ابن زُہر : ایک عظیم طبیب

ابن زُہر خلافت مغربی کا ایک بڑا مفکر اور بلند پایہ طبیب تھا۔ طبیب ہونے کے باعث وہ معقولات کا بدرجہ اتم قائل تھا۔ مابعد الطبیعاتی نکتہ نظر اور فلسفیانہ خیال آرائیوں کوناپسند کرتا تھا۔ اس لیے وہ ’قانون شیخ‘ پر دوسرے اطبا کی طرح مبالغہ آمیز عقیدت و پسندیدگی کا اظہار نہیں کرتا۔ ابن زہر ادویہ مفردہ و مرکبہ میں یدطولیٰ رکھتا تھا۔ اس نے اندلس اور دیگر ممالک میں کافی شہرت پائی۔ اطبا کو اس کی تصنیفات سے زیادہ شغف رہا۔ اس کے زمانے میں اس کے برابر فن طب کا ماہر اور کوئی نہیں تھا۔ امراض کی تشخیص اور ان کے علاج میں اس کوخاص دسترس حاصل تھی۔ اندلس کا مشہور قاضی، فلسفی اورطبیب ابن رشد اس کا دوست اوررفیق کار تھا۔ ان کے کہنے پر اس نے ’کتاب التیسیر‘ لکھی جوکہ ابن رشد کی کتاب ’الکلیات‘ کے متوازی معالجہ کی کتاب ثابت ہوئی۔

ابن رشد اس کی صداقت اور لیاقت کا دل سے قائل تھا اوراس نے اپنی کلیات میں اکثر جگہ اس کی تعریف کی ہے اور اس کو جالینوس کے بعد سب سے بڑا طبیب قرار دیا ہے۔ بہرحال وہ رازی کے بعد مسلمانوں کے عروج کے عہد میں جلیل القدر طبیب تھا۔ ایک رائے ہے کہ ابن زہر وہ پہلا محقق ہے جس نے ’’ہڈیوں میں احساس پایا جاتا ہے‘‘ کے مسئلے پربحث و تحقیق کی ۔ اپنی مایہ ناز تصنیف ’کتاب التیسیر‘ میں طبی اعمال اورسرجری پر بحث کی گئی ہے، اس میں وہ ہدایت کرتا ہے کہ طبیب کے لیے تجربہ مشعل راہ ہونا چاہیے نہ کہ قیاس محض۔

وہ دوائوں کی تیاری کی تفصیلات درج کرتا ہے اور نقرئی قنولہ (Canula) کے ذریعہ مریض کو غذا دینے کا طریقہ بیان کرتا ہے۔ مصلی التہاب نامور (ورم خلاف قلب) اور خراج منصفی کابیان نہایت وضاحت و خوبی سے دیتا ہے۔ ابن زہر خود اس خراج کا شکار ہوگیا تھا اوراپنی شکایات کی نہایت دلچسپ انداز میں توضیحات چھوڑی ہیں۔ دق و سل کے بیماروں کے لیے بکری کے دودھ کی توصیف کرتا ہے۔ نیز وہ سنگ گردہ اور فتح القصبہ کا علمی اسلوب بتاتا ہے۔ نزول الما کے عملی انقباض حدقہ انبساط حدقہ اور امراض چشم میں لفاح (ایٹروپین) کے استعمال کی تصریح درج کرتا ہے۔

Advertisements