ملکی ترقی میں انجینئرز کا کردار : ڈاکٹر عبدالقدیر خان

میں آج ملکی ترقی میں انجینئرز کے کردار پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ وہ اس لئے کہ
میں خودبھی انجینئر ہوں اور میں نے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ دونوں اعلیٰ یونیورسٹیوں سے کئے ہیں۔ مگر سب سے پہلے میں سر جارج تھامسن (نوبیل انعام یافتہ) کا ایک قول بتانا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا تھا کہ، ’’ہم نے کچھ عرصہ سے اپنی تہذیب کو ان دھاتوں سے منسوب کیا ہے جو عوام اس وقت استعمال کررہے تھے مثلاً پتھروں کا زمانہ، بُرونز (Bronze) کا زمانہ، لوہے کا زمانہ وغیرہ وغیرہ‘‘۔ کسی بھی تہذیب (زمانہ) کی ترقی یا جہالت کا انحصار اس تہذیب کے پاس جو دھاتیں ہوتی ہیں ان کےصحیح یا غلط استعمال یا کوئی استعمال نا کرنے پر منحصر ہوتا ہے۔ موجودہ دور لوہے اور نئی طاقتور دھاتوں کا ہے۔

میرا اپنا خیال یہ ہے کہ ہم اب بہت منفرد اور اعلیٰ دھاتوں کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں نہایت حسّاس اور اعلیٰ ٹیکنالوجی پر منحصر صنعتوں کا پھیلائو بغیر اعلیٰ دھاتوں کے ناممکن ہے۔ آجکل بہت طاقتور دھاتیں اور ہائی ٹمپریچر دھاتیں، سِرامکس، کمپوزٹس، پولیمرس پر کام ہو رہا ہے کہ ان کو منفرد اور خاص صنعتوں کی تعمیر میں استعمال کیا جا سکے۔ دور جدید کی ایجادات مثلاً اسپیس شٹل، آپٹیکل فائبرز اور چھوٹے منفرد کمپیوٹرز کی تیاری بغیر اعلیٰ اور خاص دھاتوں کی موجودگی میں ناممکن ہوتی۔ اعلیٰ اور پیچیدہ صنعتوں میں استعمال کے لئے تیار کردہ دھاتیں آہستہ آہستہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے لگتی ہیں۔

میں اس موضوع پر یہ کالم اس لئے لکھ رہا ہوں کہ اس سے پیشتر اس موضوع پر کسی نے طبع آزمائی نہیں کی ہے۔ اب جبکہ نئی صنعتیں لگائی جا رہی ہیں میں کوشش کر رہا ہوں کہ عوام کی رہنمائی کروں۔ اس سے لوگوں میں اعلیٰ دھاتوں کو استعمال کرنے کی سمجھ بوجھ آ جاتی ہے اور وہ ان دھاتوں کی خصوصیات مثلاً ان کی فزیکل اور میکنیکل خصوصیات، آکسی ڈیشن اور کور وژن (زنگ لگنا)، زنگ سے دھاتوں کو محفوظ کرنا(کوٹنگ) اور ان دھاتوں کو الیکٹران بیم سے پہچانا اور علیحدہ رکھا جانا، سے واقف ہوجاتے ہیں۔ دیکھئے اچھی دھاتوں کی تیاری اور اس کا معائنہ بغیر اعلیٰ آلات (جانچنے والے) کے ناممکن ہے۔ دور جدید میں ٹیسٹ کرنیوالے نہایت حساس و اعلیٰ آلات کی ضرورت ہے انکے بغیر آپ اعلیٰ جانچ؍ ٹیسٹ نہیں کر سکتے۔ اچھے آلات تو نہایت باریک خصوصیات کا پتہ چلا لیتے ہیں دراصل یہ جانچ و ٹیسٹ کرنے والے آلات میں ایکسرے، نیوٹران اور الیکٹران ڈِفریکشن اسپکٹراسکوپی آجکل موجود ہیں اور ان کی مدد سے کسی بھی دھات کی ساخت، کمپوزیشن، اور میکانیکل خصوصیات (پراپرٹیز)، کیمیائی خصوصیات معلوم کر لی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ ان آلات کی مدد سے ایٹم کی تقسیم و پھیلائو کا بھی علم ہو جاتا ہے۔ مجھے یہ بتانے میں فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے KRL میں ان تمام اہم و حساس آلات کا بندوبست کر لیا تھا اور ان کی مدد سے ہم نہایت پیچیدہ اور اہم معلومات حاصل کر لیتے تھے۔ پہلے ڈاکٹر ایف ایچ ہاشمی، پھر پروفیسر ڈاکٹر انوار الحق اور پھر ڈاکٹر محمد فاروق اس ڈویژن کے سربراہ تھے۔ ڈاکٹر ہاشمی نے لندن یونیورسٹی سے، ڈاکٹر انوارلحق نے جرمنی سے اور ڈاکٹر فاروق نے آکسفورڈ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کی تھیں اور تینوں بہت ذہین اور قابل سائنسدان تھے۔

نمونوں کو بغیر توڑے پھوڑے (NDT – Nondestructive Testing) ان کی خصوصیات و کمپوزیشن کا معلوم کرنا بہت پیچیدہ اور مشکل کام ہے، ہمارے یہاں انجینئر نورالمصطفیٰ اور مشتاق پٹھان اس کے ماہر تھے۔ اس سلسلہ میں یہ بھی بتلاتا چلوں کہ دھاتوں اور دھاتوں سے تیارکردہ کمپونینٹس (Components) کی عمر یا مفید استعمال کا دور جاننے کے لئے تھکاوٹ (Fatique)، ٹوٹنا (Fracture) اور آہستہ آہستہ کمپونینٹس کے سائز بڑھنا (Creep) وغیرہ نہایت اہم خصوصیات ہیں جن کا پاکستان میں استعمال اور سمجھ بوجھ بہت کم ہے اور یہ وہ خصوصیات ہیں جو نہایت اہم ہیں اور ہر آلے اور مشینری کے استعمال اور ان میں تبدیلی وغیرہ کو جانچتے رہنا بہت اہم ہے۔ میرے پاس اوپر بیان کردہ اعلیٰ سائنسدان اور انجینئرز تھے اور ہم نے اس میدان میں اعلیٰ صلاحیت حاصل کرلی تھی۔

دیکھئے مشکل و اعلیٰ ٹیکنالوجی کے حصول میں ہمیں ہر فیلڈ میں ترقی کرنا چاہئے جب تک ہماری بنیاد (یعنی فائونڈیشن) مضبوط نہیں ہو گی ہم نئی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی نہ حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ یورپ، امریکہ، جاپان، چین اور انگلینڈ میں یہ مضامین شروع میں ہی پڑھا دیئے جاتے ہیں اور تمام آلات کا استعمال بھی سکھا دیتے ہیں۔ ان کے ماہرین (پروفیسرز) اکٹھے بیٹھ کر ایک پورا پروگرام بنا لیتے ہیں جو ان کی صنعتوں کے لئے بے حد مفید و موثر ہوتا ہے اور پھر یہ طلبا ریسرچ کا کام سنبھال لیتے ہیں اور اس طرح یہ ممالک ترقی کرتے جاتے ہیں۔ ہمیں بھی اپنی سائنس و ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لئے یہی طریقہ کار استعمال کرنا چاہئے۔ بدقسمتی سے یہ چیز یہاں عنقا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم بین الاقوامی سطح پر دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ہمیں نہ صرف اپنی تعلیم پر بلکہ ٹیکنیکل تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ ہم ہمیشہ پسماندہ ہی رہیں گے۔ ہمیں ٹیکنیکل سیمینار کرنا چاہئے اور غیرملکی ماہرین کو دعوت دینا چاہئے تا کہ ہمارے طلباء نئی ایجادات سے بہرہ ور ہو سکیں۔ ہمیں زیادہ طلبا کو غیر ممالک بھیجنا چاہئے کہ وہاں سے وہ دور جدید کی اعلیٰ ٹیکنیکل تعلیم حاصل کر سکیں اور پھر واپس آ کر ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹائیں۔

بدقسمتی سے اربوں روپیہ معمولی پروجیکٹس پر خرچ کر دیئے جاتے ہیں اور تعلیم کو صرف ایک بے فائدہ ورزش سمجھ رکھا ہے۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) نے ایک ہوٹل میں ایک شاندار ڈنر کا اہتمام کیا اور مجھے چیف گیسٹ بنایا۔ میں نے ہمارے ایٹمی سفر پر روشنی ڈالی اور انجینئرز کو بتلایا کہ کس طرح اہم ملکی پروجیکٹس پر کام کیا اور کرنا چاہئے۔ میں نے جب ان کو بتایا کہ میں نے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ دونوں اعلیٰ تعلیمی اداروں سےکئے ہیں اور یہ دونوں ڈگریاں انجینئرنگ میں ہیں یعنی M.Sc Tech اور Dr. Eng تو تمام انجینئرز بے حد خوش ہوئے کہ ان کا ایک ہم پیشہ اتنا اہم کام کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ میں نے ان کو صاف صاف بتلا دیا کہ اگر میں انجینئر نہ ہوتا اور انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کی ہوتی تو یہ پروجیکٹ کبھی بھی کامیاب نہ ہوتا اور یہ حقیقت بھی ہے۔

دیکھئے دنیا میں کوئی اعلیٰ کام، اعلیٰ ریسرچ میٹالرجی میں مہارت کے بغیر تکمیل نہیں پا سکتی۔ کمپیوٹرز، روبوٹس، سپرسانک ہوائی جہاز، خلائی شٹلز، سٹیلائٹس، خلائی کمیونیکیشن، نیوکلیرانرجی وغیرہ کی تیاری میں میٹالرجی کا اہم رول ہے۔ تمام ایم (M) کے استعمال میں یعنی افرادی قوت (Manpower)، میٹریلز(Materials)، مشینز(Machines)، طریقہ تیاری(Methods)، اور رقوم (Money) میں میٹیریلز ان کی تیاری اور ان کا استعمال ہی بہت اہم بلکہ اہم ترین فیکٹر ہے۔ بغیر اس کے آپ کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

سائنس میں مہارت کے بغیر ترقی ناممکن ہے : ڈاکٹر عبدالقدیر خان

موجودہ دور میں سائنس جتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اس سے واقفیت رکھنا ناممکن تو کیا اس کے ساتھ چلنا بھی بہت مشکل ہے۔ عہد قدیم سے انسان کوشش کرتا رہا ہے کہ زمین میں جو وسائل موجود ہیں ان کو نکالے اور اپنی زندگی کو آرام دہ اور پرسکون بنانے کیلئے استعمال کرے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسانی دماغ کی صلاحیتوں نے بھی ترقی کی اور انسان نے قدرت کے راز سمجھنے اور حل کرنے کیلئے جدّوجہد کی تاکہ اپنی زندگی آرام دہ بنا سکے۔ شروع شروع میں اس ترقی کی رفتار بہت آہستہ تھی لیکن پچھلی دو تین صدیوں میں انسان نے بہت ترقی کی ہے۔ اور اگریہ کہا جائے کہ نئی ایجادات خود انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہیں تو یہ مبالغہ آمیز بات نہ ہو گی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سائنس نے بے حد ترقی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے سائنس میں بے انتہا ترقی ہوئی ہے۔ پچھلے پچاس، ساٹھ سال میں جو ترقی ہوئی ہے وہ پچھلے دو سو سال سے زیادہ ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ تقریباً چار سو برس سائنس کی ہر برانچ میں لیڈر رہنے کے بعد ہم بارہویں صدی سے زوال کے شکار ہو گئے اور پھر ہم سنبھل ہی نا سکے۔ حکمراں کرپشن میں مصروف رہے اور عوام کاہلی کا شکار ہو گئے۔ آج کل دنیا میں جس قدر ترقی ہو رہی ہے وہ امریکہ، یورپ، جاپان وغیرہ میں ہو رہی ہے۔ دوسرے ممالک، خاص طور پر مسلم ممالک، صرف خریدنے اور استعمال کرنے والے ہیں۔ جاپان نے یہ دائرہ توڑ دیا ہے اور کئی میدانوں میں امریکہ اور یورپ سے آگے ہے۔ اب چین نے بھی 30 ,25 برسوں میں کمال کر دیا ہے، یہ ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا مگر اب ہم سے 100 سال آگے ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان بھی دوسرے پسماندہ ممالک کی صف میں ہے۔ غربت، بیروزگاری، بیماریاں اور غلاظت عروج پر ہیں۔ آجکل کراچی کی جو تصاویر ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں ان کو دیکھ کر دل دہل جاتا ہے کہ اس اکیسویں صدی میں جبکہ اہل اقتدار محلات میں رہ رہے ہیں جبکہ عوام کو غلاظت کے ڈھیروں پر چھوڑ دیا ہے۔ اس کچرے سے بہ آسانی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے مگر کمیشن نہیں ملے گا۔ وقت بہت ضائع ہو چکا ہے اور ہم نے ابھی اس لمبے سفر کیلئے پہلا قدم بھی نہیں اُٹھایا ہے۔ 27 مارچ کو حیدرآباد میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے قوم سے مذاق ہی کیا ہے کہ ملک میں جلد تعلیمی انقلاب آئے گا۔ تعلیمی انقلاب تو مشکل کام ہے مجھے ڈر ہے کہ جہالت کا انقلاب آ جائے گا جو آہستہ آہستہ قدم جماتا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کے رفقائے کار میں کوئی بھی ایسا نہیں جو سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کی تعریف بھی کر سکے۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی۔ میں نے غلام اسحٰق خان انسٹی ٹیوٹ بنایا ہے اور کے آر ایل (KRL) بنائی ہے آپ دیکھیں گے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائینگی۔

ایک طرف تو دنیا میں سائنس کی ترقی بہت تیزی سے جاری ہے دوسری طرف ہم ابھی تک جہالت کے کنوئیں میں غوطہ کھا رہے ہیں۔ ایک قوم کی حیثیت سے خاص طور پر حکمراں طبقہ اورہم بہت خراب حالت میں ہیں۔ احساس ہی نہیں ہو رہا کہ ہماری کشتی بھنور میں پھنس گئی ہے اور ہم کسی وقت بھی ڈوب سکتے ہیں۔ یہ بہت افسوس اور شرم کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ہمیں بیش بہا قدرتی وسائل عطا کئے ہیں بلکہ ایک اچھی تعداد نہایت قابل سمجھدار لوگوں کی بھی دی ہے۔ کیا ہم نے، پاکستانیوں نے، چھ سات سال میں ایٹم بم نہیں بنا دیا؟ کیا ہم نے میزائل نہیں بنائے؟ اگر حکمراں تھوڑے سمجھدار ہوتے تو قابل، تجربہ کار لوگوں کو ملکی ترقی کا کام سونپ دیتے تو ہم ایک ترقی یافتہ قوم بن گئے ہوتے۔ اپنے ملک کے قدرتی وسائل اور قابل لوگوں کی موجودگی میں ہمیں ترقی کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ جن لوگوں نے کے آر ایل کو دیکھا ہے ان سے پوچھئے کہ ہم نے کس طرح ناممکن کو ممکن بنا دیا تھا۔ جو بھی وہاں آتا تھا بس یہی کہتا تھا کہ یہ پاکستان نہیں لگتا۔ اسی بات سے متاثر ہو کر جنرل ضیاء الحق نے یکم مئی 1981 میں ہمارے ادارے کا نام تبدیل کرکے میرے نام سے منسوب کر دیا تھا۔ یہ ایک زندہ شخص کیلئے بہت اعلیٰ واقعہ تھا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک اچھی بڑی تعلیم یافتہ اور قابل ٹیم کی موجودگی کے باوجود کوالٹی کنٹرول، ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ کارکردگی کا فقدان ہے اور اس کے نتیجے میں ہمارے ہونہار، قابل نوجوان طبقہ غیرممالک کی راہ لیتا ہے اور ملک ان کی خدمات سے محروم ہو جاتا ہے۔ دیکھئے ٹیکنیکل ترقی بغیر فنی تعلیم سے مُرصع لوگوں کی غیرموجودگی میں ناممکن ہے اور نہ صرف یہ کہ تعلیم یافتہ قابل طبقے کی اشد ضرورت ہے بلکہ اس کیلئے مناسب ٹیکنیکل سہولتیں بھی بے حد ضروری ہیں۔ میں نے اپنے ادارے میں جو سہولتیں فراہم کی تھیں وہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے کم نہ تھیں اور پھر میرے قابل اور محب وطن ساتھیوں نے ان سہولتوں سے پورا فائدہ اُٹھایا اور ملک کو ناقابل تسخیر دفاع فراہم کر دیا۔ اب اگر کبھی ہندوستان نے کوئی جارحانہ اقدام اُٹھایا تو پاکستان اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا۔ دیکھئے جو نمائشی کام کئے جا رہے ہیں ان سے نہ ہی ملک ترقی کر رہا ہے اور نہ ہی عوام کو روزگار کے مواقع مل رہے ہیں۔ وقت کا اہم تقاضہ یہ ہے کہ ہم نوجوان طبقے کیلئے ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں۔ ہم نے ہر محکمے میں نااہلیت کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بس یہ سمجھ لیجئے کہ رکشہ ڈرائیورز کو ایئر بس چلانے کی ذمہ داری سونپ دی ہے نتیجہ آپ خود سوچ سکتے ہیں۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے اہل اقتدار کی نظر میں تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں ہے جبکہ ترقی کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت بہت ضروری ہے۔ ہمارا نظام تعلیم بھی بے حد ناقص ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے نااہل لوگ سیاست کے ذریعے ملک کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہوجاتے ہیں اور انھیں سوائے غیرملکی دوروں اور اپنی کرپشن کے کسی اور چیز میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ اور بڑی اور نقصان دہ بات یہ ہے کہ تعلیم پر بہت ہی کم رقم خرچ کی جاتی ہے۔ اربوں روپیہ کے پروگرام چلائے جاتے ہیں جن میں کرپشن کی گنجائش ہوتی ہے، اچھے تعلیمی اداروں کی تعمیر میں قطعی دلچسپی نہیں لی جاتی تو ملک کس طرح ترقی کرے گا؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

Dr. Abdul Qadeer Khan

Abdul Qadeer Khan  born 1 April 1936), also known by some in Pakistan as Mohsin-e-Pakistan (Urdu: محسن پاکِستان‎, lit. “Benefactor of Pakistan”), more popularly known as Dr. A. Q. Khan, is a Pakistani nuclear scientist and a metallurgical engineer, colloquially regarded as the founder of HEU based Gas-centrifuge uranium enrichment program for Pakistan’s integrated atomic bomb project.[2] Khan founded and established the Kahuta Research Laboratories (KRL) in 1976, being both its senior scientist and the director-general until his retirement in 2001, and he was an early and vital figure in other science projects. Apart from participating in Pakistan’s atomic bomb project, he made major contributions in molecular morphology, physical martensite, and its integrated applications in condensed and material physics.
Abdul Qadeer Khan was one of Pakistan’s top scientists,[3] and was involved in the country’s various scientific programs until his dismissal.[3] In January 2004, Khan was officially summoned for a debriefing on his suspicious activities in other countries after the United States provided evidence to the Pakistan Government, and confessed it a month later.[3] Some have alleged that these activities were sanctioned by the authorities, though the Pakistan government sharply dismissed the claims.[4][5] After years of nominal house arrest, the Islamabad High Court (IHC) on 6 February 2009 declared Abdul Qadeer Khan to be a free citizen of Pakistan, allowing him free movement inside the country. The verdict was rendered by Chief Justice Sardar Muhammad Aslam.[6] In September 2009, expressing concerns over the Islamabad High Court‘s decision to end all security restrictions on Khan, the United States warned that Khan still remains a “serious proliferation risk”

Early life

Khan was born in Bhopal, India (then British Indian Empire) into a Urdu-speaking Pathan[8] family in 1936. His father Dr. Abdul Ghafoor Khan was an academic who served in the Education ministry of the British Indian Government and after retirement in 1935, settled permanently in Bhopal State.[9] After the partition in 1947, the family emigrated from India to Pakistan, and settled in Karachi, West Pakistan.[10] Khan studied in Saint Anthony’s High School of Lahore, and then enrolled at the D.J. Science College of Karachi to study physics and mathematics.[10] After making a transfer in 1956, he attended Karachi University, obtaining BSc in Metallurgy in 1960; subsequently he got the internship at the Siemens Engineering.[10]
After the internship, he was employed by the Karachi Metropolitan Corporation and worked as an city inspector of weight and measures in Karachi.[10] In 1961, he went to West Berlin to study Metallurgical engineering at the Technical University Berlin.[10] Qadeer Khan obtained an engineer’s degree in technology from Delft University of Technology in the Netherlands, and a doctorate engineering in Metallurgical engineering under the supervision of Martin Brabers from the Catholic University of Leuven in Belgium, in 1972.[10] Qadeer Khan’s doctoral dissertations were written in German.[10] His doctoral thesis dealt and contained fundamental work on martensite, and its extended industrial applications to the field of morphology, a field that studies the shape, size, texture and phase distribution of physical objects.[10][11]

Research in Europe 

In 1972, the year he received his doctorate, Abdul Qadeer Khan through a former university classmate, and a recommendation from his old professor and mentor, Martin J. Brabers, joined the senior staff of the Physics Dynamics Research Laboratory in Amsterdam.[12] There, he began his studies on the high-strength metals to be used for the development of gas centrifuges.[13] The gas centrifuges were first studied by Jesse Beams during the Manhattan Project in 1940s but research was discontinued in 1944. The Physics Laboratory was a subcontractor for URENCO Group, the uranium enrichment research facility at Almelo, Netherlands, which was established in 1970 by the Netherlands to assure a supply of enriched uranium for nuclear power plants in the Netherlands.[12] Soon when the URENCO Group offered him to join the senior scientific staff there, Qadeer Khan left the Physics Laboratories.[12] There, he was tasked to perform physics experiments on uranium metallurgy,[12] to produce commercial-grade uranium metals usable for light water reactors.[12] In the meantime, the URENCO Group handed him the drawings of centrifuges for the mathematical solution of the physics problems in the gas centrifuges.[12]
Uranium enrichment is a difficult physical process, as 235U exists in natural uranium at a concentration of only 0.7%; URENCO used Zippe-type centrifuges for that purpose to separate the isotopes 235U from non-fissile 238U by spinning UF6 gas at up to 100,000RPM.[12] Abdul Qadeer Khan’s academic and leading-edge research in metallurgy brought laurels to the URENCO Group.[12] URENCO enjoyed a good academic relationship with him, and had him as one of its most senior scientists at the facility where he researched and studied.[12] At URENCO, Abdul Qadeer Khan pioneering research to improve the efficiency of the centrifuges greatly contributed to the technological advancement of the Zippe centrifuges, a method that was developed by mechanical engineer Gernot Zippe in the Soviet Union during the 1940s.[12] URENCO granted Qadeer Khan access to the most restricted areas of its facility as well as to highly classified documentation on gas centrifuge technology.[12] After it was revealed in 1979 that Pakistan through Mr Khan gained access to Urenco UC technology, a formal investigation was launched by the Dutch govt into the matter. Mr Khan was busy in Pakistan with the nuclear program and stayed absent from the trial. He was found guilty and in 1985 the Dutch court sentenced him to 4 years of imprisonment in his absence.

1971 war and return to Pakistan 

The clandestine and highly secretive atomic bomb project of Pakistan was given a start on 20 January 1972, when President (later Prime minister) Zulfikar Ali Bhutto chaired a secret meeting of academic scientists at Multan.[citation needed] The winter planning seminar known as Multan meeting, the atomic bomb project was launched under the administrative control of Bhutto, and the Pakistan Atomic Energy Commission (or PAEC) under its chairman, Munir Ahmad Khan.[citation needed] Earlier efforts were directed towards the implosion-type bomb with exploration of the Plutonium route.[citation needed] Prior to 1974, Khan had no knowledge of existence of country’s integrated atomic development, a controversy that highly doubts Abdul Qadeer Khan’s “father-of” claim. It was only on 18 May 1974, when he was alerted after India surprised the world with its first nuclear test (codename: Smiling Buddha), near Pakistan’s eastern border under the secret directives of Indian Premier Indira Gandhi.[citation needed] Conducted by the Indian Army, it was only three years since Pakistan’s humiliating defeat in the 1971 Winter war and the outcomes of the war had put Pakistan’s strategic position in great danger.[14]
The nuclear test greatly alarmed the Government of Pakistan and the people.[citation needed] Prime minister Zulfikar Bhutto squeezed the time limit of the atomic bomb project from five years to three years, in a vision to evolve and derived the country’s scientific atomic project as from the “atomic capability to sustainable nuclear power”.[citation needed] Sensing the importance of this test, Munir Ahmad Khan secretly launched the Project-706, a codename of a secret uranium enrichment program under the domain of the atomic project.[citation needed]Following the news about Pakistan, Khan wanted to contribute to the post-war military posture and approached the Pakistan government officials, offering to assist in Pakistan’s secret atomic bomb project through his knowledge acquired at URENCO.[15] He insisted in joining the atomic bomb project[16] but was disuated by the military scientists who considered as “hard to find” a job in PAEC as a “metallurgist”.[15]
Undaunted, he wrote to Prime minister Zulfikar Ali Bhutto, highlighting his specific experience and encouraged Prime Minister Bhutto to work on an atomic bomb using uranium.[15] According to Kuldip Nayyar, although the letter was received by Prime minister Secretariat, Qadeer Khan was still unknown to the Government, leading Bhutto to ask the ISI to run a complete background check on Khan and prepare an assessment report on him.[17] The ISI declared him as “incompetent” in the field of nuclear technology based on his academic discipline.[17] Unsatisfied with ISI’s report, Bhutto was eager to know more about him, and asked Munir Ahmad Khan to dispatch a team of PAEC’s scientists to meet him.[18] The PAEC team including Sultan Mahmood travelled to Amsterdam and arrived at his family home at night. Discussions were held until the next day.[18] After the team’s return to Pakistan, Bhutto decided to meet with Khan, and directed a confidential letter to him. Soon after, Abdul Qadeer Khan took a leave from URENCO Group, and departed for Pakistan in 1974.[18]

Initiation and atomic bomb project

In December 1974, Abdul Qadeer Khan went to Pakistan and took a taxi straight to the Prime minister Secretariat.[19] The session with Bhutto was held at midnight and remained under extreme secrecy.[19] There, Qadeer Khan met with Zulfikar Bhutto, Munir Khan, and Dr. Mübaschir Hassan, government Science Adviser.[19] At this session, he enlightened the importance of uranium as opposed to plutonium, but Bhutto remain unconvinced to adopt uranium instead of plutonium for the development of an atomic bomb.[19] Although Bhutto ended the session quickly he remarked to his friends that: “He seems to make sense.”[19] Early morning the next day another session was held where he focussed the discussion on uranium against plutonium, with other PAEC officials presented.[16] Even though he explained to Bhutto why he thought the idea of “plutonium” would not work, Qadeer Khan was fascinated by the possibility of atomic bomb.[16]
Many of the theorists at that time, including Munir Khan maintained that “plutonium and the nuclear fuel cycle has its significance”,[14] and Munir Khan insisted that with the “French extraction plant in the offing, Pakistan should stick with its original plan.”[14] Bhutto did not disagree, but saw the advantage of mounting a parallel effort toward acquiring HEU fuel.[14][20] At the last session with Zulfikar Bhutto, Khan also advocated for the development of a fused design to compress the single fission element in the metalized gun-type atomic device, which many of his fellow theorists said would be unlikely to work.[16]
Finally in 1976, he joined the atomic bomb project, and became a member of the enrichment division at PAEC.[19] Calculations performed by him were valuable contributions to centrifuges and vital link to nuclear weapon research.[citation needed] He continued to push his ideas for uranium methods even though they had a low priority, with most efforts still aimed to produce military-grade plutonium.[19] Because of his interest in uranium, and his frustration at having been passed over for director of the uranium division (the job was instead given to Bashiruddin Mahmood), Qadeer Khan refused to engage in further research and caused tensions with other researchers.[19] He became highly unsatisfied and bored with the research led by Mahmood; finally, he submitted a critical report to Bhutto, in which he explained that the “enrichment program” was nowhere near success.[19]

Kahuta Research Laboratories

Bhutto sensed great danger as the scientists were split between uranium and plutonium routes.[19] Therefore, he called Khan for a meeting, which was held at the prime minister secretariat. With the backing of Bhutto, Qadeer Khan took over the enrichment program and renamed the project to Engineering Research Laboratories (ERL).[19] Abdul Qadeer Khan insisted to work with the Corps of Engineers to lead the construction of the suitable operational enrichment site, which was granted. The E-in-C directed Brigadier Zahid Ali Akbar of Corps of Engineers to work with Qadeer Khan in Project-706.[19] The Corps of Engineers and Brigadier Akbar quickly acquired the lands of the village of Kahuta for the project.[21]
The military realized the dangers of atomic experiments being performed in populated areas and thus remote Kahuta was considered an ideal location for research.[21] Bhutto would subsequently promote Brigadier Zahid Akbar to Major-General and handed over the directorship of the Project-706, with Qadeer Khan being its senior scientist.[citation needed]On the other hand, the PAEC did not forgo the electromagnetic isotope separation research and a parallel program was conducted by theoretical physicist Dr. G.D. Allam at Air Research Laboratories (ARL) located at Chaklala PAF base, though G.D. Allam had not seen a centrifuge, but only had a rudimentary knowledge of the Manhattan Project.[22]
At first, the ERL suffered many setbacks, and relied heavily on the knowledge from URENCO brought by Qadeer Khan.[22] Meanwhile in April 1976, theorist Ghulam Dastigar Alam accomplished a great feat by successfully rotating the first generation centrifuges to ~30,000 RPM.[22] When the news reached Qadeer Khan, he immediately requested to Bhutto for G.D. Alam’s assistance which was granted by the PAEC, dispatching a team of scientists including G.D. Alam to ERL.[22] At ERL, Qadeer Khan joined the team of theoretical physicists headed by theorist dr. GD Allam, working on the physics problems involving the differential equations in the centripetal forces and angular momentum calculations in the ultra-centrifuges.[22] On 4 June 1978, the enrichment program became fully functional after Dr. G.D. Alam succeeded in separated the 235U and 238U isotopes in an important experiment in which Dr. A.Q Khan also took part.[22][23] Contrary to his expectation, the military approved to the appointment of Major-General Zahid Ali as the scientific director of entire uranium division.[22].[7]
Enhanced by Zemanta