ملکی ترقی میں انجینئرز کا کردار : ڈاکٹر عبدالقدیر خان

میں آج ملکی ترقی میں انجینئرز کے کردار پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ وہ اس لئے کہ
میں خودبھی انجینئر ہوں اور میں نے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ دونوں اعلیٰ یونیورسٹیوں سے کئے ہیں۔ مگر سب سے پہلے میں سر جارج تھامسن (نوبیل انعام یافتہ) کا ایک قول بتانا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا تھا کہ، ’’ہم نے کچھ عرصہ سے اپنی تہذیب کو ان دھاتوں سے منسوب کیا ہے جو عوام اس وقت استعمال کررہے تھے مثلاً پتھروں کا زمانہ، بُرونز (Bronze) کا زمانہ، لوہے کا زمانہ وغیرہ وغیرہ‘‘۔ کسی بھی تہذیب (زمانہ) کی ترقی یا جہالت کا انحصار اس تہذیب کے پاس جو دھاتیں ہوتی ہیں ان کےصحیح یا غلط استعمال یا کوئی استعمال نا کرنے پر منحصر ہوتا ہے۔ موجودہ دور لوہے اور نئی طاقتور دھاتوں کا ہے۔

میرا اپنا خیال یہ ہے کہ ہم اب بہت منفرد اور اعلیٰ دھاتوں کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں نہایت حسّاس اور اعلیٰ ٹیکنالوجی پر منحصر صنعتوں کا پھیلائو بغیر اعلیٰ دھاتوں کے ناممکن ہے۔ آجکل بہت طاقتور دھاتیں اور ہائی ٹمپریچر دھاتیں، سِرامکس، کمپوزٹس، پولیمرس پر کام ہو رہا ہے کہ ان کو منفرد اور خاص صنعتوں کی تعمیر میں استعمال کیا جا سکے۔ دور جدید کی ایجادات مثلاً اسپیس شٹل، آپٹیکل فائبرز اور چھوٹے منفرد کمپیوٹرز کی تیاری بغیر اعلیٰ اور خاص دھاتوں کی موجودگی میں ناممکن ہوتی۔ اعلیٰ اور پیچیدہ صنعتوں میں استعمال کے لئے تیار کردہ دھاتیں آہستہ آہستہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے لگتی ہیں۔

میں اس موضوع پر یہ کالم اس لئے لکھ رہا ہوں کہ اس سے پیشتر اس موضوع پر کسی نے طبع آزمائی نہیں کی ہے۔ اب جبکہ نئی صنعتیں لگائی جا رہی ہیں میں کوشش کر رہا ہوں کہ عوام کی رہنمائی کروں۔ اس سے لوگوں میں اعلیٰ دھاتوں کو استعمال کرنے کی سمجھ بوجھ آ جاتی ہے اور وہ ان دھاتوں کی خصوصیات مثلاً ان کی فزیکل اور میکنیکل خصوصیات، آکسی ڈیشن اور کور وژن (زنگ لگنا)، زنگ سے دھاتوں کو محفوظ کرنا(کوٹنگ) اور ان دھاتوں کو الیکٹران بیم سے پہچانا اور علیحدہ رکھا جانا، سے واقف ہوجاتے ہیں۔ دیکھئے اچھی دھاتوں کی تیاری اور اس کا معائنہ بغیر اعلیٰ آلات (جانچنے والے) کے ناممکن ہے۔ دور جدید میں ٹیسٹ کرنیوالے نہایت حساس و اعلیٰ آلات کی ضرورت ہے انکے بغیر آپ اعلیٰ جانچ؍ ٹیسٹ نہیں کر سکتے۔ اچھے آلات تو نہایت باریک خصوصیات کا پتہ چلا لیتے ہیں دراصل یہ جانچ و ٹیسٹ کرنے والے آلات میں ایکسرے، نیوٹران اور الیکٹران ڈِفریکشن اسپکٹراسکوپی آجکل موجود ہیں اور ان کی مدد سے کسی بھی دھات کی ساخت، کمپوزیشن، اور میکانیکل خصوصیات (پراپرٹیز)، کیمیائی خصوصیات معلوم کر لی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ ان آلات کی مدد سے ایٹم کی تقسیم و پھیلائو کا بھی علم ہو جاتا ہے۔ مجھے یہ بتانے میں فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے KRL میں ان تمام اہم و حساس آلات کا بندوبست کر لیا تھا اور ان کی مدد سے ہم نہایت پیچیدہ اور اہم معلومات حاصل کر لیتے تھے۔ پہلے ڈاکٹر ایف ایچ ہاشمی، پھر پروفیسر ڈاکٹر انوار الحق اور پھر ڈاکٹر محمد فاروق اس ڈویژن کے سربراہ تھے۔ ڈاکٹر ہاشمی نے لندن یونیورسٹی سے، ڈاکٹر انوارلحق نے جرمنی سے اور ڈاکٹر فاروق نے آکسفورڈ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کی تھیں اور تینوں بہت ذہین اور قابل سائنسدان تھے۔

نمونوں کو بغیر توڑے پھوڑے (NDT – Nondestructive Testing) ان کی خصوصیات و کمپوزیشن کا معلوم کرنا بہت پیچیدہ اور مشکل کام ہے، ہمارے یہاں انجینئر نورالمصطفیٰ اور مشتاق پٹھان اس کے ماہر تھے۔ اس سلسلہ میں یہ بھی بتلاتا چلوں کہ دھاتوں اور دھاتوں سے تیارکردہ کمپونینٹس (Components) کی عمر یا مفید استعمال کا دور جاننے کے لئے تھکاوٹ (Fatique)، ٹوٹنا (Fracture) اور آہستہ آہستہ کمپونینٹس کے سائز بڑھنا (Creep) وغیرہ نہایت اہم خصوصیات ہیں جن کا پاکستان میں استعمال اور سمجھ بوجھ بہت کم ہے اور یہ وہ خصوصیات ہیں جو نہایت اہم ہیں اور ہر آلے اور مشینری کے استعمال اور ان میں تبدیلی وغیرہ کو جانچتے رہنا بہت اہم ہے۔ میرے پاس اوپر بیان کردہ اعلیٰ سائنسدان اور انجینئرز تھے اور ہم نے اس میدان میں اعلیٰ صلاحیت حاصل کرلی تھی۔

دیکھئے مشکل و اعلیٰ ٹیکنالوجی کے حصول میں ہمیں ہر فیلڈ میں ترقی کرنا چاہئے جب تک ہماری بنیاد (یعنی فائونڈیشن) مضبوط نہیں ہو گی ہم نئی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی نہ حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ یورپ، امریکہ، جاپان، چین اور انگلینڈ میں یہ مضامین شروع میں ہی پڑھا دیئے جاتے ہیں اور تمام آلات کا استعمال بھی سکھا دیتے ہیں۔ ان کے ماہرین (پروفیسرز) اکٹھے بیٹھ کر ایک پورا پروگرام بنا لیتے ہیں جو ان کی صنعتوں کے لئے بے حد مفید و موثر ہوتا ہے اور پھر یہ طلبا ریسرچ کا کام سنبھال لیتے ہیں اور اس طرح یہ ممالک ترقی کرتے جاتے ہیں۔ ہمیں بھی اپنی سائنس و ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لئے یہی طریقہ کار استعمال کرنا چاہئے۔ بدقسمتی سے یہ چیز یہاں عنقا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم بین الاقوامی سطح پر دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ہمیں نہ صرف اپنی تعلیم پر بلکہ ٹیکنیکل تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ ہم ہمیشہ پسماندہ ہی رہیں گے۔ ہمیں ٹیکنیکل سیمینار کرنا چاہئے اور غیرملکی ماہرین کو دعوت دینا چاہئے تا کہ ہمارے طلباء نئی ایجادات سے بہرہ ور ہو سکیں۔ ہمیں زیادہ طلبا کو غیر ممالک بھیجنا چاہئے کہ وہاں سے وہ دور جدید کی اعلیٰ ٹیکنیکل تعلیم حاصل کر سکیں اور پھر واپس آ کر ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹائیں۔

بدقسمتی سے اربوں روپیہ معمولی پروجیکٹس پر خرچ کر دیئے جاتے ہیں اور تعلیم کو صرف ایک بے فائدہ ورزش سمجھ رکھا ہے۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) نے ایک ہوٹل میں ایک شاندار ڈنر کا اہتمام کیا اور مجھے چیف گیسٹ بنایا۔ میں نے ہمارے ایٹمی سفر پر روشنی ڈالی اور انجینئرز کو بتلایا کہ کس طرح اہم ملکی پروجیکٹس پر کام کیا اور کرنا چاہئے۔ میں نے جب ان کو بتایا کہ میں نے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ دونوں اعلیٰ تعلیمی اداروں سےکئے ہیں اور یہ دونوں ڈگریاں انجینئرنگ میں ہیں یعنی M.Sc Tech اور Dr. Eng تو تمام انجینئرز بے حد خوش ہوئے کہ ان کا ایک ہم پیشہ اتنا اہم کام کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ میں نے ان کو صاف صاف بتلا دیا کہ اگر میں انجینئر نہ ہوتا اور انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کی ہوتی تو یہ پروجیکٹ کبھی بھی کامیاب نہ ہوتا اور یہ حقیقت بھی ہے۔

دیکھئے دنیا میں کوئی اعلیٰ کام، اعلیٰ ریسرچ میٹالرجی میں مہارت کے بغیر تکمیل نہیں پا سکتی۔ کمپیوٹرز، روبوٹس، سپرسانک ہوائی جہاز، خلائی شٹلز، سٹیلائٹس، خلائی کمیونیکیشن، نیوکلیرانرجی وغیرہ کی تیاری میں میٹالرجی کا اہم رول ہے۔ تمام ایم (M) کے استعمال میں یعنی افرادی قوت (Manpower)، میٹریلز(Materials)، مشینز(Machines)، طریقہ تیاری(Methods)، اور رقوم (Money) میں میٹیریلز ان کی تیاری اور ان کا استعمال ہی بہت اہم بلکہ اہم ترین فیکٹر ہے۔ بغیر اس کے آپ کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

Advertisements

سائنس میں مہارت کے بغیر ترقی ناممکن ہے : ڈاکٹر عبدالقدیر خان

موجودہ دور میں سائنس جتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اس سے واقفیت رکھنا ناممکن تو کیا اس کے ساتھ چلنا بھی بہت مشکل ہے۔ عہد قدیم سے انسان کوشش کرتا رہا ہے کہ زمین میں جو وسائل موجود ہیں ان کو نکالے اور اپنی زندگی کو آرام دہ اور پرسکون بنانے کیلئے استعمال کرے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسانی دماغ کی صلاحیتوں نے بھی ترقی کی اور انسان نے قدرت کے راز سمجھنے اور حل کرنے کیلئے جدّوجہد کی تاکہ اپنی زندگی آرام دہ بنا سکے۔ شروع شروع میں اس ترقی کی رفتار بہت آہستہ تھی لیکن پچھلی دو تین صدیوں میں انسان نے بہت ترقی کی ہے۔ اور اگریہ کہا جائے کہ نئی ایجادات خود انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہیں تو یہ مبالغہ آمیز بات نہ ہو گی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سائنس نے بے حد ترقی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے سائنس میں بے انتہا ترقی ہوئی ہے۔ پچھلے پچاس، ساٹھ سال میں جو ترقی ہوئی ہے وہ پچھلے دو سو سال سے زیادہ ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ تقریباً چار سو برس سائنس کی ہر برانچ میں لیڈر رہنے کے بعد ہم بارہویں صدی سے زوال کے شکار ہو گئے اور پھر ہم سنبھل ہی نا سکے۔ حکمراں کرپشن میں مصروف رہے اور عوام کاہلی کا شکار ہو گئے۔ آج کل دنیا میں جس قدر ترقی ہو رہی ہے وہ امریکہ، یورپ، جاپان وغیرہ میں ہو رہی ہے۔ دوسرے ممالک، خاص طور پر مسلم ممالک، صرف خریدنے اور استعمال کرنے والے ہیں۔ جاپان نے یہ دائرہ توڑ دیا ہے اور کئی میدانوں میں امریکہ اور یورپ سے آگے ہے۔ اب چین نے بھی 30 ,25 برسوں میں کمال کر دیا ہے، یہ ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا مگر اب ہم سے 100 سال آگے ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان بھی دوسرے پسماندہ ممالک کی صف میں ہے۔ غربت، بیروزگاری، بیماریاں اور غلاظت عروج پر ہیں۔ آجکل کراچی کی جو تصاویر ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں ان کو دیکھ کر دل دہل جاتا ہے کہ اس اکیسویں صدی میں جبکہ اہل اقتدار محلات میں رہ رہے ہیں جبکہ عوام کو غلاظت کے ڈھیروں پر چھوڑ دیا ہے۔ اس کچرے سے بہ آسانی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے مگر کمیشن نہیں ملے گا۔ وقت بہت ضائع ہو چکا ہے اور ہم نے ابھی اس لمبے سفر کیلئے پہلا قدم بھی نہیں اُٹھایا ہے۔ 27 مارچ کو حیدرآباد میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے قوم سے مذاق ہی کیا ہے کہ ملک میں جلد تعلیمی انقلاب آئے گا۔ تعلیمی انقلاب تو مشکل کام ہے مجھے ڈر ہے کہ جہالت کا انقلاب آ جائے گا جو آہستہ آہستہ قدم جماتا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کے رفقائے کار میں کوئی بھی ایسا نہیں جو سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کی تعریف بھی کر سکے۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی۔ میں نے غلام اسحٰق خان انسٹی ٹیوٹ بنایا ہے اور کے آر ایل (KRL) بنائی ہے آپ دیکھیں گے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائینگی۔

ایک طرف تو دنیا میں سائنس کی ترقی بہت تیزی سے جاری ہے دوسری طرف ہم ابھی تک جہالت کے کنوئیں میں غوطہ کھا رہے ہیں۔ ایک قوم کی حیثیت سے خاص طور پر حکمراں طبقہ اورہم بہت خراب حالت میں ہیں۔ احساس ہی نہیں ہو رہا کہ ہماری کشتی بھنور میں پھنس گئی ہے اور ہم کسی وقت بھی ڈوب سکتے ہیں۔ یہ بہت افسوس اور شرم کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ہمیں بیش بہا قدرتی وسائل عطا کئے ہیں بلکہ ایک اچھی تعداد نہایت قابل سمجھدار لوگوں کی بھی دی ہے۔ کیا ہم نے، پاکستانیوں نے، چھ سات سال میں ایٹم بم نہیں بنا دیا؟ کیا ہم نے میزائل نہیں بنائے؟ اگر حکمراں تھوڑے سمجھدار ہوتے تو قابل، تجربہ کار لوگوں کو ملکی ترقی کا کام سونپ دیتے تو ہم ایک ترقی یافتہ قوم بن گئے ہوتے۔ اپنے ملک کے قدرتی وسائل اور قابل لوگوں کی موجودگی میں ہمیں ترقی کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ جن لوگوں نے کے آر ایل کو دیکھا ہے ان سے پوچھئے کہ ہم نے کس طرح ناممکن کو ممکن بنا دیا تھا۔ جو بھی وہاں آتا تھا بس یہی کہتا تھا کہ یہ پاکستان نہیں لگتا۔ اسی بات سے متاثر ہو کر جنرل ضیاء الحق نے یکم مئی 1981 میں ہمارے ادارے کا نام تبدیل کرکے میرے نام سے منسوب کر دیا تھا۔ یہ ایک زندہ شخص کیلئے بہت اعلیٰ واقعہ تھا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک اچھی بڑی تعلیم یافتہ اور قابل ٹیم کی موجودگی کے باوجود کوالٹی کنٹرول، ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ کارکردگی کا فقدان ہے اور اس کے نتیجے میں ہمارے ہونہار، قابل نوجوان طبقہ غیرممالک کی راہ لیتا ہے اور ملک ان کی خدمات سے محروم ہو جاتا ہے۔ دیکھئے ٹیکنیکل ترقی بغیر فنی تعلیم سے مُرصع لوگوں کی غیرموجودگی میں ناممکن ہے اور نہ صرف یہ کہ تعلیم یافتہ قابل طبقے کی اشد ضرورت ہے بلکہ اس کیلئے مناسب ٹیکنیکل سہولتیں بھی بے حد ضروری ہیں۔ میں نے اپنے ادارے میں جو سہولتیں فراہم کی تھیں وہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے کم نہ تھیں اور پھر میرے قابل اور محب وطن ساتھیوں نے ان سہولتوں سے پورا فائدہ اُٹھایا اور ملک کو ناقابل تسخیر دفاع فراہم کر دیا۔ اب اگر کبھی ہندوستان نے کوئی جارحانہ اقدام اُٹھایا تو پاکستان اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا۔ دیکھئے جو نمائشی کام کئے جا رہے ہیں ان سے نہ ہی ملک ترقی کر رہا ہے اور نہ ہی عوام کو روزگار کے مواقع مل رہے ہیں۔ وقت کا اہم تقاضہ یہ ہے کہ ہم نوجوان طبقے کیلئے ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں۔ ہم نے ہر محکمے میں نااہلیت کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بس یہ سمجھ لیجئے کہ رکشہ ڈرائیورز کو ایئر بس چلانے کی ذمہ داری سونپ دی ہے نتیجہ آپ خود سوچ سکتے ہیں۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے اہل اقتدار کی نظر میں تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں ہے جبکہ ترقی کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت بہت ضروری ہے۔ ہمارا نظام تعلیم بھی بے حد ناقص ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے نااہل لوگ سیاست کے ذریعے ملک کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہوجاتے ہیں اور انھیں سوائے غیرملکی دوروں اور اپنی کرپشن کے کسی اور چیز میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ اور بڑی اور نقصان دہ بات یہ ہے کہ تعلیم پر بہت ہی کم رقم خرچ کی جاتی ہے۔ اربوں روپیہ کے پروگرام چلائے جاتے ہیں جن میں کرپشن کی گنجائش ہوتی ہے، اچھے تعلیمی اداروں کی تعمیر میں قطعی دلچسپی نہیں لی جاتی تو ملک کس طرح ترقی کرے گا؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

پاکستان : مصنوعی سیارہ خلاء میں بھیجنے والا پہلا اسلامی ملک

پاکستان نے اپنا پہلا مصنوعی سیارہ بدر اول خلا میں 16 جولائی 1990ء کو چھوڑا۔ اس اعتبار سے پاکستان خلاء میں سیارہ چھوڑنے والا پہلا اسلامی ملک بن گیا۔ یہ سیارہ (بدر اول) مکمل طور پر پاکستانی انجنیئروں اور سائنس دانوں نے تیار کیا ہے اور اس کے تمام نظام ذیلی نظام اور مکمل پرزے تک سپارکو کے انجینئروں نے بنائے ہیں یہ دوست ملک چین کے ژی چن کے خلائی مرکز رائٹ لانگ مارچ ٹوائی لارج وہیکل کے ذریعہ مدار میں بھیجا گیا۔ بدر اول کی شکل دائرہ نما ہے اس کی جسامت ساڑھے تین مکعب فٹ ہے۔ اس کے 26 رخ ہیں وزن پچاس کلوگرام ہے اس کا جدید الیکٹرانک نظام زمینی مرکز سے معلومات حاصل کرنے‘ ذخیرہ کرنے اور پھر آگے فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

شمسی توانائی سے چلنے والا یہ مصنوعی سیارہ دو فٹ سے ایک ہزار کلومیٹر کی بلندی سے ہر 98 منٹ میں زمین کا چکر لگاتا رہا۔ یہ چوبیس گھنٹوں میں چھ مرتبہ پاکستانی افق سے بھی گزرتا رہا جبکہ یہ دنیا کے گرد اسی مدت کے دوان پندرہ چکر لگاتا ہے اس پر 35 ملین روپے لاگت آئی۔ کراچی اور لاہور میں دو زمینی مراکز بھی قائم کئے گئے جو اسے سگنل دینے کے لیے مخصوص کئے گئے۔ ان میں پہلا سگنل ڈیجیٹل کمیونی کیشن کا تجربہ تھا جس میں کراچی مرکز سے سگنل دیا گیا اور جسے مصنوعی سیارے نے سٹور کر کے لاہور مرکز کو فراہم کیا اس کا دوسرا تجربہ رئیل ٹائم کمیونی کیشن کا تھا۔ جس میں لاہور اور کراچی کے مرکز کے درمیان سیارے کی معرفت رابطہ قائم کیا گیا۔

ژی چنگ جہاں سے پاکستان نے اپنا پہلا مصنوعی سیارہ بدر اول چھوڑا بیجنگ سے دو ہزار میل کے فاصلے پر جنوب کی جانب واقع ہے۔ سپارکو کے چیئرمین ڈاکٹر شفیع احمد نے 19 جولائی 1990ء کو بتایا کہ اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بدر دوم بنانے کی اجازت دے دی۔ بدر اول کی تیاری کے منصوبے میں تیس سائنس دانوں نے کام کیا۔ اسے چھوڑنے کا مقصد مستقبل میں مواصلاتی سیارے چھوڑنے کے لیے درکار معلومات اور تجربہ حاصل کرنا تھا۔

اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بدر اول کے کامیابی سے چھوڑے جانے پر اپنے پیغامات میں کہا کہ : پاکستان کے پہلے مواصلاتی سیارے کو زمین کے مدار میں پہنچانے کے نتیجے میں پاکستان بالائی خلا کو پرامن مقاصد کیلئے استعمال کرے گا۔ اپنے پیغام میں کہا کہ یہ بات پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے کہ پاکستان ایک مواصلاتی سیارہ مقامی طور پر ڈیزائن کرنے اور تیار کرنے کا اہل ہو گیا ہے اس تاریخی کامیابی سے اپنے سائنس دانوں اور انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کی اہلیت کے بارے میں ہماری توقعات میں بلاشبہ اضافہ ہوا ہے۔

زاہد حسین انجم

(انسائیکلوپیڈیا ،پاکستان میں اوّل اوّل سے انتخاب)

راشد منہاس نے دشمن کی سازش کیسے ناکام بنائی

rashidراشد منہاس 17 فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور وہ نشان حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے سب سے کم عمر اور پاک فضائیہ کے پہلے آفیسر ہیں۔ راشد منہاس نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور سترہ سال کی عمر میں پاک فضائیہ کی رسالپور اکیڈمی میں بطور فلائنگ کیڈٹ داخلہ لیا۔ 1971 میں راشد مہناس نے اکیڈمی سے جنرل ڈیوٹی پائلٹ کی حیثیت سے گریجویٹ کیا اور انہیں کراچی میں پی اے ایف بیس مسرور پر پوسٹ کیا گیا تاکہ لڑاکا پائلٹ کی تربیت حاصل کرسکیں۔

20اگست 1971 کو زیرتربیت پائلٹ کی حیثیت سے راشد منہاس ٹی 33 جیٹ ٹرینر کو اڑانے والے تھے جب بنگالی پائلٹ انسٹرکٹر فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان بھی ان کے ساتھ سوار ہوا۔ دوران پرواز مطیع الرحمان نے راشد منہاس کو سر پرضرب لگا کر بے ہوش کیا اور پرواز کا کنٹرول سنبھال کر طیارے کا رخ ہندوستان کی جانب موڑ دیا۔ اس وقت جب ہندوستان کا فاصلہ 40 میل رہ گیا تھا، راشد منہاس کو ہوش آیا اور انہوں نے طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی، اس میں ناکامی کے بعد نوجوان پائلٹ کے پاس اپنے طیارے کو ہندوستان لے جانے سے روکنے کا ایک ہی راستہ رہ گیا تھا اور انہوں نے ہندوستانی سرحد سے محض 32 دور طیارے کو گرا کر اپنی جان پاکستان کے لیے قربان کردی۔

راشد منہاس کو 21 اگست 1971 کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا اور ان نوجوان پائلٹ کے پورے خاندان سمیت پاک فضائیہ اور دیگر مسلح افواج کے عہدیداران اس موقع پر موجود تھے۔ راشد منہاس کو بعد از وفات پاکستان کا سب سے اعلیٰ فوجی اعزاز نشان حیدر دینے کا اعلان اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ خان نے کیا اور اس طرح وہ اس اعزاز کو پانے والے سے سب سے کم عمر اور پاک فضائیہ کے اب تک واحد رکن بن گئے۔ اپنے بیٹے کی شہادت پر راشد منہاس کے والد عبدالماجد منہاس نے یہ کہا ” اگرچہ بیٹے کی وفات کا دکھ کبھی ختم نہ ہونے والا ہے مگر مجھے اس بات پر فخر ہے کہ اس نے ایک نیک مقصد اور ملک و قوم کے وقار کے لیے اپنی جان قربان کی”۔ اٹھائیس اگست 1971 کو دیئے جانے والے ایک انٹرویو میں عبدالماجد منہاس نے کہا کہ ان کا بیٹا شروع سے ہی ایسے کرئیر میں دلچسپی رکھتا تھا جس کے ذریعے وہ ملک و قوم کی خدمت اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کرسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ راشد منہاس زمانہ طالبعلمی میں جنگوں پر لکھی جانے والی کتابوں کو پڑھنا پسند کرتے تھے اور ان کے اہم اقوال اپنی ڈائری پر نقل کرلیتے تھے۔

راشد منہاس کی ڈائری پر درج اقوال میں سے ایک میں کہا گیا تھا ” ایک شخص کے لیے سب سے بڑا اعزاز اپنے ملک کے لیے قربان کردینا اور قوم کی امیدوں پر پورا اترنا ہے”۔ راشد منہاس کی تعلیم کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے نے راولپنڈی کے میری کیمبرج اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور سنیئر کیمبرج کراچی سے کیا۔ راشد منہاس نے پاک فضائیہ 1968 میں پاک فضائیہ کا حصہ بنے اور پی اے ایف اکیڈمی سے سائنس کے مضمون میں گریجویشن ڈگری اعزاز کے ساتھ حاصل کی۔ عبدالماجد منہاس نے کہا کہ ان کی بڑا بیٹا ٹیکنیکل مزاج رکھتا تھا اوربارہ سال کی عمر میں ڈرائیونگ سیکھ چکا تھا۔ اس کی زاتی لائبریری میں دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ الیکٹرونکس اور علم فلکیات کی کتابیں بھی شامل تھیں۔ اس کے مشاغل میں پڑھنا، فوٹوگرافی، ہاکی اور بلیئرڈ شامل تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ راشد منہاس ابتدائی عمر سے مزاجاً ایک آئیڈیلسٹ تھے جو اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ راشد منہاس اپنے بہنوئی میجر ناصر احمد خان سے بہت زیادہ متاثر تھے جنھیں ستارہ جرات سے نوازا گیا تھا ” میرا بیٹا ہر کام کو مکمل کرنے والا، متعدل مزاج لڑکا تھا اور اسے پیسہ کمانے سے دلچسپی نہیں تھی”۔ عبد الماجد منہاس نے کہا کہ راشد منہاس اپنی پیدائش سے ہی پاک فضائیہ سے جڑا ہوا تھا کیونکہ اس کی پیدائش کراچی کے ڈرگ روڈ پر واقع پی اے ایف ہسپتال میں ہوئی ” میرے بیٹے نے اتنی بڑی قربانی دے کر میرا سر فخر سے بلند کردیا ہے”۔

انہوں نے مزید کہا ” ہمارے پاس ایسے فوجی ہیں جو اپنی زندگیاں قوم پر نچھاور کرنے کے لیے تیار ہیں”۔

جنرل اختر عبدارحمان ایک عہد ساز شخصیت

علی اصغر خان لودھی

 

پاکستانی سائنسدان بھی کسی سے کم نہیں

پاکستان کے 30 نامور سائنسدان اس وقت امریکہ، برطانیہ، جاپان، اٹلی، فرانس اور سوئٹزر لینڈ کے ساتھ ماحولیات، بائیو ڈائیورسٹی ، پلانٹس، اینیمل ، راکس، معدنیات اور فوسلزکے میدان میں تحقیق کررہے ہیں۔ پاکستان میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے ڈپٹی ڈائریکٹرجنرل ڈاکٹر محمد رفیق کے مطابق ہمارے سائنسدانوں نے تحقیق کے دوران مزید کئی نئے پودے اور جانور دریافت کئے ہیں ادارے کے پاس ساڑھے 8 لاکھ نمونے موجود ہیں جہیں عجائب گھر میں نمایاں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس قدر تربیت یافتہ عملہ ہے کہ ہم بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر تحقیق کر رہے ہیں، فنڈز ہمیں ادارے فراہم کرتے ہیں اور عملہ ہمارا ہوتا ہے جس سے پاکستان کوبھی اتنا ہی فائدہ ہوتا ہے جتنا بین الاقوامی اداروں کو ہوتا ہے.5424b0946e0e6

ہمیں اس میں ایک فائدہ یہ مل رہاہے کہ ہمارے پاس دنیا کا بہترین تربیت یافتہ عملہ بن چکا ہے، جس کی بنا پر ہم سے تحقیق کرائی جارہی ہے، ہمارے ادارے میں ہرسال ایم فل اورپی ایچ ڈی کے طلبا وطالبات ڈگریاں حاصل کررہے ہیں۔ ڈاکٹر محمد رفیق کا کہنا تھا کہ ادارہ مزید آگاہی کے لئے باقاعدگی سے سمپوزیم اور ورکشاپس کا انعقاد کر رہا ہے، ادارہ ملک بھر میں قائم میوزیم کو جدید تر بنانے کے لئے کوشاں ہے، ہمارے سائنسدان ہر سال 30 سے 50 تحقیقاتی جریدے شائع کررہے ہیں جو دنیا بھر کے سائنسدانوں کی تحقیق میں معاون ثابت ہوتے ہیں، ہمارے ادارے کے پاس ملک کے کونے کونے میں پائی جانے والی تمام آبی، نباتاتی، حیواناتی، اور پرندوں کی فیملیز کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔