بوعلی سینا : خیالات و حیات

بوعلی سینا کو ابن سینا بھی کہا جاتا ہے اور یہ عرب روایت میں انتہائی اہم فلسفی کی حیثیت رکھتا ہے جب کہ اسے دنیا کے عظیم ترین مفکرین میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے۔ الکندی اور فارابی جیسے اپنے پیش روؤں اور اپنے جانشین ابن رشد کی طرح بوعلی سینا نے خود آگاہی کے تحت مسلمان عالم دین بننے کی بجائے فلسفی بننے کا انتخاب کیا اور اس کے لیے یونانی دانش اور دلیل و برہان کے راستہ پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ بالخصوص اس نے خود کو ارسطو کے پیروکار کی حیثیت سے دیکھا۔ چنانچہ اس کی اہم تحریروں میں ارسطو کی فلاسفی کا انسائیکلوپیڈیا نمایاں ہے۔ تاہم یہ کام ارسطو کی فلاسفی کو ابن سینا کی نظرثانی اور مرتب کردہ نظریہ کی وضاحت سمجھا جاتا ہے۔

کچھ نظریات پہ مثلاً یہ نظریہ کہ کائنات ہمیشہ سے موجود تھی ابن سینا ارسطو کا حامی رہا۔ دوسرے شعبوں میں وہ خود کو ارسطو سے بنیادی طور پر اختلاف کرنے میں آزاد محسوس کرتا ہے۔ ایک نمایاں ترین مثال ذہن یا روح اور جسم کے درمیان تعلق کے بارے میں اس کی توضیح میں دکھائی دیتی ہے۔ ارسطو دعویٰ کرتا ہے کہ انسانوں (اور دیگر حیوانوں) کے جسم اور ذہن دو مختلف چیزیں (یا مادے) نہیں ہیں بلکہ ایک اکائی ہیں اور یہ کہ ذہن انسانی جسم کی ہیئت یا فارم ہے۔ یہ ان تمام سرگرمیوں کا ذمہ دار ہے جو ایک انسان سے ممکن ہیں جس میں سوچنا بھی شامل ہے۔ اسی وجہ سے ارسطو سمجھتا ہے کہ جسم کی موت کے بعد کسی کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔ اس کے برعکس ابن سینا فلسفہ کی تاریخ میں مشہور ثنویت پسندوں میں سے ایک ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جسم اور ذہن دو مختلف مادے ہیں۔

اس نکتہ نظر میں اس کا عظیم پیش رو، افلاطون تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ذہن ایک مختلف چیز ہے جس کو جسم میں قید کر دیا گیا ہے۔ ابن سینا 980ء میں بخارا (موجودہ ازبکستان) کے گاؤں میں پیدا ہوا۔ اگرچہ اس نے زیادہ تر عربی زبان میں لکھا کیونکہ پورے عالم اسلام میں علم و ادب کی زبان یہی تھی لیکن اس کی مادری زبان فارسی تھی۔ ابن سینا ایک حیرت انگیز بچہ تھا۔ اپنی ذہنی استعداد کی بدولت وہ تیزی سے اپنے اساتذہ سے نہ صرف منطق اور فلسفہ میں آگے نکل گیا بلکہ علم طب میں بھی انہیں پیچھے چھوڑ گیا۔ ابھی وہ اپنی عمر کے دوسرے عشرہ میں تھا کہ اس کی شہرت علاقے کے سمانی بادشاہ نوح ابن منصور کے دربار میں ایک طبیب حاذق کی حیثیت سے پہنچ چکی تھی۔ چنانچہ اس کے تصرف میں ایک بہت بڑا کتب خانہ دے دیا گیا۔

ابن سینا کی زندگی بہت سے بادشاہوں کے ساتھ بحیثیت طبیب اور سیاسی مشیر گزری۔ اس نے 21 سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا اور پھر دو سو سے زائد کتابیں مختلف موضوعات پر تحریر کیں۔ جن میں مابعد الطبیعات، حیوانی علم الاعضا، ٹھوس مادے کی میکانیات اور عربی علم نحو جیسے متنوع موضوعات شامل تھے۔ اس کی موت درد قولنج کی دوا میں ردوبدل کرنے سے ہوئی۔ غالباً یہ عمل بدنیتی کے ساتھ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے حکمران علی الدولہ کے ساتھ عسکری مہم پر تھا۔

مارکوس ویک

Advertisements

متعدد وائرسوں کو بیک وقت تباہ کرنے والے نینو ذرات

بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے نینومیٹر جسامت والے انتہائی مختصر ذرّات یعنی نینو پارٹیکلز کو اس قابل بنا لیا ہے کہ اب وہ کئی اقسام کے وائرسوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں اب بھی متعدد اقسام کے وائرس کروڑوں افراد کو موت کے دہانے تک پہنچا رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک ہمارے پاس ان گنت اقسام کے وائرسوں کو روکنے والی دوائیاں موجود نہیں۔ یونیورسٹی آف الینوئے، شکاگو کے پروفیسر پیٹر کرال کی نگرانی میں بین الاقوامی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایسے نینو ذرات بنائے ہیں جو کئی طرح کے وائرسوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔

یہ نینو پارٹیکلز ہرپس سمپلکس وائرس، ہیومن پیپی لوما وائرس یا ایچ پی وی، ڈینگی اور لینٹی وائرس کا قلع قمع کر سکتے ہیں۔ قبل ازیں جو نینو ذرات بنائے گئے تھے وہ خلیے کے اندر وائرس جانے سے روکتے ہیں لیکن یہ نئے ذرات وائرس کو براہِ راست تباہ کرتے ہیں۔ اس پیش رفت کی ابتدائی تحقیقات ’’نیچر مٹیریلز‘‘ میں شائع ہوئی ہیں جن کے مطابق ان ماہرین نے ایسے نینو ذرات بنائے ہیں جو ایچ ایس پی جی کے تحت عمل کرتے ہیں (جس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں)۔ اس طریقے پر عمل کر کے یہ وائرس سے مضبوطی کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور اسے تباہ کر کے چھوڑتے ہیں۔

خلوی سطح پر عمل کرنے والا ایک پروٹین ہیپیرن سلفیٹ پروٹیو گلاکن (ایچ ایس پی جی) کہلاتا ہے۔ وائرس عام طور پر اسی پروٹین کے ذریعے صحت مند انسانی خلیات کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ عین یہی عمل نینو ذرات بھی کرتے ہیں اور کسی خلیے کے بجائے وائرس سے چمٹ کر اسے تباہ کرتے ہیں۔ ماہرین نے اپنی کاوش کو کامیاب بنانے کےلیے سوئٹزر لینڈ، اٹلی، فرانس اور چیک ری پبلک کے ماہرین کو اپنی ٹیم میں شامل کیا جن میں تجرباتی علوم کے ماہر، وائرس کا علم رکھنے والے سائنس دان اور بایوکیمسٹ بھی شامل تھے۔

ٹیم نے پہلے نینو پارٹیکلز اور ان کے کام کی کئی کمپیوٹر نقول (سمیولیشنز) بنائیں اور ذرات کو اپنے کام کے لحاظ سے تیار کیا۔ اس ضمن میں کمپیوٹر ماڈلنگ نے بھرپور مدد کی اور ایک ایک ایٹم کا کام نوٹ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ایسے نینو ذرات وجود میں آئے جو کئی اقسام کے خوفناک وائرسوں سے جڑکر انہیں تباہ کرتے ہیں جبکہ صحت مند خلیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ تجربہ گاہ میں نینو پارٹیکلز نے بہت کامیابی سے ہرپس سمپلکس وائرس، ہیومن پیپی لوما وائرس یا ایچ پی وی، ڈینگی، لینٹی وائرس اور دیگر اقسام کے وائرسوں کو ختم کر دکھایا۔ اگلے مرحلے پر مزید تجربات کیے جائیں گے تاکہ ان ذرات کو پہلے جانوروں اور کامیابی کی صورت میں انسانوں پر آزمایا جا سکے۔