The surface of the Sun

The Sun is the star at the center of the Solar System. It is a nearly perfect sphere of hot plasma, with internal convective motion that generates a magnetic field via a dynamo process. It is by far the most important source of energy for life on Earth. Its diameter is about 109 times that of Earth, and its mass is about 330,000 times that of Earth, accounting for about 99.86% of the total mass of the Solar System. About three quarters of the Sun’s mass consists of hydrogen (~73%); the rest is mostly helium (~25%), with much smaller quantities of heavier elements, including oxygen, carbon, neon, and iron.
The Sun is a G-type main-sequence star (G2V) based on its spectral class. As such, it is informally referred to as a yellow dwarf. It formed approximately 4.6 billion years ago from the gravitational collapse of matter within a region of a large molecular cloud. Most of this matter gathered in the center, whereas the rest flattened into an orbiting disk that became the Solar System. The central mass became so hot and dense that it eventually initiated nuclear fusion in its core. It is thought that almost all stars form by this process.
The Sun is roughly middle-aged; it has not changed dramatically for more than four billion years, and will remain fairly stable for more than another five billion years. After hydrogen fusion in its core has diminished to the point at which it is no longer in hydrostatic equilibrium, the core of the Sun will experience a marked increase in density and temperature while its outer layers expand to eventually become a red giant. It is calculated that the Sun will become sufficiently large to engulf the current orbits of Mercury and Venus, and render Earth uninhabitable.
The enormous effect of the Sun on Earth has been recognized since prehistoric times, and the Sun has been regarded by some cultures as a deity. The synodic rotation of Earth and its orbit around the Sun are the basis of the solar calendar, which is the predominant calendar in use today.
 The Sun is composed primarily of the chemical elements hydrogen and helium; they account for 74.9% and 23.8% of the mass of the Sun in the photosphere, respectively. All heavier elements, called metals in astronomy, account for less than 2% of the mass, with oxygen (roughly 1% of the Sun’s mass), carbon (0.3%), neon (0.2%), and iron (0.2%) being the most abundant.

 

 

 

 

 

مسلم دنیا کے بھلا دیے گئے سائنسی ستارے

ایران میں جنم لینی والی مریم مرزا خانی، جو ریاضیات میں بلا کی ذہین تھیں، 14 جولائی 2017 کو کینسر کے باعث 40 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ 2014 میں انہیں فیلڈز ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو کہ ریاضی کے شعبے میں نوبیل انعام کے برابر ہے۔ ملکہءِ ریاضیات کے لقب سے مشہور مریم مرزا خانی یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی خاتون اور پہلی مسلمان تھیں۔ انہوں نے عام طور پر مردوں کا شعبہ سمجھے جانے والے اس شعبے کا اعلیٰ ترین ایوارڈ حاصل کر کے اس تاثر کو غلط ثابت کیا کہ یہ صرف مردوں کا شعبہ ہے۔ اس قدر ذہین خاتون کو اتنی جلدی گنوا دینا ایک سانحہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کی طرح ان کے ملک ایران میں بھی ان کی وفات پر سوگ منایا گیا جبکہ ان کی کامیابیوں کو یاد کیا گیا۔ ایران سے باہر، اسلامی دنیا کے دیگر ممالک میں ان کی وفات ایک غیر اہم واقعہ رہی۔ پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بمشکل ہی ان کا نام لیا گیا۔ یہ بھی ان کی وفات کی طرح ایک مایوس کن صورتحال ہے۔

مرزا خانی نے ‘کمپلیکس جیومیٹری’ کے وسیع میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ فیلڈز میڈل ایوارڈ کمیٹی نے ‘رائمن سرفیسز کی جیومیٹری اور ڈائنیمکس اور ان کے موڈیولی اسپیسز’ پر ان کے کام کو بنیاد بنا کر ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سب میری سمجھ سے باہر ہے کیوں کہ آج کی ریاضی 1960 میں جب میں نے ماسٹرز کیا تھا، کی ریاضی سے اتنی ہی مختلف ہے جتنے کہ آج کے موبائل فون اس دور کے ٹیلی فونز سے۔ مرزاخانی نے فرزانیگان اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور 1999 میں تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنولوجی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 2004 میں ہارورڈ سے پی ایچ ڈی کی اور پرنسٹن اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ ایسی تعلیمی اداروں، جو مرزاخانی جیسے ماہرینِ ریاضی پیدا کر سکیں، کی موجودگی پر ایرانی نظامِ تعلیم مبارک باد کا مستحق ہے۔

پاکستان میں برطانیہ نے اچھے تعلیمی ادارے چھوڑے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری مادرِ علمی پنجاب یونیورسٹی کے پرانے کیمپس کے شعبہءِ کیمیا میں یہ تختی نصب تھی: “کومپٹن افیکٹ کے تجربے کو یہاں 1929 میں دوبارہ دہرایا گیا تھا۔ ” 1923 کا یہ بنیادی تجربہ وہ تھا جس نے کوانٹم فزکس کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ بھی ہم نے کئی مایہ ناز سائنسدان پیش کیے۔ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام ایسے لیجنڈ ہیں جنہوں نے میری نسل کے طلباء کو متاثر کیا۔ 1960 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان تمام ترقی پذیر ممالک سے زیادہ ماہرِ تھیوریٹیکل فزکس پیدا کر رہا تھا۔ 1960 میں پاکستان اٹامک اینرجی کمیشن (پی اے ای سی) مکمل طور پر پاکستانی سائنسدانوں نے قائم کیا اور اس کا انتظام سنبھالا۔ اس وقت پاکستان نیوکلیئر ہتھیاروں کی طرف راغب نہیں تھا۔ پی اے ای سی کے سابق سربراہ ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی کو اس بات کا افسوس تھا۔ میری ان سے نیویارک میں 1979 میں ملاقات ہوئی تھی۔

جب انہیں میرے تعلیمی پس منظر کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے بتایا کہ کس طرح ‘بیوروکریٹس’ نے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کے حصول کی ان کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رکھی تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اہم موقع گنوا چکا تھا اور یہ کہ سینٹری فیوج ٹیکنولوجی ایک ‘فراڈ’ تھی۔ ان کا سوال تھا، ‘متھا (مکھن نکالنے کا عمل) ٹیکنولوجی ایٹم بم کس طرح بنا سکتی ہے؟’ مگر پھر بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں ایک نئی روح پھونک دی۔ سائنسدانوں کی اپنی پرعزم ٹیم کے ساتھ انہوں نے ایک نئی ٹیکنولوجی تیار کی جسے پہلے کہیں آزمایا نہیں کیا گیا تھا۔ نتیجہ سب کے سامنے تھا اور ان لیے باعثِ پیچ و تاب، جنہیں لگتا تھا کہ پاکستان ‘دھوکے بازی’ کر رہا ہے۔

سی آئی اے کے سابق سربراہ جارج ٹینیٹ (1997 تا 2004) اپنی کتاب ‘ایٹ دی سینٹر آف دی اسٹورم’ میں افسردگی سے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر خان نے “تقریباً اکیلے ہی پاکستان کو نیوکلیئر طاقت میں تبدیل کر دیا۔” پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا ایک تیسرا روٹ متعارف کروا ڈالا جبکہ اس سے پہلے رائج دو دیگر طریقے 1940 کی دہائی کے اوائل میں مین ہٹن پراجیکٹ میں تیار کیے گئے تھے۔
ہمارے پاس تکمیل تک نہ پہنچ پانے والے ٹیلنٹ کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ مجھے شفاعت حسین یاد ہیں جو میرے ایک سال سینیئر تھے اور انتہائی نایاب ذہانت اور معیار کے حامل تھے۔ ہم نے 1964 میں ایک ساتھ ٹوپولوجی کی تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ ایک ابتدائی بحث کے دوران ہمارے بہترین سپروائزر اور دوست ڈاکٹر ممتاز حسین قاضی، جو حال ہی میں ہارورڈ سے لوٹے تھے، نے ہمیں ایک غیر حل شدہ تھیورم سمجھایا۔

شفاعت نے اس دن سے کلاسوں میں آنا بند کر دیا اور دو ماہ کے اندر اندر تھیورم کا حل پیش کر کے ایک ریسرچ پیپر تحریر کر لیا جو کہ ریاضی کے ایک مشہور جریدے جرنل آف دی لندن میتھمیٹیکل سوسائٹی میں شائع ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر شفاعت کو رات میں کوئی خیال آجاتا اور انہیں کوئی کاغذ نا ملتا تو وہ اپنے بستر کی سفید چادر پر ہی لکھ ڈالتے، اور صبح اپنی والدہ سے کہتے کہ ان کی چادر نہ دھوئی جائے۔ انہوں نے پھر پی ایچ ڈی کی اور کینیڈا میں پوسٹ ڈاکٹورل کام شروع کیا۔ چند سال بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ تبلیغی بن چکے تھے۔ وہ کہا کرتے کہ انہیں ایک دو راہے کا سامنا تھا؛ کہ “خدا کا انتخاب کریں یا ریاضی کا۔” اس کے چند سال بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنے جنون، یعنی ریاضی کی سختی تلے دب چکے تھے۔ ان کی زندگی کے سفر میں میں اپنے معاشرے کی کہانی دیکھتا ہوں۔

1960 سے لے کر اب تک ہمارے تعلیمی ادارے پسماندگی کا شکار ہیں۔ 1960 کی دہائی کے وسط میں پوری دنیا کے تعلیمی اداروں میں سیاسی لہر دوڑ گئی تھی۔ دوسری جگہوں پر یہ کچھ سالوں میں دم توڑ گئی مگر پاکستان میں اس کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر سائنسی تعلیم ہوئی۔ اسلامی دنیا میں ہم کبھی سائنس میں سب سے آگے تھے، اب ہم سے یہ اعزاز چھن چکا ہے۔

ہمارا بنیادی تعلیمی نظام انگلش میڈیم اسکولوں، گزارے لائق اور خستہ حال سرکاری اسکولوں، اور مدرسوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔ ایچی سن کالج جیسے انگلش میڈیم اسکول سائنسدان اور انجینیئر پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیے جاتے۔ مرکزی دھارے کے سرکاری اسکولوں کا معیار شرمناک حد تک گرا ہوا ہے۔ مدرسے عمومی اور سائنسی تعلیم کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ اور ہم اس چیلنج سے فکری، معاشرتی اور سیاسی طور پر نمٹنے میں نااہل ثابت ہو رہے ہیں۔ مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سائنس اور زندگی پر سائنس کے اثرات ہی ہیں جو آج کے دور میں اقوام کو عزت دلواتے ہیں اور ان کی قوت ثابت ہوتے ہیں۔ ان خیالات کے ساتھ میں مریم مرزاخانی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ وہ مسلم دنیا میں موجود حالیہ تاریکی کے درمیان امید کی ایک کرن بن کر ابھریں۔

ریاض محمد خان
یہ مضمون ڈان اخبار میں 31 جولائی 2017 کو شائع ہوا۔

ملکی ترقی میں انجینئرز کا کردار : ڈاکٹر عبدالقدیر خان

میں آج ملکی ترقی میں انجینئرز کے کردار پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ وہ اس لئے کہ
میں خودبھی انجینئر ہوں اور میں نے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ دونوں اعلیٰ یونیورسٹیوں سے کئے ہیں۔ مگر سب سے پہلے میں سر جارج تھامسن (نوبیل انعام یافتہ) کا ایک قول بتانا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا تھا کہ، ’’ہم نے کچھ عرصہ سے اپنی تہذیب کو ان دھاتوں سے منسوب کیا ہے جو عوام اس وقت استعمال کررہے تھے مثلاً پتھروں کا زمانہ، بُرونز (Bronze) کا زمانہ، لوہے کا زمانہ وغیرہ وغیرہ‘‘۔ کسی بھی تہذیب (زمانہ) کی ترقی یا جہالت کا انحصار اس تہذیب کے پاس جو دھاتیں ہوتی ہیں ان کےصحیح یا غلط استعمال یا کوئی استعمال نا کرنے پر منحصر ہوتا ہے۔ موجودہ دور لوہے اور نئی طاقتور دھاتوں کا ہے۔

میرا اپنا خیال یہ ہے کہ ہم اب بہت منفرد اور اعلیٰ دھاتوں کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں نہایت حسّاس اور اعلیٰ ٹیکنالوجی پر منحصر صنعتوں کا پھیلائو بغیر اعلیٰ دھاتوں کے ناممکن ہے۔ آجکل بہت طاقتور دھاتیں اور ہائی ٹمپریچر دھاتیں، سِرامکس، کمپوزٹس، پولیمرس پر کام ہو رہا ہے کہ ان کو منفرد اور خاص صنعتوں کی تعمیر میں استعمال کیا جا سکے۔ دور جدید کی ایجادات مثلاً اسپیس شٹل، آپٹیکل فائبرز اور چھوٹے منفرد کمپیوٹرز کی تیاری بغیر اعلیٰ اور خاص دھاتوں کی موجودگی میں ناممکن ہوتی۔ اعلیٰ اور پیچیدہ صنعتوں میں استعمال کے لئے تیار کردہ دھاتیں آہستہ آہستہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے لگتی ہیں۔

میں اس موضوع پر یہ کالم اس لئے لکھ رہا ہوں کہ اس سے پیشتر اس موضوع پر کسی نے طبع آزمائی نہیں کی ہے۔ اب جبکہ نئی صنعتیں لگائی جا رہی ہیں میں کوشش کر رہا ہوں کہ عوام کی رہنمائی کروں۔ اس سے لوگوں میں اعلیٰ دھاتوں کو استعمال کرنے کی سمجھ بوجھ آ جاتی ہے اور وہ ان دھاتوں کی خصوصیات مثلاً ان کی فزیکل اور میکنیکل خصوصیات، آکسی ڈیشن اور کور وژن (زنگ لگنا)، زنگ سے دھاتوں کو محفوظ کرنا(کوٹنگ) اور ان دھاتوں کو الیکٹران بیم سے پہچانا اور علیحدہ رکھا جانا، سے واقف ہوجاتے ہیں۔ دیکھئے اچھی دھاتوں کی تیاری اور اس کا معائنہ بغیر اعلیٰ آلات (جانچنے والے) کے ناممکن ہے۔ دور جدید میں ٹیسٹ کرنیوالے نہایت حساس و اعلیٰ آلات کی ضرورت ہے انکے بغیر آپ اعلیٰ جانچ؍ ٹیسٹ نہیں کر سکتے۔ اچھے آلات تو نہایت باریک خصوصیات کا پتہ چلا لیتے ہیں دراصل یہ جانچ و ٹیسٹ کرنے والے آلات میں ایکسرے، نیوٹران اور الیکٹران ڈِفریکشن اسپکٹراسکوپی آجکل موجود ہیں اور ان کی مدد سے کسی بھی دھات کی ساخت، کمپوزیشن، اور میکانیکل خصوصیات (پراپرٹیز)، کیمیائی خصوصیات معلوم کر لی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ ان آلات کی مدد سے ایٹم کی تقسیم و پھیلائو کا بھی علم ہو جاتا ہے۔ مجھے یہ بتانے میں فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے KRL میں ان تمام اہم و حساس آلات کا بندوبست کر لیا تھا اور ان کی مدد سے ہم نہایت پیچیدہ اور اہم معلومات حاصل کر لیتے تھے۔ پہلے ڈاکٹر ایف ایچ ہاشمی، پھر پروفیسر ڈاکٹر انوار الحق اور پھر ڈاکٹر محمد فاروق اس ڈویژن کے سربراہ تھے۔ ڈاکٹر ہاشمی نے لندن یونیورسٹی سے، ڈاکٹر انوارلحق نے جرمنی سے اور ڈاکٹر فاروق نے آکسفورڈ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کی تھیں اور تینوں بہت ذہین اور قابل سائنسدان تھے۔

نمونوں کو بغیر توڑے پھوڑے (NDT – Nondestructive Testing) ان کی خصوصیات و کمپوزیشن کا معلوم کرنا بہت پیچیدہ اور مشکل کام ہے، ہمارے یہاں انجینئر نورالمصطفیٰ اور مشتاق پٹھان اس کے ماہر تھے۔ اس سلسلہ میں یہ بھی بتلاتا چلوں کہ دھاتوں اور دھاتوں سے تیارکردہ کمپونینٹس (Components) کی عمر یا مفید استعمال کا دور جاننے کے لئے تھکاوٹ (Fatique)، ٹوٹنا (Fracture) اور آہستہ آہستہ کمپونینٹس کے سائز بڑھنا (Creep) وغیرہ نہایت اہم خصوصیات ہیں جن کا پاکستان میں استعمال اور سمجھ بوجھ بہت کم ہے اور یہ وہ خصوصیات ہیں جو نہایت اہم ہیں اور ہر آلے اور مشینری کے استعمال اور ان میں تبدیلی وغیرہ کو جانچتے رہنا بہت اہم ہے۔ میرے پاس اوپر بیان کردہ اعلیٰ سائنسدان اور انجینئرز تھے اور ہم نے اس میدان میں اعلیٰ صلاحیت حاصل کرلی تھی۔

دیکھئے مشکل و اعلیٰ ٹیکنالوجی کے حصول میں ہمیں ہر فیلڈ میں ترقی کرنا چاہئے جب تک ہماری بنیاد (یعنی فائونڈیشن) مضبوط نہیں ہو گی ہم نئی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی نہ حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ یورپ، امریکہ، جاپان، چین اور انگلینڈ میں یہ مضامین شروع میں ہی پڑھا دیئے جاتے ہیں اور تمام آلات کا استعمال بھی سکھا دیتے ہیں۔ ان کے ماہرین (پروفیسرز) اکٹھے بیٹھ کر ایک پورا پروگرام بنا لیتے ہیں جو ان کی صنعتوں کے لئے بے حد مفید و موثر ہوتا ہے اور پھر یہ طلبا ریسرچ کا کام سنبھال لیتے ہیں اور اس طرح یہ ممالک ترقی کرتے جاتے ہیں۔ ہمیں بھی اپنی سائنس و ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لئے یہی طریقہ کار استعمال کرنا چاہئے۔ بدقسمتی سے یہ چیز یہاں عنقا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم بین الاقوامی سطح پر دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ہمیں نہ صرف اپنی تعلیم پر بلکہ ٹیکنیکل تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ ہم ہمیشہ پسماندہ ہی رہیں گے۔ ہمیں ٹیکنیکل سیمینار کرنا چاہئے اور غیرملکی ماہرین کو دعوت دینا چاہئے تا کہ ہمارے طلباء نئی ایجادات سے بہرہ ور ہو سکیں۔ ہمیں زیادہ طلبا کو غیر ممالک بھیجنا چاہئے کہ وہاں سے وہ دور جدید کی اعلیٰ ٹیکنیکل تعلیم حاصل کر سکیں اور پھر واپس آ کر ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹائیں۔

بدقسمتی سے اربوں روپیہ معمولی پروجیکٹس پر خرچ کر دیئے جاتے ہیں اور تعلیم کو صرف ایک بے فائدہ ورزش سمجھ رکھا ہے۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) نے ایک ہوٹل میں ایک شاندار ڈنر کا اہتمام کیا اور مجھے چیف گیسٹ بنایا۔ میں نے ہمارے ایٹمی سفر پر روشنی ڈالی اور انجینئرز کو بتلایا کہ کس طرح اہم ملکی پروجیکٹس پر کام کیا اور کرنا چاہئے۔ میں نے جب ان کو بتایا کہ میں نے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ دونوں اعلیٰ تعلیمی اداروں سےکئے ہیں اور یہ دونوں ڈگریاں انجینئرنگ میں ہیں یعنی M.Sc Tech اور Dr. Eng تو تمام انجینئرز بے حد خوش ہوئے کہ ان کا ایک ہم پیشہ اتنا اہم کام کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ میں نے ان کو صاف صاف بتلا دیا کہ اگر میں انجینئر نہ ہوتا اور انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کی ہوتی تو یہ پروجیکٹ کبھی بھی کامیاب نہ ہوتا اور یہ حقیقت بھی ہے۔

دیکھئے دنیا میں کوئی اعلیٰ کام، اعلیٰ ریسرچ میٹالرجی میں مہارت کے بغیر تکمیل نہیں پا سکتی۔ کمپیوٹرز، روبوٹس، سپرسانک ہوائی جہاز، خلائی شٹلز، سٹیلائٹس، خلائی کمیونیکیشن، نیوکلیرانرجی وغیرہ کی تیاری میں میٹالرجی کا اہم رول ہے۔ تمام ایم (M) کے استعمال میں یعنی افرادی قوت (Manpower)، میٹریلز(Materials)، مشینز(Machines)، طریقہ تیاری(Methods)، اور رقوم (Money) میں میٹیریلز ان کی تیاری اور ان کا استعمال ہی بہت اہم بلکہ اہم ترین فیکٹر ہے۔ بغیر اس کے آپ کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

سائنس و ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز دنیا

ای میل روکنے کا نیا بٹن بعض اوقات ہم ای میل کرتے ہیں تو اس میں کوئی نہ
کوئی غلطی رہ جاتی ہے یا پھر ہم اس میں کچھ جملوں کا اضافہ کر کے ترمیم کرنا چاہتے ہیں، لیکن Send کرنے کے بعد ہم اس ای میل کو روک نہیں سکتے۔ بعض اوقات Send کی آپشن کلک کرنے کے بعد ہمیں کوئی ایسا لفظ نظر آ جاتا ہے کہ جو شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن ہمارے پاس اس کو روکنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ گوگل نے Gmail کا اکائونٹ رکھنے والے اپنے صارفین کے لیے Unsend کا بٹن متعارف کروایا، جس کے ذریعے آپ ارادہ بدلنے پر اپنی ای میل کو روک سکتے ہیں۔ گوگل نے یہ فیچر اپنے آئی فون ایپ میں شامل کیا ہے اور یہ بھیجی گئی ای میل کو صرف 5 سیکنڈ کے اندراندر روک سکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈیسک ٹاپ سے ای میل کرنے والوں کے لیے پیغام کو روکنے کے لیے 30 سیکنڈ کا وقت رکھنے کی آپشن بھی دی گئی ہے۔

تین کروڑ روپے کا ہیک نہ ہونے والا فون سسٹم

ہیک نہ ہونے والے جدید سمارٹ فونز بننا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کے لیے تین کروڑ روپے کی لاگت سے نئی ٹیکنالوجی کا حامل فون سسٹم تیار کر لیا گیا ہے۔سائبر حملوں سے بچائو کے لیے یہ انٹرنل نیٹ ورک سسٹم بنایا ہے، اس سے منسلک ہونے کے باعث سمارٹ فونز ہیک نہیں کیے جا سکیں گے۔ بعض ممالک میں فوج کو ائیرمین سے لے کر آفیسرز تک یہ ہی سمارٹ فونز دئیے جائیںگے تا کہ کسی بھی قسم کی حساس معلومات کو ریکارڈ یا موبائل کو ہیک نہ کیا جا سکے۔

ذکا وائرس سے بچائو

ذکا وائرس کے متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والی ذکا وائرس کی وبا نے برازیل سمیت کئی ممالک کو پچھلے کچھ ماہ تک اپنی لپیٹ میں لیے رکھا اور اس کے متاثرین میں درجنوں نومولود بھی شامل ہیں جو کہ ماں کے پیٹ میں ہی اس وائرس کاشکار بن گئے۔ امریکی ماہرین نے متاثرہ حاملہ مائوں کو اس کے اثرات سے بچانے کے لیے غیر طبی تھراپی سے علاج کا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ ذکا وائرس نومولود کے دماغ کو متاثر کرتا ہے، اس لیے اینٹی باڈی تھراپی کے ذریعے ماں اور بچوں کے خون کے خلیوں کے بہائو کو اس وائرس کے خلاف لڑنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چین کا بڑا افلاک نما

چین کے شہر شنگھائی کے ضلع پیوڈنگ میں ایک بڑا افلاک نما بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جس کو دیکھنے کے لیے آنے والے اپنے آپ کو ستاروں اور سیاروں میں گھرا محسوس کریں گے۔ یہ عمارت 38,164 سکوئر میٹرپر مشتمل ہو گی، جس میں ایک شمسی ٹاور اور نوجوانوں کے مشاہدے کے لیے تجربہ گاہ بھی بنائی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین اسے 2020ء تک کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس عمارت میں بارش کے پانی کو قابل استعمال بنانے اور توانائی کو پھر سے قابل تجدید کرنے کی ٹیکنالوجی بھی اس پروجیکٹ کا حصہ ہو گی۔ منتظمین کے مطابق لوگ اس کے ذریعے ستاروں کو دیکھ سکیں گے اور کائنات کے وجود کے مفروضوں کو سمجھنے میں آسانی ملے گی۔

امریکی افواج کے لیے برقی دماغ امریکی فوجی سائنسدانوں نے عسکری اہلکاروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے برقی دماغ کے استعمال کا تجربہ کیا ہے، جوکہ خصوصی طور پر فضائی عملے ، ڈرون آپریٹرز اور مسلح فوجیوں کی مہارت میں اضافی کرے گا۔ کام کے انتہائی دبائو کے اوقات میں مرد و خواتین فوجیوں کے دماغ میں برقی لہروں کی مدد سے ان کی توجہ عسکری امور پر بنائے رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل فوجیوں کو دماغی طور پر چاک و چوبند رہنے کے لیے ادویات دی جاتی ہیں ،جوکہ صحت پر برااثر بھی ڈالتی ہیں، لہٰذا امریکی عسکری سائنسدانوں کی جانب سے اہلکاروں کودماغی طور پر تروتازہ رکھنے کیلیے برقی دماغ کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔

آن لائن ڈیٹا سے چھیڑخانی روکنے کامنصوبہ

ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آن لائن سسٹم سے چھیڑ خوانی بہت سے ممالک کی معیشت کو مہنگی پڑ رہی ہے اورترقی یافتہ ممالک کو حفاظتی اقدامات کے طور پرڈیٹا آڈٹ اور تحقیقات کی مد میں کروڑوں روپے ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ حال ہی میں  30 لاکھ اے ٹی ایم کارڈز ہولڈر متاثر ہوئے، ان کو اس مسئلے سے آئندہ بچانے کے لیے ایک ملک کے بینکنگ سیکٹر کو کروڑوں خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق اداروں کو نہ صرف سسٹم اپ گریڈ کرنے کے لیے خطیر رقم لگانا پڑ رہی ہے بلکہ متاثر ہونیوالے صارف بھی پھر کمپنی کی سروسز سے کنارہ کر لیتے ہیں، جس کے باعث بزنس مارکیٹ بھی خراب ہوتی ہے۔ ڈیٹا کی چوری کا تناسب بڑھنے سے معیشت کو ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیز اور بینکنگ سیکٹر کی جانب سے منصوبہ بنایا جا رہا ہے، تا کہ اس چھیڑ خانی کو روکا جا سکے۔

عمیرلطیف

سائنس میں مہارت کے بغیر ترقی ناممکن ہے : ڈاکٹر عبدالقدیر خان

موجودہ دور میں سائنس جتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اس سے واقفیت رکھنا ناممکن تو کیا اس کے ساتھ چلنا بھی بہت مشکل ہے۔ عہد قدیم سے انسان کوشش کرتا رہا ہے کہ زمین میں جو وسائل موجود ہیں ان کو نکالے اور اپنی زندگی کو آرام دہ اور پرسکون بنانے کیلئے استعمال کرے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسانی دماغ کی صلاحیتوں نے بھی ترقی کی اور انسان نے قدرت کے راز سمجھنے اور حل کرنے کیلئے جدّوجہد کی تاکہ اپنی زندگی آرام دہ بنا سکے۔ شروع شروع میں اس ترقی کی رفتار بہت آہستہ تھی لیکن پچھلی دو تین صدیوں میں انسان نے بہت ترقی کی ہے۔ اور اگریہ کہا جائے کہ نئی ایجادات خود انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہیں تو یہ مبالغہ آمیز بات نہ ہو گی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سائنس نے بے حد ترقی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے سائنس میں بے انتہا ترقی ہوئی ہے۔ پچھلے پچاس، ساٹھ سال میں جو ترقی ہوئی ہے وہ پچھلے دو سو سال سے زیادہ ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ تقریباً چار سو برس سائنس کی ہر برانچ میں لیڈر رہنے کے بعد ہم بارہویں صدی سے زوال کے شکار ہو گئے اور پھر ہم سنبھل ہی نا سکے۔ حکمراں کرپشن میں مصروف رہے اور عوام کاہلی کا شکار ہو گئے۔ آج کل دنیا میں جس قدر ترقی ہو رہی ہے وہ امریکہ، یورپ، جاپان وغیرہ میں ہو رہی ہے۔ دوسرے ممالک، خاص طور پر مسلم ممالک، صرف خریدنے اور استعمال کرنے والے ہیں۔ جاپان نے یہ دائرہ توڑ دیا ہے اور کئی میدانوں میں امریکہ اور یورپ سے آگے ہے۔ اب چین نے بھی 30 ,25 برسوں میں کمال کر دیا ہے، یہ ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا مگر اب ہم سے 100 سال آگے ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان بھی دوسرے پسماندہ ممالک کی صف میں ہے۔ غربت، بیروزگاری، بیماریاں اور غلاظت عروج پر ہیں۔ آجکل کراچی کی جو تصاویر ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں ان کو دیکھ کر دل دہل جاتا ہے کہ اس اکیسویں صدی میں جبکہ اہل اقتدار محلات میں رہ رہے ہیں جبکہ عوام کو غلاظت کے ڈھیروں پر چھوڑ دیا ہے۔ اس کچرے سے بہ آسانی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے مگر کمیشن نہیں ملے گا۔ وقت بہت ضائع ہو چکا ہے اور ہم نے ابھی اس لمبے سفر کیلئے پہلا قدم بھی نہیں اُٹھایا ہے۔ 27 مارچ کو حیدرآباد میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے قوم سے مذاق ہی کیا ہے کہ ملک میں جلد تعلیمی انقلاب آئے گا۔ تعلیمی انقلاب تو مشکل کام ہے مجھے ڈر ہے کہ جہالت کا انقلاب آ جائے گا جو آہستہ آہستہ قدم جماتا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کے رفقائے کار میں کوئی بھی ایسا نہیں جو سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کی تعریف بھی کر سکے۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی۔ میں نے غلام اسحٰق خان انسٹی ٹیوٹ بنایا ہے اور کے آر ایل (KRL) بنائی ہے آپ دیکھیں گے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائینگی۔

ایک طرف تو دنیا میں سائنس کی ترقی بہت تیزی سے جاری ہے دوسری طرف ہم ابھی تک جہالت کے کنوئیں میں غوطہ کھا رہے ہیں۔ ایک قوم کی حیثیت سے خاص طور پر حکمراں طبقہ اورہم بہت خراب حالت میں ہیں۔ احساس ہی نہیں ہو رہا کہ ہماری کشتی بھنور میں پھنس گئی ہے اور ہم کسی وقت بھی ڈوب سکتے ہیں۔ یہ بہت افسوس اور شرم کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ہمیں بیش بہا قدرتی وسائل عطا کئے ہیں بلکہ ایک اچھی تعداد نہایت قابل سمجھدار لوگوں کی بھی دی ہے۔ کیا ہم نے، پاکستانیوں نے، چھ سات سال میں ایٹم بم نہیں بنا دیا؟ کیا ہم نے میزائل نہیں بنائے؟ اگر حکمراں تھوڑے سمجھدار ہوتے تو قابل، تجربہ کار لوگوں کو ملکی ترقی کا کام سونپ دیتے تو ہم ایک ترقی یافتہ قوم بن گئے ہوتے۔ اپنے ملک کے قدرتی وسائل اور قابل لوگوں کی موجودگی میں ہمیں ترقی کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ جن لوگوں نے کے آر ایل کو دیکھا ہے ان سے پوچھئے کہ ہم نے کس طرح ناممکن کو ممکن بنا دیا تھا۔ جو بھی وہاں آتا تھا بس یہی کہتا تھا کہ یہ پاکستان نہیں لگتا۔ اسی بات سے متاثر ہو کر جنرل ضیاء الحق نے یکم مئی 1981 میں ہمارے ادارے کا نام تبدیل کرکے میرے نام سے منسوب کر دیا تھا۔ یہ ایک زندہ شخص کیلئے بہت اعلیٰ واقعہ تھا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک اچھی بڑی تعلیم یافتہ اور قابل ٹیم کی موجودگی کے باوجود کوالٹی کنٹرول، ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ کارکردگی کا فقدان ہے اور اس کے نتیجے میں ہمارے ہونہار، قابل نوجوان طبقہ غیرممالک کی راہ لیتا ہے اور ملک ان کی خدمات سے محروم ہو جاتا ہے۔ دیکھئے ٹیکنیکل ترقی بغیر فنی تعلیم سے مُرصع لوگوں کی غیرموجودگی میں ناممکن ہے اور نہ صرف یہ کہ تعلیم یافتہ قابل طبقے کی اشد ضرورت ہے بلکہ اس کیلئے مناسب ٹیکنیکل سہولتیں بھی بے حد ضروری ہیں۔ میں نے اپنے ادارے میں جو سہولتیں فراہم کی تھیں وہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے کم نہ تھیں اور پھر میرے قابل اور محب وطن ساتھیوں نے ان سہولتوں سے پورا فائدہ اُٹھایا اور ملک کو ناقابل تسخیر دفاع فراہم کر دیا۔ اب اگر کبھی ہندوستان نے کوئی جارحانہ اقدام اُٹھایا تو پاکستان اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا۔ دیکھئے جو نمائشی کام کئے جا رہے ہیں ان سے نہ ہی ملک ترقی کر رہا ہے اور نہ ہی عوام کو روزگار کے مواقع مل رہے ہیں۔ وقت کا اہم تقاضہ یہ ہے کہ ہم نوجوان طبقے کیلئے ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں۔ ہم نے ہر محکمے میں نااہلیت کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بس یہ سمجھ لیجئے کہ رکشہ ڈرائیورز کو ایئر بس چلانے کی ذمہ داری سونپ دی ہے نتیجہ آپ خود سوچ سکتے ہیں۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے اہل اقتدار کی نظر میں تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں ہے جبکہ ترقی کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت بہت ضروری ہے۔ ہمارا نظام تعلیم بھی بے حد ناقص ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے نااہل لوگ سیاست کے ذریعے ملک کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہوجاتے ہیں اور انھیں سوائے غیرملکی دوروں اور اپنی کرپشن کے کسی اور چیز میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ اور بڑی اور نقصان دہ بات یہ ہے کہ تعلیم پر بہت ہی کم رقم خرچ کی جاتی ہے۔ اربوں روپیہ کے پروگرام چلائے جاتے ہیں جن میں کرپشن کی گنجائش ہوتی ہے، اچھے تعلیمی اداروں کی تعمیر میں قطعی دلچسپی نہیں لی جاتی تو ملک کس طرح ترقی کرے گا؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

مسلمان سائنس دانوں کے کارنامے

     

شاید ہی دنیا کا کوئی علم ایسا ہو جسے مسلمانوں نے حاصل نہ کیا ہو۔ اسی طرح سائنس کے میدان میں بھی مسلمانوں نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔ گوکہ آج اہل یورپ کا دعویٰ ہے کہ سائنس کی تمام تر ترقی میں صرف ان کا حصہ ہے مگر اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ تجرباتی سائنس کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی ہے اور اس کا اعتراف آج کی ترقی یافتہ دنیا نے بھی کیا ہے۔ اس ضمن میں ایک انگریز مصنف اپنی کتاب ’’میکنگ آف ہیومینٹی‘‘ میں لکھتا ہے :’’مسلمان عربوں نے سائنس کے شعبہ میں جو کردار ادا کیا وہ حیرت انگیز دریافتوں یا انقلابی نظریات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی ترقی یافتہ سائنس ان کی مرہون منت ہے‘‘ایک دوسرا انگریز مصنف جان ولیم ڈریپرا اپنی کتاب ’’یورپ کی ذہنی ترقی‘‘ میں لکھتا ہے کہ مسلمان عربوں نے سائنس کے میدان میں جو ایجادات و اختراعات کیں وہ بعد میں یورپ کی ذہنی اور مادی ترقی کا باعث بنیں۔

آٹھویں صدی سے بارہویں صدی عیسوی میں مسلمان سائنس پر چھائے رہے۔ جس وقت مسلمان سائنس میں نئی نئی ایجادات اور انکشافات کر رہے تھے‘ اس وقت سارا یورپ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ اس دور میں الخوارزمی‘ رازی‘ ابن الہیشم‘ الاہروی‘ بو علی سینا‘ البیرونی‘ عمر خیام‘ جابر بن حیان اور فارابی جیسے سائنس دان پیدا ہوئے۔اگر یہ کہا جائے کہ دنیا ابھی تک البیرونی جیسی شخصیت پیش نہیں کر سکی تو غلط نہ ہو گا۔ جو بیک وقت ماہر طبیعات و ماہر لسانیات و ماہر ریاضیات‘ و ماہر اراضیات وجغرافیہ دان و ادیب و طبیب و مورخ ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر اور کیمیا دان بھی تھا۔ البیرونی نے ایک سو اسی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ البیرونی نے ثابت کیا کہ روشنی کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ ہوتی ہے۔

فلکیات پرالبیرونی نے کئی کتابیں تحریر کیں۔ دنیا آج بھی البیرونی کو بابائے فلکیات کے نام سے یاد کرتی ہے۔ بو علی سینا فلسفہ اور طب میں مشرق و مغرب کے امام مانے جاتے ہیں۔ ابن سینا نے تقریبا 100 کے قریب تصانیف چھوڑی ہیں۔ بو علی سینا کے بارے میں پروفیسر برائون کا کہنا ہے کہ جرمنی کی درس گاہوں میں آج بھی بوعلی سینا کی کاوشوں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ بو علی سینا اور محمد بن ذکریا الرازی کی تصاویر اب بھی پیرس یونیورسٹی کے شعبہ طب میں آویزاں ہیں۔ ساری دنیا آج بھی جابر بن حیان کو بابائے کیمیا مانتی ہے۔ جابر بن حیان نے شورے ، گندھک اور نمک کا تیزاب ایجاد کیا۔ واٹر پروف اور فائر پروف کاغذ بھی جابر بن حیان کی ایجاد ہے۔ روشنی پر دنیا کی سب سے پہلے جامع کتاب ’’المناظر‘‘ ابن الہیشم نے لکھی۔ پن ہول کیمرے کا اصول بھی پہلے انہوں نے دریافت کیا۔ ابن الہیشم بابائے بصریات بھی کہلاتے ہیں۔

مشہور مسلمان ماہر فلکیات و ریاضی دان اور شاعر عمر خیام نے ’’التاریخ الجلالی‘‘ کے نام سے ایک ایسا کلینڈر بنایا جو آج کل کے رائج کردہ گریگورین کلینڈر سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ ابو القاسم الزاہروی آج بھی جراحت (سرجری) کے امام مانے جاتے ہیں۔ ان کی سب سے مشہور کتاب ’’التصریف‘‘ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے زخم کو ٹانکا لگانے ‘ مثانے سے پتھری نکالنے اور جسم کے مختلف حصوں کی چیر پھاڑ کے متعلق بتایا۔ یہ کتاب کئی صدیوں تک یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی گئی۔ ابو جعفر محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے فلکیات ‘ ریاضی اور جغرافیہ میں نام پیدا کیا۔ گنتی کا موجودہ رسم الخط ایجاد کیا اور گنتی میں صفر کا استعمال سب سے پہلے انہوں نے کیا۔ الجبرے کا علم معلوم کیا اور مثلث ایجاد کی۔ الجبرے پر ان کی مشہور کتاب ’’حساب الجبر و المقابلہ‘‘ اٹھارہویں صدی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی جاتی رہی۔ موسیقی میں ابتدائی سائنسی تحقیق ابو نصر محمد فارابی نے کی۔

 چیچک کا ٹیکہ سب سے پہلے محمد بن زکریا نے ایجاد کیا۔ رازی دنیا کے پہلے طبیب تھے جنہوں نے چیچک اور خسرہ پر مکمل تحقیقات کیں اور چیچک کا ٹیکہ ایجاد کیا۔ اس کا اعتراف انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی موجود ہے۔ ابن یونس نے پنڈولیم کا اصول ایجاد کیا۔ ابو الحسن نامی مسلمان سائنسدان نے سب سے پہلے دوربین ایجاد کی۔ انسانی جسم میں خون گردش کرتا ہے۔ یہ نظریہ سب سے پہلے ابن النفیس نے پیش کیا۔ یہ ہیں مسلمان سائنس دانوں کے وہ روشن کارنامے جن سے اہل یورپ والے بھی روشنی لیتے رہے لیکن کئی مغربی مصنفوں اور مورخین نے اسے اپنے سائنس دانوں سے منسوب کر دیا۔ ستم تو یہ ہوا کہ خود ہمارے لکھنے والوں نے اسے انگریزوں اور دوسرے یورپی سائنس دانوں کا کارنامہ سمجھا اور لکھا۔ یہ سب کچھ مغربی مصنفین کی تحریروں پر اندھا اعتماد کرنے سے ہوا۔

شیخ عبدالحمید عابد