مسلمان سائنسدانوں کا عہد زریں

عبدالرحمان صوفی، دور خلافت عباسیہ: عبدالرحمان نے ستاروں کی روشنی پیمائش میں اصطلاح کی۔

ابن یونس، دور خلاف عباسیہ: ابن یونس نے آونگ (رقاصہ ساعت) پینڈولم ایجاد کیا۔ اور اس کے جھولنے سے وقت کی پیمائش کی۔

فاطمی خلافت: اس کے زمانے میں قاہرہ کے کتب خانے میں بیس لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں جن میں سے چھ ہزارصرف ریاضیات، فلکیات اور طبیعیات سے متعلق تھیں۔

اشبیلیہ کا مینار جیرالد : عظیم ریاضی دان جابر بن افلح کی زیر نگرانی فلکی مشاہدات کے لیے 1198ء میں تعمیر کیا گیا۔ اس کی تعمیر کئی برس میں مکمل ہوئی ۔ یہ اب بھی سپین میں موجود ہے اور اسے اہم تاریخی ورثہ کردانا جاتا ہے۔

بہاء الدین العاملی: دسویں صدی ہجری کا آخری ریاضی دا ن معلم جس نے الجبرا پر بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔

میر ہاشم جیلانی: انہوں نے محقق طوسی کی کتاب اصول الہندسہ والحساب کی شرح لکھی تھی۔

لطف اللہ المہندس : لال قلعہ اور جامع مسجد دہلی اور تاج محل آگرہ تعمیر کرنے والے استاد کا بیٹا لطف اللہ نامور مہندس تھا۔ اس نے خلاصتہ الحساب کی شرح لکھی۔ ان کا تعلق لاہور سے تھا۔

ابو عبداللہ محمد بن حسن طوسی: نامور عالم ہیئت دان‘ ریاضی دان‘ ماہر طبیعیات‘ علم اخلاق ‘ موسیقی اور علوم حکمیہ کا ماہر تھا۔ اس کی فرمائش پر ہلاکو خان نے رصد گاہ تعمیر کروائی تھی۔ 30 سے زیادہ تصانیف کا مصنف تھا۔

قطب الدین شیرازی: علوم عقلیہ اور نقلیہ کا ماہر سائنسدان تھا بے شمار کتابوں کا مصنف تھا۔ اس نے فلکیات ‘ ارضیات‘ سمندروں‘ فضا میکانیات اور بصریات پر بحث کی ہے۔ اس کے خیال میں زمین مرکز کائنات ہے۔ قوس قزح پر بھی اس نے کھل کر بحث کی۔

کمال الدین الفارسی: قطب الدین شیرازی کا شاگرد جس نے ہالہ قمر اور قوس قزح کے بارے میں اپنے استاد کے نظریات کو جھٹلایا اور ابن الہیثم کی کتاب کی شرح تصنیف کی۔

محمد بن محمد چغمینی: علم ریاضی پر ایک مشہور کتاب الخلص فی الہیتہ کے نام سے لکھی۔ الحمیاری، ساتویں / آٹھویں صدی: ان کا شمار کیمیا دان جابربن حیان کے معلمین میں کیا جاتا ہے۔

ابراہیم الفزاری، آٹھویں صدی تا 777ئ:خلافت عباسیہ کے دور میں خلیفہ ہارون الرشید کے تحقیقاتی اداروں سے وابستگی رہی۔ علم فلکیات پر تحقیق و تحریر کیں جن میں اسطرلاب اور سالنامہ کی ترتیب بھی شامل ہیں۔ ہارون الرشید کے کہنے پر یعقوب بن طارق کی شراکت میں ہندوستانی فلکیاتی تحریروں کا عربی میں ترجمہ کیا، یہ کتاب 750ء میں بیت الحکمہ بغداد میں الزیج علی سنی العرب کے نام سے تکمیل کو پہنچی۔

جابر بن حیان721ء تا 815ئ: کیمیا دان، طبیعیات میں کام؛ علم الادویہ میں تحقیق؛ علم الہیئت میں تحقیق ۔

Advertisements

الفارابی کے نظریات

فارابی وہ پہلا ترک فلسفی تھا جسے بہت زیادہ شہرت نصیب ہوئی۔ فارابی نے نہ صرف فلسفہ یونان کا گہری نظر سے مطالعہ کیا بلکہ ارسطو کے فلسفہ کی تشریح لکھی اور اسے آسان بنایا۔ اس نے فلسفہ یونان اور اسلامی تعلیمات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ فارابی نے انسانی عقل کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک عقل عملی اور عقل نظری۔ عقل عملی ہمیں عمل کے بارے میں بتاتی ہے یعنی ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ جبکہ عقل نظری ہمیں استکمال ( perfection) حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ فارابی نے عقل نظری کو مزید تین حصوں میں تقسیم کیا۔ عقل ہیولانی عقل نالفعل اور عقل مستفاد۔

فارابی نے عقل نظری کو عقل عملی پر ترجیح دی۔ اس کا خیال تھا کہ اگر کوئی شخص کسی شے کا علم رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا یا اس علم کے مطابق اپنے کردار کو نہیں ڈھالتا تو وہ اس شخص سے بہرحال بہتر ہے جو اعمال تو نیک بجا لاتا ہے لیکن اس کے بارے میں علم نہیں رکھتا۔ اصل میں یہ بات اس نے سقراط کے زیر اثر کہی تھی یعنی سوچ سمجھ کر برائی کرنا بلا سوچے سمجھے نیکی کرنے سے بدرجہا بہتر ہے کیونکہ علم انسانی کو نتائج اور عواقب سے بچا سکتا ہے۔ فارابی نے ذہنی صحت کے سلسلے میں معاشرے کو بے حد اہمیت دی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ذہنی آسودگی اور کامیابی کا انحصار مل جل کر زندگی بسر کرنے میں ہے۔

اس نے معاشرے کی دو اقسام بیان کیں۔ کامل معاشرہ اور غیر کامل معاشرہ۔ کامل معاشرہ وہ ہے جس میں لوگ اتحاد و یگانگت سے رہیں اور غیر کامل معاشرہ وہ ہے جہاں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہو۔ ہر شخص محض اپنا مفاد ہی سوچے اور محض اپنی خاطر جئے۔ افلاطون نے بہترین معاشرے کا نام جمہوریت رکھا تھا۔ فارابی نے اسے شہر فضیلت کا نام دیا۔ یعنی وہ ایسی مثالی ریاست ہو گی جہاں لوگ ایک دوسرے سے تعاون کریں گے اور اپنی اور دوسروں کی زندگی کو خوشگوار بنانے میں ممدومعاون ثابت ہوں گے ۔

محمد عاصم صحرائی

مسلمان سائنس دان

ابو القاسم مسلمہ بن احمد المجریطی : علم ہندسہ فلکیات اور دیگر ریاضیاتی علوم کا ماہر تھا۔ اس نے ریاضی المعاملات کے نام سے پہلی تجارتی کتاب لکھی۔

ابوبکر محمد بن حسن الحاسب الکرخی : اس نے الجبرے میں دو درجی مساوات کے دونوں حل نکالنے کا مکمل کلیہ مع ثبوت کے پیش کرنے کے علاوہ مقاد پر اصم کی جمع و تفریق کے طریقے معلوم کیے۔ اس نے دو کتابیں ’’کتاب الفخری‘‘ اور ’’الکافی فی الحساب‘‘ تحریر کیں۔

ابو علی الحسن بن عبداللہ بن سینا (ابن سینا): قانون فی الطب اور الشفا جیسی غیر معمولی کتابوں کا مصنف تھا۔ اس نے حرکت اتصال قوت خلا لا نسیایت اور حرارت کا مطالعہ کیا۔ وزن پر بحث اور فن طب و جراحت میں امام کی حیثیت کے حامل ہیں۔ ان کی کتابوں کا ترجمہ لاطینی ‘ انگریزی‘ فرانسیسی‘ زبانوں میں شائع ہو چکا ہے۔

علامہ تفضل حسین خان وفات 1800ء: جید عالم اور ریاضی دان تھے۔ ان کی مشہور تصنیف کتاب فی الجبر ہے۔

یعقوب الکندی: اصل وجہ شہرت طب ہے جبکہ وہ علم ریاضیات کا بھی ماہر تھا۔ ریاضیات کے متعلق اس کی رائے تھی کہ اس علم کے فلسفہ کے بغیر اچھی طرح سمجھنا ممکن نہیں ہے۔

ثابت بن قرہ: موسیٰ خورازمی کا ہونہار شاگرد جس نے ریاضی میں جیومیٹری کی بعض اشکال کے متعلق ایسے مسائل اور کلیات دریافت کیے جو اس سے پہلے معلوم نہ تھے۔ علم اعداد میں اس نے موافق عددوں کے متعلق مختلف کلیوں کا استعمال کرنے کا طریقہ رائج کیا۔ وہ پچاس کتابوں کا مصنف تھا۔ اس کی کتابوں میں کتاب فی المخروط المہ کافی، کتاب المختصر فی علم الہندسہ، کتاب فی الانوا و دیگر شامل ہیں۔

ابوبکر رازی: اس نے پہلی بار ثابت کرنے کی کوشش کی کہ زمین کی شکل ’’کروی‘‘ اور اس کے دو محیط ہیں جن کے گرد زمین گردش کرتی ہے۔ سورج زمین سے بڑا اور چاند چھوٹا ہے۔

عمر خیام: 1039ء تا 1124ء ریاضی دان، منجم اور شاعر ہے۔ رباعیات کے حوالے سے مشہور شاعر نے اصفہان میں ایک رصد گاہ تعمیر کی جہاں اس نے سب سے زیادہ مشاہدات شمسی سال کے حوالے سے کیے۔ اس کی تحقیقات کے مطابق شمسی سال کی پیمائش 365 دن 5 گھنٹے 49 منٹ تھی۔ موجودہ زمانے کی پیمائش اوراس کی پیمائش میں صرف 11.3 سیکنڈ کا فرق پایا جاتا ہے۔ عمر خیام نے ایک زیج بھی مرتب کی۔ علاوہ ازیں کتاب الجبر و المقابلہ لکھ کر موسیٰ خوارزمی کی غلطیوں کی نشاندہی کی۔

یعقوب الفرازی: خلیفہ المنصور کے دربار کا ہیئت دان تھا، سب سے پہلے مسلمانوں میں اصطرلاب تیار کیا۔ اس موضوع پر ان کی کتاب کا نام العمل بالاصطراب المسطح ہے۔ دوسری مشہور کتاب کا نام سند الہند الکبیر ہے۔

موسیٰ بن شاکر: خلیفہ مامون رشید کا درباری تھا۔ وہ اور اس کی اولاد علم ریاضیات کے امام ہیں۔ بنو موسیٰ شاکر نے مراکز اثقال ہندسہ‘ مخروطات‘ آلات حربیہ اور دیگر موضوعات پر کتابیں لکھیں۔ ان کی ایک مشہور کتاب کتاب قسمتہ الزاویہ الی ثلاۃ اقسام مشاوریۃ کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

محمد بن موسیٰ الخوارزمی: خلیفہ مامون الرشید کا مصاحب تھا۔ اس نے علم ریاضیات میں الجبرا کو الگ اور مستقل حیثیت دینے کے علاوہ صفر کا ہندسہ ایجاد کیا۔ اس لیے موسیٰ الخوارزمی کو کمپیوٹر کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ گنتی کا موجودہ طریقہ موسیٰ خوارزمی کا کارنامہ ہے۔ خوارزمی کی مشہور کتابیں زیخ السند ہند اور کتاب صورۃ الارض ہیں۔ اس کتاب کا ترجمہ لاطینی زبان میں 1831ء میں شائع ہوا۔

محمد احمد بن ابوریحان البیرونی 973ء تا 1048ء : ریاضی دان و ماہر فلکیات البیرونی نے معدنیاتی نمونے جمع کر کے ان کے مختلف اجزا (اشیا) کو الگ الگ تول کر اوزان مخصوصہ کے نقشے تیار کیے جو آج تک رائج ہیں۔ قانون مسعودی مشہو رعالم کتاب ہے محیط اراضی کی مقدار ناپنے یا نکالنے اور دریا یا زمین کی گہرائی ناپنے کا طریقہ ایجاد کیا۔

حسن الحسن بن الہیثم 965ء تا 1043ء : طبیب و ماہر فلکیات ابن الہیثم نے قوس قزح پر تحقیق کی۔ موضوع بصریات پر دنیا کی پہلی کتاب المناظر بھی تحریر کی تھی۔ جس میں اس نے بتایا تھا کہ نگہ آنکھ سے نکل کر دوسری چیزوں پر نہیں پڑتی ہے بلکہ خارجی چیزوں کا عکس آنکھ کے تل پر پڑتا ہے جسے دماغ کا ایک پٹھا محسوس کرتا ہے۔ اس نے رنگ اور روشنی کے انتشار اور انعکاس نور پر بھی بحث کی ہے۔ علم ہیئت و میکانیات پر اس نے 44 رسالے تصنیف کیے۔

البستانی: سورج کی اوج مدار کی حرکت کا انکشاف کیا۔ چاند اورستاروں کی حرکات کی تصحیح کی۔ اسی نے علم مثلث کے تناسبات کے متعلق اولین تصورات رائج کیے جواب تک مستعمل ہیں۔ البستانی کی مشہور کتاب الزیح الصابی کا ترجمہ اطالوی محقق ینلینو کارلو الفانسو 1872ء تا 1938ء نے کیا تھا۔

ابو الوفابوز جانی:ابو الوفا نے قمر (چاند) پر شاندار تحقیق کی۔ چاند کی تیسری حالت (انحراف) کا انکشا ف بھی اسی نے کیا تھا۔ علم ہندسہ اور جبر و مقابلہ میں اس کی تصانیف کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔

نصیر الدین طوسی : ماہر فلکیات، الجبراء ، طبیعیات

نصیرالدین طوسی نے ایک فلکیاتی رصد گاہ بھی بنائی اور اس وقت کے نامور سائنسدانوں کو اس رصد گاہ میں کام کرنے کے لیے اپنے ساتھ شامل کر لیا جن میں المؤید العرضی جو دمشق سے آئے تھے، الفخر المراغلی الموصلی، النجم دبیران القزوینی اور محیی الدین المغربی الحلبی شامل ہیں۔ انہیں مختلف علوم جیسے : فقہ، اصول ، عقاید اسلامی، طبیعیات ، ریاضیات، ھیات ، حدیث و کلام پر بہت زیادہ مہارت حاصل تھی ، علوم اسلامی اور علوم بشری کو مختلف ابعاد میں گسترش دینے کی وجہ سے ان کو استاد البشر کے لقب سے نوازا گیا ۔

فقہ، کلام، علوم عقلی و نقلی اور طبیعیات میں ان کی تاثیر اس حد تک ہے کہ مغربی دانشور نے بھی ان کی تعریف کی ہے ان میں سے ایک جرمن کے پروفیسر بروکلمان ہیں جس نے ان کو علم او ایل (۱) کے سرکردہ کہا ہے اور ان کو چھٹی ہجری کے مشہور ترین عالم کا خطاب دیا ہے ۔ خواجہ کو شعری ذوق بھی حاصل تھا ، انہوں نے اپنے دیوان منازل السالکین میں بارہ سو اشعار لکھے ہیں ۔ انہوں نے بہت ساری تصانیف چھوڑیں جن میں سب سے اہم کتاب شکل القطاع ہے، یہ پہلی کتاب تھی جس نے مثلثات کے حساب کو علمِ فلک سے الگ کیا، انہوں نے جغرافیہ ، حکمت، موسیقی، فلکی کیلینڈر، منطق، اخلاق اور ریاضی پر بیش قیمت کتابیں لکھیں جو ان کی علمی مصروفیت کی دلیل ہیں، انہوں بعض کتبِ یونان کا بھی ترجمہ کیا اور ان کی تشریح وتنقید کی، اپنی رصد گاہ میں انہوں نے فلکیاتی ٹیبل (زیچ) بنائے جن سے یورپ نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

انہوں نے بہت سارے فلکیاتی مسائل حل کیے اور بطلیموس سے زیادہ آسان کائناتی ماڈل پیش کیا، ان کے تجربات نے بعد میں کوپرنیکس زمین کو کائنات کے مرکز کی بجائے سورج کو نظام شمسی کا مرکز قرار دینے میں مدد دی، اس سے پہلے زمین کو کائنات کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے آج کے جدید علمِ فلک کی ترقی کی راہ ہموار کی، اس کے علاوہ انہوں نے جبر اور ہندسہ کے بہت سارے نظریات میں نئے انداز کے طریقے شامل کیے ساتھ ہی ریاضی کے بہت سارے مسائل کو نئے براہین سے حل کیا، سارٹن ان کے بارے میں کہتے ہیں : طوسی اسلام کے سب سے عظیم سائنسدان اور ان کے سب سے بڑے ریاضی دان تھے، ریگو مونٹینوس نے اپنی کتاب المثلثات کی تصنیف میں طوسی کی کتب سے استفادہ کیا۔

انہوں نے علم کلام ، فقہ، اخلاق، نجوم، حدیث اور تاریخ میں مختلف کتابیں تالیف اور تصنیف کی ہیں جن کے نام یہ ہیں :1. تجرید الاعقاید (تجرید الکلام یا تجرید الاعتقاد) 2. بقاء النفس بعد بوار البدن 3. جواہر الفراید فی الفقہ.، 4. الفرایض النصیریہ .، 5. آداب المتعلمین .6. رسالہ فی الامامہ 7. رسالہ فی العصمہ .، 8. تلخیص المحصل .،9. الجبر و الاختیار .،10. جوابات الطوسی لصدر الدین قونوی .،11. الفصول النصیریہ ،12. قواید العقاید .،13. اساس الاقتباس (فی المعانی والبیان) .،14. خلافت نامہ .،15. اخلاق ناصری .،16. الاربعون حدیثا،7. تزکیہ الارواح عن موانع الافلاح .،اسی طرح مختلف موضوعات پر ان کے تقریبا 180 مقالات ہیں .

طیب رضا عابدی

Islam’s Forgotten Geniuses

 

• Ibn al-Natis, a Syrian from the late 13th century, is credited with giving the first correct description of blood circulation in the body, 400 years before the work of Thomas Harvey.
• The Polish astronomer Copernicus (1473-1543) has Arabic astronomers to thank for his calculations: indeed, there are diagrams in his books that appear to have been lifted exactly from the work of the Arab astronomer Ibn Shatir 100 years earlier.
• The modern scientific method, based on observation and measurement, is often said to have been established in the 17th century by Francis Bacon and René Descartes. But the Iraqi-born physicist Ibn al-Haythem (Alhazen), had the same idea in the 10th century.
• The word “alchemy” derives from the Arabic “alkimya”, which means “chemistry”. The world’s first true chemist was a Yemeni Arab by the name of Jabir ibn Hayyan, born in 721.
• Al-Razi (Rhazes) was the greatest clinician of the Middle Ages. Born near Teheran in 865, he ran a psychiatric ward in Baghdad at a time when, in the Christian world, the mentally ill would have been regarded as being possessed by the devil.
• The word “algebra” comes from the Arabic “al-jebr”, and was made famous by the great ninth-century mathematician al-Khwarizmi. But contrary to popular myth, algebra was not an Islamic invention – its rules actually go back to the Greek mathematician Diophantus.

حنین ابن اسحاق : ایک جلیل القدر طبیب

ابوزید حنین ابن اسحاق العبادی 810ء میں پیدا ہوا اور 877ء میں وفات پائی۔ یہ عہد عباسی کا ایک جلیل القدر طبیب تھا۔ حنین ابن اسحاق کے تذکرے کے بغیر عہد عباسی کی تاریخ نا تمام رہتی ہے۔ ابن ندیم نے الفہرست میں لکھا ہے کہ اس کا پورا نام حنین ابن اسحاق عبادی تھا اور ابو زید اس کی کنیت تھی۔ یہ بنو موسیٰ کے دربار میں یونانی مخطوطات کو جمع کرنے اور ان کے تراجم پرمامور تھا۔ اس نے طبی کتابوں کے تراجم سب سے زیادہ کیے ہیں۔ حنین علمی منازل طے کرتا ہوا اس درجے پر جا پہنچا کہ علوم و فنون کا سرچشمہ تصور کیا جانے لگا۔ اس کی رسائی خلیفہ مامون رشید تک ہوئی جس نے حنین کو اپنے دربار میں بلا کر خلعتیں عطا کیں اور بیت الحکمت کا مہتمم مقرر کیا۔

مامون رشید اس کے تالیف وتراجم کی جس طرح قدر کرتا تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ حنین کو اجرت کے طورپر اس کی ہرتالیف کے ہم وزن سونا عطا کرتا تھا۔ حنین اپنے عہد کا ممتاز طبیب ہی نہیں بلکہ یونانی طب کا سب سے بڑا مترجم ہے۔ حنین نے جالینوس کی 95 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے سریانی اور39 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے عربی میں کیا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے شاگردوں کے ذریعے کیے گئے تراجم پر نظر ثانی کی اورصلاح و مشورہ دیا۔ حنین ہی کی سربراہی میں دنیا کی انتہائی اہم اور نایاب کتاب ’کتاب الخشائش‘ (جس کا اصل مصنف دیسقوریدوس ہے) کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا۔ حنین عربی، فارسی، یونانی اورسریانی زبانوں کا جید عالم تھا۔

اگرچہ حنین ابن اسحاق کئی کتابوں کا مصنف تھا لیکن علمی دنیا میں اس کی شہرت مترجم کی حیثیت سے زیادہ ہوئی۔ حنین ابن اسحاق کی تصانیف میں کتاب المصائب، کتاب العشر مقالات فی العین، کتاب العین خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ ان ابی اُصیبعہ کے بیان کے مطابق 70 سال کی عمر میں ذرب (Sprue) کے عارضہ سے حنین کا انتقال ہوا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حنین کی موت سخت دماغی صدمے کی وجہ سے ہوئی یا پھر اس نے تنگ آکر زہر کھا کر خود کشی کر لی۔

نوید احمد

 

مسلم دنیا کے بھلا دیے گئے سائنسی ستارے

ایران میں جنم لینی والی مریم مرزا خانی، جو ریاضیات میں بلا کی ذہین تھیں، 14 جولائی 2017 کو کینسر کے باعث 40 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ 2014 میں انہیں فیلڈز ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو کہ ریاضی کے شعبے میں نوبیل انعام کے برابر ہے۔ ملکہءِ ریاضیات کے لقب سے مشہور مریم مرزا خانی یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی خاتون اور پہلی مسلمان تھیں۔ انہوں نے عام طور پر مردوں کا شعبہ سمجھے جانے والے اس شعبے کا اعلیٰ ترین ایوارڈ حاصل کر کے اس تاثر کو غلط ثابت کیا کہ یہ صرف مردوں کا شعبہ ہے۔ اس قدر ذہین خاتون کو اتنی جلدی گنوا دینا ایک سانحہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کی طرح ان کے ملک ایران میں بھی ان کی وفات پر سوگ منایا گیا جبکہ ان کی کامیابیوں کو یاد کیا گیا۔ ایران سے باہر، اسلامی دنیا کے دیگر ممالک میں ان کی وفات ایک غیر اہم واقعہ رہی۔ پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بمشکل ہی ان کا نام لیا گیا۔ یہ بھی ان کی وفات کی طرح ایک مایوس کن صورتحال ہے۔

مرزا خانی نے ‘کمپلیکس جیومیٹری’ کے وسیع میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ فیلڈز میڈل ایوارڈ کمیٹی نے ‘رائمن سرفیسز کی جیومیٹری اور ڈائنیمکس اور ان کے موڈیولی اسپیسز’ پر ان کے کام کو بنیاد بنا کر ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سب میری سمجھ سے باہر ہے کیوں کہ آج کی ریاضی 1960 میں جب میں نے ماسٹرز کیا تھا، کی ریاضی سے اتنی ہی مختلف ہے جتنے کہ آج کے موبائل فون اس دور کے ٹیلی فونز سے۔ مرزاخانی نے فرزانیگان اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور 1999 میں تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنولوجی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 2004 میں ہارورڈ سے پی ایچ ڈی کی اور پرنسٹن اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ ایسی تعلیمی اداروں، جو مرزاخانی جیسے ماہرینِ ریاضی پیدا کر سکیں، کی موجودگی پر ایرانی نظامِ تعلیم مبارک باد کا مستحق ہے۔

پاکستان میں برطانیہ نے اچھے تعلیمی ادارے چھوڑے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری مادرِ علمی پنجاب یونیورسٹی کے پرانے کیمپس کے شعبہءِ کیمیا میں یہ تختی نصب تھی: “کومپٹن افیکٹ کے تجربے کو یہاں 1929 میں دوبارہ دہرایا گیا تھا۔ ” 1923 کا یہ بنیادی تجربہ وہ تھا جس نے کوانٹم فزکس کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ بھی ہم نے کئی مایہ ناز سائنسدان پیش کیے۔ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام ایسے لیجنڈ ہیں جنہوں نے میری نسل کے طلباء کو متاثر کیا۔ 1960 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان تمام ترقی پذیر ممالک سے زیادہ ماہرِ تھیوریٹیکل فزکس پیدا کر رہا تھا۔ 1960 میں پاکستان اٹامک اینرجی کمیشن (پی اے ای سی) مکمل طور پر پاکستانی سائنسدانوں نے قائم کیا اور اس کا انتظام سنبھالا۔ اس وقت پاکستان نیوکلیئر ہتھیاروں کی طرف راغب نہیں تھا۔ پی اے ای سی کے سابق سربراہ ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی کو اس بات کا افسوس تھا۔ میری ان سے نیویارک میں 1979 میں ملاقات ہوئی تھی۔

جب انہیں میرے تعلیمی پس منظر کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے بتایا کہ کس طرح ‘بیوروکریٹس’ نے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کے حصول کی ان کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رکھی تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اہم موقع گنوا چکا تھا اور یہ کہ سینٹری فیوج ٹیکنولوجی ایک ‘فراڈ’ تھی۔ ان کا سوال تھا، ‘متھا (مکھن نکالنے کا عمل) ٹیکنولوجی ایٹم بم کس طرح بنا سکتی ہے؟’ مگر پھر بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں ایک نئی روح پھونک دی۔ سائنسدانوں کی اپنی پرعزم ٹیم کے ساتھ انہوں نے ایک نئی ٹیکنولوجی تیار کی جسے پہلے کہیں آزمایا نہیں کیا گیا تھا۔ نتیجہ سب کے سامنے تھا اور ان لیے باعثِ پیچ و تاب، جنہیں لگتا تھا کہ پاکستان ‘دھوکے بازی’ کر رہا ہے۔

سی آئی اے کے سابق سربراہ جارج ٹینیٹ (1997 تا 2004) اپنی کتاب ‘ایٹ دی سینٹر آف دی اسٹورم’ میں افسردگی سے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر خان نے “تقریباً اکیلے ہی پاکستان کو نیوکلیئر طاقت میں تبدیل کر دیا۔” پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا ایک تیسرا روٹ متعارف کروا ڈالا جبکہ اس سے پہلے رائج دو دیگر طریقے 1940 کی دہائی کے اوائل میں مین ہٹن پراجیکٹ میں تیار کیے گئے تھے۔
ہمارے پاس تکمیل تک نہ پہنچ پانے والے ٹیلنٹ کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ مجھے شفاعت حسین یاد ہیں جو میرے ایک سال سینیئر تھے اور انتہائی نایاب ذہانت اور معیار کے حامل تھے۔ ہم نے 1964 میں ایک ساتھ ٹوپولوجی کی تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ ایک ابتدائی بحث کے دوران ہمارے بہترین سپروائزر اور دوست ڈاکٹر ممتاز حسین قاضی، جو حال ہی میں ہارورڈ سے لوٹے تھے، نے ہمیں ایک غیر حل شدہ تھیورم سمجھایا۔

شفاعت نے اس دن سے کلاسوں میں آنا بند کر دیا اور دو ماہ کے اندر اندر تھیورم کا حل پیش کر کے ایک ریسرچ پیپر تحریر کر لیا جو کہ ریاضی کے ایک مشہور جریدے جرنل آف دی لندن میتھمیٹیکل سوسائٹی میں شائع ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر شفاعت کو رات میں کوئی خیال آجاتا اور انہیں کوئی کاغذ نا ملتا تو وہ اپنے بستر کی سفید چادر پر ہی لکھ ڈالتے، اور صبح اپنی والدہ سے کہتے کہ ان کی چادر نہ دھوئی جائے۔ انہوں نے پھر پی ایچ ڈی کی اور کینیڈا میں پوسٹ ڈاکٹورل کام شروع کیا۔ چند سال بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ تبلیغی بن چکے تھے۔ وہ کہا کرتے کہ انہیں ایک دو راہے کا سامنا تھا؛ کہ “خدا کا انتخاب کریں یا ریاضی کا۔” اس کے چند سال بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنے جنون، یعنی ریاضی کی سختی تلے دب چکے تھے۔ ان کی زندگی کے سفر میں میں اپنے معاشرے کی کہانی دیکھتا ہوں۔

1960 سے لے کر اب تک ہمارے تعلیمی ادارے پسماندگی کا شکار ہیں۔ 1960 کی دہائی کے وسط میں پوری دنیا کے تعلیمی اداروں میں سیاسی لہر دوڑ گئی تھی۔ دوسری جگہوں پر یہ کچھ سالوں میں دم توڑ گئی مگر پاکستان میں اس کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر سائنسی تعلیم ہوئی۔ اسلامی دنیا میں ہم کبھی سائنس میں سب سے آگے تھے، اب ہم سے یہ اعزاز چھن چکا ہے۔

ہمارا بنیادی تعلیمی نظام انگلش میڈیم اسکولوں، گزارے لائق اور خستہ حال سرکاری اسکولوں، اور مدرسوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔ ایچی سن کالج جیسے انگلش میڈیم اسکول سائنسدان اور انجینیئر پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیے جاتے۔ مرکزی دھارے کے سرکاری اسکولوں کا معیار شرمناک حد تک گرا ہوا ہے۔ مدرسے عمومی اور سائنسی تعلیم کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ اور ہم اس چیلنج سے فکری، معاشرتی اور سیاسی طور پر نمٹنے میں نااہل ثابت ہو رہے ہیں۔ مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سائنس اور زندگی پر سائنس کے اثرات ہی ہیں جو آج کے دور میں اقوام کو عزت دلواتے ہیں اور ان کی قوت ثابت ہوتے ہیں۔ ان خیالات کے ساتھ میں مریم مرزاخانی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ وہ مسلم دنیا میں موجود حالیہ تاریکی کے درمیان امید کی ایک کرن بن کر ابھریں۔

ریاض محمد خان
یہ مضمون ڈان اخبار میں 31 جولائی 2017 کو شائع ہوا۔

ابن زُہر : ایک عظیم طبیب

ابن زُہر خلافت مغربی کا ایک بڑا مفکر اور بلند پایہ طبیب تھا۔ طبیب ہونے کے باعث وہ معقولات کا بدرجہ اتم قائل تھا۔ مابعد الطبیعاتی نکتہ نظر اور فلسفیانہ خیال آرائیوں کوناپسند کرتا تھا۔ اس لیے وہ ’قانون شیخ‘ پر دوسرے اطبا کی طرح مبالغہ آمیز عقیدت و پسندیدگی کا اظہار نہیں کرتا۔ ابن زہر ادویہ مفردہ و مرکبہ میں یدطولیٰ رکھتا تھا۔ اس نے اندلس اور دیگر ممالک میں کافی شہرت پائی۔ اطبا کو اس کی تصنیفات سے زیادہ شغف رہا۔ اس کے زمانے میں اس کے برابر فن طب کا ماہر اور کوئی نہیں تھا۔ امراض کی تشخیص اور ان کے علاج میں اس کوخاص دسترس حاصل تھی۔ اندلس کا مشہور قاضی، فلسفی اورطبیب ابن رشد اس کا دوست اوررفیق کار تھا۔ ان کے کہنے پر اس نے ’کتاب التیسیر‘ لکھی جوکہ ابن رشد کی کتاب ’الکلیات‘ کے متوازی معالجہ کی کتاب ثابت ہوئی۔

ابن رشد اس کی صداقت اور لیاقت کا دل سے قائل تھا اوراس نے اپنی کلیات میں اکثر جگہ اس کی تعریف کی ہے اور اس کو جالینوس کے بعد سب سے بڑا طبیب قرار دیا ہے۔ بہرحال وہ رازی کے بعد مسلمانوں کے عروج کے عہد میں جلیل القدر طبیب تھا۔ ایک رائے ہے کہ ابن زہر وہ پہلا محقق ہے جس نے ’’ہڈیوں میں احساس پایا جاتا ہے‘‘ کے مسئلے پربحث و تحقیق کی ۔ اپنی مایہ ناز تصنیف ’کتاب التیسیر‘ میں طبی اعمال اورسرجری پر بحث کی گئی ہے، اس میں وہ ہدایت کرتا ہے کہ طبیب کے لیے تجربہ مشعل راہ ہونا چاہیے نہ کہ قیاس محض۔

وہ دوائوں کی تیاری کی تفصیلات درج کرتا ہے اور نقرئی قنولہ (Canula) کے ذریعہ مریض کو غذا دینے کا طریقہ بیان کرتا ہے۔ مصلی التہاب نامور (ورم خلاف قلب) اور خراج منصفی کابیان نہایت وضاحت و خوبی سے دیتا ہے۔ ابن زہر خود اس خراج کا شکار ہوگیا تھا اوراپنی شکایات کی نہایت دلچسپ انداز میں توضیحات چھوڑی ہیں۔ دق و سل کے بیماروں کے لیے بکری کے دودھ کی توصیف کرتا ہے۔ نیز وہ سنگ گردہ اور فتح القصبہ کا علمی اسلوب بتاتا ہے۔ نزول الما کے عملی انقباض حدقہ انبساط حدقہ اور امراض چشم میں لفاح (ایٹروپین) کے استعمال کی تصریح درج کرتا ہے۔

حنین ابن اسحاق : ایک جلیل القدر طبیب

ابوزید حنین ابن اسحاق العبادی 810ء میں پیدا ہوا اور 877ء میں وفات پائی۔ یہ عہد عباسی کا ایک جلیل القدر طبیب تھا۔ حنین ابن اسحاق کے تذکرے کے بغیر عہد عباسی کی تاریخ نا تمام رہتی ہے۔ ابن ندیم نے الفہرست میں لکھا ہے کہ اس کا پورا نام حنین ابن اسحاق عبادی تھا اور ابو زید اس کی کنیت تھی۔ یہ بنو موسیٰ کے دربار میں یونانی مخطوطات کو جمع کرنے اور ان کے تراجم پرمامور تھا۔ اس نے طبی کتابوں کے تراجم سب سے زیادہ کیے ہیں۔ حنین علمی منازل طے کرتا ہوا اس درجے پر جا پہنچا کہ علوم و فنون کا سرچشمہ تصور کیا جانے لگا۔ اس کی رسائی خلیفہ مامون رشید تک ہوئی جس نے حنین کو اپنے دربار میں بلا کر خلعتیں عطا کیں اور بیت الحکمت کا مہتمم مقرر کیا۔

مامون رشید اس کے تالیف وتراجم کی جس طرح قدر کرتا تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ حنین کو اجرت کے طورپر اس کی ہرتالیف کے ہم وزن سونا عطا کرتا تھا۔ حنین اپنے عہد کا ممتاز طبیب ہی نہیں بلکہ یونانی طب کا سب سے بڑا مترجم ہے۔ حنین نے جالینوس کی 95 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے سریانی اور39 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے عربی میں کیا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے شاگردوں کے ذریعے کیے گئے تراجم پر نظر ثانی کی اورصلاح و مشورہ دیا۔ حنین ہی کی سربراہی میں دنیا کی انتہائی اہم اور نایاب کتاب ’کتاب الخشائش‘ (جس کا اصل مصنف دیسقوریدوس ہے) کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا۔ حنین عربی، فارسی، یونانی اورسریانی زبانوں کا جید عالم تھا۔

اگرچہ حنین ابن اسحاق کئی کتابوں کا مصنف تھا لیکن علمی دنیا میں اس کی شہرت مترجم کی حیثیت سے زیادہ ہوئی۔ حنین ابن اسحاق کی تصانیف میں کتاب المصائب، کتاب العشر مقالات فی العین، کتاب العین خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ ان ابی اُصیبعہ کے بیان کے مطابق 70 سال کی عمر میں ذرب (Sprue) کے عارضہ سے حنین کا انتقال ہوا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حنین کی موت سخت دماغی صدمے کی وجہ سے ہوئی یا پھر اس نے تنگ آکر زہر کھا کر خود کشی کر لی۔

نوید احمد

 

سائنس و ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز دنیا

ای میل روکنے کا نیا بٹن بعض اوقات ہم ای میل کرتے ہیں تو اس میں کوئی نہ
کوئی غلطی رہ جاتی ہے یا پھر ہم اس میں کچھ جملوں کا اضافہ کر کے ترمیم کرنا چاہتے ہیں، لیکن Send کرنے کے بعد ہم اس ای میل کو روک نہیں سکتے۔ بعض اوقات Send کی آپشن کلک کرنے کے بعد ہمیں کوئی ایسا لفظ نظر آ جاتا ہے کہ جو شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن ہمارے پاس اس کو روکنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ گوگل نے Gmail کا اکائونٹ رکھنے والے اپنے صارفین کے لیے Unsend کا بٹن متعارف کروایا، جس کے ذریعے آپ ارادہ بدلنے پر اپنی ای میل کو روک سکتے ہیں۔ گوگل نے یہ فیچر اپنے آئی فون ایپ میں شامل کیا ہے اور یہ بھیجی گئی ای میل کو صرف 5 سیکنڈ کے اندراندر روک سکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈیسک ٹاپ سے ای میل کرنے والوں کے لیے پیغام کو روکنے کے لیے 30 سیکنڈ کا وقت رکھنے کی آپشن بھی دی گئی ہے۔

تین کروڑ روپے کا ہیک نہ ہونے والا فون سسٹم

ہیک نہ ہونے والے جدید سمارٹ فونز بننا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کے لیے تین کروڑ روپے کی لاگت سے نئی ٹیکنالوجی کا حامل فون سسٹم تیار کر لیا گیا ہے۔سائبر حملوں سے بچائو کے لیے یہ انٹرنل نیٹ ورک سسٹم بنایا ہے، اس سے منسلک ہونے کے باعث سمارٹ فونز ہیک نہیں کیے جا سکیں گے۔ بعض ممالک میں فوج کو ائیرمین سے لے کر آفیسرز تک یہ ہی سمارٹ فونز دئیے جائیںگے تا کہ کسی بھی قسم کی حساس معلومات کو ریکارڈ یا موبائل کو ہیک نہ کیا جا سکے۔

ذکا وائرس سے بچائو

ذکا وائرس کے متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والی ذکا وائرس کی وبا نے برازیل سمیت کئی ممالک کو پچھلے کچھ ماہ تک اپنی لپیٹ میں لیے رکھا اور اس کے متاثرین میں درجنوں نومولود بھی شامل ہیں جو کہ ماں کے پیٹ میں ہی اس وائرس کاشکار بن گئے۔ امریکی ماہرین نے متاثرہ حاملہ مائوں کو اس کے اثرات سے بچانے کے لیے غیر طبی تھراپی سے علاج کا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ ذکا وائرس نومولود کے دماغ کو متاثر کرتا ہے، اس لیے اینٹی باڈی تھراپی کے ذریعے ماں اور بچوں کے خون کے خلیوں کے بہائو کو اس وائرس کے خلاف لڑنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چین کا بڑا افلاک نما

چین کے شہر شنگھائی کے ضلع پیوڈنگ میں ایک بڑا افلاک نما بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جس کو دیکھنے کے لیے آنے والے اپنے آپ کو ستاروں اور سیاروں میں گھرا محسوس کریں گے۔ یہ عمارت 38,164 سکوئر میٹرپر مشتمل ہو گی، جس میں ایک شمسی ٹاور اور نوجوانوں کے مشاہدے کے لیے تجربہ گاہ بھی بنائی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین اسے 2020ء تک کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس عمارت میں بارش کے پانی کو قابل استعمال بنانے اور توانائی کو پھر سے قابل تجدید کرنے کی ٹیکنالوجی بھی اس پروجیکٹ کا حصہ ہو گی۔ منتظمین کے مطابق لوگ اس کے ذریعے ستاروں کو دیکھ سکیں گے اور کائنات کے وجود کے مفروضوں کو سمجھنے میں آسانی ملے گی۔

امریکی افواج کے لیے برقی دماغ امریکی فوجی سائنسدانوں نے عسکری اہلکاروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے برقی دماغ کے استعمال کا تجربہ کیا ہے، جوکہ خصوصی طور پر فضائی عملے ، ڈرون آپریٹرز اور مسلح فوجیوں کی مہارت میں اضافی کرے گا۔ کام کے انتہائی دبائو کے اوقات میں مرد و خواتین فوجیوں کے دماغ میں برقی لہروں کی مدد سے ان کی توجہ عسکری امور پر بنائے رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل فوجیوں کو دماغی طور پر چاک و چوبند رہنے کے لیے ادویات دی جاتی ہیں ،جوکہ صحت پر برااثر بھی ڈالتی ہیں، لہٰذا امریکی عسکری سائنسدانوں کی جانب سے اہلکاروں کودماغی طور پر تروتازہ رکھنے کیلیے برقی دماغ کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔

آن لائن ڈیٹا سے چھیڑخانی روکنے کامنصوبہ

ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آن لائن سسٹم سے چھیڑ خوانی بہت سے ممالک کی معیشت کو مہنگی پڑ رہی ہے اورترقی یافتہ ممالک کو حفاظتی اقدامات کے طور پرڈیٹا آڈٹ اور تحقیقات کی مد میں کروڑوں روپے ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ حال ہی میں  30 لاکھ اے ٹی ایم کارڈز ہولڈر متاثر ہوئے، ان کو اس مسئلے سے آئندہ بچانے کے لیے ایک ملک کے بینکنگ سیکٹر کو کروڑوں خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق اداروں کو نہ صرف سسٹم اپ گریڈ کرنے کے لیے خطیر رقم لگانا پڑ رہی ہے بلکہ متاثر ہونیوالے صارف بھی پھر کمپنی کی سروسز سے کنارہ کر لیتے ہیں، جس کے باعث بزنس مارکیٹ بھی خراب ہوتی ہے۔ ڈیٹا کی چوری کا تناسب بڑھنے سے معیشت کو ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیز اور بینکنگ سیکٹر کی جانب سے منصوبہ بنایا جا رہا ہے، تا کہ اس چھیڑ خانی کو روکا جا سکے۔

عمیرلطیف