حنین ابن اسحاق : ایک جلیل القدر طبیب

ابوزید حنین ابن اسحاق العبادی 810ء میں پیدا ہوا اور 877ء میں وفات پائی۔ یہ عہد عباسی کا ایک جلیل القدر طبیب تھا۔ حنین ابن اسحاق کے تذکرے کے بغیر عہد عباسی کی تاریخ نا تمام رہتی ہے۔ ابن ندیم نے الفہرست میں لکھا ہے کہ اس کا پورا نام حنین ابن اسحاق عبادی تھا اور ابو زید اس کی کنیت تھی۔ یہ بنو موسیٰ کے دربار میں یونانی مخطوطات کو جمع کرنے اور ان کے تراجم پرمامور تھا۔ اس نے طبی کتابوں کے تراجم سب سے زیادہ کیے ہیں۔ حنین علمی منازل طے کرتا ہوا اس درجے پر جا پہنچا کہ علوم و فنون کا سرچشمہ تصور کیا جانے لگا۔ اس کی رسائی خلیفہ مامون رشید تک ہوئی جس نے حنین کو اپنے دربار میں بلا کر خلعتیں عطا کیں اور بیت الحکمت کا مہتمم مقرر کیا۔

مامون رشید اس کے تالیف وتراجم کی جس طرح قدر کرتا تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ حنین کو اجرت کے طورپر اس کی ہرتالیف کے ہم وزن سونا عطا کرتا تھا۔ حنین اپنے عہد کا ممتاز طبیب ہی نہیں بلکہ یونانی طب کا سب سے بڑا مترجم ہے۔ حنین نے جالینوس کی 95 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے سریانی اور39 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے عربی میں کیا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے شاگردوں کے ذریعے کیے گئے تراجم پر نظر ثانی کی اورصلاح و مشورہ دیا۔ حنین ہی کی سربراہی میں دنیا کی انتہائی اہم اور نایاب کتاب ’کتاب الخشائش‘ (جس کا اصل مصنف دیسقوریدوس ہے) کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا۔ حنین عربی، فارسی، یونانی اورسریانی زبانوں کا جید عالم تھا۔

اگرچہ حنین ابن اسحاق کئی کتابوں کا مصنف تھا لیکن علمی دنیا میں اس کی شہرت مترجم کی حیثیت سے زیادہ ہوئی۔ حنین ابن اسحاق کی تصانیف میں کتاب المصائب، کتاب العشر مقالات فی العین، کتاب العین خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ ان ابی اُصیبعہ کے بیان کے مطابق 70 سال کی عمر میں ذرب (Sprue) کے عارضہ سے حنین کا انتقال ہوا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حنین کی موت سخت دماغی صدمے کی وجہ سے ہوئی یا پھر اس نے تنگ آکر زہر کھا کر خود کشی کر لی۔

نوید احمد

 

مسلم دنیا کے بھلا دیے گئے سائنسی ستارے

ایران میں جنم لینی والی مریم مرزا خانی، جو ریاضیات میں بلا کی ذہین تھیں، 14 جولائی 2017 کو کینسر کے باعث 40 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ 2014 میں انہیں فیلڈز ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو کہ ریاضی کے شعبے میں نوبیل انعام کے برابر ہے۔ ملکہءِ ریاضیات کے لقب سے مشہور مریم مرزا خانی یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی خاتون اور پہلی مسلمان تھیں۔ انہوں نے عام طور پر مردوں کا شعبہ سمجھے جانے والے اس شعبے کا اعلیٰ ترین ایوارڈ حاصل کر کے اس تاثر کو غلط ثابت کیا کہ یہ صرف مردوں کا شعبہ ہے۔ اس قدر ذہین خاتون کو اتنی جلدی گنوا دینا ایک سانحہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کی طرح ان کے ملک ایران میں بھی ان کی وفات پر سوگ منایا گیا جبکہ ان کی کامیابیوں کو یاد کیا گیا۔ ایران سے باہر، اسلامی دنیا کے دیگر ممالک میں ان کی وفات ایک غیر اہم واقعہ رہی۔ پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بمشکل ہی ان کا نام لیا گیا۔ یہ بھی ان کی وفات کی طرح ایک مایوس کن صورتحال ہے۔

مرزا خانی نے ‘کمپلیکس جیومیٹری’ کے وسیع میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ فیلڈز میڈل ایوارڈ کمیٹی نے ‘رائمن سرفیسز کی جیومیٹری اور ڈائنیمکس اور ان کے موڈیولی اسپیسز’ پر ان کے کام کو بنیاد بنا کر ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سب میری سمجھ سے باہر ہے کیوں کہ آج کی ریاضی 1960 میں جب میں نے ماسٹرز کیا تھا، کی ریاضی سے اتنی ہی مختلف ہے جتنے کہ آج کے موبائل فون اس دور کے ٹیلی فونز سے۔ مرزاخانی نے فرزانیگان اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور 1999 میں تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنولوجی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 2004 میں ہارورڈ سے پی ایچ ڈی کی اور پرنسٹن اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ ایسی تعلیمی اداروں، جو مرزاخانی جیسے ماہرینِ ریاضی پیدا کر سکیں، کی موجودگی پر ایرانی نظامِ تعلیم مبارک باد کا مستحق ہے۔

پاکستان میں برطانیہ نے اچھے تعلیمی ادارے چھوڑے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری مادرِ علمی پنجاب یونیورسٹی کے پرانے کیمپس کے شعبہءِ کیمیا میں یہ تختی نصب تھی: “کومپٹن افیکٹ کے تجربے کو یہاں 1929 میں دوبارہ دہرایا گیا تھا۔ ” 1923 کا یہ بنیادی تجربہ وہ تھا جس نے کوانٹم فزکس کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ بھی ہم نے کئی مایہ ناز سائنسدان پیش کیے۔ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام ایسے لیجنڈ ہیں جنہوں نے میری نسل کے طلباء کو متاثر کیا۔ 1960 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان تمام ترقی پذیر ممالک سے زیادہ ماہرِ تھیوریٹیکل فزکس پیدا کر رہا تھا۔ 1960 میں پاکستان اٹامک اینرجی کمیشن (پی اے ای سی) مکمل طور پر پاکستانی سائنسدانوں نے قائم کیا اور اس کا انتظام سنبھالا۔ اس وقت پاکستان نیوکلیئر ہتھیاروں کی طرف راغب نہیں تھا۔ پی اے ای سی کے سابق سربراہ ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی کو اس بات کا افسوس تھا۔ میری ان سے نیویارک میں 1979 میں ملاقات ہوئی تھی۔

جب انہیں میرے تعلیمی پس منظر کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے بتایا کہ کس طرح ‘بیوروکریٹس’ نے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کے حصول کی ان کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رکھی تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اہم موقع گنوا چکا تھا اور یہ کہ سینٹری فیوج ٹیکنولوجی ایک ‘فراڈ’ تھی۔ ان کا سوال تھا، ‘متھا (مکھن نکالنے کا عمل) ٹیکنولوجی ایٹم بم کس طرح بنا سکتی ہے؟’ مگر پھر بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں ایک نئی روح پھونک دی۔ سائنسدانوں کی اپنی پرعزم ٹیم کے ساتھ انہوں نے ایک نئی ٹیکنولوجی تیار کی جسے پہلے کہیں آزمایا نہیں کیا گیا تھا۔ نتیجہ سب کے سامنے تھا اور ان لیے باعثِ پیچ و تاب، جنہیں لگتا تھا کہ پاکستان ‘دھوکے بازی’ کر رہا ہے۔

سی آئی اے کے سابق سربراہ جارج ٹینیٹ (1997 تا 2004) اپنی کتاب ‘ایٹ دی سینٹر آف دی اسٹورم’ میں افسردگی سے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر خان نے “تقریباً اکیلے ہی پاکستان کو نیوکلیئر طاقت میں تبدیل کر دیا۔” پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا ایک تیسرا روٹ متعارف کروا ڈالا جبکہ اس سے پہلے رائج دو دیگر طریقے 1940 کی دہائی کے اوائل میں مین ہٹن پراجیکٹ میں تیار کیے گئے تھے۔
ہمارے پاس تکمیل تک نہ پہنچ پانے والے ٹیلنٹ کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ مجھے شفاعت حسین یاد ہیں جو میرے ایک سال سینیئر تھے اور انتہائی نایاب ذہانت اور معیار کے حامل تھے۔ ہم نے 1964 میں ایک ساتھ ٹوپولوجی کی تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ ایک ابتدائی بحث کے دوران ہمارے بہترین سپروائزر اور دوست ڈاکٹر ممتاز حسین قاضی، جو حال ہی میں ہارورڈ سے لوٹے تھے، نے ہمیں ایک غیر حل شدہ تھیورم سمجھایا۔

شفاعت نے اس دن سے کلاسوں میں آنا بند کر دیا اور دو ماہ کے اندر اندر تھیورم کا حل پیش کر کے ایک ریسرچ پیپر تحریر کر لیا جو کہ ریاضی کے ایک مشہور جریدے جرنل آف دی لندن میتھمیٹیکل سوسائٹی میں شائع ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر شفاعت کو رات میں کوئی خیال آجاتا اور انہیں کوئی کاغذ نا ملتا تو وہ اپنے بستر کی سفید چادر پر ہی لکھ ڈالتے، اور صبح اپنی والدہ سے کہتے کہ ان کی چادر نہ دھوئی جائے۔ انہوں نے پھر پی ایچ ڈی کی اور کینیڈا میں پوسٹ ڈاکٹورل کام شروع کیا۔ چند سال بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ تبلیغی بن چکے تھے۔ وہ کہا کرتے کہ انہیں ایک دو راہے کا سامنا تھا؛ کہ “خدا کا انتخاب کریں یا ریاضی کا۔” اس کے چند سال بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنے جنون، یعنی ریاضی کی سختی تلے دب چکے تھے۔ ان کی زندگی کے سفر میں میں اپنے معاشرے کی کہانی دیکھتا ہوں۔

1960 سے لے کر اب تک ہمارے تعلیمی ادارے پسماندگی کا شکار ہیں۔ 1960 کی دہائی کے وسط میں پوری دنیا کے تعلیمی اداروں میں سیاسی لہر دوڑ گئی تھی۔ دوسری جگہوں پر یہ کچھ سالوں میں دم توڑ گئی مگر پاکستان میں اس کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر سائنسی تعلیم ہوئی۔ اسلامی دنیا میں ہم کبھی سائنس میں سب سے آگے تھے، اب ہم سے یہ اعزاز چھن چکا ہے۔

ہمارا بنیادی تعلیمی نظام انگلش میڈیم اسکولوں، گزارے لائق اور خستہ حال سرکاری اسکولوں، اور مدرسوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔ ایچی سن کالج جیسے انگلش میڈیم اسکول سائنسدان اور انجینیئر پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیے جاتے۔ مرکزی دھارے کے سرکاری اسکولوں کا معیار شرمناک حد تک گرا ہوا ہے۔ مدرسے عمومی اور سائنسی تعلیم کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ اور ہم اس چیلنج سے فکری، معاشرتی اور سیاسی طور پر نمٹنے میں نااہل ثابت ہو رہے ہیں۔ مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سائنس اور زندگی پر سائنس کے اثرات ہی ہیں جو آج کے دور میں اقوام کو عزت دلواتے ہیں اور ان کی قوت ثابت ہوتے ہیں۔ ان خیالات کے ساتھ میں مریم مرزاخانی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ وہ مسلم دنیا میں موجود حالیہ تاریکی کے درمیان امید کی ایک کرن بن کر ابھریں۔

ریاض محمد خان
یہ مضمون ڈان اخبار میں 31 جولائی 2017 کو شائع ہوا۔

ابن زُہر : ایک عظیم طبیب

ابن زُہر خلافت مغربی کا ایک بڑا مفکر اور بلند پایہ طبیب تھا۔ طبیب ہونے کے باعث وہ معقولات کا بدرجہ اتم قائل تھا۔ مابعد الطبیعاتی نکتہ نظر اور فلسفیانہ خیال آرائیوں کوناپسند کرتا تھا۔ اس لیے وہ ’قانون شیخ‘ پر دوسرے اطبا کی طرح مبالغہ آمیز عقیدت و پسندیدگی کا اظہار نہیں کرتا۔ ابن زہر ادویہ مفردہ و مرکبہ میں یدطولیٰ رکھتا تھا۔ اس نے اندلس اور دیگر ممالک میں کافی شہرت پائی۔ اطبا کو اس کی تصنیفات سے زیادہ شغف رہا۔ اس کے زمانے میں اس کے برابر فن طب کا ماہر اور کوئی نہیں تھا۔ امراض کی تشخیص اور ان کے علاج میں اس کوخاص دسترس حاصل تھی۔ اندلس کا مشہور قاضی، فلسفی اورطبیب ابن رشد اس کا دوست اوررفیق کار تھا۔ ان کے کہنے پر اس نے ’کتاب التیسیر‘ لکھی جوکہ ابن رشد کی کتاب ’الکلیات‘ کے متوازی معالجہ کی کتاب ثابت ہوئی۔

ابن رشد اس کی صداقت اور لیاقت کا دل سے قائل تھا اوراس نے اپنی کلیات میں اکثر جگہ اس کی تعریف کی ہے اور اس کو جالینوس کے بعد سب سے بڑا طبیب قرار دیا ہے۔ بہرحال وہ رازی کے بعد مسلمانوں کے عروج کے عہد میں جلیل القدر طبیب تھا۔ ایک رائے ہے کہ ابن زہر وہ پہلا محقق ہے جس نے ’’ہڈیوں میں احساس پایا جاتا ہے‘‘ کے مسئلے پربحث و تحقیق کی ۔ اپنی مایہ ناز تصنیف ’کتاب التیسیر‘ میں طبی اعمال اورسرجری پر بحث کی گئی ہے، اس میں وہ ہدایت کرتا ہے کہ طبیب کے لیے تجربہ مشعل راہ ہونا چاہیے نہ کہ قیاس محض۔

وہ دوائوں کی تیاری کی تفصیلات درج کرتا ہے اور نقرئی قنولہ (Canula) کے ذریعہ مریض کو غذا دینے کا طریقہ بیان کرتا ہے۔ مصلی التہاب نامور (ورم خلاف قلب) اور خراج منصفی کابیان نہایت وضاحت و خوبی سے دیتا ہے۔ ابن زہر خود اس خراج کا شکار ہوگیا تھا اوراپنی شکایات کی نہایت دلچسپ انداز میں توضیحات چھوڑی ہیں۔ دق و سل کے بیماروں کے لیے بکری کے دودھ کی توصیف کرتا ہے۔ نیز وہ سنگ گردہ اور فتح القصبہ کا علمی اسلوب بتاتا ہے۔ نزول الما کے عملی انقباض حدقہ انبساط حدقہ اور امراض چشم میں لفاح (ایٹروپین) کے استعمال کی تصریح درج کرتا ہے۔

حنین ابن اسحاق : ایک جلیل القدر طبیب

ابوزید حنین ابن اسحاق العبادی 810ء میں پیدا ہوا اور 877ء میں وفات پائی۔ یہ عہد عباسی کا ایک جلیل القدر طبیب تھا۔ حنین ابن اسحاق کے تذکرے کے بغیر عہد عباسی کی تاریخ نا تمام رہتی ہے۔ ابن ندیم نے الفہرست میں لکھا ہے کہ اس کا پورا نام حنین ابن اسحاق عبادی تھا اور ابو زید اس کی کنیت تھی۔ یہ بنو موسیٰ کے دربار میں یونانی مخطوطات کو جمع کرنے اور ان کے تراجم پرمامور تھا۔ اس نے طبی کتابوں کے تراجم سب سے زیادہ کیے ہیں۔ حنین علمی منازل طے کرتا ہوا اس درجے پر جا پہنچا کہ علوم و فنون کا سرچشمہ تصور کیا جانے لگا۔ اس کی رسائی خلیفہ مامون رشید تک ہوئی جس نے حنین کو اپنے دربار میں بلا کر خلعتیں عطا کیں اور بیت الحکمت کا مہتمم مقرر کیا۔

مامون رشید اس کے تالیف وتراجم کی جس طرح قدر کرتا تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ حنین کو اجرت کے طورپر اس کی ہرتالیف کے ہم وزن سونا عطا کرتا تھا۔ حنین اپنے عہد کا ممتاز طبیب ہی نہیں بلکہ یونانی طب کا سب سے بڑا مترجم ہے۔ حنین نے جالینوس کی 95 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے سریانی اور39 کتابوں کا ترجمہ یونانی سے عربی میں کیا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے شاگردوں کے ذریعے کیے گئے تراجم پر نظر ثانی کی اورصلاح و مشورہ دیا۔ حنین ہی کی سربراہی میں دنیا کی انتہائی اہم اور نایاب کتاب ’کتاب الخشائش‘ (جس کا اصل مصنف دیسقوریدوس ہے) کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا۔ حنین عربی، فارسی، یونانی اورسریانی زبانوں کا جید عالم تھا۔

اگرچہ حنین ابن اسحاق کئی کتابوں کا مصنف تھا لیکن علمی دنیا میں اس کی شہرت مترجم کی حیثیت سے زیادہ ہوئی۔ حنین ابن اسحاق کی تصانیف میں کتاب المصائب، کتاب العشر مقالات فی العین، کتاب العین خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ ان ابی اُصیبعہ کے بیان کے مطابق 70 سال کی عمر میں ذرب (Sprue) کے عارضہ سے حنین کا انتقال ہوا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حنین کی موت سخت دماغی صدمے کی وجہ سے ہوئی یا پھر اس نے تنگ آکر زہر کھا کر خود کشی کر لی۔

نوید احمد

 

سائنس و ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز دنیا

ای میل روکنے کا نیا بٹن بعض اوقات ہم ای میل کرتے ہیں تو اس میں کوئی نہ
کوئی غلطی رہ جاتی ہے یا پھر ہم اس میں کچھ جملوں کا اضافہ کر کے ترمیم کرنا چاہتے ہیں، لیکن Send کرنے کے بعد ہم اس ای میل کو روک نہیں سکتے۔ بعض اوقات Send کی آپشن کلک کرنے کے بعد ہمیں کوئی ایسا لفظ نظر آ جاتا ہے کہ جو شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن ہمارے پاس اس کو روکنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ گوگل نے Gmail کا اکائونٹ رکھنے والے اپنے صارفین کے لیے Unsend کا بٹن متعارف کروایا، جس کے ذریعے آپ ارادہ بدلنے پر اپنی ای میل کو روک سکتے ہیں۔ گوگل نے یہ فیچر اپنے آئی فون ایپ میں شامل کیا ہے اور یہ بھیجی گئی ای میل کو صرف 5 سیکنڈ کے اندراندر روک سکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈیسک ٹاپ سے ای میل کرنے والوں کے لیے پیغام کو روکنے کے لیے 30 سیکنڈ کا وقت رکھنے کی آپشن بھی دی گئی ہے۔

تین کروڑ روپے کا ہیک نہ ہونے والا فون سسٹم

ہیک نہ ہونے والے جدید سمارٹ فونز بننا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کے لیے تین کروڑ روپے کی لاگت سے نئی ٹیکنالوجی کا حامل فون سسٹم تیار کر لیا گیا ہے۔سائبر حملوں سے بچائو کے لیے یہ انٹرنل نیٹ ورک سسٹم بنایا ہے، اس سے منسلک ہونے کے باعث سمارٹ فونز ہیک نہیں کیے جا سکیں گے۔ بعض ممالک میں فوج کو ائیرمین سے لے کر آفیسرز تک یہ ہی سمارٹ فونز دئیے جائیںگے تا کہ کسی بھی قسم کی حساس معلومات کو ریکارڈ یا موبائل کو ہیک نہ کیا جا سکے۔

ذکا وائرس سے بچائو

ذکا وائرس کے متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والی ذکا وائرس کی وبا نے برازیل سمیت کئی ممالک کو پچھلے کچھ ماہ تک اپنی لپیٹ میں لیے رکھا اور اس کے متاثرین میں درجنوں نومولود بھی شامل ہیں جو کہ ماں کے پیٹ میں ہی اس وائرس کاشکار بن گئے۔ امریکی ماہرین نے متاثرہ حاملہ مائوں کو اس کے اثرات سے بچانے کے لیے غیر طبی تھراپی سے علاج کا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ ذکا وائرس نومولود کے دماغ کو متاثر کرتا ہے، اس لیے اینٹی باڈی تھراپی کے ذریعے ماں اور بچوں کے خون کے خلیوں کے بہائو کو اس وائرس کے خلاف لڑنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چین کا بڑا افلاک نما

چین کے شہر شنگھائی کے ضلع پیوڈنگ میں ایک بڑا افلاک نما بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جس کو دیکھنے کے لیے آنے والے اپنے آپ کو ستاروں اور سیاروں میں گھرا محسوس کریں گے۔ یہ عمارت 38,164 سکوئر میٹرپر مشتمل ہو گی، جس میں ایک شمسی ٹاور اور نوجوانوں کے مشاہدے کے لیے تجربہ گاہ بھی بنائی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین اسے 2020ء تک کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس عمارت میں بارش کے پانی کو قابل استعمال بنانے اور توانائی کو پھر سے قابل تجدید کرنے کی ٹیکنالوجی بھی اس پروجیکٹ کا حصہ ہو گی۔ منتظمین کے مطابق لوگ اس کے ذریعے ستاروں کو دیکھ سکیں گے اور کائنات کے وجود کے مفروضوں کو سمجھنے میں آسانی ملے گی۔

امریکی افواج کے لیے برقی دماغ امریکی فوجی سائنسدانوں نے عسکری اہلکاروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے برقی دماغ کے استعمال کا تجربہ کیا ہے، جوکہ خصوصی طور پر فضائی عملے ، ڈرون آپریٹرز اور مسلح فوجیوں کی مہارت میں اضافی کرے گا۔ کام کے انتہائی دبائو کے اوقات میں مرد و خواتین فوجیوں کے دماغ میں برقی لہروں کی مدد سے ان کی توجہ عسکری امور پر بنائے رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل فوجیوں کو دماغی طور پر چاک و چوبند رہنے کے لیے ادویات دی جاتی ہیں ،جوکہ صحت پر برااثر بھی ڈالتی ہیں، لہٰذا امریکی عسکری سائنسدانوں کی جانب سے اہلکاروں کودماغی طور پر تروتازہ رکھنے کیلیے برقی دماغ کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔

آن لائن ڈیٹا سے چھیڑخانی روکنے کامنصوبہ

ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آن لائن سسٹم سے چھیڑ خوانی بہت سے ممالک کی معیشت کو مہنگی پڑ رہی ہے اورترقی یافتہ ممالک کو حفاظتی اقدامات کے طور پرڈیٹا آڈٹ اور تحقیقات کی مد میں کروڑوں روپے ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ حال ہی میں  30 لاکھ اے ٹی ایم کارڈز ہولڈر متاثر ہوئے، ان کو اس مسئلے سے آئندہ بچانے کے لیے ایک ملک کے بینکنگ سیکٹر کو کروڑوں خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق اداروں کو نہ صرف سسٹم اپ گریڈ کرنے کے لیے خطیر رقم لگانا پڑ رہی ہے بلکہ متاثر ہونیوالے صارف بھی پھر کمپنی کی سروسز سے کنارہ کر لیتے ہیں، جس کے باعث بزنس مارکیٹ بھی خراب ہوتی ہے۔ ڈیٹا کی چوری کا تناسب بڑھنے سے معیشت کو ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیز اور بینکنگ سیکٹر کی جانب سے منصوبہ بنایا جا رہا ہے، تا کہ اس چھیڑ خانی کو روکا جا سکے۔

عمیرلطیف

تاریخ اندلس اور ابنِ رشد

’’کاش میری رو ح کو حکماء کی موت نصیب ہو۔‘‘ اللہ جانے مرنے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوا۔ وہ جو روح، عقل، آخرت، مذہب اور دیگر مسائل پر تمام علماء سے اختلاف رکھتا تھا، اس کی اپنی ’’روح‘‘ پر کیا بیتی۔ اس کی ’’عقل‘‘ کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ لیکن ابن رشد کی یہ خواہش کہ کاش میری روح کو حکماء کی موت نصیب ہو، بلاشک و شبہ پوری ہوئی۔ اس کی تصانیف چھ سو برس تک یورپ کی درس گاہوں میں شامل نصاب رہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس سے اختلاف بھی کیا گیا لیکن راجر بیکن اسے ارسطو اور ابن سینا کے بعد کائنات کا تیسرا بڑا فلسفی قرار دیتا ہے۔ اب اندلس والوں کو کیا کہیں!! اندلس کہ جسے بجا طور پر یورپ کا استاد کہا جا سکتا ہے۔ اس کا اور اس کے لوگوں کا استاد ابن رشد کے ساتھ سلوک، بالخصوص اس کی زندگی کے آخری دنوں میں، کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوا۔ یہ بجا ہے کہ جس زمانے میں ابن رشد پیدا ہوا، وہ اندلس کی عملی ترقی کے لحاظ سے نہایت شاندار ہے۔

 اندلس میں بنوامیہ کے زوال سے موحدین کے زوال تک دو سال کی مدت بنتی ہے اور یہ زمانہ اسلامی تاریخ میں بہت اہم ہے۔ لیکن دراصل یہ اندلس میں مسلمانوں کے عروج کا آخری دور بھی ہے کہ ایک عظیم الشان تہذیب نے زوال کے سفر پر پہلا قدم رکھ دیا تھا۔ 1030ء میں اندلس جب دولت بنوامیہ کے زوال کے بعد چھوٹی چھوٹی مسلمان ریاستوں میں بٹ گیا، جو آپس ہی میں دست و گریبان تھیں تو شمال کی عیسائی ریاستوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ قشتالہ کی حکومت نے، جو عیسائی ریاستوں میں سب سے زیادہ طاقتور تھی، آہستہ آہستہ مسلمانوں کے شہروں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ طلیطلہ کو زیر نگیں کر لیا۔ اشبیلہ کے بادشاہ متعمد کو خراج دینے پر مجبور کر دیا اور قرطبہ کو حریصانہ نظروں سے دیکھنے لگی۔ ان حالات میں مسلمانوں نے سمندر پار سے یوسف بن تاشفین کو پکارا جو مراکش کی طاقتور سلطنت کا فرماں روا تھا۔ وہ آیا۔ اس نے عیسائی بادشاہ الفانسو کو زلاقہ کے میدان میں شکست فاش دی اور چھوٹی چھوٹی مسلمان ریاستوں کو دوبارہ اکٹھا کر کے اپنی سلطنت میں شامل کیا۔ جلد ہی ان لوگوں نے طاقت پکڑ لی اور مرابطین کا تختہ الٹ دیا۔

 تاریخ کے یہ وہ ماہ و سال ہیں جو ابن رشد کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ قاضی ابوالولید محمد بن احمد بن محمد ابن رشد 1114ء میں بمقام قرطبہ پیدا ہوا۔ ریناں اس کے جن سوانح نگاروں کو زیادہ مستند مانتا ہے، وہ ابن الابار اور الانصاری ہیں۔ ان کے نزدیک ابن رشد کی یہی تاریخ پیدائش صحیح ہے۔ ابن رشد کا خاندان اندلس کا معروف مذہبی و سیاسی خاندان تھا اور فقہائے مالکیہ میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔ اس کا دادا اور باپ دونوں اپنے اپنے وقت پر قرطبہ کے قاضی رہے۔ تاریخ اس کے کارناموں کو فلسفہ، طب اور فقہ میں یکساں طور پر تسلیم کرتی ہے۔ طب کے میدان میں اس نے ابن زہر کے ساتھ مل کر کام کیا۔ دونوں شاہی طبیب رہے اور ان کے درمیان گہرے خاندانی دوستانہ مراسم بھی تھے۔ مشہور صوفی بزرگ ابن عربی سے بھی اس کے تعلقات تھے اور یہ ابن طفیل تھا جس کے نہ صرف خیالات سے وہ مستفید ہوا بلکہ شاہی دربار تک اس کی رسائی بھی ابن طفیل کی بدولت ممکن ہوئی۔

ابن طفیل کی ترغیب پر ہی ابن رشد نے ارسطو کے رسالوں پر شرحیں لکھنا شروع کیں پھر وہ وقت بھی آیا کہ پیرس یونیورسٹی اپنے فارغ التحصیل طلبہ سے یہ حلف لیتی تھی کہ وہ ارسطو کی صرف وہی شرحیں پڑھائیں گے جو ابن رشد کی لکھی ہوئی ہیں۔ 1188ء میں یوسف بن عبدالمومن نے اسے ابن طفیل کی جگہ طبیب اول مقرر کر دیا۔ اس کے بعد قرطبہ کے قاضی القضاۃ کا عہدہ عطا کیا جس پر اس کے با پ اور دادا دونوں فائز رہ چکے تھے۔ منصور بن یوسف بن عبدالمومن (یعقوب المنصور ) کے دربار میں اس کا اثرورسوخ پہلے سے کہیں زیادہ تھا۔ منصور اسے اپنی مسند خاص پر بٹھاتا تھا اور علمی معاملات پر گفتگو کرتا تھا۔ ابن رشد بے تکلفی میں بارہا اسے ’’اسمع اخی‘‘ کہہ کر خطاب کر جاتا تھا۔

ظفر سپل

(کتاب’’مسلم فلسفے کا تاریخی ارتقاء‘‘سے منقبس)

شیخ الرئیس بو علی سینا

05یہ حقیقت ہے کہ شیخ الرئیس ابو علی حسین بن عبداللہ بن سینا محض ایک فرد کا نام نہیں ہے۔ علامہ اقبال اپنی کتاب ’’ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا‘‘ میں لکھتے ہیں:’’ایران کے ابتدائی مفکرین میں صرف ابن سینا ہی ایسا شخص ہے جس نے علیحدہ نظام فکر تعمیر کرنے کی کوشش کی۔‘‘

شیخ کے والد عبداللہ بلخ کے رہنے والے تھے۔ یہ سامانیوں کا عہد تھا۔ نوح بن منصور سامانی نے اسے بخارا کے اہم شہر خریتان کا ولی مقرر کیا۔ اسی شہر کے نزدیک ایک چھوٹا سا شہر افشنا نامی بھی ہے۔ شیخ کی والدہ صاحبہ اسی شہر کی رہنے والی تھیں۔ ان کا نام ستارہ ہے۔ شیخ الرئیس بھی اسی شہر میں پیدا ہوئے۔ ان کے سنہ پیدائش میں اختلاف ہے، لیکن زیادہ تر مورخین 370 ہجری 980ء پر متفق ہیں۔ شیخ کی ولادت کے چند سال بعد یہ چھوٹا سا خاندان بخارا منتقل ہو گیا۔اس کی تعلیم کا یہیں آغاز ہوا۔ دس برس کی عمر میں اس نے قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور علوم شریعہ کی مبادیات اور علم نحو کے ضروری حصے سے بھی واقفیت حاصل کر لی تھی۔header-right

اس نے ریاضی کی تعلیم ایک سبزی فروش محمود مساح سے حاصل کی اور فقہ کی تعلیم اسماعیل زاہد سے۔ شیخ کے والد عبداللہ نے اپنے ذہین بچے کی مزید تعلیم و تربیت کی غرض سے عبداللہ الناتلی کو مستقل طور پر اپنے ہاں ٹھہرا لیا جس سے اس نے منطق اور اقلیدس کے ابتدائی اسباق لیے۔ مگر جلد ہی ہونہار شاگرد نے اپنے استاد پر فوقیت حاصل کر لی۔ طبیعیات، ماوراء الطبیعیات اور الٰہیات کی کتابیں اس نے ازخود پڑھیں۔ پھر وہ فلسفے کی طرف متوجہ ہوا تو راتوں کو وہ کبھی پوری نیند سے لطف اندوز نہیں ہوا اور دن کو بھی فلسفے پر غور و غوض کے سوا اس کی کوئی اور مشغولیت نہیں تھی۔ کسی مسئلے میں جب وہ اٹک جاتا تو وضو کرکے جامع مسجد چلا جاتا۔ نماز پڑھتا اور اللہ سے دعا کرتا۔

یہاں تک کہ مسئلے کی پیچیدگی دور ہو جاتی۔ اس نے ارسطو کی ماوراء الطبیعیات کا مطالعہ کیا۔ چالیس بار پڑھنے پر کتاب تو اس کو ازبر ہو گئی لیکن اس کے مطالب اس پر نہ کھلے۔ اتفاقیہ طور پر ایک دن بازار کتب فروشاں میں اس نے ایک شخص سے فارابی کی کتاب بے دلی سے اور سستے داموں خریدی۔ مگر اسی کتاب کے مطالعے نے نہ صر ف مابعد الطبیعیات کے مفاہیم کی طرف اس کی رہبری کی بلکہ اس کے ذہن کو پختہ تر کر دیا اور فلسفے کی ادق راہیں اس پر کھول دیں… کیا فارابی کو ابن سینا کا استاد کہنا چاہیے؟ شیخ طب کی طرف مائل ہوا تو پھر اس کی کتابیں پڑھنا شروع کر دیں۔ وہ علم طب میں بھی آپ اپنا استاد ہے۔

اگرچہ ابن ابی اصیبعہ نے اپنی کتاب ’’طبقات الاطباء‘‘ میں ابو سہل عیسیٰ بن یحییٰ مسیحی جرجانی کا نام اس کے استاد کی حیثیت سے درج کیا ہے۔ ابھی ابن سینا سولہ سترہ سال کا ہی ہوا تھا کہ اس کی طبی قابلیت کی شہرت چار دانگ عالم میں پھیل گئی۔ اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے شیخ نے تمام مروجہ علوم سے فراغت حاصل کر لی تھی۔ غالباً اسی وجہ سے ڈی بوئر اس کے متعلق لکھتا ہے’’وہ جسمانی اور ذہنی حیثیت سے قبل از وقت بالغ ہوگیا تھا۔‘‘

ڈاکٹر محمد یونس غربت کے خاتمے کے ماہر معاشیات دان

عالمی شہرت یافتہ ’گرامین بینک‘ کے بانی ماہر تعلیم اور معیشت دان محمد یونس اور ان کے بینک کو 2006ء میں امن کا نوبیل انعام دیا گیا۔ اس بینک نے چھوٹے قرضے دینے کی ایسی روایت کا آغاز کیا، جس نے دنیا بھر میں بینکاری کو ایک نئے رجحان سے متعارف کروایا۔ گرامین کا لفظ ’گرام ‘ سے نکلا ہے، جس کا سنسکرت زبان میں مطلب دیہی ہے۔ یوں گرامین بینک کا مطلب دیہاتوں کا بینک ہے۔ 1976ء میں گرامین بینک کی داغ بیل ڈالی گئی تھی۔ چٹاگانگ یونیورسٹی میں محمد یونس نے ایک تحقیقی منصوبے کا آغاز کیا ،جس کا مقصد ایسا نظام وضع کرنا تھا، جس کے تحت دیہی کسانوں اور مزدوروں کو آسان شرائط پر چھوٹے قرضے فراہم کیے جائیں اور پھر ان کی واپسی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اس منصوبے کے تحت جو نظام بنایا گیا، اس کو 1988ء میں’’ورلڈ ہیبیٹیٹ ایوارڈ‘‘ ملا۔ 1976ء میں محمد یونس نے کسانوں کو قرضے دینے کا نظام متعارف کرایا۔

قریباً سبھی بینکوں نے تب غریب کسانوں کو قرض دینے سے انکار کردیا تھا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ غریبوں سے قرض کی واپسی نہایت مشکل ہوتی ہے۔ ان کے پاس گروی رکھنے کو کچھ بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونے کی صورت میں ان کے پاس کوئی ایسی قیمتی شے برآمد ہوتی ہے، جسے دے کر وہ اپنے قرض کی رقم چکا سکیں۔ محمد یونس کے متعارف کردہ نظام کے تحت قرض کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے مخصوص نظام دیا گیا تھا۔ چٹاگانگ یونیورسٹی ڈھاکہ کے استاد محمد یونس کو 1965ء میں فل برائٹ سکالرشپ ملا اور وہ وینڈربلٹ یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کر 1972ء میں ڈھاکہ لوٹے تو انہیں چٹاگانگ یونیورسٹی میں معاشیات کے شعبے کا سربراہ متعین کیا گیا۔

یہ وہ دور تھا جب بنگلہ دیش کی معیشت کو سمندروں طوفانوں اور غربت نے مسمار کرکے رکھ دیا تھا۔ ڈاکٹر محمد یونس نے غربت کی وجوہ اور اس کے سدباب کے عوامل پر تحقیق کی اور بنگلہ دیش کے کسانوں اور ماہی گیروں کی معاشی صورت حال کو بہتر بنانے کے مختلف منصوبوں پر سوچ بچار کیا۔ انہوں نے اپنے طلبا کو ساتھ لیا اورایک مشنری جذبے کے ساتھ غریب کسانوں کو تربیت دینے کے منصوبوں پر عمل کا آغاز کیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ محض تربیت دینا ہی غربت کے خاتمے کے لیے کافی نہیں ۔ غریب کسانوں کو روپے کی ضرورت ہوتی ہے، جسے استعمال کرکے وہ محدود سطح کے کاروبار شروع کریں، اوزار خریدیں، کھیتی باڑی کے لیے کھاد حاصل کریں اور اپنی فصلوں کو مارکیٹ تک لے جائیں۔ قرض پر روپیہ دینے والے مقامی ساہوکار بھاری سود پر رقم دیتے تھے، جو کسانوں کو مسلسل قرض کی حالت میں قید کردیتی تھی۔ ڈاکٹر محمد یونس نے کسانوں کوآسان شرائط پر محدود پیمانے پر چھوٹے قرضے دینے کے منصوبوں کا اجرا کیا۔

اس نظام کے تحت پچیس ڈالر سے کم مالیت کے قرض حاصل کرنے والے لوگ ایک گروپ میں شامل ہوجاتے۔ یہ گروپ نہ صرف کسان کی معاونت کرتا بلکہ اس پر اخلاقی دباؤ کا کردار بھی ادا کرتا اور اسے قرض لوٹانے پر مجبور کرتا۔ اس گروپ میں شامل لوگ قرض واپس کرانے کے ذمہ دار نہ ہوتے، لیکن اگر قرض دار رقم واپس نہ کرتا یا اس کی واپسی میں ٹال مٹول کرتا، تو اس پر اخلاقی دباؤ ڈالتے اور اسے قائل کرتے کہ ایک اس کی وجہ سے یہ سارا نظام جس سے ہزاروں لوگ مستفید ہورہے ہیں، غیر مستحکم ہوجائے گا۔ ڈاکٹر محمد یونس کسانوں کی غربت کے مسئلے کے حل کے لیے ابتدائی طورپر کسانوں کے 42 کنبوں کو چھوٹے قرضے فراہم کیے تا کہ وہ محدود پیمانے کے کاروبار شروع کرسکیں۔

اس تجربے میں کامیابی نے محمد یونس کو اپنے نظام کی اثرانگیزی کا قائل کیا۔ ساتھ ساتھ محمد یونس نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر گرامین بینک کے لیے قوانین وضع کیے۔ 1976ء میں ایک گاؤں جوبرا اور اس سے ملحقہ دیگر دیہاتوں میں جو چٹاگانگ یونیورسٹی کے قرب و جوار میں واقع تھے، بنگلہ دیش بنک کے تعاون سے باقاعدہ طورپر چھوٹے پیمانے کے قرضوں کی فراہمی کے منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ 1979ء میں اس منصوبے کو توسیع دی گئی او رتنگیل ضلع میں بھی متعدد دیہاتوں کو اس سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ اس بینک کے ذریعے ہفتہ وار ادائیگی کا فارمولہ لاگو کیا گیا۔ ساتھ ساتھ ان قرض داروں کے لیے بچت کی سکیمیں بھی متعارف کرائی گئیں۔ گرامین بینک کے قرضوں کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ اس میں خواتین کے لیے خصوصی مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے 95 فیصد قرضے وصول کرنی والی صرف عورتیں ہیں۔ ڈاکٹر محمد یونس کے تحقیقی منصوبے میں اس امر پر اصرار کیا گیا تھا کہ اگر عورتوں کو جن کو عام طورپر مردوں کی نسبت مالی ذرائع تک کم رسائی حاصل ہوتی ہے، اگر قرضے دئیے جائیں تو اس سے عام گھروں بلکہ مجموعی طورپر ملکی معیشت میں بہتری کی کوششوں کو کئی گنا زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

گرامین بینک اگرچہ سرکاری سرپرستی میں کام کرتا ہے، لیکن اس کے 94 فیصد حصص اس کے قرض داروں کے پاس محفوظ ہیں جب کہ باقی 6 فیصد حصص حکومت کی ملکیت ہیں۔ 2010 ء میں ایک دستاویزی فلم کا اجرا ہونے کے بعد محمد یونس اور گرامین بینک کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوا۔ اس فلم میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ناروے کی طرف سے ڈاکٹر محمد یونس کو وصول شدہ فنڈز چھوٹے قرضوں کی صورت میں کسانوں میں تقسیم کرنا تھا، لیکن محمد یونس نے اپنے بینک کے ساتھ مل کر اس میں خرد برد کی تھی۔ اسی فلم کی بنیاد پر بنگلہ دیش کی حکومت نے بھی تفتیشی کارروائی کا آغاز کیا۔ اسی کارروائی کا نتیجہ تھا کہ 2011ء میں محمد یونس کو گرامین بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے سے برخاست کر دیا گیا،جس کی وجہ ان کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ بتائی گئی۔ محمد یونس نے اس فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر محمد یونس کو بنگلہ دیش کا سب سے معتبر اعزاز ’’یوم آزادی ایوارڈ‘ ‘ جبکہ امریکی حکومت کی طرف سے ’’ورلڈ فوڈ پرائز‘‘ اور’’پریذیڈنشیل میڈل آف فریڈم‘‘ بھی ملا۔ وہ پہلے فرد ہیں، جنہیں ’’کنگ حسین ہیومینٹیرین ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

محمدعاصم بٹ

 (کتاب ’’دانش ِ مشرق‘‘ سے مقتبس)

أبو الكيمياء جابر بن حيان

نامور سائنسدان اور فلسفی جابر بن حیان اپنی تحریروں میں ابہام شعوری طورپر قائم رکھتے تھے اور انہیں دقیق اور دشوار فہم بنانے کی کوشش کرتے تھے، جس کی وجہ وہ خود ’’کتاب الاہجر‘‘(پتھروں کی کتاب) میں یوں بیان کرتے ہیں کہ اس کتاب کا مقصد ان شخصیات کے علاوہ جنہیں وہ عزیز رکھتے اورانہیں اعلیٰ فہم و فراست عطا کرنے کے خواہاں تھے، قارئین کو الجھاؤ کا شکار کرنا تھا،ان میں استعمال کی جانے والی علامتوں کے مفاہیم واضح نہیں ہوتے تھے۔ ان کی تحریروں کی دشوار فہمی اور ابہام ہی کی وجہ سے انگریزی میں لفظ ’گبرش‘ (gibberish) اختراع کیا گیا۔ خاص کر کیمیا کے مضمون میں جابر بن حیان نے نہایت گراں قدر اضافے کیے۔ اس فن میں ان کی دلچسپی اپنے استاد امام جعفرصادق کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

اس استفادے کا اعتراف جابر نے متعدد موقعوں پر اپنی تحریروں میں کیا ہے۔ امام جعفر کے علم و فضل کا بنیادی دائرہ اسلامی علوم ہی کا بنتا ہے، لیکن وہ ریاضیات، فلسفہ، علم نجوم، علم الابدان جیسے علوم پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ ان کی علمیت کا ایک زمانہ معترف تھا۔ امام جعفر کے شاگردوں میں جابر کے علاوہ امام ابوحنیفہ اور امام مالک بن انس بھی شامل ہیں۔ کتاب الاہجر میں جابر بن حیان مختلف جانور جیسے بچھو اور سانپ وغیرہ کی تخلیق اور حتی کہ انسانوں کی تخلیق کے فارمولے بھی بیان کرتے ہیں، جو خالق سائنس دان کے اپنے فن پر عبور پر منحصر ہوتے ہیں۔ جابر بن حیان نے مختلف دھاتوں کی خصوصیات پر تفصیلی لکھا ہے۔ وہ ارسطو کی طبیعیات سے اکتساب کرتے اور یونانی چار عناصر کائنات کی خصوصیات کو دھاتوں سے منسوب کرتے ہیں۔

ان کے خیال میں سیسہ ،مٹی کی طرح سرد اور خشک خصوصیت کا حامل ہوتا ہے جبکہ سونا ہوا کی طرح گرم اور مرطوب خصوصیت رکھتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ان خصوصیات کی باہمی آمیزش کی ترکیب بدل دینے سے نئی دھاتیں تیار کی جاسکتی تھیں جبکہ اس مقصد کے لیے ایک نایاب محلول ’الاکثیر‘ کی تیاری ضروری ہے، جو اس تبدیلی کے عمل کو ممکن بنا دے۔ اسی جادوئی محلول کو یورپ میں ’فلسفی کا پتھر‘ کا نام دیا گیا۔ اپنے ’پارہ اورگندھک کے نظریے‘ کے تحت وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مختلف دھاتوں میں فرق صرف اسی بنیاد پر قائم ہوتا ہے کہ کس میں پارے اور گندھک کی کتنی خصوصیات موجود ہیں۔ جابر لکھتے ہیں کہ سبھی دھاتیں اپنی بنیاد میں پارے سے بنتی ہیں، جس میں گندھک کی آمیزش ہوتی ہے۔

اس آمیزش کے تناسب میں فرق سے دھاتوں کی ظاہری خصوصیات میں فرق پیدا ہوتا ہے، تاہم جابر کے سر پر اس بات کا بھی سہرا سجتا ہے کہ انہوں نے اسلامی دنیا میں الکیمیا کے شعبے میں تجربے کے عمل کو فروغ دیا اور اسے دھاتوں سے متعلق تمام تجربات میں ضروری قرار دیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو تجربات کے ذریعے اپنے وضع کردہ کلیوں کی آزمائش کی کوشش نہیں کرتا، وہ کبھی اس فن میں اعلیٰ مہارت حاصل نہیں کر پاتا۔ جابر بن حیان سے بیس ایسے آلات منسوب کیے جاتے ہیں، جنہیں لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کئی ایک آج بھی لیبارٹری میں قابل استعمال ہیں، اسی طرح کئی ایک کیمیائی عمل بھی ان سے منسوب ہیں اور جن میں سے چند ایک جدید کیمیا کی بنیاد بنے۔جیسے ابال کر کئی طرح کے کیمیکلز کی صفائی کا عمل اور سٹرک ایسڈ، ٹارٹرک ایسڈ، آرسینک، جیسے کیمیکلز وغیرہ۔ کہاجاتا ہے کہ اپنے استاد امام جعفر صادق کی خواہش پوری کرنے کے لیے جابر نے ایسا کاغذ ایجاد کیا، جس پر آگ اثر نہیں کرتی تھی اور ایسی سیاہی بھی تیار کی، جس کی مدد سے رات کے اندھیرے میں بھی لکھا جا نا ممکن تھا کیونکہ اس سیاہی سے لکھے جانے والے الفاظ میں سے روشنی پھوٹتی تھی، اسی طرح انہوں نے ایسا کیمیکل بھی ایجاد کیا، جسے اگر لوہے پر لگایا جاتا تو وہ زنگ کا خاتمہ کردیتا اور کپڑے پر لگانے سے اس میں ایسی خصوصیت پیدا کرتا ،جس کی وجہ سے اس پر پانی اثر نہیں کرتا تھا۔

ازمنہ وسطی میں الکیمیا پر لکھے گئے جابر بن حیان کے مقالات کا ترجمہ لاطینی زبان میں ہوا، جس کے بعد یہ یورپ میں الکیمیا کے ماہرین کے نصاب کا لازمی حصہ بن گئے۔ ان مقالات میں جابر کی کتابیں’کتاب الصابین‘ اور ’کتاب الکیمیا‘ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ جابر ہی تھے، جنہوں نے ’الکلی‘ کی اصطلاح اختراع کی تھی، بعدازاں یہ اصطلاح تمام یورپی زبانوں میں رائج ہوئی اور سائنسی فرہنگ کا حصہ بنی، جابر بن حیان نے دھاتوں پر تحقیق کے دائرے کو وسعت دی اور دھاتوں کے ساتھ اس تحقیق میں پودوں اور جانوروں کو بھی شامل کیا۔ کائناتی تفہیم کے عمل میں انہوں نے اعداد کی اہمیت پر بھی اصرار کیا۔ ان کے لیے 17 اور 28 کے ہندسے خصوصی اہمیت کے حامل تھے۔ اس علم میں کمال حاصل کرنے کے لیے انہوں نے فیثاغورثیوں اور نو افلاطونیوں کے عددی نظاموں سے غیر معمولی استفادہ کیا۔ انہوں نے مختلف عناصر کی خصوصیات کو اعداد سے منسوب کیا۔ جابر کا خیال تھا کہ سائنسی تحقیق کے لیے سائنس دان کا مذہبی عقائد میں پختہ ہونا نہایت ضروری ہے۔

وہ ستاروں کے انسانی اعما ل اور رویوں پر اثرات کے قائل تھے ۔ ان کا یہ خیال بھی ہے کہ ان اثرات کو دعاؤں اور عبادات کی مدد سے اپنے حق میں بدلا جا سکتا تھا۔ نٹرک اور سلفیوک ایسڈ کی ایجاد کا سہرا بھی جابر ہی کے سر سجتا ہے۔ انہوں نے سیسہ اور پوٹاشیم نائٹریٹ کی مدد سے سونے کو دیگر دھاتوں سے علیحدہ کرنے کا نظریہ پیش کیا۔ انہوں نے پارے کی صفائی کا طریقہ کار بھی وضع کیا۔ پائیلو کوئلو نے اپنے معروف ناول ’الکیمسٹ‘ میں جابر بن حیان کا ذکر کیا ہے۔ کیتھرین نیویلی نے اپنے ناول ’آٹھ اور آگ‘ میں جابر بن حیان کو ایک خیالی پراسرار شطرنج کے خالق کے طورپر پیش کیا ہے۔

جابر بن حیان ایران کے شہر طوس میں پیدا ہوئے۔ ان کا سن پیدائش 721عیسوی بتایا جاتا ہے۔ وہ عربی النسل تھے اور ان کے آباؤ اجداد کوفہ میں آ کر آباد ہوئے تھے۔ اپنی عملی زندگی کا آغاز جابر نے خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں ایک طبیب کے طور پر کیا۔ خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں جابر بن حیان ماہر الکیمیا کے طورپر اس کے مصاحبین میں شامل رہے۔ اپنی ایک کتاب ’کتاب الزہرہ‘ انہوں نے خلیفہ ہارون الرشید سے منسوب کی۔ فقہ، شریعت، ریاضیات کے ساتھ انہوں نے الکیمیا کے فن میں بھی عبور حاصل کیا۔ انہوں نے یونانی اور لاطینی زبان میں ماہرین کی کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ بھی کیا۔ کوفہ میں ان کی ایک تجربہ گاہ موجود تھی، جس میں وہ مختلف دھاتوں کے حوالے سے تجربات کیا کرتے تھے۔ جابر کی زندگی کا بیشتر حصہ یمن میں بسر ہوا۔ کوفہ میں ان کا مطب تھا۔ وہیں انہیں عباسیوں کی سلطنت کے زوال کے بعد خلیفہ کے حکم پر ان کے اپنے گھر میں قید کر دیا گیا۔ اسی نظربندی کے دوران 815 عیسوی میں ان کی وفات ہوئی۔

 (کتاب ’’دانش ِ مشرق‘‘ سے مقتبس) –