ابن سینا عظیم طبیب اور سائنس دان

ابن سینا 980ء میں بخارہ (موجودہ ازبکستان) کے نزدیک ایک قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم اسی قصبے کے ایک مقامی سکول میں جاری تھی کہ آپ کے والد آپ کو بخارہ لے آئے اور یہاں آپ نے باقاعدگی سے تعلیم حاصل کی۔ آپ نے علم ریاضی، فلسفہ اور اسلامی تعلیم میں خاص دلچسپی لی۔ ابن سینا ایک ذہین طالب علم تھے۔ آپ نے دس سال کی عمر میں ہی قرآن شریف حفظ کر لیا تھا۔ اسلامی تعلیم کے ساتھ فلکیات، ریاضی اور سائنس میں خاص طور سے دلچسپی لینا شروع کر دی۔ وہ رات دن پڑھائی میں مصروف رہتے تھے۔ اس کے علاوہ تحقیقی کاموں میں بھی اپنے آپ کو مشغول رکھتے تھے۔

ابن سینا کو علم طب میں کافی مہارت حاصل تھی۔ آپ بخارہ میں ایک قابل حکیم کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے نیز غریب اور امیر سب کا علاج کرتے تھے۔ آپ اپنی پریکٹس کے ساتھ ساتھ نئی نئی دواؤں کو بنانے اور ان کو استعمال کر کے ان کے ردعمل پر تحقیق بھی کرتے تھے۔ ابن سینا کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک مرتبہ بخارا کے بادشاہ سخت بیمار ہو گئے۔ ابن سینا کو بغرض علاج طلب کیا گیا۔ آپ نے بادشاہ کا پوری توجہ سے علاج کیا اور اس طرح بادشاہ صحت مند ہو گئے۔ اس واقعہ سے ابن سینا کی مقبولیت میں اضافہ ہو گیا۔ دور دور سے لوگ آپ کو دکھانے آنے لگے۔ ابن سینا اب خوش حال نظر آنے لگے ۔

ابن سینا نے علم و سائنس پر بہت سی کتابیں لکھیں جن میں آپ نے اپنے سائنسی تجربات تحریر کیے۔ آپ نے علم طب پر بھی کتابیں لکھیں۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور کتاب ’’القانون‘‘ ہے۔ اس کتاب میں مختلف طرح کے نسخے، بیماریاں اور تجربات کی تفصیل درج ہے۔ اس کتاب کے دوسری زبانوں میں ترجمے کیے گئے۔ طبی علوم میں یہ کتاب سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ابن سینا ایک اعلیٰ پیمانے کے فلسفی، سائنسدان اور قابل حکیم تھے۔ ان کی ساری عمر سائنس کے فروغ کے لیے تھی۔ اس عظیم سائنسدان نے بہت سی ایجادات کیں اور انسان کی فلاح و بہبود کے لیے بہت کچھ کیا۔ ابن سینا اس زمانے کے سائنس دان تھے جب سائنس نے بہت زیادہ کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔ اس کے باوجود ابن سینا نے اپنی کوششوں کی بنیاد پر سائنس کو فروغ دیا۔

احرار حسین

Advertisements

ابن بیطار : سپین کا عظیم مسلم حکیم

اس وقت آپ کے سامنے سپین کے ایک بہت بڑے عالم اور حکیم جلوہ افروز ہیں۔ آپ ابو محمد عبداللہ اور ضیاالدین کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں، بعض کتابوں میں پورا نام ابو عبداللہ احمد المالقی النباتی لکھا ہے اور بعض میں ابو محمد عبداللہ ابن احمد ابن البیطار۔ عام طور پر ابن بیطار اور البیطار المالقی کے نام سے شہرت رکھتے ہیں۔ آپ کے والد کا نام احمد تھا۔ آپ سپین کے ایک مقام بنانا میں 1197ء میں پیدا ہوئے۔ بنانا ملاگا کے آس پاس ہی ایک بستی ہے۔ ملاگا کو عربی میں مالقہ بنا لیا گیا ہے۔ اسی نسبت سے آپ ابن بیطار المالقی مشہور ہوئے۔

ابن بیطار اپنے زمانے کے نہایت مشہور اور قابل طبیب تھے۔ آپ کو جڑی بوٹیوں کے علم میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ صرف سپین ہی کے نہیں بلکہ یورپ اور افریقہ کے نہایت ممتاز طبیب خیال کیے جاتے تھے، نہایت ذہین اور عقل مند تھے، عربی کی تعلیم پانے کے بعد آپ نے ’’علوم حکمیہ‘‘ پڑھا اور اتنی زبردست قابلیت پیدا کی کہ امام اور شیخ کے لقب سے یاد کیے جانے لگے۔ ابن بیطار بہت ہی خوش اخلاق اور بامروت تھے، بادشاہوں کی نگاہوں میں بھی عزت حاصل تھی اور عوام میں بھی ہر دل عزیز اور مقبول تھے۔ دس سال تک ملک الکامل شاہ دمشق کے دربار میں طبیب کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اس کے انتقال کے بعد قاہرہ (مصر) چلے آئے جہاں ملک الکامل کا بیٹا ملک الصالح نجم الدین ایوب فرماں روا تھا۔ آپ اس کے بھی طبیب خاص مقرر ہو گئے۔

آپ کو جڑی بوٹیوں کی تحقیقات اور چھان بین کا بہت شوق تھا۔ اسی دھن میں آپ نے 20 برس کی عمر میں افریقہ کے بیابانوں شمالی افریقہ، مصر، ایشیائے کوچک اور یونان کے جنگلوں، پہاڑوں کا چپا چپا چھان مارا۔ انہوں نے بوٹیوں کے مقام پیدائش کو دیکھا اور ہری بھری حالت میں ان کے پودوں، پتوں اور پھلوں کا معائنہ بھی کیا، اسی کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی غور کیا کہ بوٹیوں کے سوکھ جانے پر ان کی ظاہری شکل و صورت اور تاثیر میں فرق پڑتا ہے۔ ابن بیطار نے بوٹیوں پر لکھی ہوئی یونانی حکیموں کی کتابوں کو گہری توجہ سے پڑھا تھا، پھر مختلف ممالک میں گھوم پھر کر اپنی معلومات میں اضافہ کیا تھا۔

آپ نے جڑی بوٹیوں کے علم پر ایک عمدہ کتاب ’’کتاب الدویہ المفردہ‘‘ لکھی تھی۔ اس کتاب سے یورپ والوں نے بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔ آپ نے دمشق میں بوٹیوں کا ایک باغ لگایا تھا جس میں بہت سی بوٹیاں بوئی گئی تھیں۔ آپ ان بوٹیوں کو بہت غور اور توجہ سے دیکھا کرتے تھے۔ بیماریوں میں ان کے تجربات بھی کرتے تھے۔ دوسرے ملکوں کے مصنف ابن بیطار کی بہت تعریف کرتے ہیں، چناں چہ ’’طب عرب‘‘ (عربین میڈیسن) کے مصنف کیمبل نے لکھا ہے کہ ابن بیطار علم العقاقیر، یعنی جڑی بوٹیوں کا بہت بڑا ماہر تھا۔ اس نے ارسطو وغیرہ کی کتابیں پڑھی تھیں۔ مصر و شام اور ایشیائے کوچک کے جنگلوں کی خاک چھانی تھی۔

آپ نے 14 سو بوٹیوں کے حالات لکھے ہیں۔ ’’نفخ الطیب‘‘ کے مصنف کا خیال ہے کہ ابن بیطار جڑی بوٹیوں کی پہچان اور ان کے متعلق دوسری باتوں میں دنیا بھر میں اپنی مثال آپ تھے۔ عیون الانبا فی طبقات الاطبا کا مصنف ابن ابی اصیبعہ بہت مشہور طبیب اور ابن بیطار کا شاگرد تھا۔ وہ دمشق کے سفر میں ان کیساتھ رہ چکا تھا۔ اس کی پہلی ملاقات دمشق میں ان سے ہوئی تھی۔ وہ لکھتا ہے کہ ابن بیطار نہایت شریف، خوش اخلاق اور بامروت تھے۔ جب انہوں نے دمشق کے آس پاس بوٹیوں کی دیکھ بھال اور چھان بین شروع کی ہے تو میں بھی ان کے ساتھ تھا، اس کے بعد میں نے ان کی کتاب جو بوٹیوں پر انہوں نے لکھی انہیں سے پڑھی۔

ابن بیطار یونان کے بڑے اور نامور مصنفوں مثلاً دیقوریدوس اور جالینوس کی کتابیں یونانی زبان ہی میں پڑھا کرتے تھے اور تقریروں میں ان کی کتابوں کے حوالے بھی دیا کرتے تھے۔ ان کی یادداشت بہت اچھی تھی، علم بھی بہت وسیع تھا۔ نفخ الطیب کے مصنف کا بیان ہے کہ ابن بیطار دواؤں کی تحقیقات ہی میں کام آئے۔ ان کی موت کا سبب ایک مہلک دوا ہی تھی۔ انہوں نے تجربہ کرنے کی دھن میں ایک زہریلی بوٹی کھا لی تھی۔ انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں۔ ان میں ’’کتاب الادویتہ المفردہ‘‘ سب سے زیادہ مشہور ہے۔ اس کتاب میں دواؤں کے متعلق قیمتی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ نئے اور پرانے اطبا کے اقوال بھی لکھے ہیں۔

آخر میں تحقیقات کے نتیجے لکھے ہیں۔ ان کی دوسری کتاب ’’مفردات ابن بیطار‘‘ ہے۔ اس کو ’’جامع الادویہ والا غذیہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کتاب 1291ء میں چھپ گئی تھی۔ اس میں معدنی، نباتی اور حیوانی دواؤں سے علاج کا طریقہ بتایا گیا ہے اور ذاتی تجربات بھی لکھے ہیں۔ ان دو کتابوں کے علاوہ ابن بیطار نے چار اور کتابیں لکھیں۔ یہ بھی کافی مشہور ہیں۔ 642ھ مطابق 1248ء میں ابن بیطار نے دمشق میں انتقال کیا اور وہیں انہیں دفن کیا گیا۔

احرار حسین

ابن باجة : مغربی مسلمانوں میں پہلا بڑا فلسفی

ابوبکر محمد ابن باجة سارا گوسا میں 1138ء میں پیدا ہوا۔ یورپ میں ابن باجة کو Avempace کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس دور کے تقاضوں کے مطابق ابن باجة نے کئی علوم میں مہارت حاصل کی، جن میں سائنسی و فقہی علم کے علاوہ فلسفے میں بھی خصوصی دلچسپی لی۔ وہ کچھ عرصہ سارا گوسا کے گورنر کا وزیر رہا، مگر سارا گوسا پر عیسائیوں کے قبضے کے بعد وہ شمالی افریقہ چلا گیا۔ مغربی مسلمانوں میں یہ پہلا بڑا فلسفی ہے لیکن سپین میں فلسفہ مشرقی مسلمانوں کے ذریعے ہی پہنچا تھا۔ ابن باجة فارابی کا بہت معتقد تھا اور اس کی فلسفیانہ تحریروں میں فارابی کا فلسفہ ہی چھایا ہوا ہے۔ ایک بات میں ابن باجة کی اہمیت زیادہ ہے۔ وہ یہ کہ اس نے ارسطو کی اصل کتابیں بڑی باریک بینی سے پڑھیں اور ان کی تشریحات لکھیں، جن سے یورپ کافی متاثر ہوا لیکن غالباً سب سے زیادہ سینٹ تھامس اکئیانس متاثر ہوا۔

انسانی عقل کے متعلق ابن باجة کہتا ہے ’’انسانی عقل کے دو حصے ہیں، ایک عقل فعال اور دوسری مادی عقل، مادی عقل انسانی جسم سے مشروط ہے، جو جسم کے فنا ہو جانے سے خود بھی فنا ہو جاتا ہے لیکن عقلِ فعال غیر مادی، غیر جسمی اور لافانی ہے، فعال عقل انسان میں سب سے زیادہ ہے اور اس کا کام یعنی ’فکر کرنا‘ انسان کا سب سے عظیم کام ہے اور فکر کے ذریعے ہی انسان خدا کو پہچان سکتا ہے اور اس سے یکجا ہو سکتا ہے۔‘‘ ابن باجة فکری عمل کو ریاضت و تصوف پر فوقیت دیتے ہوئے، اسے حقیقت کبریٰ تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتا ہے، مگر یہ فکری عمل خاموشی اور تنہائی کے بغیر مشکل ہے۔ اس کے لیے مفکر کو انسانوں کے ہجوم سے پرے جا کر کچھ سوچنا چاہیے یا ایسی بستی آباد کرنی چاہیے جہاں صرف مفکر ہوں۔ بالواسطہ طور پر وہ سقراط والی بات کرتا ہے کہ جب لوگ اجتماعی شکل میں جمع ہوتے ہیں تو ان کی سوچ سطحی اور بے وقوفانہ ہو جاتی ہے۔

اکبر لغاری

(کتاب ’’فلسفے کی مختصر تاریخ‘‘ سے اقتباس)

عظیم کیمیا دان جابر ابن حیان : کیمیا کی تاریخ اسے فراموش نہیں کر سکتی

آپ کو ایک ایسے مسلمان کیمیا دان کا حال سناتے ہیں جس کی محنت اور کوشش سے علم کیمیا کو بڑی ترقی ملی اور وہ موجودہ حالت پر آیا۔ اس کا نام جابر ابن حیان تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ سب سے پہلا کیمیا دان تھا۔ اس کا تعلق عرب کے جنوبی حصے کے ایک قبیلے ازد سے تھا۔ اس کے خاندان کے لوگ کوفے میں آباد ہو گئے تھے۔ لیکن جابر 722ء میں خراسان کے شہر طوس میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ حیان کوفے سے یہاں آ گیا تھا۔ جابر ابھی بچہ ہی تھا کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس کی ماں اس کی ننھی جان کو ساتھ لے کر عرب چلی گئی اور وہاں اپنے قبیلے کے لوگوں میں رہنے لگی۔

جابر نے یہاں ہی تعلیم پائی۔ دینی تعلیم کے علاوہ اس نے ریاضی اور دوسرے علوم کا مطالعہ بھی کیا۔ جب وہ جوان ہوا تو اپنے قبیلے کو چھوڑ کر مدینہ منورہ میں آگیا۔ یہاں اس نے امام جعفر صادقؓ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ امام جعفر صادقؓ نہایت عالم اور باکمال امام تھے۔ ان ہی کی صحبت کا اثر تھا کہ جابر اگرچہ بعد میں سائنس دان بنا لیکن اس پر مذہب کا رنگ بھی غالب رہا۔ مدینہ منورہ سے جابر کوفہ آیا، جہاں اس کے بزرگ رہتے تھے۔ یہاں اس نے اپنی تجربہ گاہ قائم کی اور کیمیا پر تحقیقات کیں جن کی بنا پر وہ دنیا کا پہلا کیمیا دان کہلایا۔ جابر نے بچپن ہی سے بہت محنت کی اور برابر تجربات کرتا رہا۔ اس نے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ وہ عربی کے علاوہ یونانی زبان بھی اچھی طرح جانتا تھا۔ اسی لیے اس نے یونانی علم کو عربی زبان میں پیش کیا اور پرانے علوم سے فائدہ اٹھایا۔ 786ء میں جابر عمررسیدہ تھا تو مشہور عباسی خلیفہ ہارون الرشید بغداد میں تخت سلطنت پر بیٹھا۔ وہ پڑھے لکھے لوگوں کی بڑی قدر کرتا تھا۔ اس کے وزیر بھی بڑے لائق تھے اور علم کی قدر کرتے تھے۔ انہوں نے جابر کی شہرت سنی تو اسے بغداد بلا لیا لیکن کچھ عرصہ بعد جابر پھر کوفے واپس آ گیا۔

اب تو علم کیمیا بہت ترقی کر چکا ہے۔ اس کی بہت سی شاخیں ہیں، لیکن جابر کے زمانے میں اس علم کا مطلب یہ تھا کہ معمولی دھاتوں کو سونے میں تبدیل کر دیا جائے۔ کسی کو اس میں کامیابی تو حاصل نہیں ہوئی لیکن کوشش سب کرتے تھے۔ جابر نے اپنا وقت صرف اس خیال پر ضائع نہیں کیا۔ اس نے تجرباتی کیمیا پر زور دیا۔ وہ بہت سے تجربات سے واقف تھا جو آج بھی آپ اپنی تجربہ گاہ میں کرتے ہیں، مثلاً حل کرنا، کشیدکرنا، فلٹر کرنا، اشیا کا جوہر اڑانا اور مختلف چیزوں کی قلمیں بنانا، سچ تو یہ ہے کہ جابرتجرباتی کیمیا کا بانی ہے۔ اپنی کتاب میں وہ لکھتا ہے: ’’کیمیا میں سب سے ضروری چیز تجربہ ہے ۔ جو شخص اپنے علم کی بنیاد تجربے پر نہیں رکھتا، وہ ہمیشہ غلطی کھاتا ہے۔ پس اگر تم کیمیا کا صحیح علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو تجربے پر انحصار کرو اور صرف اسی علم کو صحیح جانو جو تجربے سے ثابت ہو جائے۔ کسی کیمیا دان کی قابلیت کا اندازہ اس سے نہیں لگایا جاتا کہ اس نے کیا کیا پڑھا ہے بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس نے تجربے کے ذریعے کیا کچھ ثابت کیا جاتا ہے۔‘‘

جابر دھاتوں کو گرمی پہنچا کر ان سے کشتہ بنانا جانتا تھا۔ اس نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے اپنی کتابوں میں فولاد بنانے، چمڑا رنگنے، دھاتوں کو صاف کرنے، موم جامہ بنانے، لوہے کو زنگ سے بچانے کے لیے اس پر وارنش کرنے، بالوں کا خضاب تیار کرنے اور اسی قسم کی درجنوں مفید چیزیں بنانے کے طریقے بیان کیے ہیں۔ اس کے علاوہ جابر نے اپنی کتابوں میں تیزابوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ وہ تیزاب بنانا جانتا تھا اور بعض ان چیزوں سے اچھی طرح واقف تھا جو آج بھی اسی شکل میں محفوظ ہیں۔ کیمیائی آلات میں جابر کی سب سے اچھی ایجاد قرع انبیق ہے جس سے کشید کرنے، عرق کھینچنے اور ست یا جوہر تیار کرنے کا کام لیا جاتا تھا۔

جابر نے اپنی تحقیقات سے علم کیمیا کو ایک نیا روپ دیا اور اسے کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عرب کے ایک بدوی قبیلے کا ایک بچہ جو بالکل چھوٹی عمر میں ہی یتیم ہو گیا تھا، کس طرح اس مرتبے تک پہنچا کہ کیمیا کی تاریخ اسے فراموش نہیں کر سکتی۔ مغرب نے اس سے بہت کچھ سیکھا۔ آج یورپ میں اسے Jeber کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسلامی عہد میں سنہری کارنامے انجام دینے والایہ سائنس دان 817ء میں فوت ہوا جب اس کی عمر پچانوے سال تھی۔

جیمز واٹ

ابونصر فارابی اور علم کا دیا

ترکستان کے ایک شہر کا نام ہے ’’فاراب‘‘۔ بہت مدت گزری، اس شہر کے ایک محلے میں ایک بڑا غریب لڑکا رہتا تھا جسے علم حاصل کر نے کا بے حد شوق تھا۔ دن کو تو وہ استاد کے ہاں جا کر سبق پڑھتا تھا اور جب رات آتی تھی تو وہ دن کا پڑھا ہوا سبق یاد کرتا تھا اور اس وقت تک نہیں سوتا تھا جب تک یہ سبق پوری طرح یاد نہیں ہو جاتا تھا۔ اس کی چارپائی کے سرہانے مٹی کا ایک دیا جلتا رہتا تھا اور اسی دیے کی روشنی میں رات کے دو دو بجے تک پوری کی پوری کتاب پڑھ لیتا تھا۔ بعض اوقات ساری رات ہی پڑھنے میں گزر جاتی تھی۔

ایک رات کا ذکر ہے کہ وہ اپنی چارپائی پر بیٹھا پوری توجہ اور انہماک سے کسی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا کہ دیے کی روشنی مدھم ہو گئی۔ اس نے بتی کو اونچا کیا، روشنی ہوئی تو ضرور مگر بڑی جلدی ختم ہو گئی۔ اب جو اس نے دیے پر نظر ڈالی تو یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ تیل تو دیے میں ہے ہی نہیں روشنی اگر ہو تو کیوں کر ہو۔ ’’اب میں کیا کروں؟‘‘ اس نے اپنے دل میں سوچا۔ رات آدھی کے قریب گزر چکی تھی۔ شہر کی دکانیں بند ہو چکی تھیں اور اگر دکانیں کھلی بھی ہوتیں تو لڑکے کو کچھ فائدہ نہ ہوتا کیوں کہ اس کے پاس تو تیل خریدنے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔ پیسوں کے بغیر کون دکان دار اسے تیل دے سکتا تھا۔

اس حالت میں بہتر یہی تھا کہ وہ کتاب ایک طرف رکھ کر سو جائے، مگر پورے دو گھنٹے کس طرح ضائع کر سکتا تھا اور پھر دوسرے دن بھی اس کے پاس کہاں سے پیسے آسکتے تھے؟ روٹی تو وہ مسجد میں جا کر کھا لیتا تھا اور محلے کے ایک بچے کو پڑھا کر جو رقم ملتی تھی۔ اس سے وہ اپنے لیے معمولی کپڑے اور تیل خرید لیتا تھا۔ ان میں سے اسے جتنے پیسے ملے تھے وہ خرچ کر چکا تھا اور ان دنوں اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ دیے کے اس طرح بجھ جانے سے اسے بڑا افسوس ہوا۔ وہ اپنی کوٹھڑی سے نکل کر دروازے پر آ بیٹھا۔

رات کا اندھیرا ہر جگہ چھایا ہوا تھا۔ کہیں بھی کوئی چراح جلتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا تھا سب لوگ آرام کر رہے تھے۔ اتنے میں اس کی نظر روشنی کی ایک ننھی سی لکیر پر پڑی جو دور کسی دیوار پر دکھائی دے رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہی اس کے دل میں خواہش ہوئی کہ کاش یہ روشنی اس کے گھر میں ہوتی۔ روشنی دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھا۔ ادھر قدم اٹھانے لگا جدھر سے روشنی آ رہی تھی۔ اپنی کتاب وہ ساتھ ہی لے آیا تھا تا کہ موقع ملے تو اسی روشنی میں کتاب کا باقی حصہ پڑھ ڈالے اور پھر واپس آ جائے۔

کچھ دور جا کر اس نے دیکھا کہ وہ روشنی ایک قندیل میں سے نکل رہی ہے اور یہ قندیل محلے کے چوکیدار کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے چوکیدار سے بڑے ادب سے کہا : جناب اگر آپ اجازت دیں تومیں قندیل کی روشنی میں کتاب پڑھ لوں؟ چوکیدار ایک نیک آدمی تھا وہ سمجھ گیا کہ غریب طالب علم ہے۔ تیل خریدنے کے لیے پاس پیسے نہیں ہیں۔ بولا: ہاں بیٹا پڑھ لے۔ میں تھوڑی دیر یہاں بیٹھوں گا یہاں بیٹھ جا! لڑکا بیٹھ کر کتاب پڑھنے لگا۔ اب مشکل یہ تھی کہ چوکیدار ایک ہی جگہ زیادہ دیر تک نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ اس لیے کہنے لگا: لو بیٹا اب تم گھر جاؤ اور سو رہو مجھے آگے جانا ہے۔ لڑکا بولا: آپ ضرور آگے جائیے جہاں جی چاہے جائیے لیکن میں آپ کے پیچھے پیچھے چلوں گا۔

چوکیدار قندیل اٹھا کر آگے آگے چلنے لگا اور لڑکا پیچھے پیچھے۔ اس طرح مطالعہ کرنے میں اسے بڑی دقت پیش آ رہی تھی، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ چار بجے تک پڑھتا رہا اور پھر چوکیدار کا شکریہ ادا کر کے گھر چلا گیا۔ دوسری رات بھی یہی واقعہ ہوا۔ تیسری رات لڑکا آیا تو چوکیدار کہنے لگا: بیٹا! لو یہ قندیل اپنے گھر لے جاؤ میں نئی قندیل لے آیا ہوں۔ لڑکے نے یہ الفاظ سنے تو اسے اتنی خوشی ہوئی جیسے ایک بہت بڑا خزانہ مل گیا ہو۔ وہ قندیل اپنی کوٹھڑی میں لے آیا اور اطمینان کے ساتھ کام کرنے لگا۔ چند روز کے بعد اسے پیسے ملے تو وہ بازار سے تیل خرید لایا اور اسے دیے میں ڈال دیا۔

کئی دن گزرے ، کئی سال گزر گئے۔ لڑکا جوان ہو گیا۔ جیسے جیسے اس کی عمر بڑھتی جاتی تھی، اس کا علم بھی بڑھتا جاتا تھا اور پھر ایک دن ایسا آیا کہ وہ اپنے وقت کاسب سے بڑا استاد بن گیا۔ بڑے بڑے عالم فاضل لوگ دور دور سے اس کے پاس آتے تھے اور اس سے علم حاصل کرتے تھے۔ وہ علم کا ایک دریا بن گیا تھا، جس سے علم کے پیاسے اپنی پیاس بجھاتے تھے۔ جانتے ہو یہ کون تھا؟یہ تھا ابو نصر فارابی! ابونصر فارابی جس کی وفات ہزار برس سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے، مگراس کی عزت و عظمت میں فرق نہیں آیا۔ جس کے اپنے دیے کی روشنی ختم ہو گئی لیکن علم کا جو دریا اس نے جلایا اس کی روشنی کبھی ختم نہ ہوگی۔

میرزا ادیب

( کتاب مشہور طبیب اور سائنسدان سے اقتباس)

مسلمان سائنسدانوں کا عہد زریں

عبدالرحمان صوفی، دور خلافت عباسیہ: عبدالرحمان نے ستاروں کی روشنی پیمائش میں اصطلاح کی۔

ابن یونس، دور خلاف عباسیہ: ابن یونس نے آونگ (رقاصہ ساعت) پینڈولم ایجاد کیا۔ اور اس کے جھولنے سے وقت کی پیمائش کی۔

فاطمی خلافت: اس کے زمانے میں قاہرہ کے کتب خانے میں بیس لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں جن میں سے چھ ہزارصرف ریاضیات، فلکیات اور طبیعیات سے متعلق تھیں۔

اشبیلیہ کا مینار جیرالد : عظیم ریاضی دان جابر بن افلح کی زیر نگرانی فلکی مشاہدات کے لیے 1198ء میں تعمیر کیا گیا۔ اس کی تعمیر کئی برس میں مکمل ہوئی ۔ یہ اب بھی سپین میں موجود ہے اور اسے اہم تاریخی ورثہ کردانا جاتا ہے۔

بہاء الدین العاملی: دسویں صدی ہجری کا آخری ریاضی دا ن معلم جس نے الجبرا پر بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔

میر ہاشم جیلانی: انہوں نے محقق طوسی کی کتاب اصول الہندسہ والحساب کی شرح لکھی تھی۔

لطف اللہ المہندس : لال قلعہ اور جامع مسجد دہلی اور تاج محل آگرہ تعمیر کرنے والے استاد کا بیٹا لطف اللہ نامور مہندس تھا۔ اس نے خلاصتہ الحساب کی شرح لکھی۔ ان کا تعلق لاہور سے تھا۔

ابو عبداللہ محمد بن حسن طوسی: نامور عالم ہیئت دان‘ ریاضی دان‘ ماہر طبیعیات‘ علم اخلاق ‘ موسیقی اور علوم حکمیہ کا ماہر تھا۔ اس کی فرمائش پر ہلاکو خان نے رصد گاہ تعمیر کروائی تھی۔ 30 سے زیادہ تصانیف کا مصنف تھا۔

قطب الدین شیرازی: علوم عقلیہ اور نقلیہ کا ماہر سائنسدان تھا بے شمار کتابوں کا مصنف تھا۔ اس نے فلکیات ‘ ارضیات‘ سمندروں‘ فضا میکانیات اور بصریات پر بحث کی ہے۔ اس کے خیال میں زمین مرکز کائنات ہے۔ قوس قزح پر بھی اس نے کھل کر بحث کی۔

کمال الدین الفارسی: قطب الدین شیرازی کا شاگرد جس نے ہالہ قمر اور قوس قزح کے بارے میں اپنے استاد کے نظریات کو جھٹلایا اور ابن الہیثم کی کتاب کی شرح تصنیف کی۔

محمد بن محمد چغمینی: علم ریاضی پر ایک مشہور کتاب الخلص فی الہیتہ کے نام سے لکھی۔ الحمیاری، ساتویں / آٹھویں صدی: ان کا شمار کیمیا دان جابربن حیان کے معلمین میں کیا جاتا ہے۔

ابراہیم الفزاری، آٹھویں صدی تا 777ئ:خلافت عباسیہ کے دور میں خلیفہ ہارون الرشید کے تحقیقاتی اداروں سے وابستگی رہی۔ علم فلکیات پر تحقیق و تحریر کیں جن میں اسطرلاب اور سالنامہ کی ترتیب بھی شامل ہیں۔ ہارون الرشید کے کہنے پر یعقوب بن طارق کی شراکت میں ہندوستانی فلکیاتی تحریروں کا عربی میں ترجمہ کیا، یہ کتاب 750ء میں بیت الحکمہ بغداد میں الزیج علی سنی العرب کے نام سے تکمیل کو پہنچی۔

جابر بن حیان721ء تا 815ئ: کیمیا دان، طبیعیات میں کام؛ علم الادویہ میں تحقیق؛ علم الہیئت میں تحقیق ۔

الفارابی کے نظریات

فارابی وہ پہلا ترک فلسفی تھا جسے بہت زیادہ شہرت نصیب ہوئی۔ فارابی نے نہ صرف فلسفہ یونان کا گہری نظر سے مطالعہ کیا بلکہ ارسطو کے فلسفہ کی تشریح لکھی اور اسے آسان بنایا۔ اس نے فلسفہ یونان اور اسلامی تعلیمات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ فارابی نے انسانی عقل کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک عقل عملی اور عقل نظری۔ عقل عملی ہمیں عمل کے بارے میں بتاتی ہے یعنی ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ جبکہ عقل نظری ہمیں استکمال ( perfection) حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ فارابی نے عقل نظری کو مزید تین حصوں میں تقسیم کیا۔ عقل ہیولانی عقل نالفعل اور عقل مستفاد۔

فارابی نے عقل نظری کو عقل عملی پر ترجیح دی۔ اس کا خیال تھا کہ اگر کوئی شخص کسی شے کا علم رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا یا اس علم کے مطابق اپنے کردار کو نہیں ڈھالتا تو وہ اس شخص سے بہرحال بہتر ہے جو اعمال تو نیک بجا لاتا ہے لیکن اس کے بارے میں علم نہیں رکھتا۔ اصل میں یہ بات اس نے سقراط کے زیر اثر کہی تھی یعنی سوچ سمجھ کر برائی کرنا بلا سوچے سمجھے نیکی کرنے سے بدرجہا بہتر ہے کیونکہ علم انسانی کو نتائج اور عواقب سے بچا سکتا ہے۔ فارابی نے ذہنی صحت کے سلسلے میں معاشرے کو بے حد اہمیت دی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ذہنی آسودگی اور کامیابی کا انحصار مل جل کر زندگی بسر کرنے میں ہے۔

اس نے معاشرے کی دو اقسام بیان کیں۔ کامل معاشرہ اور غیر کامل معاشرہ۔ کامل معاشرہ وہ ہے جس میں لوگ اتحاد و یگانگت سے رہیں اور غیر کامل معاشرہ وہ ہے جہاں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہو۔ ہر شخص محض اپنا مفاد ہی سوچے اور محض اپنی خاطر جئے۔ افلاطون نے بہترین معاشرے کا نام جمہوریت رکھا تھا۔ فارابی نے اسے شہر فضیلت کا نام دیا۔ یعنی وہ ایسی مثالی ریاست ہو گی جہاں لوگ ایک دوسرے سے تعاون کریں گے اور اپنی اور دوسروں کی زندگی کو خوشگوار بنانے میں ممدومعاون ثابت ہوں گے ۔

محمد عاصم صحرائی