متعدد وائرسوں کو بیک وقت تباہ کرنے والے نینو ذرات

بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے نینومیٹر جسامت والے انتہائی مختصر ذرّات یعنی نینو پارٹیکلز کو اس قابل بنا لیا ہے کہ اب وہ کئی اقسام کے وائرسوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں اب بھی متعدد اقسام کے وائرس کروڑوں افراد کو موت کے دہانے تک پہنچا رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک ہمارے پاس ان گنت اقسام کے وائرسوں کو روکنے والی دوائیاں موجود نہیں۔ یونیورسٹی آف الینوئے، شکاگو کے پروفیسر پیٹر کرال کی نگرانی میں بین الاقوامی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایسے نینو ذرات بنائے ہیں جو کئی طرح کے وائرسوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔

یہ نینو پارٹیکلز ہرپس سمپلکس وائرس، ہیومن پیپی لوما وائرس یا ایچ پی وی، ڈینگی اور لینٹی وائرس کا قلع قمع کر سکتے ہیں۔ قبل ازیں جو نینو ذرات بنائے گئے تھے وہ خلیے کے اندر وائرس جانے سے روکتے ہیں لیکن یہ نئے ذرات وائرس کو براہِ راست تباہ کرتے ہیں۔ اس پیش رفت کی ابتدائی تحقیقات ’’نیچر مٹیریلز‘‘ میں شائع ہوئی ہیں جن کے مطابق ان ماہرین نے ایسے نینو ذرات بنائے ہیں جو ایچ ایس پی جی کے تحت عمل کرتے ہیں (جس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں)۔ اس طریقے پر عمل کر کے یہ وائرس سے مضبوطی کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور اسے تباہ کر کے چھوڑتے ہیں۔

خلوی سطح پر عمل کرنے والا ایک پروٹین ہیپیرن سلفیٹ پروٹیو گلاکن (ایچ ایس پی جی) کہلاتا ہے۔ وائرس عام طور پر اسی پروٹین کے ذریعے صحت مند انسانی خلیات کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ عین یہی عمل نینو ذرات بھی کرتے ہیں اور کسی خلیے کے بجائے وائرس سے چمٹ کر اسے تباہ کرتے ہیں۔ ماہرین نے اپنی کاوش کو کامیاب بنانے کےلیے سوئٹزر لینڈ، اٹلی، فرانس اور چیک ری پبلک کے ماہرین کو اپنی ٹیم میں شامل کیا جن میں تجرباتی علوم کے ماہر، وائرس کا علم رکھنے والے سائنس دان اور بایوکیمسٹ بھی شامل تھے۔

ٹیم نے پہلے نینو پارٹیکلز اور ان کے کام کی کئی کمپیوٹر نقول (سمیولیشنز) بنائیں اور ذرات کو اپنے کام کے لحاظ سے تیار کیا۔ اس ضمن میں کمپیوٹر ماڈلنگ نے بھرپور مدد کی اور ایک ایک ایٹم کا کام نوٹ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ایسے نینو ذرات وجود میں آئے جو کئی اقسام کے خوفناک وائرسوں سے جڑکر انہیں تباہ کرتے ہیں جبکہ صحت مند خلیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ تجربہ گاہ میں نینو پارٹیکلز نے بہت کامیابی سے ہرپس سمپلکس وائرس، ہیومن پیپی لوما وائرس یا ایچ پی وی، ڈینگی، لینٹی وائرس اور دیگر اقسام کے وائرسوں کو ختم کر دکھایا۔ اگلے مرحلے پر مزید تجربات کیے جائیں گے تاکہ ان ذرات کو پہلے جانوروں اور کامیابی کی صورت میں انسانوں پر آزمایا جا سکے۔

Advertisements

سال رواں کی دو اہم دریافتیں

سال رواں اختتام کے قریب ہے۔ اس میں دو اہم دریافتیں ہوئیں۔ ماہرینِ فلکیات نے کم و بیش ہمارے سیارے یعنی زمین جیسے حجم کے سات سیارے دریافت کیے جو ایک ستارے کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق ان ساتوں سیاروں پر مائع پانی ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ ان کا ماحول ہمارے نظام سے ملتا جلتا ہے۔ ان کے مطابق ان سات سیاروں میں سے تین تو خلا میں اس علاقے میں گردش کر رہے ہیں جہاں زندگی پائے جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ان سیاروں کو ناسا کی سپٹزر سپیس ٹیلی سکوپ اور دیگر آبزرویٹریز نے دریافت کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ثقلیت کی لہروں کی پہلی مرتبہ نشاندہی سے علمِ فلکیات میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ رواں سال سائنس دانوں نے بتایا کہ انہوں نے زمین سے ایک ارب نوری سال سے زیادہ کے فاصلے پر واقع دو بلیک ہولز کے تصادم کی وجہ سے ’’سپیس ٹائم‘‘ میں ہونے والی تبدیلی کا مشاہدہ کیا ہے۔ یوں 2017 میں سائنسدانوں نے خلا میں ثقلیت کی لہروں کو تلاش کر لیا ۔ سائنس دانوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو بلیک ہولز کے تصادم سے خارج ہونے والی ثقلیت کی لہروں کا امریکا میں دو تجربہ گاہوں میں مشاہدہ کیا گیا۔

ٹیلی گراف کے موجد سیموئل مورس کی کہانی

ٹیلی گراف یا تار برقی کی مدد سے آپ کا پیغام ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاتا ہے۔ کبھی یہ طریقہ بہت مقبول تھا۔ ان آوازوں کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا۔ صرف وہی لوگ ان کا مطلب سمجھ سکتے ہیں جو اس کام کی تربیت لیتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ آواز تاروں میں سفر نہیں کرتی بلکہ برقی ارتعاشات سفر کرتے ہیں۔ دوسری جگہ برقی ارتعاش پھر انہیں آوازوں میں تبدیل کر دیے جاتے ہیں اور آپ کا پیغام آپ کے دیے ہوئے پتے پر پہنچا دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ الفاظ کو آوازوں میں نیز آوازوں کو الفاظ میں تبدیل کر نے کی باقاعدہ تربیت حاصل کرتے ہیں، جس نظام کے مطابق یہ تربیت دی جاتی ہے، اسے مورس کوڈ کہتے ہیں اور اسے سیموئل فنلے مورس نامی ایک موجد نے ایجاد کیا تھا۔

وہ 1791ء میں امریکا میں پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا، پھر بھی اس نے محنت کی اور ابتدائی تعلیم ختم کر کے کالج میں داخل ہو گیا۔ یہاں بھی مفلسی نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔ اس لیے اس نے تصویریں بنانا شروع کر دیں۔ اسے تصویریں بنانے کا بہت شوق تھا۔ اس وقت فوٹو گرافی عام نہیں ہوئی تھی۔ ہاتھی دانت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر ہاتھ سے تصویریں بھی کھود لی جاتی تھیں۔ مورس ایک تصویر بنانے کے لیے پانچ ڈالر لیا کرتا تھا۔ تصویریں بنانے کے علاوہ اسے بجلی کے تجربوں سے بھی دلچسپی تھی۔ اس زمانے میں امریکا کی نسبت انگلستان میں تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات زیادہ تھیں۔ اس لیے مورس نے انگلستان جانے کا ارادہ کیا۔ بڑی مشکل سے اس کا شوق پورا ہوا اور وہ انگلستان میں چار سال رہ کر امریکا واپس آ گیا۔ وہ اب بھی غریب تھا۔ بے چارہ معمولی کپڑے پہنے ادھر ادھر پھر کر تصاویر بیچا کرتا تھا۔

مورس کو شروع ہی سے موجد بننے کا شوق تھا۔ وہ ہر وقت اس فکر میں لگا رہتا تھا کہ کوئی ایسی چیز ایجاد کی جائے جو عوام کے کام آ سکے۔ مفلسی سے نجات پانے کے لیے اس نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر پانی اوپر چڑھانے کا پمپ بنایا، لیکن لوگوں نے اس کی کچھ قدر نہ کی اور وہ غریب کاغریب ہی رہا۔ تنگ آ کر اس نے یورپ کی راہ لی اور تھوڑا عرصہ وہاں گزار کر پھر واپس آ گیا۔ واپسی پر وہ جہاز کے ایک کمرے میں جہاں اور بھی بہت سے لوگ موجود تھے، بیٹھا تھا کہ ادھر ادھر کی باتیں شروع ہو گئیں۔ ایک شخص نے کہا کہ اس نے پیرس میں بجلی کا ایک حیرت انگیز تجربہ دیکھا ہے۔ ایک کمرے میں بجلی کی تاروں کا جال بچھا ہوا ہے بجلی پل بھر میں ایک سے دوسرے سرے تک پہنچ جاتی ہے۔

یہ سن کر مورس نے کہا ’’اگر یہ بات ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ بجلی کی مدد سے ایک سے دوسرے جگہ خبریں نہ بھیجی جا سکیں۔‘‘ مورس کے جواب پر کسی نے دھیان نہ دیا اور بات آئی گئی ہو گئی۔ لیکن مورس کے دل کو یہ بات لگ گئی اور اس نے تجربہ کرنا چاہا۔ وہ خود اتنا غریب تھا کہ معمولی تجربوں کا خرچ بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ اس کا شوق دیکھ کر اس کے بھائیوں نے ایک کمرہ اسے دے دیا جہاں وہ تار برقی کے بھدے سے آلے کی مدد سے اپنے تجربات کیا کرتا تھا۔ چند سال کے بعد مورس کی قسمت چمکی اور اسے ایک کالج میں پڑھانے کی جگہ مل گئی۔ وہاں بھی اس کا تار برقی کا شوق جاری رہا۔ خوش قسمتی سے ایک دولت مند شخص کا بیٹا اس کے ساتھ ہو گیا۔

اب مورس کی مالی مشکلات دور ہو گئیں اور اس نے اپنے تجربات آگے بڑھائے۔ وہ اپنی ایجاد سے کوئی نفع نہیں کمانا چاہتا تھا بلکہ اس کی خواہش یہ تھی کہ وہ دنیا کو ایک مفید آلہ دے اس نے بڑی محنت سے تجربات شروع کیے۔ چند اور آدمی بھی اس کے ساتھ ہو گئے۔ مسلسل کوشش کے بعد ایک مشین تیار ہو گئی جو بجلی کی مدد سے پیغامات ادھر سے ادھر بھیج سکتی تھی۔ اس مشین پر جو پہلا پیغام تھوڑے سے فاصلے پر بھیجا گیا، وہ یہ تھا ’’جو لوگ صابر اور مستقل مزاج ہوتے ہیں، ان کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔‘‘ یہ تھا دنیا کا پہلا تار۔ اس ایجاد کو بڑے پیمانے پر عام کرنے میں اب بھی ایک مشکل تھی، جیسا کہ قاعدہ ہے، لوگ نئی چیزیں آزماتے ہوئے ہچکچاتے ہیں اور انہیں شبہے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

اگرچہ امریکا کے صدر اور اعلیٰ حکام اس ایجاد میں دلچسپی رکھتے تھے۔ پھر بھی ملک کی سب سے بڑی مجلس اسے رائج کرنے پر روپیہ صرف کرنے کی منظوری نہیں دیتی تھی۔ بڑی مشکل سے واشنگٹن اور بالٹی مور تک جو امریکا کے دو مشہور شہر ہیں، تار برقی کا سلسلہ آزمائشی طور پر شروع کر نے کے لیے 30 ہزار ڈالر منظور ہوئے۔ کام شروع ہوا اور تار برقی کی پہلی لائن بچھا دی گئی ۔ پہلے تو تار نلوں کے ذریعے زمین میں ڈالے گئے۔ لیکن جلد ہی پتا چل گیا کہ تار بہت جلد خراب ہو جاتے ہیں اور بجلی بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ مورس کو بڑی تشویش ہوئی کیونکہ اس کام کے لیے جو رقم منظور ہوئی تھی، اس میں سے اب صرف سات ہزار ڈالر باقی بچے تھے۔

دوسرا خطرہ یہ تھا کہ اب اگر وہ کسی تبدیلی کا اعلان کرتا ہے تو عوام اس کی طرف سے بدظن ہو جائیں گے کہ اس نے قوم کا روپیہ برباد کیا ہے۔ اس وقت مورس کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے زمین کھودنے والی مشین کو ایک بڑے پتھر سے ٹکرا کر توڑ پھوڑ ڈالا۔ اس کے بعد سوال پیدا ہوا کہ اب تار کس طرح بچھائے جائیں۔ آخر فیصلہ ہوا کہ تار لکڑی کے کھمبوں پر لگائے جائیں۔ اس طرح 1844ء میں دنیا کا تار برقی کا پہلا سلسلہ قائم ہوا۔ آہستہ آہستہ تار برقی کا سلسلہ امریکا سے نکل کر دوسرے ملکوں تک پہنچا اور پھر گاؤں گاؤں پھیل گیا۔ خشکی پر تو کھمبوں اور تاروں کا جال بچھا دیا گیا لیکن دنیا میں خشکی کم اور تری زیادہ ہے۔ براعظم کے درمیان سیکڑوں میل لمبے سمندر حائل ہیں۔ تار برقی کی ایجاد نے ترقی کی تو سمندر میں بھی موٹے موٹے تار ڈال دیے گئے۔ انہیں کیبل کہتے ہیں۔ اس طرح سمندرکے ذریعے دوسرے ملک کو پیغام یا خبر بھیجی جانے لگی۔ مورس کی امریکا اور یورپ میں بڑی عزت ہوئی۔ 1872ء میں جب اس کی عمر 81 برس تھی، وہ اس دنیا سے چل بسا۔

علی ناصر زیدی

یورپ نے تحقیق مسلمانوں سے لی

رابرٹ بریفالٹ نے کہا ہے کہ اِس بات کا غالب اِمکان ہے کہ عرب مشاہیر سے خوشہ چینی کئے بغیر جدید یورپی تہذیب دورِ حاضر کا وہ اِرتقائی نقطۂ عروج کبھی حاصل نہیں کر سکتی تھی جس پر وہ آج فائز ہے۔ یوں تو یورپی فکری نشو و نما کے ہر شعبے میں اِسلامی ثقافت کا اثر نمایاں ہے لیکن سب سے نمایاں اثر یورپی تہذیب کے اُس مقتدِر شعبے میں ہے جسے ہم تسخیرِ فطرت اور سائنسی وجدان کا نام دیتے ہیں۔ یورپ کی سائنسی ترقی کو ہم جن عوامل کی وجہ سے پہچانتے ہیں وہ جستجو، تحقیق، تحقیقی ضابطے، تجربات، مُشاہدات، پیمائش اور حسابی مُوشگافیاں ہیں۔ یہ سب چیزیں یورپ کو معلوم تھیں اور نہ یونانیوں کو، یہ سارے تحقیقی اور فکری عوامل عربوں کے حوالے سے یورپ میں متعارف ہوئے۔

دی متری مینڈیلیو : معروف روسی کیمیا دان

دی متری مینڈیلیو فروری 1834ء کو سائبیریا میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک مقامی سکول میں پرنسپل کے عہدے پر فائز تھے۔ گھر میں بہت سارے بچے تھے اور دی متری مینڈیلیو اپنے گھر میں سب سے چھوٹے تھے۔ مینڈیلیو کے دادا ایک تعلیم یافتہ اور معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کے دادا نے سائبیریا میں سب سے پہلے پریس کھولا اور وہاں سے اخبار بھی نکالا۔ ان کے والد کو آنکھوں میں تکلیف کی وجہ سے سکول سے چھٹی لینی پڑی اور حالات یہاں تک آ پہنچے کہ انہیں ملازمت سے استعفیٰ دینا پڑا۔

گھر کے حالات ابتر ہونے لگے۔ ذرائع آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے پریشانیاں سامنے آنے لگیں۔ اس کا اثر نہ صرف دی متری مینڈیلیو بلکہ گھر کے سب ہی افراد پر پڑا۔ گھر کی خراب حالت دیکھتے ہوئے ان کی ماں نے سائبیریا میں ہی گلاس کی فیکٹری قائم کی۔ جس سے گھر کے کچھ حالات بہتر ہوئے۔ اسی دوران مینڈیلیو کے والد کی موت بھی واقع ہو گئی اور ماں کی قائم شدہ فیکٹری میں بھی آگ لگ گئی۔ گھر کے حالات ایک مرتبہ پھر خراب ہونے لگے۔ اس خستہ حالی میں مینڈیلیو نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور 1849ء کو ہائی سکول پاس کیا۔ مینڈیلیو کی والدہ اپنے بچوں کو لے کر ماسکو آگئیں تاکہ بچوں کی پرورش کے لیے کچھ اور بہتر ذرائع تلاش کیے جا سکیں۔

پریشانیوں نے انہیں وہاں بھی آگھیرا۔ مینڈیلیو کو کالج میں داخلہ کرانے میں کامیابی نہیں ملی۔ ان کے والد کے ایک دوست نے مینڈی لیو کو ایک کالج میں داخلہ دلانے میں مدد کی۔ کالج کی تعلیم کے دوران مینڈیلیو نے کافی محنت کی اور اچھے نمبروں میں امتحان پاس کیا۔ وہ گریجوایٹ ٹریننگ کے لیے فرانس اور جرمنی بھی گئے۔ کہاجاتا ہے کہ مینڈیلیو نے بن سین (Bun Sen) جیسے عظیم سائنس دان کے ساتھ کام کیا۔ اسی دوران مینڈیلیو نے کینیزارو کے لیکچر سنے اور وہ ان سے بہت متاثر بھی ہوئے۔ 1822ء میں سینٹ پیٹرز برگ آئے اور یونیورسٹی کے عہدے پر فائز ہو گئے۔

مینڈیلیو کو سائنسی تدریس میں مہارت حاصل تھی بہت تھوڑے وقفہ میں انہیں شہرت بھی ملی۔ 1868ء کے دوران مینڈیلیو نے دی پرنسپلز آف کیمسٹری لکھی۔ اس کتاب کو سائنس کی دنیا میں انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔ مینڈیلیو نے پیروڈک ٹیبل (Periodic Table) ترتیب دی۔ یہ ٹیبل آج بھی جدید کیمسٹری میں استعمال کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مینڈیلیو نے تقریباً 63 قسموں کے ایلی منٹس یا عناصر کو ان کی ویلنسی (valency) کی بنا پر الگ الگ گروپ میں تقسیم کیا تھا۔ انہوں نے 1869ء میں پیروڈک ٹیبل شائع کی اور اس تحقیقی کام کی وجہ سے مینڈیلیو کو بین الاقوامی شہرت ملی۔ مینڈیلیو نے اپنی تحقیق روسی زبان میں لکھی تھی جس کو بعد میں جرمن زبان میں ترجمہ کیا گیا۔

آپ سائنسی کارناموں کو فروغ دینے کے لیے دن رات مصروف رہتے تھے۔ 1871ء کے جنوری کے شمارے میں جرنل آف رشین کیمیکل سوسائٹی میں آپ نے پیروڈک ٹیبل شائع کی اور کچھ نئے ایلی منٹس کی موجودگی کی طرف اشارہ کیا۔ آپ کی سائنسی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے رائل سوسائٹی لندن نے 1882ء میں ڈیوی میڈل سے نوازا۔ 1905ء میں آپ کی کتاب کا انگریزی میں ترجمہ ہوا اور 1955 میں ایک نئے ایلی منٹ کی دریافت سے پیروڈک ٹیبل میں اضافہ ہوا، اس نئے ایلیمنٹ کا نام مینڈیلیوئم رکھا گیا۔ مینڈیلیو نہ صرف ایک اچھے سائنس دان تھے بلکہ ان کی شہرت ایک اچھے انسان کی بھی تھی۔ 1906ء میں آپ کو نوبیل کمیٹی نے نوبیل انعام کا مستحق پایا۔ آپ 1907ء میں اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ آپ کی وفات سے سائنس کی برادری میں ایک کمی محسوس کی جانے لگی۔

احرار حسین

سعودی عرب میں دنیا کا سب سے بڑا کیمیکل پلانٹ لگانے کا معاہدہ

سعودی عرب میں 20 ارب ڈالر کی لاگت سے دنیا کا سب سے بڑا کیمیکل پلانٹ لگانے کا معاہدہ طے پا گیا جس کے ذریعے ریاست میں 30 ہزار نوکریاں پیدا ہوں گی۔ سعودی آئل کمپنی آرامکو اور سابک (سعودی عربین بیسک انڈسٹریز کوآپریشن) کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے گئے جس کے مطابق 20 ارب ڈالر کی لاگت سے دنیا کا سب سے بڑا کیمیکل پلانٹ لگایا جائے گا جس میں خام تیل (کروڈ آئل) آئل کے ذریعے کیمیکل بنایا جائے گا، اس اقدام کا مقصد تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے باعث پیدا شدہ مالی بحران کو کیمیکل کی فروخت سے سہارا دینا ہے اور سعودی عرب کے دو بڑے صنعتی اداروں کی شراکت داری سے ایک نئی جدت پیدا کرنا ہے۔

سابک کے سی ای او عبداللہ البنیان نے عرب نیوز کو بتایا کہ یہ اقدام سعودی عرب کے وژن 2030ء کے تحت اٹھایا جا رہا ہے جس کے ذریعے صنعتی شعبے کی سرمایہ کاری میں یک دم اضافہ ہو گا اور مقامی افراد کے لیے نوکریاں پیدا ہوں گی، اس انڈسٹریل کمپلیکس سے ریاست کی اقتصادی نمو میں اضافے میں مدد ملے گی۔ سعودی تیل کمپنی آرامکو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ کمپلیکس سال 2025ء تک مکمل ہو کر کام شروع کر دے گا، اس میں یومیہ 4 لاکھ بیرل خام تیل پروسس کیا جائے گا جس سے سالانہ مد میں تقریباً 9 ملین ٹن کیمیکل حاصل ہوگا، آرامکو اور سابک کے مطابق اس ضمن میں دونوں کمپنیاں یکساں رقم کی سرمایہ کاری کریں گی، کمپلیکس کے نتیجے میں بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 30 ہزار سے زائد افراد کو روزگار حاصل ہو گا جس سے سعودیہ عرب کی جی ڈی پی میں 1.5 فیصد حصہ شامل ہو گا۔
 

معروف سائنس دان ہمفری ڈیوی

ہمفری ڈیوی 17 دسمبر 1778ء کو کون وال کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ایک مقامی سکول میں حاصل کی۔ وہ بچپن سے ہی تجربات کیا کرتے تھے۔ سائنسی مضامین سے دلچسپی لیتے اور ان میں ہی تجربے بھی کیا کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ ڈیوی نے اپنی جماعت میں شہرت پائی اوران کے اساتذہ بھی ان کی اس سلسلے میں عزت افزائی کرتے تھے۔ ڈیوی علم کیمیا میں خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ 1797ء میں ڈیوی نے نائٹرس آکسائید گیس پر اینس تھیٹک ردعمل (Anaesthetic Effect) پر کافی تحقیقی کام کیا۔ 

اس گیس کا انسان پر ردعمل دیکھنے کے لیے انہوں نے سب سے پہلے اس گیس کو سونگھا اوروہ بے ہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا تو اس گیس کے ردعمل سامنے آئے۔ اس گیس کو سونگھنے سے انسان پر لافنگ افیکٹس (Laughing Effect) ردعمل سامنے آئے۔ اس ایجاد کے بعد ڈیوی اپنے حلقے میں کافی مشہور ہو گئے۔ آپ کی خدمات کو دیکھتے ہوئے رائل انسٹی ٹیوٹ آف لندن میں لیکچرر کے عہدے پر فائز کیا گیا اور اس طرح ڈیوی نے تحقیق کے ساتھ ساتھ تدریس کا کام بھی سر انجام دیا۔ ڈیوی کی اس ایجاد کے بہت سے روپ سامنے آئے۔ اس گیس کا استعمال جراحی کے دوران مریض کو بے ہوش کرنے کے لیے کیا گیا۔

اس کے علاوہ ڈیوی نے وولٹائک سیلز اور علم کیمیا پر بھی تحقیق کی اور بہت کارآمد نتائج برآمد کئے۔ 1807ء میں سوڈیم اور پوٹاشیم کو کیمیکل کمپاؤنڈز سے ڈی کمپوز کر کے الگ کیا اور بوریکس اور پوٹاشیم سے بورون حاصل کیا۔ 1815ء میں ڈیوی نے سیفٹی لیمپ بنایا۔ اس کارنامے سے انگلینڈ کی مائننگ انڈسٹری کو کافی راحت ملی۔ ہمفری ڈیوی کو بہت سے انعامات سے نوازا گیا اور ان کو سر کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی تحقیق، مطالعہ، تدریس اور سائنس کے فروغ میں صرف کی ۔ اس روشن خیال سائنس دان کی وفات 1829ء کو جینوا میں ہوئی۔

اسرار حسین

 

لیووزیر : سزائے موت پانے والا عظیم کیمیادان

انقلاب فرانس کے منصفوں نے اپنے ملک کے سب سے بڑے سائنسدان کو موت کے گھاٹ اتارنے کا حکم سنایا لیکن اس ’’انصاف‘‘ پر جلدی ہی ملک کو پشیمان ہونا پڑا۔ دو سال بعد ہی فرانس کی حکومت نے اس سائنسدان کا پوری شان سے دوبارہ جنازہ نکالے کا اہتمام کیا اور اس موقع پر اس کی تعریف اور احترام میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔ انتونی لیووزیر (1794-1743ئ) ایک خوش حال گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کے وکیل باپ نے لڑکے کو بھی وکالت کی تعلیم دلائی۔ مگر آبائی پیشہ کو اپنانے کی بجائے اس نے سائنس میں دلچسپی لینی شروع کر دی۔ نئے میدان میں کامیابی حاصل کرنے میں اسے دیر نہ لگی۔ 22 سال کی عمر میں اس نے فرانس کی سائنس اکادمی کو پیرس کی گلیوں میں بجلی لگوانے کے مسئلے پر ایک انعامی مقابلہ کے لیے ایک منصوبہ بھیجا جس پر اسے سونے کا ایک تمغہ ملا۔

اس کے بعد اسے اس زمانہ کے مشہور ماہر جیالوجی کوٹرڈ کے ساتھ فرانس کا سروے کرنے کا موقع ملا۔ اس دورے کے دوران اس نے فرانس کی مختلف قسم کی زمینوں، کانوں، دریاؤں، پودوں، دھاتوں اور موسموں کا مطالعہ کیا۔ 25 سال کی چھوٹی سی عمر میں اس کا م کی قدر کے طور پر لیووزیر کو اکادمی کا ممبر چنا گیا۔ اس عزت افزائی کے بعد اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئیں۔ اکادمی کے ممبر کے طور پر اس نے متعدد قسم کے مسائل پر کھوج کی، جن میں قابل ذکر یہ ہیں: پیرس میں پانی کی فراہمی، فاسفورس کی کشید، لاوا کا ٹمپریچر ناپنا، پیرس کی نالیوں کی بدبو دور کرنا، کیڑے مکوڑوں کے سانس لینے کا طریقہ، بارود کی بناوٹ، لوہے کو زنگ لگنا، سبزی کے بیجوں سے تیل نکالنا، کپڑے کے داغ دور کرنا، جہازوں میں صاف پانی ذخیرہ کرنا، رنگوں کی تھیوری وغیرہ۔

ان سائنسی کارناموں کے علاوہ لیووزیر نے اسلحہ خانے کے منیجرکی نوکری حاصل کر لی۔ ساتھ ہی اس نے ایک ایسی کمپنی کے ساتھ بھی کام شروع کیا جو اس زمانے میں عوام سے ٹیکس وصول کرنے کا سرکار سے ٹھیکہ کر لیتی تھی۔ اس طرح اس کی آمدنی کافی بڑھ گئی جس کا بیشتر حصہ وہ سائنس کے تجربوں پر خرچ کرتا تھا۔ ٹیکس وصول کنندہ کے طور پر کام کرتے ہوئے نوجوان سائنسدان کی ملاقات ایک خوبصورت نوعمر لڑکی سے ہوئی جس سے نہ صرف جہیز بلکہ ایک سمجھدار بیوی بھی ملی جو ایک قابل سیکریٹری ثابت ہوئی۔ وہ انگریزی اور فرانسیسی زبانیں جانتی تھی۔ اس نے اپنے خاوند کے لیے ان زبانوں میں دستیاب سائنس کی کتابوں کے فرانسیسی میں ترجمہ کیا۔ 

اسلحہ خانہ کے اندر ہی لیووزیر نے اپنی تجربہ گاہ قائم کی جسے اس نے زمانے کے قیمتی سے قیمتی آلات سے لیس کیا اور جہاں بہترین سائنس دانوں کو کام پر لگایا۔ اس تجربہ گاہ میں ہی اس نے جدید کیمسٹری کی سائنس کی بنیادیں رکھیں۔ اس سے پہلے کیمسٹری کیمیا گری کا ہی دوسرا نام تھا۔ لیووزیر نے ثابت کیا کہ کیمیا گری محض توہمات پر مبنی نہیں ہے اس نے کیمسٹری کے بنیادی اصول دریافت کیے ، کیمسٹری کی بیشتر ابتدائی اصطلاحات بھی اسی نے تیار کیں جو آج تک زیراستعمال ہیں۔ لیووزیر نے 1789ء میں کیمسٹری کی بنیادی کتاب شائع کی جو کیمسٹری کے میدان میں اتنی ہی معرکہ آرا تھی جتنی فزکس کے میدان میں نیوٹن کی کتاب۔ 

اس کتاب سے سائنس کی دنیا میں اتنی ہل چل مچی کہ مصنف نے خود اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ میری نئی تھیوری دنیا کے فکری حلقوں میں انقلاب کی طرح چھا گئی ہے۔ کیمیائی گروں کا اعتقاد تھا کہ پانی کو مٹی، مٹی کو لوہا اور لوہے کو سونے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، وہ آگ کو ایک الگ عنصر مانتے تھے۔ جو ہر چیز میں موجود ہوتا ہے۔ اورجلنے کے کام آتا ہے۔ لیووزیر نے بتایا کہ پانی، مٹی، لوہا اور سونا کی بناوٹ الگ الگ ہے۔ اس طرح اس نے کیمیا گروں کی توہمات کا پردہ فاش کیا۔ مثال کے طور پر اس نے یہ حیرت انگیز دریافت کی کہ پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن کی گیسوں کے مرکب سے بنتا ہے۔ ان دو گیسوں کے نام بھی سب سے پہلے اسی نے رکھے۔ پرسیٹلے نے اس سے پہلے ہوا کی بناوٹ پر کھوج کی تھی۔ اس کے نتائج کو استعمال کرتے ہوئے لیووزیر نے بتایا کہ ہوا مختلف گیسوں کا مجموعہ ہے۔

لیووزیر نے بہت سے تجربوں سے ثابت کیا کہ آگ کوئی الگ عنصر نہیں جو کسی چیز کے جلنے کے بعد اس سے نکل جاتا ہے۔ انہی تجربوں سے اس نے ایک اور اہم نتیجہ اخذ کیا جو آئن سٹائن کی دریافتوں تک سائنس کا بنیادی اصول رہا یعنی مادہ کی شکل تبدیل کرنے سے اس کی کل مقدار میں کمی یا بیشی نہیں ہو سکتی۔ لیووزیر نے ہیرے کے ٹکڑے کو جلا کر کاربن ڈائی آکسائیڈ حاصل کی اور ثابت کیا کہ ہیرا اور کوئلہ دونوں کاربن کی مختلف شکلیں ہیں۔ اس نے انسانی جسم میں قوت ہونے پر بھی تجربے کیے۔ لیووزیر کی دلچسپیاں سائنس تک محدود نہ تھیں۔ اسے بینک آف فرانس کا صدر بنایا گیا جس کی حیثیت سے اس نے قومی اسمبلی کو افراط زر پر ایک رپورٹ دی جس کی ماہرین اقتصادیات نے بھی تعریف کی۔ 

اس نے انقلاب فرانس کے بعد انقلابی حکومت کا تعلیمی ڈھانچہ بھی تجویز کیا اور ناپ تول کا اعشاریہ نظام دریافت کیا۔ وہ ایک سیاسی شخصیت بھی بنا اور عارضی پارلیمنٹ میں عوام کی نمائندگی کی جہاں اس نے اعلان کیا کہ یہ خوشی چند لوگوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ سب کی ملکیت ہونی چاہیے۔ شہرت اور کامیابی کی اس بلندی پر پہنچنے کے بعد انقلاب فرانس کے ایک رہنما کے ساتھ لیووزیر کا سائنس کے ایک مسئلہ پر جھگڑا ہو گیا۔ انقلابی رہنما سائنس کا رہنما بننا چاہتا تھا۔ اس نے آگ کی بناوٹ پر ایک کتاب لکھی جس کی لیووزیر نے تردید کی۔ اس پر بگڑ کر اس نے اپنے اخبار میں اس کے خلاف اشتعال انگیز مضامین لکھے۔

آخر فرانس کے اس عظیم سائنس دان کو 50 سال کی عمر میں ٹیکس فراڈ، تمباکو میں ملاوٹ اور بغاوت کے جرم میں گرفتار کر کے موت کی سزا دی گئی۔ مرنے سے پہلے ایک خط میں اس نے اپنے بھائی کو لکھا۔ ’’میں نے کافی لمبی اور خوشی کی زندگی گزاری ہے۔ مجھے بڑھاپے کی بے آرامی سے چھٹکارا مل گیا۔ میں اپنے پیچھے کچھ علم اور شاید کچھ شہرت چھوڑ چلا ہوں اس سے زیادہ اس دنیا میں اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔‘‘

بلراج پوری

 

ابن سینا اور ابن خلدون کا نظریہ ریاست

جہاں تک ابن سینا کے سیاسی فلسفے کا تعلق ہے، تین عوامل اس میں مدغم ہوگئے تھے : یونانی افکار، ان پر فارابی کے اضافے اور ترامیم، اور خلافت کے بارے میں راسخ العقیدگی پر مبنی نظریات جو فقہا نے پیش کیے تھے۔ ابن سینا بھی فارابی اور یونانی مفکرین کی طرح یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ انسان کا اصلی مقصد ’’حصولِ مسرّت‘‘ ہے۔ اس کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ جو ریاست پیغمبرِ قانون ساز پر نازل شدہ وحی پر مبنی شریعت کے مطابق قائم ہوئی تھی، وہ طاقت (ملک) کے بل پر قائم کردہ ریاست سے کہیں زیادہ اعلیٰ اور بلند تھی۔

جہاں تک خلافت کا تعلق ہے، ابن سینا کا خیال تھا کہ خلیفہ جسے شریعت کا مکمل علم حاصل ہونا چاہیے، اس کی اطاعت اس لیے کرنی چاہیے کہ وہ پیغمبر ِقانون ساز کا وارث ہے۔ اس نے بھی خلیفہ کے وہی فرائض، ذمہ داریاں اور اوصاف بتائے ہیں جو فقہا نے گنوائے ہیں۔ البتہ یہ اضافہ کیا کہ خلیفہ کا انتخاب پوری امتِ مسلمہ کو کرنا چاہیے۔ ابن سینا نے فقہا سے معنوی لحاظ سے اختلاف کیا، جب اس نے کہا کہ غاصب (متغلّب) حکمران کے خلاف جنگ کرنی چاہیے اور ممکن ہو تو اسے قتل کر دینا چاہیے۔ اس نے تو یہاں تک کہا کہ جو شہری غاصب کے خلاف جنگ کے وسائل رکھنے کے باوجود جنگ نہیں کرتے، وہ مستوجب سزا ہیں۔

بے شک ابن سینا کا مرتبہ عالی اور بلند ہے، لیکن بدقسمتی سے اس کے نظریات میں بھی تضاد پایا جاتا ہے۔ اس نے دلیل کے ساتھ کہا تھا کہ اگر ایک کمزور اور نااہل خلیفہ کو ہٹا کر اس کی جگہ ایک طاقتور اور عقل مند باغی کو تخت پر بٹھا دیا جائے تو شہریوں کو چاہیے کہ وہ باغی کا دعویٰ تسلیم کریں، بشرطیکہ دوسرے اعتبارات سے بھی وہ اِس منصب کے اہل ہو۔ گویا ابن سینا نے اپنا سابقہ سخت اور بے لچک موقف ایک ایسے حکمران کے حق میں بدل لیا جس کی حکمرانی طاقت اور ذہانت پر مبنی ہو۔ ظاہر ہے کہ اس نے اس نکتے پر زور دیا کہ ایک طاقتور اور ذہین، مگر کم پارسا، غاصب حکمران ایک کمزور اور نااہل، مگر متقی خلیفہ کے مقابلے میں بہتر اور قابلِ ترجیح ہے۔ 

ابن سینا نے عبادات اور معاملات میں بھی امتیاز روا رکھا۔ اس نے کہا کہ عبادات کی انجام دہی ضروری ہے، اس لیے کہ یہ ملتِ اسلامیہ کے ہر فرد کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن امام کو بنیادی طور پر شہریوں کے معاملات سے تعلق رکھنا چاہیے۔ معاشرتی تعلقات کی تنظیم ایسی قانون سازی سے کرنی چاہیے جو شہریوں کی جان و مال اور لین دین کے معاملات کا تحفظ کر سکے۔ اس نے سفارش کی کہ شریعت کا نفاذ ہونا چاہیے اور جو لوگ شریعت کے مخالف ہوں، انھیں ریاست سے نکال باہر کرنا چاہیے۔ اس کا حصولِ مسرت کا دوگونہ تصور بھی یعنی موجودہ دنیا میں انسان کی خوشحالی اور آخرت میں نعمتوں کے حصول کی تیاری، شریعت پر پوری پابندی کے ساتھ عمل کرنے سے وابستہ ہے۔

دوسرے مسلمان مفکرین کی طرح ابن رشد کا بھی یہی خیال تھا کہ انسان مسرت یا کاملیت عالم تنہائی میں حاصل نہیں کر سکتا۔ اسے دوسرے انسانوں سے سیاسی تعلقات ضرور استوار کرنے چاہئیں۔ وہ ریاست کے بغیر زندہ بھی نہیں رہ سکتا۔ اس کا یہ اصرار عین منطقی ہے، کیونکہ ایک اچھی ریاست یقینا قانون پر مبنی ہوتی ہے۔ مثالی ریاست وہ ہوتی ہے جس کی بنیاد وحی پر رکھی گئی ہو اور سچی خوشی یا اعلیٰ ترین کاملیت ایسی ہی ریاست میں حاصل ہو سکتی ہے۔ مثالی ریاست کا آئین شریعت ہے۔ چونکہ صرف فلسفی ہی شریعت کے گہرے اسرار و معانی سمجھنے کی قابلیت رکھتا ہے، اور وہی ان کی صحیح تشریح کر سکتا ہے، لہٰذا اسے مثالی ریاست کی سیاست میں انتہائی اہم کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ 

ابن رشد اگرچہ خود بھی عالمِ دین تھا، مالکی مکتب کا فقیہہ تھا، قرطبہ کا قاضی تھا، تاہم وہ شریعت کی تفہیم و تشریح کے معاملے میں فلاسفہ کو علمائے دین اور فقہا کے مقابلے میں بہتر اور قابل ترجیح سمجھتا تھا۔ ابن خلدون نے شریعت کی بنیاد پر قائم شدہ ریاست (سیاستِ دینیہ) اور عقل کی بنیاد پر قائم شدہ ریاست (سیاست عقلیہ) کے درمیان خطِ امتیاز کھینچا ہے اس کا نظریہ تاریخ زیادہ تر ’’عصبیت‘‘ کے تصور پر استوار ہے۔ عصبیت کا مطلب ہے، ایک گروہ یا خاندان کا دعویٰ حکمرانی، اجتماعی کارناموں اور فتوحات کی وجہ سے حاصل شدہ شہرت ، عزمِ صمیم اور زبردست طاقت کی اساس پر۔ 

ابن خلدون کے نظریے کے مطابق جب تک ایک گروپ (مثلاً قبیلہ قریش) یا خاندان (مثلاً سلجوق) اپنی کمزوری اور زوال کے آثار ظاہر نہیں کرتا، اس وقت تک وہ ریاست کے اوپر اپنا اقتدار برقرار رکھتا ہے۔ اور جب ایک گروپ یا خاندان اقتدار کھودیتا ہے تو دوسرا گروپ یا خاندان تازہ ’’عصبیت‘‘ کے ساتھ اقتدار سنبھال لیتا ہے۔ ابن خلدون کے وقتوں میں بیشتر موجود مسلم ریاستیں مقتدر ریاستیں تھیں یعنی وہ طاقت کے بل پر اقتدار میں آئی تھیں۔ اس کی اپنی اصطلاح میں یہ ریاستیں ’’انسان کے خود ساختہ قوانین پر‘‘ قائم ہوئی تھیں۔ اس کا طرز استدلال یہ تھا کہ رسول کریمؐ قانون ساز امام تھے۔ آپؐ نے مسلمانوں کو شریعت کے تحت متحد و منظم کر دیا تھا، جس کی بالادستی کو خلفائے راشدینؓ کے پوری عہدِ خلافت میں تسلیم کیا جاتا رہا تھا۔ بعدازاں مذہبی جوش و تحریک میں کمی آنے کی وجہ سے خلافت ملوکیت میں بدل گئی، جس میں حکمرانی انسانی عقل کے وضع کردہ قوانین کے تحت کی جاتی تھی، حالانکہ دعویٰ یہ کیا جاتا تھا کہ ان کا اصل سرچشمہ شریعت ہے۔ 

ابن خلدون نے مذہبی و سیاسی ادارے کی حیثیت سے خلافت کی اہمیت پر بھی بحث کی ہے اور ماوردی کی اِس رائے سے اتفاق کیا ہے کہ خلیفہ کا کام دینِ اسلام کا تحفظ اور کاروبارِ ریاست کا انصرام ہے۔ لیکن ابن خلدون کے زمانے میں خلافت خالص مذہبی ادارے کی حیثیت سے صرف قاہرہ میں باقی بچ گئی تھی، جبکہ مدت ہوئی، خلیفہ کا انتظامی یا سرکاری معاملات سے کوئی سروکار نہ رہا تھا۔ ابن خلدون کو ایک عمل پسند مفکر کی حیثیت سے یقین تھا کہ ایک مقتدر ریاست (ملوکیت) بھی انسان کے بنائے ہوئے خود ساختہ قوانین کے ذریعے اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر سکتی ہے۔

اس نے سفارش کی تھی کہ ملوکیت کو اپنا رشتہ شریعت سے منقطع نہیں کر لینا چاہیے، کیونکہ ملوکیت اصل میں خلافت ہی سے نکلی ہے۔ ابن خلدون نے شریعت کی نظری و اصولی اہمیت کو تسلیم کرنے کے باوجود، ریاست کو بھی اس کی اصلیت و حقیقت کے ساتھ قبول کیا اور کہا کہ ایک ’’مخلوط‘‘ ریاست بھی جس کا نظمِ حکومت جزواً شریعت کے مطابق اور جزواً انسان کے خود ساختہ قوانین کے تحت چلایا جاتا ہو، اپنے شہریوں کی خدمت بجا لا سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک ایسی مسلم ریاست جس کا نظمِ حکومت انسانی عقل کے وضع کردہ قوانین کے تحت چلتا ہو، وہ بھی اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر جاوید اقبال

 

سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہم کہاں کھڑے ہیں : ڈاکٹر عبدالقدیر خان

 مغربی اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں ایک ہی چیز مشترک ہے، ایمانداری، محنت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت۔ یہ وہی اصول ہیں جن کی تعلیم اسلام ہمیں دیتا ہے۔ کلام مجید میں سورۃ طہٰ آیت 114 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’دعا کرو کہ اے میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے‘‘۔ اگرچہ یہ بہت ہی مختصر پیغام ہے مگر اس کی وسعت ہمارے قیاس سے کہیں زیادہ ہے اور قرآن کی علم و تعلیم پر احاطہ کی وسعت ظاہر کرتا ہے اور ہمارے پیارے نبیؐ نے خود فرمایا ہے کہ اے رب العزّت مجھے تمام چیزوں کا مکمل علم عطا فرما۔ یہاں علم کا مطلب صرف معلومات نہیں ہے بلکہ دنیا کی مادی حیثیت کی حقیقت و سچائی کو بھی جاننا ہے۔ دنیا میں اس وقت جس قدر معلومات ہیں ان کے پیچھے ہزاروں لوگوں کی محنت و مشقت، جستجو ہے۔ 

لاتعداد سائنسدان، انجینئر (حقیقی معنوں میں) گمنام رہ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ عصر جدید میں آپ کو انسان کی سخت جستجو، محنت نظر آتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرے۔ ارسطو نے کہا تھا کہ ’’تمام بنی نوع انسان کی قدرتی فطرت ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کرے‘‘۔ اور ہمارے پیارے نبی ؐ نے فرمایا کہ’’ تم کو اگر علم حاصل کرنے کے لئے چین (یعنی دور دراز ملک) بھی جانا پڑے تو جائو‘‘۔ اس پیغام میں رسول اللہ ؐنے یہ بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی کہ تعلیم و علم کے حصول میں نہ تو لِسّانی اور نہ ہی مذہبی اور نہ ہی ثقافتی رکاوٹوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ علم و تعلیم اور چیزوں کو جاننے اور سمجھنے کا علم اسلام کا اہم اور ناقابل علیحدگی جز ہے۔

جب مسلمان اپنے عروج پر تھے اس وقت بھی انھوں نے بیت الحکمہ جات قائم کئے تھے اور یہاں پر اعلیٰ تعلیم دی جاتی تھی۔ اس وقت ستارے اور فلک بینی تجربہ گاہیں قائم کیں اور اعلیٰ ریسرچ اسکالرز جمع کئے تھے ان میں فلسفی، سائنٹسٹ، اور انجینئرز وغیرہ پوری دنیا سے جمع کئے گئے تھے۔ اس زمانہ کے چند معروف نام آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ الفارابی، ابن سینا، ابن رُشد، خوارزمی، راضی، مسعودی، وفا، البیرونی، طوسی، نصیرالدین، ابن نفیس، ابن باجہ، ابن طفیل، الکندی وغیرہ نے تاریخ میں اپنے نام اور شاندار کام چھوڑے ہیں ۔ اس وقت پورے یورپ میں ان کی دھوم تھی اور ان کے کاموں کی تقلید کی جاتی تھی اور آج بھی ان کے کاموں کا ریکارڈ موجود ہے۔

مسلمان ساتویں صدی عیسوی سے گیارویں صدی عیسوی تک عروج پر تھے اس کے بعد ان کی تمام توجہ محلات اورباغات پر مبذول ہو گئی اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ آہستہ آہستہ ہم نے اسپین، مشرق وسطیٰ، سینٹرل ایشیا، مشرق بعید، افریقہ سب حکومتیں کھو دیں۔ اسپین میں الحمرا محل آج بھی عجوبہ ہے اور دنیا کا سب سے زیادہ سیاحوں کی آمد کا مرکز ہے۔ عجوبہ تو قائم ہے مگر عجوبہ پیدا کرنے والے ذلیل و خوار اور شکست خوردہ ہو کر گمنام ہو گئے۔ سورۃ جاثیہ، آیت 13 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ’’(اے محمدؐ!) مومنوں سے کہدو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو اپنے حکم سے تمھارے کام میں لگا دیا ہے جو لوگ غور و خوض کرتے ہیں ان کے لئے اس میں قدرت کی نشانیاں ہیں‘‘۔

اتنے اعلیٰ ماضی اور ورثے کے وارث ہونے کے باوجود مسلمان آجکل انتہائی پسماندگی کا شکار ہیں۔ ہم ہر ٹیکنالوجی، سائنس، علم کے لئے مغرب، جاپان، چین کے محتاج ہیں۔ ہم روزمرّہ کی معمولی سے معمولی چیز نہیں بنا سکتے۔ ہم ذرا اپنی حالت زار پر غور کریں۔ ہم ایٹمی اور میزائل قوت ہیں مگر قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ہماری درآمدات ہماری برآمدات کے 50 فیصد سے بھی کم ہیں۔ ایک زرعی ملک ہوکر ہم ٹماٹر، پیاز، لہسن، ادرک درآمد کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے لئے (بلکہ ہمارے حکمرانوں کے لئے بھی) قابل مذمت اور قابل شرم مقام ہے۔

آج کل مغرب، جاپان اور چین ترقی کی رفتار اور سمت طے کر رہے ہیں اور ہم یعنی ہمارے حکمراں ہر وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ وہ کونسی اشیاء ہیں جن کی خریداری میں آمدنی کے امکانات زیادہ ہیں۔ خاص طور پر ہتھیاروں کی خریداری پر اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں گویا یہ حالت جنگ میں ہیں اور چند سال بعد وہ ہتھیار فرسودہ ہو جاتے ہیں تو نئے خریدنے میں مہارت قابل دید ہے۔ میں نے ابھی ذکر کیا تھا کہ ہم اتنے نااہل ہیں کہ زرعی ملک ہوکر ہم ٹماٹر، پیاز، لہسن، ادرک منگواتے ہیں۔ اس سے بھی بڑی برائی جس سے عوام واقف نہیں ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اربوں روپیہ کی دالیں درآمد کرتے ہیں۔

آپ زرا ان نااہل اور حکمرانوں کو دیکھئے کہ صبح سے شام تک ڈینگیں مارتے ہیں کہ جیسے اس پسماندہ ملک کو ٹاپ ٹین میں لاکھڑا کیا ہے۔ قرض لے لے کر قوم کو تباہ کر دیا ہے اور ملک کو بیچ دیا ہے۔ آج سے 40 سال پیشتر چین ہمارے مقالے میں بے حد غریب تھا آج وہ دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت ہے وجہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی میں ترقی، ایمانداری، سخت محنت، رشوت خوری اور جرائم کا خاتمہ ہے۔ ہمارے یہاں بدعنوانوں کی بھرمار ہے۔ ان خراب حالات کے ہم خود ذمّہ دار ہیں دوسروں کو الزام دینا غلط ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان