ابن خلدون کی مشکلات

ابن خلدون فلسفہ تاریخ کے بانی اور عمرانیات کے امام اور پیشرو سمجھے جاتے ہیں۔ ابن خلدون کو ان کے ’’مقدمہ‘‘ سے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ اس کے باوجود ان کی زندگی کے پورے حالات دستیاب نہیں ہوتے۔ یوں تو ابن خلدون نے بھی ایک کتاب اپنے ذاتی حالات و واقعات پر لکھی ہے لیکن اس میں بھی ان کی پوری زندگی کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہوتی ہیں۔ ابن خلدون کے بارے میں یہ بات اب بھی وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کی جو شہرت اور وقعت اسلامی ممالک میں ہونی چاہیے تھی وہ انہیں آج تک حاصل نہیں ہو سکی۔

مغرب کا ایک قابل تحسین کام یہ بھی ہے کہ اس کے سکالرز نے ابن خلدون کے صحیح مقام کا تعین کیا اور ابن خلدون کی عظمت و علمی برتری کو پھیلایا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ خود ابن خلدون کی اپنی زندگی میں اور اس کے بعد عالم اسلام میں بعض بااثر شخصیات نے جیسے جیسے الزامات تراشے اور اس کے عظیم کام کو دفن کرنے کی کوشش کی اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو آج ابن خلدون کا کوئی نام بھی نہ جانتا۔ ابن خلدون کی تصنیف ’’مقدمہ‘‘ ایک ایسی تصنیف ہے جو دنیا کی بڑی کتابوں میں شامل کرنا لازمی ہے۔ مقدمہ نے ابن خلدون کو فلسفہ تاریخ کے بانی کی حیثیت سے پیش کیا۔ اس طرح وہ عمرانیات کے امام اور پیشرو تسلیم کیے جاتے ہیں۔

ابن خلدون 732 ہجری (1332ئ) میں تیونس میں پیدا ہوئے۔ ان کے حالات زندگی کے بارے میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ ابن خلدون کی ابتدائی تعلیم قرآن پاک سے شروع ہوئی۔ انہوں نے قرآن پاک کا درس ساتوں قرأتوں کے ساتھ لیا۔ اس کے بعد احادیث کا درس لیا۔ وہ سترہ برس کے تھے کہ ان کے والدین کا انتقال ہو گیا۔ ابن خلدون کے مزاج کی دو خصوصیات کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ جوانی میں ہی اتنا علم حاصل کر چکے تھے کہ وہ کسی کو کم ہی خاطر میں لاتے تھے۔ ان کی شخصیت کا دوسرا پہلو ان کی اقتدار اور جاہ پسندی ہے۔ انہوں نے جیسی زندگی گزاری وہ بے حد حیران کن اور غیرمعمولی نوعیت کی ہے۔

اقتدار اور مرتبے کے حصول کے لیے ابن خلدون کسی کی پروا نہ کرتے تھے۔تیونس کے امیر اسحاق الحصفی کے دربار تک رسائی حاصل کی۔ انہیں کاتب کا عہدہ ملا۔ جو ابن خلدون کو پسند نہ تھا۔ امیر ابو زید کے خلاف جب امیر اسحاق کا لشکر لڑائی کے لیے روانہ ہوا تو ابن خلدون بھی ہمراہ ہو گئے۔ ارادہ تھا کہ اس طرح امیر اسحاق کی ملازمت سے بھاگ نکلیں گے اور امیر ابو زید کو فتح ہوئی تو اس کا ساتھ دے کر اعلیٰ مرتبہ حاصل کریں گے۔ لیکن لشکر کو شکست ہوئی۔ ابن خلدون نے ایک گاؤں میں پناہ لی اور پھر بہت عرصے تک یوں ہی چھپے رہے۔ ابو عنان امیر مراکش کو ان کی موجودگی کی خبر ملی تو ابن خلدون کو اپنے درباریوں میں شامل کر لیا۔ ان کو سیکرٹری (امیر اسرار) تک عہدہ ملا۔

مگر ابن خلدون اس سے بھی مطمئن نہ تھے۔ ابن خلدون جس دور کی پیداوار ہیں اس دور میں عالم اسلام کی مرکزیت بہت حد تک ختم ہو چکی تھی۔ آپس میں اقتدار کی جنگیں ہوتی تھیں اور ایک دوسرے کے خلاف بڑی بڑی سازشیں کی جاتی تھیں۔ بجایہ کا والی ابو عبداللہ امیر مراکش ابو عنان کی قید میں تھا۔ ابن خلدون نے ایک منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا کہ ابو عبداللہ کو ابو عنان کی قید سے نکال کر بادشاہ بنایا جائے۔ ابن خلدون اور ابو عبداللہ کے درمیان طے پایا کہ اگر ابن خلدون کا منصوبہ کامیاب ہوا تو ابو عبداللہ ان کو اپنا وزیر بنائے گا۔ لیکن ابن خلدون کا منصوبہ فاش ہو گیا۔ اور ابن خلدون کو زندان کا منہ دیکھنا پڑا۔ انہیں اس وقت رہائی ہوئی جب ابو عنان کا انتقال ہو گیا۔

نئے حکمران الحسن بن عمر نے ابن خلدون پر خاص احسان کرتے ہوئے ان کو رہا کیا تھا۔ مگر ابن خلدون نے اس کے خلاف بھی منصوبے میں حصہ لیا۔ ابوالمنصور حکمران بنا۔ مگر اس سے بھی ابن خلدون کی زیادہ دیر نہ نبھ سکی۔ ابو سالم تخت کا دعوے دار ہوا تو ابن خلدون اس کے ساتھ ہو لیے۔ ابوسالم نے ابن خلدون کو اپنا مشیر خاص اور وزیر بنایا۔ لیکن ابن خلدون کو یہ منصب جلیلہ بھی راس نہ آیا۔ حکومت کے دوسرے لوگ خلاف ہو گئے۔ اب ابن خلدون نے اپنے ایک ساتھی سے مل کر ابو سالم کی حکومت کا تختہ الٹا دیا۔ لیکن ابن خلدون اقتدار سے محروم رہے اس کا دوست تخت پر قابض ہو گیا۔ ابن خلدون تیونس سے بھاگے اور ہسپانیہ چلے آئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب غرناطہ کے ابو عبداللہ خامس کو اقتدار سے الگ کیا جا چکا تھا۔ ابن خلدون نے پھر ایک نئی سازش اور ایک نیا منصوبہ تیار کیا۔

ابو عبداللہ خامس کو غرناطہ کا تخت دلانے کے لیے ابن خلدون نے اپنی سازشیں اور کوششیں شروع کر دیں۔ 1364ء میں ابو عبداللہ تخت پر براجمان ہو گیا۔ اس نے ابن خلدون کی خدمات کے عوض اپنا مقرب خاص بنا لیا اسے وزیر کا عہدہ بھی ملا۔ مگر ابن خلدون پھر اقتدار میں تبدیلی کے خواہاں تھے، جب ابو عبداللہ کے چچیرے بھائی نے حکمران کے خلاف منصوبہ بنایا تو اعانت کرنے لگے۔ ان کی ذہانت اور منصوبہ بندیوں کی وجہ سے ان کی مخالفت کا بازار گرم ہوا۔ ابن خلدون نے بھاگنا چاہا لیکن گرفتار کر لیے گئے۔ کچھ عرصے کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔ وہ افریقہ بھاگ نکلے۔ کچھ عرصہ سلطان ابو حمود کے ساتھ بھی رفاقت کر لی لیکن ابن خلدون کی دلی آرزو کہ وہ پورا اقتدار حاصل کر سکیں کبھی پوری نہ ہوئی۔

انہوں نے سیاست ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ گھریلو زندگ بسر کرنے کی خواہش قوی ہوئی۔ لیکن ان کے اس فیصلے اور کنارہ کشی کے باوجود ان کی سابقہ شہرت کی وجہ سے حکام اور حکمران ان سے خائف رہے کہ وہ پھر کسی نئی سازش کا ڈول نہ ڈال دیں۔ ان کے علمی کام کی تیونس کے مفتی اعظم اور فقیہہ نے شدید مخالفت کی۔ ان کے خلاف بادشاہ کو بھڑکایا۔ ابن خلدون اب تیونس سے بھاگے تو مصر جا کر دم لیا۔ یہاں ان کی شہرت پہلے سے پہنچ چکی تھی۔ کچھ عرصہ جامعہ ازہر میں درس دیا پھر ان کو قضا کا عہد سونپ دیا گیا۔ رشوت ستانی اور بدعنوانی کے خلاف ابن خلدون نے ایسے سخت احکام اور اقدامات جاری کیے کہ عمال اور حکام ان کے مخالف ہو گئے۔ ایک بار پھر ابن خلدون نے گوشہ نشینی اختیار کی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب اس کی بدبختی اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ بیوی بچے تیونس سے مصر آ رہے تھے کہ جہاز راہ میں غرق ہوا اور وہ سب ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ جب ابن خلدون کو خبر ملی تو اس کی زبان سے یہ جملہ نکلا۔ “اس حادثے سے میں مالی خوش بختی اور اولاد سب سے محروم ہو گیا۔”

ستار طاہر

Advertisements

یورپ نے تحقیق مسلمانوں سے لی

رابرٹ بریفالٹ نے کہا ہے کہ اِس بات کا غالب اِمکان ہے کہ عرب مشاہیر سے خوشہ چینی کئے بغیر جدید یورپی تہذیب دورِ حاضر کا وہ اِرتقائی نقطۂ عروج کبھی حاصل نہیں کر سکتی تھی جس پر وہ آج فائز ہے۔ یوں تو یورپی فکری نشو و نما کے ہر شعبے میں اِسلامی ثقافت کا اثر نمایاں ہے لیکن سب سے نمایاں اثر یورپی تہذیب کے اُس مقتدِر شعبے میں ہے جسے ہم تسخیرِ فطرت اور سائنسی وجدان کا نام دیتے ہیں۔ یورپ کی سائنسی ترقی کو ہم جن عوامل کی وجہ سے پہچانتے ہیں وہ جستجو، تحقیق، تحقیقی ضابطے، تجربات، مُشاہدات، پیمائش اور حسابی مُوشگافیاں ہیں۔ یہ سب چیزیں یورپ کو معلوم تھیں اور نہ یونانیوں کو، یہ سارے تحقیقی اور فکری عوامل عربوں کے حوالے سے یورپ میں متعارف ہوئے۔