پاکستانی سائنسدان کے لیے جرمن ایوارڈ

جرمن وفاقی وزارت برائے تعلیم و تحقیق کی جانب سے 25 بین الاقوامی نوجوان سائنسدانوں کو ’گرین ٹیلنٹ ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ ان میں پاکستانی سائنسدان کاشف رسول بھی شامل ہیں۔  ستائیس اکتوبر کو برلن میں ہونے والی ایک تقریب میں گرین ٹیلنٹ ایوارڈ 2017 وصول کرنے والے پچیس سائنسدانوں میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کاشف رسول بھی شامل تھے۔ 33 سالہ ڈاکٹر کاشف کی تحقیق پائیدار اور سستے طریقے کے ذریعے پینے کے پانی کو آلودگی سے پاک کرنے کے عمل پر مبنی ہے۔

’گرین ٹیلنٹس- پائیدار ترقی میں اعلی صلاحیتوں کے بین الاقوامی فورم‘ کی تقریب میں 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے 25 نوجوان سائنسدانوں کو اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 9 ویں گرین ٹیلنٹ مقابلے میں مجموعی طور پر 95 سے زیادہ ممالک سے 602 سائنسدانوں کے مابین مقابلہ ہوا۔ ’گرین ٹیلنٹ’ ایوارڈ کے فاتح ممالک کی فہرست میں پہلی مرتبہ مصر، فیجی، عراق، سلواکیہ، سویڈن اور یوگینڈا کے نوجوان سائنس دان بھی شامل ہیں۔

اس مرتبہ جیوری میں شامل اعلیٰ درجے کے تحقیق دانوں نے ’گرین‘ یعنی صاف توانائی پر مبنی تحقیق کرنے والے نوجوان سائنسدانوں کا انتخاب کیا، جو تعلیم و تحقیق کے شعبے میں کام کر کے عالمی ماحولیاتی مسائل کا حل دریافت کرنے کی کوشش میں ہیں۔ پاکستانی نوجوان سائنسدان ڈاکٹر کاشف رسول کی تحقیق سستے اور پائیدار طریقے کے ذریعے پانی کو آلودگی سے پاک کرنے کے عمل پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر کاشف رسول خلیجی ملک قطر کے ماحولیات و توانائی کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں واٹر سائنس اور انجینئرنگ کے شعبہ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے جڑے مسائل میں ایک اہم مسئلہ ’واٹر سکیورٹی‘ کا بھی ہے۔ اس تناظر میں عالمی سطح پر پائیدار واٹر مینیجمنٹ میں تازہ پانی کے زیادہ استعمال کے بجائے صنعتی اور روز مرہ کی زندگی میں استعمال کیے جانے والے پانی کو پینے کے لیے دوبارہ کارآمد بنانے کے عمل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کاشف کی تحقیق کی توجہ کا مرکز بھی قابل تجدید بائیو توانائی کے فروغ کے ساتھ آلودہ پانی سے مضر صحت اجزاء کا خاتمہ ہے۔

جرمن کونسل برائے پائیدار ترقی کے نمائندے فاکول لیخہارٹ نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی سائنسی تعاون کے لیے گرین طلباء پروگرام کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ رواں سال کے ’25 گرین محققین‘ کی سائنسی مہارتوں اور غیر متزلزل حوصلوں سے بہت متاثر ہوئے ہیں، ’’عالمی سطح پر موجود چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ان سائنسدانوں کی تحقیق اہم کردار ادا کرے گی اور مجھے خوشی ہے کہ وہ جرمن تحقیقاتی نظام کا حصہ بن سکیں گے۔‘‘

گرین ٹیلنٹ ایوارڈز حاصل کرنے والے نوجوان سائنسدانوں کو دو ہفتوں کے لیے جرمنی بھی مدعو کیا گیا تاکہ وہ ’سائنس فورم‘ میں شرکت کر سکیں۔ اس دوران انہوں نے جرمنی میں پائیدار تحقیق پر کام کرنے والے ریسرچ سینٹرز کا دورہ بھی کیا۔ سائنس فورم کی ورکشاپس اور دیگر تقاریب کے موضوعات اس سال کے موٹو ’پائیدار پیداوار اور استعمال‘ کے حوالے سے چنے گئے تھے۔ نوجوان محققین نے سائنس فورم کے دوران جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں۔

ان محققین نے معروف ماہرین کے ساتھ خصوصی ملاقاتوں میں خیالات کا تبادلہ بھی کیا۔ یہ سائنس فورم دراصل نوجوان سائنسدانوں کے لیے جرمنی کے جدید نظام سے متعارف ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ممکنہ تعاون کے دیگر مواقع دریافت کرنے کے لیے بھی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ گرین ٹیلنٹ ایوارڈ کے ذریعے ان پچیس سائنسدانوں کی تحقیق کو حتمی مرحلے تک پہنچانے میں تعاون کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سن 2018 میں ان کو اپنی پسند کے جرمن ادارے میں تحقیق جاری رکھنے کی دعوت بھی دی جائے گی۔

Advertisements

ابونصر فارابی اور علم کا دیا

ترکستان کے ایک شہر کا نام ہے ’’فاراب‘‘۔ بہت مدت گزری، اس شہر کے ایک محلے میں ایک بڑا غریب لڑکا رہتا تھا جسے علم حاصل کر نے کا بے حد شوق تھا۔ دن کو تو وہ استاد کے ہاں جا کر سبق پڑھتا تھا اور جب رات آتی تھی تو وہ دن کا پڑھا ہوا سبق یاد کرتا تھا اور اس وقت تک نہیں سوتا تھا جب تک یہ سبق پوری طرح یاد نہیں ہو جاتا تھا۔ اس کی چارپائی کے سرہانے مٹی کا ایک دیا جلتا رہتا تھا اور اسی دیے کی روشنی میں رات کے دو دو بجے تک پوری کی پوری کتاب پڑھ لیتا تھا۔ بعض اوقات ساری رات ہی پڑھنے میں گزر جاتی تھی۔

ایک رات کا ذکر ہے کہ وہ اپنی چارپائی پر بیٹھا پوری توجہ اور انہماک سے کسی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا کہ دیے کی روشنی مدھم ہو گئی۔ اس نے بتی کو اونچا کیا، روشنی ہوئی تو ضرور مگر بڑی جلدی ختم ہو گئی۔ اب جو اس نے دیے پر نظر ڈالی تو یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ تیل تو دیے میں ہے ہی نہیں روشنی اگر ہو تو کیوں کر ہو۔ ’’اب میں کیا کروں؟‘‘ اس نے اپنے دل میں سوچا۔ رات آدھی کے قریب گزر چکی تھی۔ شہر کی دکانیں بند ہو چکی تھیں اور اگر دکانیں کھلی بھی ہوتیں تو لڑکے کو کچھ فائدہ نہ ہوتا کیوں کہ اس کے پاس تو تیل خریدنے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔ پیسوں کے بغیر کون دکان دار اسے تیل دے سکتا تھا۔

اس حالت میں بہتر یہی تھا کہ وہ کتاب ایک طرف رکھ کر سو جائے، مگر پورے دو گھنٹے کس طرح ضائع کر سکتا تھا اور پھر دوسرے دن بھی اس کے پاس کہاں سے پیسے آسکتے تھے؟ روٹی تو وہ مسجد میں جا کر کھا لیتا تھا اور محلے کے ایک بچے کو پڑھا کر جو رقم ملتی تھی۔ اس سے وہ اپنے لیے معمولی کپڑے اور تیل خرید لیتا تھا۔ ان میں سے اسے جتنے پیسے ملے تھے وہ خرچ کر چکا تھا اور ان دنوں اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ دیے کے اس طرح بجھ جانے سے اسے بڑا افسوس ہوا۔ وہ اپنی کوٹھڑی سے نکل کر دروازے پر آ بیٹھا۔

رات کا اندھیرا ہر جگہ چھایا ہوا تھا۔ کہیں بھی کوئی چراح جلتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا تھا سب لوگ آرام کر رہے تھے۔ اتنے میں اس کی نظر روشنی کی ایک ننھی سی لکیر پر پڑی جو دور کسی دیوار پر دکھائی دے رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہی اس کے دل میں خواہش ہوئی کہ کاش یہ روشنی اس کے گھر میں ہوتی۔ روشنی دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھا۔ ادھر قدم اٹھانے لگا جدھر سے روشنی آ رہی تھی۔ اپنی کتاب وہ ساتھ ہی لے آیا تھا تا کہ موقع ملے تو اسی روشنی میں کتاب کا باقی حصہ پڑھ ڈالے اور پھر واپس آ جائے۔

کچھ دور جا کر اس نے دیکھا کہ وہ روشنی ایک قندیل میں سے نکل رہی ہے اور یہ قندیل محلے کے چوکیدار کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے چوکیدار سے بڑے ادب سے کہا : جناب اگر آپ اجازت دیں تومیں قندیل کی روشنی میں کتاب پڑھ لوں؟ چوکیدار ایک نیک آدمی تھا وہ سمجھ گیا کہ غریب طالب علم ہے۔ تیل خریدنے کے لیے پاس پیسے نہیں ہیں۔ بولا: ہاں بیٹا پڑھ لے۔ میں تھوڑی دیر یہاں بیٹھوں گا یہاں بیٹھ جا! لڑکا بیٹھ کر کتاب پڑھنے لگا۔ اب مشکل یہ تھی کہ چوکیدار ایک ہی جگہ زیادہ دیر تک نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ اس لیے کہنے لگا: لو بیٹا اب تم گھر جاؤ اور سو رہو مجھے آگے جانا ہے۔ لڑکا بولا: آپ ضرور آگے جائیے جہاں جی چاہے جائیے لیکن میں آپ کے پیچھے پیچھے چلوں گا۔

چوکیدار قندیل اٹھا کر آگے آگے چلنے لگا اور لڑکا پیچھے پیچھے۔ اس طرح مطالعہ کرنے میں اسے بڑی دقت پیش آ رہی تھی، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ چار بجے تک پڑھتا رہا اور پھر چوکیدار کا شکریہ ادا کر کے گھر چلا گیا۔ دوسری رات بھی یہی واقعہ ہوا۔ تیسری رات لڑکا آیا تو چوکیدار کہنے لگا: بیٹا! لو یہ قندیل اپنے گھر لے جاؤ میں نئی قندیل لے آیا ہوں۔ لڑکے نے یہ الفاظ سنے تو اسے اتنی خوشی ہوئی جیسے ایک بہت بڑا خزانہ مل گیا ہو۔ وہ قندیل اپنی کوٹھڑی میں لے آیا اور اطمینان کے ساتھ کام کرنے لگا۔ چند روز کے بعد اسے پیسے ملے تو وہ بازار سے تیل خرید لایا اور اسے دیے میں ڈال دیا۔

کئی دن گزرے ، کئی سال گزر گئے۔ لڑکا جوان ہو گیا۔ جیسے جیسے اس کی عمر بڑھتی جاتی تھی، اس کا علم بھی بڑھتا جاتا تھا اور پھر ایک دن ایسا آیا کہ وہ اپنے وقت کاسب سے بڑا استاد بن گیا۔ بڑے بڑے عالم فاضل لوگ دور دور سے اس کے پاس آتے تھے اور اس سے علم حاصل کرتے تھے۔ وہ علم کا ایک دریا بن گیا تھا، جس سے علم کے پیاسے اپنی پیاس بجھاتے تھے۔ جانتے ہو یہ کون تھا؟یہ تھا ابو نصر فارابی! ابونصر فارابی جس کی وفات ہزار برس سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے، مگراس کی عزت و عظمت میں فرق نہیں آیا۔ جس کے اپنے دیے کی روشنی ختم ہو گئی لیکن علم کا جو دریا اس نے جلایا اس کی روشنی کبھی ختم نہ ہوگی۔

میرزا ادیب

( کتاب مشہور طبیب اور سائنسدان سے اقتباس)

تیس ہزار سے زائد سائنسی مطالعے غلط ہو سکتے ہیں، رپورٹ

سائنسی مطالعوں کے حوالے سے ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق تیس ہزار سے زائد سائنسی مطالعے غلط ہو سکتے ہیں۔ نیدر لینڈ کی رادبود یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ہزاروں تجربات میں استعمال کئے گئے 451 خلوی کاشت آلودہ ہو گئے ہیں۔ محققین نے تنبیہ کی ہے کہ حکام کی جانب سے غلط طور پر منظور کئے گئے ان تجربات سے بہت سے علاج غیر موثر ہو سکتے ہیں۔ آلودہ خلیات میں سے کچھ کی ابتدا 1951 سے ہوئی اور انہیں چھ سے زائد عشروں تک لیبارٹریز میں استعمال کیا جا چکا ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ آلودہ خلیات کا استعمال تحقیقاتی ماحول میں اب بھی جاری ہے ، محققین نے تنبیہ کی ہے کہ اس مسئلے پر میڈیکل کمیونٹی کی جانب سے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

حافظ محمد نعمان

مسلمان سائنسدانوں کا عہد زریں

عبدالرحمان صوفی، دور خلافت عباسیہ: عبدالرحمان نے ستاروں کی روشنی پیمائش میں اصطلاح کی۔

ابن یونس، دور خلاف عباسیہ: ابن یونس نے آونگ (رقاصہ ساعت) پینڈولم ایجاد کیا۔ اور اس کے جھولنے سے وقت کی پیمائش کی۔

فاطمی خلافت: اس کے زمانے میں قاہرہ کے کتب خانے میں بیس لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں جن میں سے چھ ہزارصرف ریاضیات، فلکیات اور طبیعیات سے متعلق تھیں۔

اشبیلیہ کا مینار جیرالد : عظیم ریاضی دان جابر بن افلح کی زیر نگرانی فلکی مشاہدات کے لیے 1198ء میں تعمیر کیا گیا۔ اس کی تعمیر کئی برس میں مکمل ہوئی ۔ یہ اب بھی سپین میں موجود ہے اور اسے اہم تاریخی ورثہ کردانا جاتا ہے۔

بہاء الدین العاملی: دسویں صدی ہجری کا آخری ریاضی دا ن معلم جس نے الجبرا پر بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔

میر ہاشم جیلانی: انہوں نے محقق طوسی کی کتاب اصول الہندسہ والحساب کی شرح لکھی تھی۔

لطف اللہ المہندس : لال قلعہ اور جامع مسجد دہلی اور تاج محل آگرہ تعمیر کرنے والے استاد کا بیٹا لطف اللہ نامور مہندس تھا۔ اس نے خلاصتہ الحساب کی شرح لکھی۔ ان کا تعلق لاہور سے تھا۔

ابو عبداللہ محمد بن حسن طوسی: نامور عالم ہیئت دان‘ ریاضی دان‘ ماہر طبیعیات‘ علم اخلاق ‘ موسیقی اور علوم حکمیہ کا ماہر تھا۔ اس کی فرمائش پر ہلاکو خان نے رصد گاہ تعمیر کروائی تھی۔ 30 سے زیادہ تصانیف کا مصنف تھا۔

قطب الدین شیرازی: علوم عقلیہ اور نقلیہ کا ماہر سائنسدان تھا بے شمار کتابوں کا مصنف تھا۔ اس نے فلکیات ‘ ارضیات‘ سمندروں‘ فضا میکانیات اور بصریات پر بحث کی ہے۔ اس کے خیال میں زمین مرکز کائنات ہے۔ قوس قزح پر بھی اس نے کھل کر بحث کی۔

کمال الدین الفارسی: قطب الدین شیرازی کا شاگرد جس نے ہالہ قمر اور قوس قزح کے بارے میں اپنے استاد کے نظریات کو جھٹلایا اور ابن الہیثم کی کتاب کی شرح تصنیف کی۔

محمد بن محمد چغمینی: علم ریاضی پر ایک مشہور کتاب الخلص فی الہیتہ کے نام سے لکھی۔ الحمیاری، ساتویں / آٹھویں صدی: ان کا شمار کیمیا دان جابربن حیان کے معلمین میں کیا جاتا ہے۔

ابراہیم الفزاری، آٹھویں صدی تا 777ئ:خلافت عباسیہ کے دور میں خلیفہ ہارون الرشید کے تحقیقاتی اداروں سے وابستگی رہی۔ علم فلکیات پر تحقیق و تحریر کیں جن میں اسطرلاب اور سالنامہ کی ترتیب بھی شامل ہیں۔ ہارون الرشید کے کہنے پر یعقوب بن طارق کی شراکت میں ہندوستانی فلکیاتی تحریروں کا عربی میں ترجمہ کیا، یہ کتاب 750ء میں بیت الحکمہ بغداد میں الزیج علی سنی العرب کے نام سے تکمیل کو پہنچی۔

جابر بن حیان721ء تا 815ئ: کیمیا دان، طبیعیات میں کام؛ علم الادویہ میں تحقیق؛ علم الہیئت میں تحقیق ۔

ارشمیدس سائنس کا شیدائی

آپ کو ایک ایسے شخص کی زندگی کے حالات سناتے ہیں، جو علم کی خاطر زندہ رہا اور اسی کی خاطر مرا۔ وہ سچ مچ سائنس کا دیوانہ تھا۔ اس نے سائنس کے ایسے اصول بنائے کہ ہم آ ج تک ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ہم سب کے لیے اس کی زندگی ایک سبق ہے، کیونکہ وہ ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوا تھا، جب پڑھنے لکھنے کے لیے آج جیسی آسانیاں موجود نہیں تھیں۔ یہ تقریباً 200 ق م پہلے کی کہانی ہے۔ بحیرۂ روم میں ایک جزیرہ ہے اور سسلی اس کا نام ہے۔ ہماری یہ کہانی اسی جزیرے کے ایک شہر سے شروع ہوتی ہے۔ ایک شام وہاں اچھی خاصی چہل پہل تھی۔ بہت سے لوگ ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ کچھ ہوٹلوں میں بیٹھے کھا پی رہے تھے۔

ملاح دن بھر کا کام ختم کر کے بندرگاہوں سے واپس آ رہے تھے کہ عجیب واقعہ ہوا۔ سب لوگ خاموش ہو گئے، بلکہ حیرت میں پڑ گئے۔ لوگوں نے تعجب میں ایک دوسرے سے کچھ پوچھنا شروع کیا، کیونکہ ایک جانا پہچانا سمجھ دار آدمی اپنی دھن میں مگن، ساری دنیا سے بے خبر چلا آ رہا تھا۔ اس کی بے خودی کا عالم یہ تھا کہ وہ کپڑے تک پہننا بھول گیا تھا۔ صرف ایک لفظ اس کے منہ سے نکل رہا تھا، جسے سب سن رہے تھے اور بس۔ کچھ لوگوں نے اسے دیوانہ سمجھا لیکن دوسروں نے اس کی مخالفت کی۔ یہ دیوانہ نہیں تھا۔ یہ تو اس زمانے کا نہایت مشہور اور عقل مند انسان تھا۔ وہ مانا ہوا ریاضی داں اور نہایت قابل انجینئر تھا۔ البتہ یہ راز کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ وہ اس حالت میں بازار میں کیوں نکل آیا۔

یہ راز اگلے دن کھلا۔ سائنس کا یہ شیدائی ارشمیدس تھا، جس کا بنایا ہوا اصول آپ نے اپنی کتابوں میں پڑھا ہو گا۔ سائنس کی تاریخ میں اس کا نام ہمیشہ رہے گا کیونکہ اس نے اپنی محنت سے علم و سائنس کی ایسی شمع روشن کی جس نے اس گئے گزرے دور میں بھی جہالت کے دھندلکوں کو دور کیا۔ حساب اور سائنس کے ایسے ایسے اصول وضع کیے جن پر بعد کے سائنس دانوں نے علم و ہنر کے عظیم قصر تعمیر کیے۔ جدید سائنس ان قدیم سائنس دانوں کی خدمات فراموش نہیں کر سکتی۔ ارشمیدس جزیرہ سسلی کے شہر سیراکیوز میں 287 قبل از مسیح میں پیدا ہوا۔ اسے وہاں کے بادشاہ کی سرپرستی حاصل ہوئی۔

شاید آپ نے یہ قصہ سنا ہو کہ بادشاہ نے اپنے لیے سنار سے ایک تاج بنوایا، لیکن جب تاج بن کر آیا تو بادشاہ کو اس کے خالص ہونے پر شک ہوا۔ بادشاہ سنار کو سزا دینا چاہتا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی ذریعہ نہیں تھا جس سے وہ ثابت کر سکے کہ تاج کے سونے میں کسی سستی دھات کی ملاوٹ کر دی گئی ہے۔ اس نے یہ کام ارشمیدس کے سپرد کیا۔ جو اس زمانے میں ریاضی کا استاد مانا جاتا تھا۔ اب تو یہ معمولی سی بات ہے۔ سونے کو کسوٹی پر پرکھ کر کھرا کھوٹا معلوم کیا جا سکتا ہے، لیکن اس وقت یہ کام بڑا مشکل تھا۔ ارشمیدس بھی سوچ میں پڑ گیا۔

وہ اس معمولی کام کو سائنس کی روشنی میں انجام دینا چاہتا تھا۔ اسے نہاتے وقت خیال آیا کہ ٹب میں ہمیں اپنا جسم ہلکا کیوں محسوس ہوتا ہے۔ وہ شہر کے غسل خانوں میں جاتا اور کافی دیر ٹب میں پڑا ہوا یہ تجربہ کرتا رہتا۔ ایک دن نہاتے نہاتے ارشمیدس کو نہیں معلوم کیا ہوا کہ وہ فوراً ٹب سے باہر کود پڑا اور ’’یوریکا‘‘، ’’یوریکا‘‘ کہتا ہوا غسل خانے سے نکل گیا۔ جس کا مطلب ہوتا ہے: میں نے معلوم کر لیا، مجھے معلوم ہو گیا ہے۔ وہ خوشی میں ایسا دیوانہ ہوا کہ شہر کے ایک بارونق بازار میں عجیب و غریب حالت میں نکل آیا۔ یہی وہ مشہور واقعہ ہے جس کا ذکر ہم نے اس کہانی کے شروع میں کیا ہے اور جس سے علم کے اس شیدائی کے شوق اور محنت کا پتا چلتا ہے۔

اگر انسان محنت کرے تو کوئی کام ناممکن نہیں ہے۔ گھر پہنچتے ہی ارشمیدس نے اپنا معلوم کیا ہوا اصول پھر تجربوں کی مدد سے جانچا۔ تجربے کے بعد اس نے کہا کہ کوئی جسم پورے یا جزوی طور پر ڈبویا جاتا ہے تو اس کے وزن میں کچھ کمی پیدا ہو جاتی ہے اور یہ کمی اس مائع کے وزن کے برابر ہوتی ہے، جو اس جسم کے ڈوبنے کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے۔ اسی تجربے اور اصول کی وجہ سے ارشمیدس نے بادشاہ کو بتایا کہ اس کے تاج میں کتنا خالص سونا ہے اور کتنا کھوٹ ہے۔ اب بھی ارشمیدس کا یہ اصول اسی طرح مشہور چلا آ رہا ہے۔ اس انوکھے واقعے سے ارشمیدس اور بھی مشہور ہو گیا۔ یوں بھی وہ ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور اس کے باپ نے جو ایک ہیئت داں تھا، اس کی تعلیم و تربیت پر پوری توجہ دی تھی۔ ارشمیدس کی ابتدائی تعلیم مصر کے شہر اسکندریہ میں ہوئی۔ مصر شروع سے ہی ایک زرعی ملک رہا ہے۔

ارشمیدس کو شروع سے انجینئرنگ سے دلچسپی تھی۔ اس نے آب پاشی کے لیے پیچ دار مشین ایجاد کی۔ آج ہماری بہت سی مشینیں اسی اصول پر کام کرتی ہیں۔ اس نے بعد میں مزید کئی مشینیں ایجاد کیں۔ آپ نے لیور یا بیرم کے بارے میں تو پڑھا ہوگا۔ ارشمیدس نے اسی سادہ مشین کے بارے میں کہا تھا مجھے ایک بڑا بیرم دے دو اور کھڑا ہونے کے لیے جگہ تو میں پوری زمین کو اٹھا دوں گا۔ خیر یہ بات تو ممکن نہیں تھی، لیکن ارشمیدس نے ایسی سادہ مشینیں ضرور ایجاد کیں جن کی مدد سے جہازوں پر سامان لادا اور اتارا جا سکتا تھا۔ آج بھی ہم بعض ایسی مشینیں استعمال کرتے ہیں۔ ارشمیدس نے اپنے ملک کو دشمنوں کے حملے سے بچانے کے لیے اور دشمن کو شکست فاش دینے میں بھی غیر معمولی خدمات سر انجام دیں۔

یہ اس وقت ہوا جب رومن جنرل مرسلیس نے ارشمیدس کے شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیا لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ارشمیدس نے ساحل پر ایسی مشینیں لگا رکھی ہیں جن کی مدد سے بڑے سے بڑا جہاز بھی غرق کیا جا سکتا ہے۔ کچھ جہازوں کو ارشمیدس نے رسیوں سے کھینچ کر چٹانوں سے ٹکرا ٹکرا کر پاش پاش کر دیا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے چند عدسوں اور شیشوں کی مدد سے رومنوں کے جہازی بیڑے میں آگ لگا دی تھی۔ الغرض رومن فوج اس یونانی ریاضی داں کی نت نئی ایجادات سے بوکھلا گئی اور بھاگ کھڑی ہوئی۔ اس قدر شہرت اور قابلیت کے باوجود ارشمیدس کی زندگی نہایت ہی سادہ تھی۔ غرور اسے چھو کر بھی نہیں گیا تھا۔ حد یہ ہے کہ اس نے اپنی ایجادات کو کتابی شکل میں جمع کرنے تک سے انکار کر دیا۔

اسے اپنا نام چھوڑجانے کی کوئی خوشی نہیں تھی۔ اپنی علمی قابلیت ہی کے بل بوتے پر تین سال تک اس نے رومن فوجوں کو اپنے ملک سے دور رکھا، لیکن پھر جنرل مرسلیس نے دھوکے بازی سے علم پر فتح پا لی اور شہر میں داخل ہو گیا۔ جنرل مرسلیس اچھی طرح جانتا تھا کہ ارشمیدس ہی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اس کے باوجود وہ قابلیت و ذہانت کی وجہ سے ارشمیدس سے محبت کرتا تھا۔ اس نے ارشمیدس سے ملنا چاہا اور ایک سپاہی اسے بلانے کے لیے بھیجا۔ جب سپاہی ارشمیدس کے گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ فرش پر بیٹھا ٹیڑھی میڑھی لکیریں کھینچ رہا ہے۔ وہ اپنے خیالات میں اتنا محو تھا کہ اسے سپاہی کے آنے کا پتا تک نہ چلا۔ سپاہی نے ایک دو مرتبہ اسے اپنے جنرل کے پاس چلنے کے لیے کہا، لیکن اس نے پروا نہ کی۔ اس پر سپاہی نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ڈاکٹر لوئیجی گیلوانی

سیارچے کے ٹکراﺅ سے برپا قیامت انسانی نسل کا خاتمہ کر دے گی : اسٹیفن ہاکنگ

معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ تیس برسوں کے دوران انسانوں نے خلاء میں نیا ٹھکانہ نہ ڈھونڈا تو انسانیت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
ناروے میں ایک سائنس فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ تیس برسوں میں انسانوں کو لازمی طور پر زمین چھوڑنا ہو گی ورنہ کسی سیارچے کے ٹکراﺅ سے برپا قیامت انسانی نسل کا خاتمہ کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں کو مریخ اور چاند پر نئی دنیا کو آباد کرنا ہو گا اور پودوں، جانوروں اور دیگر حیات کو بھی وہاں بسانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بہت کم وقت رہ گیا ہے جب زمین کسی سیارچے کے ٹکرانے، درجہ حرارت بڑھنے یا حد سے زیادہ آبادی کے نتیجے میں تباہ ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دیگر سیاروں میں جانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں کیونکہ خطرات بہت بڑے اور بہت زیادہ ہیں۔ ان کے بقول ‘میں اس بات کا قائل ہوں کہ انسانوں کو زمین چھوڑ دینی چاہیے، یہ سیارہ ہمارے لیے بہت چھوٹا ہو گیا ہے، ہمارے ذرائع خطرناک شرح سے ختم ہو رہے ہیں’۔ انہوں نے مزید کہا ‘ ہم نے اپنے سیارے کو موسمیاتی تبدیلیوں، بڑھتے درجہ حرارت اور قطبی برفانی خطوں میں کمی، جنگلات اور جانوروں کے خاتمے جیسے تباہ کن تحائف دیئے ہیں، اور ہم تیزی سے اپنے انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں’۔ اسٹیفن ہاکنگ کے مطابق ہمارے پاس جگہ ختم ہو رہی ہے اور اب رہنے کے لیے دیگر سیارے ہی بچے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زمین جلد کسی تباہ کن سیارچے سے ٹکرائے گی ‘یہ کوئی سائنس فکشن نہیں بلکہ فزکس کے قوانین کی ضمانت ہے، خلاء میں پھیلنے سے ہم انسانیت کے مستقبل کو مکمل طور پر بدل سکتے ہیں، اس سے ہی تعین ہو گا کہ ہمارا کوئی مستقبل ہے بھی یا نہیں’۔ انہوں نے کہا کہ چاند اور مریخ پہلی انسانی آبادیوں کے لیے بہترین مقامات ہیں، تاہم انسانوں کو نظام شمسی سے نکل کر قریبی ستاروں کے نظام تک جانا ہو گا۔

الفارابی کے نظریات

فارابی وہ پہلا ترک فلسفی تھا جسے بہت زیادہ شہرت نصیب ہوئی۔ فارابی نے نہ صرف فلسفہ یونان کا گہری نظر سے مطالعہ کیا بلکہ ارسطو کے فلسفہ کی تشریح لکھی اور اسے آسان بنایا۔ اس نے فلسفہ یونان اور اسلامی تعلیمات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ فارابی نے انسانی عقل کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک عقل عملی اور عقل نظری۔ عقل عملی ہمیں عمل کے بارے میں بتاتی ہے یعنی ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ جبکہ عقل نظری ہمیں استکمال ( perfection) حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ فارابی نے عقل نظری کو مزید تین حصوں میں تقسیم کیا۔ عقل ہیولانی عقل نالفعل اور عقل مستفاد۔

فارابی نے عقل نظری کو عقل عملی پر ترجیح دی۔ اس کا خیال تھا کہ اگر کوئی شخص کسی شے کا علم رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا یا اس علم کے مطابق اپنے کردار کو نہیں ڈھالتا تو وہ اس شخص سے بہرحال بہتر ہے جو اعمال تو نیک بجا لاتا ہے لیکن اس کے بارے میں علم نہیں رکھتا۔ اصل میں یہ بات اس نے سقراط کے زیر اثر کہی تھی یعنی سوچ سمجھ کر برائی کرنا بلا سوچے سمجھے نیکی کرنے سے بدرجہا بہتر ہے کیونکہ علم انسانی کو نتائج اور عواقب سے بچا سکتا ہے۔ فارابی نے ذہنی صحت کے سلسلے میں معاشرے کو بے حد اہمیت دی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ذہنی آسودگی اور کامیابی کا انحصار مل جل کر زندگی بسر کرنے میں ہے۔

اس نے معاشرے کی دو اقسام بیان کیں۔ کامل معاشرہ اور غیر کامل معاشرہ۔ کامل معاشرہ وہ ہے جس میں لوگ اتحاد و یگانگت سے رہیں اور غیر کامل معاشرہ وہ ہے جہاں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہو۔ ہر شخص محض اپنا مفاد ہی سوچے اور محض اپنی خاطر جئے۔ افلاطون نے بہترین معاشرے کا نام جمہوریت رکھا تھا۔ فارابی نے اسے شہر فضیلت کا نام دیا۔ یعنی وہ ایسی مثالی ریاست ہو گی جہاں لوگ ایک دوسرے سے تعاون کریں گے اور اپنی اور دوسروں کی زندگی کو خوشگوار بنانے میں ممدومعاون ثابت ہوں گے ۔

محمد عاصم صحرائی