تعلیم دانشور ملک کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں‘‘۔ اسد عمر ایک سیاستدان ہیں تحریک انصاف سے ان کا تعلق ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے منشور میں تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے کیا کیا منصوبے میں شامل ہیں؟ پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت تقریباً ساڑھے تین سال سے برسر اقتدار ہے، اس نے پختونخوا کے تعلیمی شعبے خاص طور پر سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کیا کیا اقدامات کیے ہیں؟ اس حوالے سے پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کی صورتحال پر نظر ڈالنے سے پہلے ہم 69 سال کے دوران اقتدار میں رہنے والوں اور ملک کے سماجی ڈھانچے پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان کو وجود میں آئے اب 69 سال ہو رہے ہیں، اس دوران ملک میں تقریباً آٹھ جمہوری اور چار فوجی حکومتیں قائم ہوئیں، لیکن ان حکومتوں کے دوران تعلیمی میدان میں سناٹا رہا، خاص طور پر سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں الو بولتے رہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں اقتدار ہمیشہ ایسے حکمرانوں کے ہاتھوں میں رہا، جن کو نہ تعلیم کے شعبے میں ترقی سے کوئی دلچسپی رہی نہ سائنس و ٹیکنالوجی کی اہمیت اور ضرورت سے یہ احمق واقف تھے۔ اس کی دوسری وجہ ہمارے ملک میں قبائلی اور جاگیردارانہ نظام ہے جس میں حصول تعلیم گناہ کبیرہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
وڈیرے دیہی علاقوں میں اسکولوں کو مویشی خانوں کی طرح استعمال کرتے ہیں اور شہری علاقوں میں غریب کے بچوں کے لیے سرکاری اسکولوں کے نام پر جو کالے پیلے اسکول قائم ہیں وہاں بچے علم حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ شرارتیں کرنے اور کھیل کود کے لیے جاتے ہیں۔ ان اسکولوں کا نصاب ازکار رفتہ ہوتا ہے اور اساتذہ کی اکثریت اپنی ذمے داریوں سے نابلد ہوتی ہے۔ اس ماحول میں منافع کمانے کے ماہرین نے انگلش اسکولوں کے نام پر ایک ایسی کاٹیج انڈسٹری کا آغاز کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے گلی محلوں میں پھیل گئی اور لوئر مڈل کلاس سے جو ان انگلش اسکولوں کی فیس برداشت کرسکتا ہے وہ دھڑا دھڑ ان پرائیویٹ انگلش اسکولوں میں اپنے بچوں کو بھیجنے لگا۔
اس کاٹیج انڈسٹری میں اگرچہ فیس اور دوسرے متعلقات ہی لوئر مڈل کلاس کی کھال کھینچ لینے کے لیے کافی ہوتی ہے، اس لوٹ مار سے غیر مطمئن مالکان نے اپنے اپنے اسکولوں کے نام پر اسٹیشنری، کتابوں اور یونیفارم کی فروخت کا کاروبار بھی اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور بچوں پر پابندی لگا دی گئی کہ وہ کتابیں، کاپیاں وغیرہ اسکول سے ہی خریدیں یا ان بک اسٹالوں سے جو ان کی مہیا کردہ اسٹیشنری وغیرہ فروخت کرتے ہیں۔ یوں یہ کاٹیج انڈسٹری ایسا منافع بخش کاروبار بن گئی کہ چھوٹے سرمایہ کار اس میں دھڑا دھڑ سرمایہ لگانے لگے اور لاکھوں کمانے لگے۔
ہم جس طبقاتی نظام میں زندہ ہیں اس میں تعلیم کا شعبہ بھی سخت طبقاتی تقسیم میں جکڑا ہوا ہے۔ ہم نے دیہی علاقوں میں تعلیمی اداروں کی زبوں حالی اور شہری علاقوں میں سرکاری اسکولوں اور پرائیویٹ اسکولوں کی کاٹیج انڈسٹری کا سرسری جائزہ پیش کیا ہے، جس کے پس منظر میں ہم اپنے تعلیمی نظام کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عطا الرحمن نے درست کہا ہے کہ ’’پاکستان جلد ہی سائنسی دنیا کا ایک اہم ملک بن جائے گا۔‘‘ تحریک انصاف کے اسد عمر نے کہا کہ ہمارے ملک میں باصلاحیت افراد موجود ہیں لیکن ان کی صلاحیتوں سے کام نہیں لیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے مجھے عید گاہوں میں نماز عیدین کے مناظر یاد آرہے ہیں۔ خالد علیگ تقریباً نصف صدی تک میرے پڑوسی رہے، ہم جب عیدین کے موقع پر عیدگاہ جاتے تو عید گاہوں کے منتظمین رومال ہلاہلا کر ’’اہم لوگوں‘‘ کو صف اول میں بلاتے دکھائی دیتے تھے اور ہم اور خالد علیگ آخری صفوں میں بیٹھے رہتے تھے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ مختلف شعبوں میں ترقی کے اہداف طے کرنا حکومتوں کا کام ہے اور ہماری اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقے کی ہمیشہ پہلی ترجیح کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنا رہی ہے یا اپنے اوپر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کا ’’دفاع‘‘ رہا ہے۔ آج کے سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو آپ کو دکھائی دے گا کہ حکومت کی ساری مشینری کی پہلی ترجیح وزیراعظم کے خاندان پر لگائے گئے پاناما لیکس اسکینڈل کا دفاع نظر آتا ہے۔ جب صورتحال یہ ہو تو پھر سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبوں پر کون توجہ دے سکتا ہے۔ لیکن ہماری دعا ہے کہ ڈاکٹر عطا الرحمن کا یہ خیال درست ثابت ہو کہ ’’پاکستان جلد ہی سائنس کی دنیا کا ایک اہم ملک بن جائے گا‘‘۔
ظہیر اختر بیدری

پاکستان کی 4 جدید دفاعی ایجادات ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گئیں

دفاعی مصنوعات کے تحقیقی ادارے GIDS کی 4 جدید دفاعی ایجادات نے غیرملکی مندوبین اور دفاعی ماہرین کوحیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ یہ ادارہ پاکستان کے دفاع اور سرحدوں کی نگرانی کے نظام سی فورکا بھی خالق ہے۔ اسی ادارے نے ڈرون ٹیکنالوجی کو جنگی مقاصد کے استعمال کے قابل بنایا ہے۔ ادارے نے آئیڈیاز 2016 نمائش میں اپنے 4 نئے پراڈکٹس پہلی مرتبہ دنیا کے سامنے پیش کیے جن کے ذریعے افواج پاکستان کی دشمن پرکاری ضرب لگانے کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور غیرملکی خریداروں اور ماہرین کی جانب سے اس ٹیکنالوجی میں گہری دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ اسد کمال نے ایکسپریس کو بتایا کہ GIDS نے بیک وقت 4 گولے داغنے والی ملٹی بیرل بکتر شکن توپ تیار کی ہے اس توپ کو ایک بریف کیس جتنے جدید فائرنگ سسٹم سے منسلک کیا گیا ہے۔
جس میں توپ پر لگے ہوئے طاقتور کیمرے کے ذریعے اندھیرے میں بھی دشمن کی بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے 90 میٹرکے فاصلے سے کنٹرول پینل کے ذریعے ایک کے بعد ایک 4 گولے داغے جا سکتے ہیں جس سے دشمن کی متعدد بکتر بندگاڑیوں کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔ عام توپ کے برعکس اس توپ کو چلانے والے (فائرر) دشمن کے جوابی وار سے محفوظ رہتے ہیں۔ دوسری اہم پیش رفت اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل ویپن سسٹم ہے جس کے ذریعے 3000 میٹر تک کے فاصلے پر دشمن کے ٹینکوں کو نیست و نابود کیا جاسکتا ہے۔
تحقیقی ادارے GIDS کے ماہرین نے اس 40 کلو گرام وزنی میزائل سسٹم کا وزن 20 کلو گرام تک کم کردیا ہے۔ ٹینکوں کی جنگ میں میزائل داغنے کے بعد ٹینکوں کے جوابی فائر کے خطرے کی وجہ سے اپنی پوزیشن تیزی سے تبدیل کرنا ہوتی ہے اور زیادہ وزن کیے ویپن سسٹم کو تیزی سے حرکت دینے میں دشواری دفاعی صلاحیت کے آڑے آتی ہے اس لیے ادارے کے ماہرین نے اس سسٹم کو کارگر بنانے کے ساتھ اس حد تک ہلکا کردیا ہے کہ اب اس سسٹم کو 2 افراد تیزی کے ساتھ ایک سے دوسری جگہ منتقل کرسکتے ہیں۔ تحقیقی ادارے GIDS کی ایک اور اہم پیش رفت رینج ایکسٹینشن کٹ ہے جس کے ذریعے جہازوں سے داغے جانے والے بموں کی رینج میں 100 کلو میٹر تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی عام بموں کو بھی میزائل کی مانند ہدف پر جھپٹنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے جس سے دشمن کی فائرنگ رینج میں آئے بغیر ہدف کو نشانہ بنانا ممکن ہو گا۔ یہ کٹ 250 کلو گرام سے 500 کلو گرام تک وزن کے بموں پر نصب کی جا سکتی ہے جسے 36 ہزار فٹ بلندی سے گرائے جانے والے بم پر نصب کیا جا سکتا ہے۔ جہاز سے بم گرائے جانے کے بعد بم کے اوپر 2 پر(ونگ) نمودار ہوتے ہیں جو بم کو100 کلو میٹر تک اضافی فاصلہ طے کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے پاک فضائیہ دشمن کی فائرنگ رینج میں آئے بغیر ہی اپنے ہدف کونشانہ بنا سکتی ہے جس سے پاک فضائیہ کے نقصان کا امکان کم سے کم ہوگا۔
اس ادارے کا تیار کردہ چوتھا اہم ترین ہتھیار ’گن شاٹ ڈی ٹیکشن سسٹم‘ہے جو جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے اس سسٹم کے ذریعے دشمن کی جانب سے فائر کی جانے والی گولی کی آواز، ہوا میں پیدا ہونے والی مخصوص سنسناہٹ اور مقناطیسی لہروں کے ذریعے حملہ آور کی درست پوزیشن اور سمت کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ اس نظام میں  سائلنسر لگے ہتھیاروں سے کی جانے والی فائرنگ کی سمت کا تعین کرنے کی بھی صلاحیت موجود ہے۔
یہ نظام 150 میٹر کے دائرے میں کسی بھی سمت سے فائرنگ کی صورت میں سیکنڈوں کے اندر نہ صرف فائر کرنے والے کی لوکیشن کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس نظام سے منسلک کیمروں کا رخ بھی فوری طور پر حملہ آور کی جانب موڑ کر اسے واضح کیا جا سکتا ہے۔ اس نظام کے ساتھ کسی بھی قسم کے ہتھیار بھی منسلک کیے جا سکتے ہیں جو فائرنگ کرنے والے کو فی الفور نشانہ بنا سکتے ہیں اس سسٹم سے منسلک سینسرز 300 میٹر تک کے دائرے میں فائرنگ کی آواز کو بھی ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کاشف حسین