پاکستانی سائنسدان کے لیے جرمن ایوارڈ

جرمن وفاقی وزارت برائے تعلیم و تحقیق کی جانب سے 25 بین الاقوامی نوجوان سائنسدانوں کو ’گرین ٹیلنٹ ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ ان میں پاکستانی سائنسدان کاشف رسول بھی شامل ہیں۔  ستائیس اکتوبر کو برلن میں ہونے والی ایک تقریب میں گرین ٹیلنٹ ایوارڈ 2017 وصول کرنے والے پچیس سائنسدانوں میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کاشف رسول بھی شامل تھے۔ 33 سالہ ڈاکٹر کاشف کی تحقیق پائیدار اور سستے طریقے کے ذریعے پینے کے پانی کو آلودگی سے پاک کرنے کے عمل پر مبنی ہے۔

’گرین ٹیلنٹس- پائیدار ترقی میں اعلی صلاحیتوں کے بین الاقوامی فورم‘ کی تقریب میں 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے 25 نوجوان سائنسدانوں کو اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 9 ویں گرین ٹیلنٹ مقابلے میں مجموعی طور پر 95 سے زیادہ ممالک سے 602 سائنسدانوں کے مابین مقابلہ ہوا۔ ’گرین ٹیلنٹ’ ایوارڈ کے فاتح ممالک کی فہرست میں پہلی مرتبہ مصر، فیجی، عراق، سلواکیہ، سویڈن اور یوگینڈا کے نوجوان سائنس دان بھی شامل ہیں۔

اس مرتبہ جیوری میں شامل اعلیٰ درجے کے تحقیق دانوں نے ’گرین‘ یعنی صاف توانائی پر مبنی تحقیق کرنے والے نوجوان سائنسدانوں کا انتخاب کیا، جو تعلیم و تحقیق کے شعبے میں کام کر کے عالمی ماحولیاتی مسائل کا حل دریافت کرنے کی کوشش میں ہیں۔ پاکستانی نوجوان سائنسدان ڈاکٹر کاشف رسول کی تحقیق سستے اور پائیدار طریقے کے ذریعے پانی کو آلودگی سے پاک کرنے کے عمل پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر کاشف رسول خلیجی ملک قطر کے ماحولیات و توانائی کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں واٹر سائنس اور انجینئرنگ کے شعبہ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے جڑے مسائل میں ایک اہم مسئلہ ’واٹر سکیورٹی‘ کا بھی ہے۔ اس تناظر میں عالمی سطح پر پائیدار واٹر مینیجمنٹ میں تازہ پانی کے زیادہ استعمال کے بجائے صنعتی اور روز مرہ کی زندگی میں استعمال کیے جانے والے پانی کو پینے کے لیے دوبارہ کارآمد بنانے کے عمل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کاشف کی تحقیق کی توجہ کا مرکز بھی قابل تجدید بائیو توانائی کے فروغ کے ساتھ آلودہ پانی سے مضر صحت اجزاء کا خاتمہ ہے۔

جرمن کونسل برائے پائیدار ترقی کے نمائندے فاکول لیخہارٹ نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی سائنسی تعاون کے لیے گرین طلباء پروگرام کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ رواں سال کے ’25 گرین محققین‘ کی سائنسی مہارتوں اور غیر متزلزل حوصلوں سے بہت متاثر ہوئے ہیں، ’’عالمی سطح پر موجود چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ان سائنسدانوں کی تحقیق اہم کردار ادا کرے گی اور مجھے خوشی ہے کہ وہ جرمن تحقیقاتی نظام کا حصہ بن سکیں گے۔‘‘

گرین ٹیلنٹ ایوارڈز حاصل کرنے والے نوجوان سائنسدانوں کو دو ہفتوں کے لیے جرمنی بھی مدعو کیا گیا تاکہ وہ ’سائنس فورم‘ میں شرکت کر سکیں۔ اس دوران انہوں نے جرمنی میں پائیدار تحقیق پر کام کرنے والے ریسرچ سینٹرز کا دورہ بھی کیا۔ سائنس فورم کی ورکشاپس اور دیگر تقاریب کے موضوعات اس سال کے موٹو ’پائیدار پیداوار اور استعمال‘ کے حوالے سے چنے گئے تھے۔ نوجوان محققین نے سائنس فورم کے دوران جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں۔

ان محققین نے معروف ماہرین کے ساتھ خصوصی ملاقاتوں میں خیالات کا تبادلہ بھی کیا۔ یہ سائنس فورم دراصل نوجوان سائنسدانوں کے لیے جرمنی کے جدید نظام سے متعارف ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ممکنہ تعاون کے دیگر مواقع دریافت کرنے کے لیے بھی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ گرین ٹیلنٹ ایوارڈ کے ذریعے ان پچیس سائنسدانوں کی تحقیق کو حتمی مرحلے تک پہنچانے میں تعاون کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سن 2018 میں ان کو اپنی پسند کے جرمن ادارے میں تحقیق جاری رکھنے کی دعوت بھی دی جائے گی۔

Advertisements

مسلم انجینئر نے ’’ذہین ٹی شرٹ‘‘ ایجاد کر لی

کینیڈا کی یونیورسٹی آف لاوال میں پروفیسر یونس مصدق کی سربراہی میں ماہرین نے ایک ایسی ذہین ٹی شرٹ ایجاد کر لی ہے جو نہ صرف اپنے پہننے والے کے سانس لینے کی رفتار پر نظر رکھتی ہے بلکہ اسے متعدد بار دھویا بھی جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد سانس کی رفتار کے ذریعے تنفسی امراض (سانس کی بیماریوں) پر نظر رکھنا اور دمہ، بے خوابی اور سانس کے مختلف امراض کی تشخیص کرنا ہے۔ تحقیقی جریدے ’’سینسرز‘‘ کے تازہ شمارے میں اس منفرد ٹی شرٹ کی شائع شدہ تفصیلات کے مطابق اس میں سینے کے مقام پر ایک ننھا، نرم اور لچک دار قسم کا انٹینا سلا ہوا ہے جو ایک کھوکھلے بصری ریشے (آپٹیکل فائبر) پر مشتمل ہے جس کی اندرونی سطح پر چاندی کی پرت چڑھائی گئی ہے جبکہ بیرونی ماحول سے حفاظت کے لیے اس پر ایک مضبوط لیکن لچک دار پولیمر کی بیرونی پرت موجود ہے۔

یہ سینسر بیک وقت دو کام کرتا ہے: یہ سینے کے پھیلنے اور سکڑنے کی بنیاد پر سانس لینے کی رفتار نوٹ کرتا ہے جبکہ نوٹ کی گئی ان پیمائشوں کو ساتھ ہی ساتھ وائرلیس سگنلوں کی شکل میں نشر بھی کرتا رہتا ہے جو قریب رکھے ہوئے کمپیوٹر یا پھر صارف کے اسمارٹ فون پر وصول کیے جاسکتے ہیں۔ سانس کی رفتار پر مسلسل رکھنے والے دوسرے طریقوں اور ماضی میں بنائی گئی دوسری اسمارٹ ٹی شرٹس کے برخلاف اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ میں ایسا کوئی تار، برقیرہ یا سینسر نہیں جو براہِ راست انسانی جسم کو چھوتا ہو جبکہ یہ اتنی آرام دہ ہے کہ اسے پہننے والے کو کسی خاص انداز میں اٹھنے بیٹھنے کی پابندی کرنا نہیں ہوتی۔ پروفیسر یونس کہتے ہیں، ’’ہمارے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ (ٹی شرٹ) اپنے پہننے والے کی فطری حرکات میں رکاوٹ نہیں ڈالتی اور اسے پہن کر کھڑے ہونے، اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے پھرنے جیسے معمولات بھی اسی طرح انجام دیئے جا سکتے ہیں جیسے کوئی عام سی ٹی شرٹ پہنی ہو۔‘‘

تجربات کے دوارن اس ٹی شرٹ کو 20 سے زائد مرتبہ دھویا گیا لیکن پانی اور واشنگ پاؤڈر سے بہت دیر تک سامنا ہونے کے باوجود بھی اس ٹی شرٹ کو کچھ نہیں ہوا اور یہ پہلے کی طرح کام کرتی رہی۔ اب یہ ماہرین کسی ایسے ادارے کی تلاش میں ہیں جو اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ کو تجارتی پیمانے پر تیار کرکے طبّی استعمال کےلیے فروخت کر سکے۔ پروفیسر یونس مصدق کا تعلق لاوال یونیورسٹی، کیوبیک کی فیکلٹی آف سائنس اینڈ انجینئرنگ کے سینٹر فار آپٹکس، فوٹونکس اینڈ لیزرز سے ہے جبکہ وہ ’’کینیڈا ایکسی لینس ریسرچ چیئر اِن فوٹونک انوویشنز‘‘ کا اعلی اعزاز بھی رکھتے ہیں۔

پاکستان : مصنوعی سیارہ خلاء میں بھیجنے والا پہلا اسلامی ملک

پاکستان نے اپنا پہلا مصنوعی سیارہ بدر اول خلا میں 16 جولائی 1990ء کو چھوڑا۔ اس اعتبار سے پاکستان خلاء میں سیارہ چھوڑنے والا پہلا اسلامی ملک بن گیا۔ یہ سیارہ (بدر اول) مکمل طور پر پاکستانی انجنیئروں اور سائنس دانوں نے تیار کیا ہے اور اس کے تمام نظام ذیلی نظام اور مکمل پرزے تک سپارکو کے انجینئروں نے بنائے ہیں یہ دوست ملک چین کے ژی چن کے خلائی مرکز رائٹ لانگ مارچ ٹوائی لارج وہیکل کے ذریعہ مدار میں بھیجا گیا۔ بدر اول کی شکل دائرہ نما ہے اس کی جسامت ساڑھے تین مکعب فٹ ہے۔ اس کے 26 رخ ہیں وزن پچاس کلوگرام ہے اس کا جدید الیکٹرانک نظام زمینی مرکز سے معلومات حاصل کرنے‘ ذخیرہ کرنے اور پھر آگے فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

شمسی توانائی سے چلنے والا یہ مصنوعی سیارہ دو فٹ سے ایک ہزار کلومیٹر کی بلندی سے ہر 98 منٹ میں زمین کا چکر لگاتا رہا۔ یہ چوبیس گھنٹوں میں چھ مرتبہ پاکستانی افق سے بھی گزرتا رہا جبکہ یہ دنیا کے گرد اسی مدت کے دوان پندرہ چکر لگاتا ہے اس پر 35 ملین روپے لاگت آئی۔ کراچی اور لاہور میں دو زمینی مراکز بھی قائم کئے گئے جو اسے سگنل دینے کے لیے مخصوص کئے گئے۔ ان میں پہلا سگنل ڈیجیٹل کمیونی کیشن کا تجربہ تھا جس میں کراچی مرکز سے سگنل دیا گیا اور جسے مصنوعی سیارے نے سٹور کر کے لاہور مرکز کو فراہم کیا اس کا دوسرا تجربہ رئیل ٹائم کمیونی کیشن کا تھا۔ جس میں لاہور اور کراچی کے مرکز کے درمیان سیارے کی معرفت رابطہ قائم کیا گیا۔

ژی چنگ جہاں سے پاکستان نے اپنا پہلا مصنوعی سیارہ بدر اول چھوڑا بیجنگ سے دو ہزار میل کے فاصلے پر جنوب کی جانب واقع ہے۔ سپارکو کے چیئرمین ڈاکٹر شفیع احمد نے 19 جولائی 1990ء کو بتایا کہ اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بدر دوم بنانے کی اجازت دے دی۔ بدر اول کی تیاری کے منصوبے میں تیس سائنس دانوں نے کام کیا۔ اسے چھوڑنے کا مقصد مستقبل میں مواصلاتی سیارے چھوڑنے کے لیے درکار معلومات اور تجربہ حاصل کرنا تھا۔

اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بدر اول کے کامیابی سے چھوڑے جانے پر اپنے پیغامات میں کہا کہ : پاکستان کے پہلے مواصلاتی سیارے کو زمین کے مدار میں پہنچانے کے نتیجے میں پاکستان بالائی خلا کو پرامن مقاصد کیلئے استعمال کرے گا۔ اپنے پیغام میں کہا کہ یہ بات پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے کہ پاکستان ایک مواصلاتی سیارہ مقامی طور پر ڈیزائن کرنے اور تیار کرنے کا اہل ہو گیا ہے اس تاریخی کامیابی سے اپنے سائنس دانوں اور انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کی اہلیت کے بارے میں ہماری توقعات میں بلاشبہ اضافہ ہوا ہے۔

زاہد حسین انجم

(انسائیکلوپیڈیا ،پاکستان میں اوّل اوّل سے انتخاب)