فیثا غورث کی فکر

فیثاغورث (570 ق م – 495 ق م) ایک یونانی فلسفی ، مذہبی رہبر اور ریاضی دان تھا۔ وہ ساموس یونانی جزیرے سے جمیا مصر تک گیا۔ اور 530 قبل مسیح میں اطالیہ کی طرف کروٹون کی یونانی نگری میں آ کے بس گیا۔ ادھر اس کے ساتھ اس کے پیروکار رہتے تھے۔ اسے اپنے خیالات کی وجہ سے اسے کروٹون چھوڑنا پڑا۔ریاضی میں اس کی شہرت مسئلہ فیثاغورث کی وجہ سے ہے۔ اس نے ابتدا میں آیونیائی فلسفیوں تھیلس، اناکسی ماندر اور اناکسی مینیز کی تعلیمات کا مطالعہ کیا۔

کہا جاتا ہے کہ اسے پولی کریٹس کے استبدادیت سے تنفر کا اظہار کرنے کے باعث ساموس سے نکلنا پڑا۔ تقریباً 530 قبل مسیح میں وہ جنوبی اٹلی میں ایک یونانی کالونی کروٹون میں رہنے لگا اور وہاں مذہبی، سیاسی اور فلسفیانہ مقاصد رکھنے والی ایک تحریک کی بنیاد ڈالی جسے ہم فیثا غورث ازم کے نام سے جانتے ہیں۔ فیثا غورث کے فلسفہ کے متعلق ہمیں صرف اس کے شاگردوں کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے۔ فیثاغورث ازم کا مکتب تحریک کی صورت میں مختلف فلسفیوں کے ہاں فروغ پاتا رہا۔ لہٰذا اس میں بالکل مختلف فلسفیانہ نظریات شامل ہو گئے۔

وسیع تر مفہوم میں بات کی جائے تو ابتدائی فیثا غورث پسندوں کی تحریروں میں دو مرکزی نکات ملتے ہیں : تناسخ ارواح کے متعلق ان کے نظریات، اور ریاضیاتی مطالعات میں ان کی دلچسپی، ہیراکلیتوس لکھتا ہے : ’’فیثا غورث نے کسی بھی اور انسان سے زیادہ گہرائی میں جا کر تحقیق کی۔‘‘ اس کی تعلیمات کے متعلق اس کی زندگی سے بھی کم تفصیلات میسر ہیں۔ ہیگل نے کہا کہ وہ ایک شاندار شخصیت کا مالک اور کچھ معجزاتی قوتوں کا حامل تھا۔ فیثا غورثی سلسلہ اصلاً ایک روحانی اطمینان کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا۔ اس کا مقصد پاکیزگی کے حصول کے لیے طریقہ کار وضع کرنا تھا۔

فیثا غورث نے تناسح کے ایک عقیدے کی تعلیم دی: یہ انسانوں اور جانوروں کو زمین کے بچے ہونے کے ناتے ایک جیسا خیال کرنے کے قدیم اعتقاد کی ترقی یافتہ صورت تھی۔ اس کی بنیاد مخصوص اقسام کی خوراک کھانا ممنوع قرار دینے پر تھی۔ یعنی جانوروں کے گوشت سے پرہیز۔ فیثا غورث پسند دیوتاؤں کو بھینٹ کیا ہوا گوشت کھایا کرتے تھے۔ ارسطو کہتا ہے کہ فیثا غورث نیکی پر بحث کرنے والا پہلا شخص تھا، اور اس نے اس کی مختلف صورتوں کو اعداد کے ساتھ شناخت کرنے کی غلطی کی۔ ہیرا کلیتوس نے تسلیم کیا کہ سائنسی کھوج میں کوئی بھی شخص فیثا غورث کا ہم پلہ نہیں تھا۔

فیثا غورث کے مطابق سب سے بڑی پاکیزگی بے غرض سائنس ہے، اسے مقصد بنانے والا شخص حقیقی فلسفی ہے ۔ فیثا غورث پہلا شخص تھا جس نے ریاضی کو تجارت کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا اور اسے ایک قابل تحقیق علم کی صورت دی۔ اس نے اطاعت اور مراقبہ، کھانے میں پرہیز، سادہ لباس اور تجزیہ ذات کی عادت پر زور دیا۔ فیثا غورث پسند لافانیت اور تناسخ ارواح پر یقین رکھتے تھے۔ خود فیثا غورث نے بھی دعویٰ کیا کہ وہ کسی سابقہ جنم میں جنگ ٹروجن کا جنگجو یوفوربس تھا اور اسے اجازت دی گئی کہ اپنے تمام سابقہ جنموں کا حافظہ اس زمینی زندگی میں ساتھ لائے۔

فیثا غورث پسندوں کی وسیع ریاضیاتی تحقیقات میں طاق اور جفت اعداد پر مطالعہ بھی شامل تھا۔ اُس نے عدد کا تصور قائم کیا جو ان کی نظر میں تمام کائناتی تناسب، نظم و ضبط اور ہم آہنگی کا مطلق اصول ہے۔ اس طریقہ سے اس نے ریاضی کے لیے ایک سائنسی بنیاد قائم کی اور اسے رواج بھی دیا۔ فلکیات کے معاملے میں فیثا غورث پسندوں نے قدیم سائنسی فکر کو کافی ترقی دی۔ سب سے پہلے اُس نے ہی کرہ ارض کو ایک ایسا کرہ تصور کیا جو دیگر سیاروں کے ہمراہ ایک مرکزی آگ کے گرد محو گردش تھا۔ انہوں نے کائنات کو ایک ہم آہنگ نظام کے تحت حرکت پذیر سمجھا۔ ان کے بعد کائنات کا آہنگ اور نظام تلاش کرنے اور سمجھنے کی کوششیں ہی فلسفہ اور سائنس کا مرکزی مقصد بن گئیں۔

عبدالرحمن ٰ

Advertisements

گلیلیو کی کہانی

ایک نوجوان طالب علم اٹلی کے مقام پیسا کے ایک گرجا میں کھڑا چھت سے لٹکے ہوئے ایک لیمپ پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ ہوا چل رہی تھی۔ لیمپ ہوا سے جھول رہا تھا، کبھی کم کبھی زیادہ۔ ہزاروں آدمیوں نے اس سے پہلے لیمپ کو اسی طرح جھولتے دیکھا ہو گا، لیکن کسی نے اس سائنسی اصول کی طرف توجہ نہیں دی تھی جو سادہ مثال کی حرکت میں چھپا تھا۔ جو لوگ دنیا میں عزت و شہرت حاصل کرتے ہیں ان کی زندگی شروع ہی سے عام لوگوں سے کچھ مختلف ہوتی ہے۔ ان کی طبیعت میں کھوج اور تجسس کا مادہ شروع سے موجود ہوتا ہے۔ اس ہونہار طالب علم کا نام گلیلیو تھا۔

اس زمانے میں گھڑیاں تو تھیں نہیں اور یہ طالب علم اس جھولتے ہوئے لیمپ کا وقفہ معلوم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے گھڑی کا کام اپنی نبض سے لیا اور یہ معلوم کیا کہ لیمپ خواہ زیادہ جھول رہا ہو یا کم اس کی ایک حرکت میں یکساں وقت لگتا ہے۔ وجہ ظاہر ہے جسم جب زیادہ فاصلہ طے کرتا ہے تو اس کی رفتار بھی زیادہ ہوتی ہے اور جب وہ کم فاصلہ طے کرتا ہے تو اس کی رفتار بھی کم ہوتی ہے۔ پس ایک حرکت کا وقفہ برابر ہی رہتا ہے۔ یہ تجربہ اور اس کا اصول بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن آج ہماری زندگی میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اب بھی پینڈولم والے کلاک کہیں کہیں نظر آ جاتے ہیں۔ پینڈولم کا فائدہ یہ ہے کہ کلاک اس کی مدد سے وقت صحیح دیتے ہیں۔

گلیلیو جس وقت ان باتوں پر غور کر رہا تھا، اس وقت اس کی عمر صرف سترہ برس تھی۔ اس کا دریافت کیا ہوا اصول آج بھی موجود ہے اور ہمارے کام آتا ہے۔ گلیلیو اٹلی کے شہر پیسا میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک قابل ریاضی دان تھا۔ وہ اپنے بیٹے کو تاجر بنانا چاہتا تھا۔ لیکن گلیلیو کو کاروبار سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ علم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ لہٰذا اسے پیسا کی یونیورسٹی میں داخل کرا دیا گیا۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی اس نے ان اصولوں کی مخالفت شروع کر دی جو ایک ہزار سال سے مشہور چلے آ رہے تھے اور جنہیں قدیم یونانی فلسفیوں نے وضع کیا تھا۔

جلد ہی اس نے ریاضی میں اتنا نام پیدا کیا کہ اسے اسی یونیورسٹی میں پروفیسر کا عہدہ مل گیا۔ بات دراصل یہ تھی کہ اس زمانے کے تمام سائنس دان قدیم یونانی فلسفی ارسطو کو اپنا استاد مانتے تھے۔ ارسطو نے ایک اصول وضع کیا تھا کہ اگر سو پونڈ اور ایک پونڈ کے دو وزنی جسم ایک ساتھ ایک ہی اونچائی سے نیچے گرائے جائے تو سو پونڈ والا جسم ایک پونڈ والے جسم کے مقابلے میں سو گنا زیادہ تیزی سے زمین پر گرے گا۔ گلیلیو نے یہ قانون غلط ثابت کر دکھایا اور لوگوں کو بتایا کہ ایک ہی شکل اور حجم کے دو جسم بلندی سے ایک ساتھ گریں گے خواہ ان کا وزن کچھ بھی ہو۔ 1602ء میں گلیلیو نے ایک تھرمامیٹر ایجاد کیا لیکن اس کی زیادہ شہرت اس دوربین کی وجہ سے ہوئی جو دن رات کی محنت سے تیار کی اور جو بائیس میل دور تک کی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر دکھا سکتی تھی۔

کچھ اور تحقیق اور تجربے کے بعد گلیلیو نے ایک ایسی دوربین بنائی جو اجرام فلکی کے مشاہدے کے کام آ سکتی تھی۔ اس نے اس کا رخ چاند کی طرف پھیرا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ چاند پر ہماری زمین کی طرح پہاڑ اور ریگستان موجود ہیں۔ قدیم ہیئت دان ان کو سمندر سمجھتے تھے۔ یہ تو زمین آسمان کا فرق نکل آیا۔ گلیلیو نے معلوم کیا کہ کہکشائیں بہت سے ستاروں کا مجموعہ ہیں۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے نتائج کی پروا کیے بغیر قدیم خیالات کی مخالفت کی کیونکہ وہ ان کو غلط سمجھتا تھا۔ اس وقت لوگوں کو یہ بتایا جاتا تھا کائنات کا مرکز زمین ہے اور سورج ہماری زمین کے گرد گھومتا ہے۔

گلیلیو نے کہا زمین تو صرف ایک سیارہ ہے وہ دوسرے سیاروں کی طرح سورج کے گرد گھومتی ہے۔ لوگوں نے یہ بات سنی تو ان کے غصے کی حد نہ رہی۔ وہ سمجھے کہ گلیلیو ان کے قدیم مذہبی اعتقادات سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے گلیلیو کو مذہبی رہنماؤں کا دشمن بنا دیا۔ گلیلیو خود روم گیا اور بات صاف کی۔ 1611ء میں گلیلیو نے روم میں یہ اعلان کر ڈالا کہ سورج کی سطح پر سیاہ داغ ہیں۔ اب اس کے دشمنوں کو نیا بہانہ مل گیا۔ مذہبی عدالت نے گلیلیو کو تنبیہ کر دی۔ بے چارہ چند روز خاموش رہا۔ اب وہ بوڑھا ہو گیا تھا اور بیمار بھی رہنے لگا تھا۔ لیکن اس کی ایجادات کا سلسلہ جاری رہا۔ اس نے خوردبین بھی ایجاد کی جو بعد میں طبی سائنس کی ترقی کا سبب بن گئی۔

گلیلیو نے 1634ء میں ایک کتاب شائع کی تو سارا ملک اس کے خلاف ہو گیا اور روم کی مذہبی عدالت میں اس پر مقدمہ چلایا گیا۔ یہ اس کی ضعیفی کا وقت تھا اور کوئی اس کا حامی نہیں تھا۔ اس کی زبان بند کی گئی لیکن وہ سچائی کی راہ پر جما رہا۔ اس نے ستاروں کے علم کا مزید مطالعہ کیا اور اپنے دوستوں کو بتایا کہ نظام شمسی کا مرکز آفتاب ہے۔ 1642ء کو گلیلیو نے اسی سال کی عمر میں انتقال کیا۔ اس کے دشمن اب بھی باز نہ آئے۔ انہوں نے پوپ کو ابھارا کہ اس کا جنازہ شان و شوکت سے نہ اٹھنے پائے اور نہ اس کا مقبرہ سنگ مر مر کا بننے پائے۔ نہ گلیلیو رہا اور نہ اس کے دشمن لیکن آنے والے وقت نے ثابت کر دیا کہ جو کچھ اس قابل اور دلیر سائنس دان نے کہا تھا وہ صحیح تھا۔

علی ناصر زیدی

پاکستان کے عظیم ایٹمی سائنسدان , ڈاکٹر اشفاق احمد

پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر اشفاق احمد کا نام اس وقت ملک بھر میں مشہور ہو گیا جب پاکستان نے 28 مئی 1998 ء کو ایٹمی دھماکے کئے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد اس وقت پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین تھے اور ان ہی کی سرپرستی میں دھماکے کئے گئے۔ ان ہی کی سرپرستی میں پاکستان کے ایٹمی بجلی، دفاع، زرعی پیداوار کے فروغ، کینسر کے علاج، ایٹمی توانائی ہسپتالوں و اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ڈاکٹر اشفاق احمد 1930 ء میں گورداسپور میں پیدا ہوئے، جالندھر سے ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ قیام پاکستان کے بعد فیصل آباد آ گئے پھر مزید تعلیم کے لئے لاہور آ نا پڑا۔ 1949ء پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فزکس میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ 1951 ء میں گورنمنٹ کالج سے ایم ایس سی کیا اور پھر 1952 ء میں اسی ادارے میں ہی بطور استاد طلبہ کی علمی پیاس بجھانے لگے۔

سائنس کے میدان میں مزید تعلیم کا شوق آپ کو کینیڈا لے گیا جہاں مانٹریال یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ آپ نے ڈنمارک اور فرانس کی ریسرچ لیبارٹریوں میں خدمات سرانجام دیں۔ آپ نے وہاں رہ کر سوچا کہ ان کے علم کی پاکستان کو ضرورت ہے ، اس لئے وطن لوٹ آئے اور 1960 ء میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے وابستہ ہو گئے۔ جب انڈیا نے پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکہ کیا تو آپ بے چین ہو گئے اور دن رات کی محنت سے اٹامک انرجی کمیشن کے کام میں جت گئے۔ جس طرح ڈاکٹر قدیر نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا اس طرح ڈاکٹر اشفاق احمد کا کردار بھی کسی طرح فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ آپ نے مختلف عہدوں پر 31 سال تک خدمات سرانجام دیں۔ 1991ء میں اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین بنے۔

آپ نے تحقیقاتی پرچوں کا بھی اجرا کیا۔ آپ عالمی نیوکلیائی توانائی باڈی کے ممبر بھی تھے۔ پاکستان کے فوجی و سول ایٹمی پروگرام کو نئی بلندیوں تک پہنچانے والے ڈاکٹر اشفاق احمد بلا شبہ ہمارے قومی ہیروتھے ۔ پاکستان کو جو قابل اعتماد جوہری صلاحیت حاصل ہے وہ مرحوم ڈاکٹر اشفاق احمد کی رہنمائی میں ملکی ایٹمی سائنسدانوں، انجینئرز، ٹیکنیشنز نے حاصل کی۔ پاکستان کا دفاع نا قابل تسخیر ہے اور پاکستان نے جوہری میدان میں دنیا میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ 1991 سے 2001 تک چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن رہے۔

بطور چیئرمین آپ نے بین الاقوامی ادارے سی ای آر این کے ساتھ روابط کو استوار کیا۔ 1988 سے 1991 تک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سینئر ممبر رہے۔ 1976 سے 1988 تک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔ 1971 سے 1975 تک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیو کلیئر سائنسزاینڈ ٹیکنالوجی پنزٹیک کے ڈائریکٹر اور اٹامک انرجی سنٹر لاہور کے 1969 سے 1971 تک انچارج رہے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد پاکستان کے ایٹمی پاور پروگراموں ، زراعت اور صحت کے شعبے میں ایٹمی توانائی کے استعمال اور پاکستان کے متعدد کینسر سنٹروں میں ڈائریکٹر رہے۔

پاکستان کے سویلین نیو کلیئر پاور پلانٹ چشمہ کے قیام میں ان کا کلیدی رول رہا اور پاکستان نیو کلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور نیشنل سنٹر فار سوکس کے سربراہ کی حیثیت سے قوم کی خدمت کرتے رہے۔ ان کی کوششوں سے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک ریسرچ ادارہ بھی قائم کیا گیا۔ آپ وزیر اعظم کے مشیر سٹریٹجک اینڈ سائنٹفک پروگرام بھی رہے ۔ انڈیا نے جب ایٹمی دھماکے کئے تو ڈاکٹر اشفاق احمد اس وقت کینیڈا میں تھے ۔ آپ اپنا دورہ مختصر کر کے فوراً پاکستان پہنچے اور اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملے۔ مختلف میٹنگز کے بعد آپ نے وزیر اعظم کو اعتماد دلایا کہ پاکستان دھماکے کرنے کی پوزیشن میں ہے اور ذاتی طور پر دھماکے کرنے کی تیاریوں میں جت گئے۔

آپ کی اور عملے کی تگ و دو کے بعد چاغی کے مقام پر پاکستان دھماکے کرنے میں کامیاب ہوا ۔ اس طرح پاکستان نے دشمن کو خبردار کیا کہ وہ قوم کو کمزور نہ سمجھے، ہم بھی ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ 2005 ء میں آزاد کشمیر میں زلزلہ آیا تو حکومت پاکستان نے زلزلے کے حوالے سے ڈاکٹر اشفاق احمد کی تکنیکی ہدایات کی روشنی میں اسلام آباد میں ایک ادارہ بنایا جس سے زلزلے کے حوالے سے اقدامات کرنے میں کافی مدد ملی۔ ڈاکٹر اشفاق احمد نے کچھ کتابیں بھی لکھیں جن میں ’’واٹر اینڈ نیو ٹیکنالوجیز‘‘ کافی اہم ہے۔ آپ نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھی کافی ریسرچ ورک کیا۔ پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے 10 سال تک چیئرمین رہنے والے ڈاکٹر اشفاق احمد نمونیے کے مرض میں مبتلا ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد پی اے ای سی ہسپتال میں چند ہفتوں سے زیر علاج تھے ۔ ڈاکٹروں کی انتھک کوشش کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکے اور 18 جنوری 2018ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی عمر 87 سال تھی۔ ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف پر انہیں نشان امتیاز ، ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ۔

طیب رضا عابدی

چارلس ڈارون کی جستجو

آپ کو ایک ایسے سائنس دان کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں جس نے زمین پر زندگی کے متعلق جستجو کی اور جانداروں کے ارتقا کو جاننے کی کوشش کی۔ اٹھارویں صدی کے آخری نصف دور میں لچ فیلڈ نامی ایک مقام پر ایک ڈاکٹر رہتا تھا جس کا نام اراسمس ڈارون تھا۔ اس کی قابلیت کی وجہ سے اس کی شہرت اتنی زیادہ تھی کہ انگلستان کے بادشاہ جارج سوم نے اسے لندن آنے کی دعوت دی تھی، لیکن اراسمس ڈارون لچ فیلڈ ہی میں خوش تھا جہاں اس نے ایک باغ لگا رکھا تھا۔ ڈاکٹری کے علاوہ اسے قدرتی مناظر، شاعری اور فلسفے سے بھی لگاؤ تھا۔ اس زمانے کے تمام سائنس دان اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ دنیا کا ہر جان دار شروع سے اسی حالت میں تھا جس میں وہ اب موجود ہے۔

لیکن اراسمس ڈارون کو اس خیال سے اختلاف تھا۔ وہ نظریہ ارتقا یا اس خیال کا قائل تھا کہ زندگی ننھے جانداروں سے شروع ہوئی اور جیسے جیسے وقت گزرتا گیا چڑیاں اور بڑے جان دار اسی مخلوق سے بنتے گئے۔ حتیٰ کہ زمین پر انسا ن نمودار ہوا۔ 1802ء میں اراسمس ڈارون کا انتقال ہو گیا اور اس کا تیسرا بیٹا رابرٹ ڈارون ڈاکٹر بنا۔ اس نے شروس بری میں کام کرنا شروع کیا اور وہیں 12 فروری 1809ء کو اس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام چارلس ڈارون رکھا گیا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے بظاہر زندگی کے معمے حل کیے اور دنیا کے سامنے نظریہ ارتقا پیش کیا۔ چارلس چھ بہن بھائیوں میں پانچواں تھا اور وہ ابھی آٹھ سال ہی کا تھا کہ اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔

اس کے باپ اور بڑی بہنوں نے اس کی پرورش کی۔ 1818ء میں شروس بری کے سکول میں اس کی تعلیم شروع ہوئی جو پرانی قسم کی تھی۔ چارلس کو بچپن سے ہی کیمیا کے تجربوں کا شوق تھا جو وہ اپنے گھر پر ایک چھوٹی سی تجربہ گاہ میں کرتا رہتا تھا۔ اس کے علاوہ اسے پودوں اور معدنیات اور دوسری قدرتی چیزوں سے بڑا لگاؤ تھا۔ جہاں کہیں کوئی ایسی چیز نظر آتی تھی وہ فوراً اسے اٹھا لیتا تھا۔ اور گھر لا کر اپنے ’’خزانے‘‘ میں جمع کر لیتا تھا۔ چارلس ڈارون کے خاندان کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بزرگوں کا پیشہ اختیار کرے اور ڈاکٹر بن جائے، لہٰذا اسے 1825ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے ایڈنبرا یونیورسٹی میں داخل کر دیا گیا۔ لیکن ڈاکٹری پڑھنے میں اس کا جی نہیں لگتا تھا۔

اسے انسان کے جسم کے علم اور دواؤں وغیرہ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ آپریشن کے کمرے سے اسے وحشت تھی۔ ایک دوست کے مشورے سے وہ 1828ء میں کیمبرج کے ایک کالج میں داخل ہو گیا۔ اور وہاں فرصت کا وقت قدرتی مناظر دیکھنے، نباتات جمع کرنے اور سیر و تفریح میں گزارنے لگا۔ اسے طرح طرح کے بھنورے جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ کیمبرج کے دوران قیام میں چارلس ڈارون کو حیوانات اور نباتات کی معلومات حاصل کرنے کا شوق ہوا۔ یہی زمانہ اس کے فطرت پسند ہونے کی ابتدا تھی۔ یہاں نباتات کے ایک استاد پروفیسر ہین سِلوسے اس کی ملاقات ہوئی اور بے تکلفی بڑھی۔

چارلس ڈارون کی بڑی خواہش تھی کہ اسے دنیا میں گھومنے پھرنے اور نباتات و حیوانات کو دیکھنے کا موقع ملے۔ اتفاق سے پرفیسر ہین سلو کے ذریعے اسے جلد ہی یہ موقع مل گیا۔ ایک بحری جہاز دنیا کے دورے پر جا رہا تھا۔ وہاں ایک ماہر نباتات کی ضرورت تھی جو ساتھ چلے۔ اس مقصد کے لیے چارلس ڈارون کا انتخاب ہو گیا۔ دسمبر 1831ء کو یہ جہاز کیپٹن فٹز کی سرکردگی میں انگلستان سے جنوب کی طرف روانہ ہوا۔ یہ سفر پانچ سال جاری رہا۔ اس دوران میں ڈارون کو جنوبی امریکا کا ساحل دیکھنے کے علاوہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، تسمانیہ، جزائز مالدیپ، سینٹ ہلینا اور کتنے ہی دوسرے جزیروں اور ملکوں کی سیر کرنے کا موقع ملا اور جب وہ وطن واپس آیا تو اس کے پاس پودوں اور جانوروں کے نہایت نادر نمونے موجود تھے جو اس نے اس سفر میں جمع کیے تھے۔

اس کے علاوہ ڈارون نے زمین کے متعلق بھی بہت سی نئی معلومات حاصل کیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی سفر سے اسے نظریہ ارتقا کا خیال آیا کیوں کہ وہ سمجھ گیا تھا کہ تمام مخلوق جینے کے لیے ایک دوسرے پر منحصر ہے۔ سفرسے واپسی پر اس نے تمام حال لکھنا شروع کیا۔ 1859ء میں اس نے ایک ایسی کتاب شائع کی جس نے اس کے نام کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ اس کا نام اصل الانواع (اوریجن آف سپیشیز) ہے۔ اس کتاب کی بارہ سو جلدیں پہلے ہی دن فروخت ہو گئیں۔ 19 اپریل 1882ء کو اس عظیم سائنس دان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے نظریات سے اختلاف ہو سکتا ہے ،لیکن اس نے جو شمع اپنی محنت اور جستجو سے روشن کی تھی وہ ابھی تک جل رہی ہے۔

محمد ریاض

مریخ پر پانی

ہم کچھ عرصے سے جانتے ہیں کہ مریخ کی سطح کے نیچے پانی کی برف کے بنے بڑے ذخیرے موجود ہیں۔ تاہم ہم ان کی خصوصیات کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ مریخ پر کھدائی کی ٹیکنالوجی فی الحال اس نہج پر نہیں پہنچی کہ وہ نیچے اس برف تک پہنچ سکے۔ وہاں اتارے جانے والے آلات چند سینٹی میٹر تک ہی کھدائی کر سکتے ہیں، دوسری جانب ریڈار کی مدد سے مریخ کی سطح کے اندر دسیوں میٹر نیچے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہمیں مریخ کی سطح پر پانی کوتلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اب ایک جیالوجسٹ کولن ڈونڈاس کی رہنمائی میں ایک ٹیم نے یہی کام کیا۔

انہوں نے ایک خصوصی کیمرے کی مدد سے ایسے آٹھ مقامات کی نشان دہی کی ہے جہاں بیرونی سطح پر پڑنے والی دراڑوں سے نیچے پانی کی برف ظاہر ہو گئی ہے۔ وہاں اب مزید کھوج کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مقامات گڑھوں کی مانند ہیں۔ ڈونڈاس اور ان کی ٹیم کے مطابق اب تک کی تحقیق کے مطابق برف سخت اور تہہ دار ہے جس سے خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ مختلف ادوار میں بنی ہیں۔ اس کے نتیجے میں کہا جاسکتا ہے کہ ان تہوں پر مزید تحقیق سے یہ بھی پتا چلے گا کہ مریخ پر موسم مختلف ادوار میں کیسے بدلتا رہا۔ برف کی صورت میں پانی کی موجودگی کا مطلب ہے کہ مستقبل میں کئی نئے منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔ ان سے اس سرخ سیارے پر مستقبل کے انسانی سفر کے لیے وسائل مہیا ہو سکتے ہیں۔

انسان کے مریخ پر جانے کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان تمام اشیا کو ساتھ لے کر جانا ہے جو وہاں رہنے کے لیے ضروری ہیں۔ اگر ہمیں مریخ میں ہی پانی مل جائے تو زمین سے جاتے ہوئے زیادہ سامان ساتھ لے کر جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ نظر آنے والی پانی کی برف خالص ہے ۔ بدقسمتی سے یہ آٹھوں مقامات وہاں ہیں جہاں انتہائی کم درجہ حرارت ہوتا ہے۔ کسی انسان کا وہاں تک جانا بہت مشکل ہے۔ اب مریخ کے ان علاقوں میں برف تلاش کی جارہی ہے جہاں انسان کچھ وقت کے لیے رہ سکتے ہیں۔

ترجمہ: رضوان عطا

ریڈیم کی دریافت

پولینڈ میں پیری کیوری 1859-1906 اور اس کی بیوی مادام میری کیوری کی تجربہ گاہ سازو سامان کے اعتبار سے بہت معمولی حیثیت رکھتی تھی، تاہم اس میں تجربے کرتے کرتے انہوں نے 1898ء میں ریڈیم دریافت کیا۔ دونوں میاں بیوی یورینیم کی تابکاری کے متعلق تحقیقات میں لگے ہوئے تھے۔ انہیں اچانک محسوس ہوا کہ ان کے برق نما میں روشنی کی ایسی لہریں پیدا ہو رہی ہیں جن کا کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا۔ خوب غور اور چھان بین کے بعد ان پر آشکار ہوا کہ خام یورینیم کی تابکاری یورینیم کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ وہ تحلیل و تجزیے میں لگے رہے اور آہستہ آہستہ تابکار اجزا کو الگ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آخر انہیں دو نئے عنصر نہایت قلیل مقدار میں مل گئے۔ ایک کا نام انہوں نے ریڈیم رکھا اور دوسرے کو بیریم۔ ان دونوں کی تابکاری بہت اعلیٰ پیمانے پر پہنچی ہوئی تھی۔ 1901ء میں مادام کیوری نے محنت و مشقت سے خالص ریڈیم کو الگ کر لیا۔

ارسطو کی داستان

سائنس کا جنم کہاں ہوا، کب ہوا اور کس نے کیا ؟ پہیہ سائنس کی سب سے بڑی ایجاد سمجھی جاتی ہے لیکن اس کا موجد کون تھا ؟ سب سے پہلے آگ کس نے جلائی تھی؟ ہندسے کس نے بنائے؟ صفر، جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم کی دریافت کس نے کی؟ تاریخ دان کا جنم سائنس دان کے بعد ہوا۔ زبان بھی سائنس کے بعد پیدا ہوئی لیکن سائنس کے بہترین دماغوں اور انسانیت کے بہترین محسنوں سے واقفیت عام نہیں۔ دراصل دنیا میں کئی مقامات پر ارسطو اور ارشمیدس جیسے لوگ پیدا ہوئے۔ مگر جس مغربی سائنس کا آج ہم مطالعہ کرتے ہیں، اس کا براہِ راست رشتہ صرف یونان کے ارسطو سے ہی ملتا ہے۔

سائنس کا وجود ارسطو سے پہلے بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا۔ مگر اسے تواہم پرستی سے الگ ایک باقاعدہ علم کا درجہ حاصل نہ تھا۔ افلاطون کے شاگرد اور سکندراعظم کے استاد کے طور پر ارسطو اپنی زندگی میں ہی ممتاز ترین عالم شمار ہوتا تھا۔ اس کی پیدائش 384 ق م میں مقدونیہ کے ایک شہر میں ہوئی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں اس نے ایتھنز میں افلاطون کی شاگردی قبول کی۔ یونانی فلاسفر شاگرد کی ذہانت سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اسے ذہانت کا مجسمہ قرار دیا۔ نوجوان طالب علم نے اپنی ساری آبائی دولت اپنے وقت کا سب سے بڑا کتب خانہ بنانے پر خرچ کر دی۔ اس کتب خانے کی سب کتابیں ہاتھ سے لکھی ہوئی تھیں کیونکہ اس وقت تک چھاپہ خانہ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ ارسطو کو اپنی زندگی شروع کرنے میں کوئی مشکل نہ آئی۔

پڑھائی ختم کرتے ہی اس کے پاس کئی شہزادے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے لگے۔ ان میں ایک شاگرد ہرمیاس نے تخت نشینی کے بعد اپنے استاد کو اپنے دربار میں شامل ہونے کی دعوت دی اور عقیدت کے طور پر اس سے اپنی بہن کی شادی کر دی۔ ارسطو کی شہرت، تھوڑی ہی مدت میں اتنی پھیل گئی کہ اس زمانہ کا سب سے بڑا بادشاہ فلپ جب 344 ق م میں اپنے بیٹے اور مستقبل کے سب سے بڑے فاتح سکندر کے لیے دنیا کے سب سے بڑے معلم کی تلاش میں تھا تو اس کی نگاہ انتخاب ارسطو پر ہی پڑی۔ ادھر سکندراعظم نے اپنی فتوحات کے ذریعے چھوٹی چھوٹی مملکتوں کو ایک سیاسی نظام میں پرونا شروع کیا۔ ادھر فلاسفر ارسطو نے ذہنی میدان میں اپنی فتوحات کا سلسلہ شروع کیا اور سارے علوم کو فلسفہ کی ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کی۔ مگر جہاں فوجی حاکم کی سلطنت کو منتشر ہونے میں زیادہ عرصہ نہ لگا، وہاں انسانی ذہنوں پر خاص کر یورپ میں فلاسفرز کا لگ بھگ مکمل تسلط کم از کم پندرہ صدیوں تک جاری رہا۔

ارسطو کی تعلیمات کا اثر پندرہویں صدی میں ایک نئے ذہنی انقلاب کی صورت میں ایک بار پھر نمودار ہوا جب قسطنطنیہ پر قبضہ کی وجہ سے عالمِ ارسطو کی تحریروں سمیت یورپ بھاگنے پرمجبور ہوئے۔ ان کے مطالعہ سے یورپ میں جو نئی تحریک جاری ہوئی اسے احیائے علوم کا نام دیا گیا۔ جس کا براہ راست نتیجہ موجودہ سائنس اور ادب ہیں۔ یقیناً کسی ایک دماغ نے انسانی ذہنوں پر اتنے لمبے عرصہ کے لیے کبھی حکومت نہیں کی۔ ارسطو نے 53 سال کی عمر میں اپنا سکول شروع کیا جس کے قواعد طلبا خود بناتے تھے۔ ہر دس دن کے بعد وہ اپنے نگران کا چناؤ کرتے تھے۔ اس سکول میں سائنس کے دیگر مضامین کے علاوہ نباتات اور حیوانیات کے مطالعہ کے خاص انتظامات تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایشیا اور یونان میں تقریباً ایک ہزار آدمی نباتات اور حیوانات کے نمونے جمع کرنے پر مامور تھے۔ ارسطو کے کہنے پر ہی سکندر نے دریائے نیل کے سیلابوں کی وجوہ کی کھوج کرنے کے لیے ایک مہم بھیجی تھی۔ سائنسی تحقیق کے لیے اس سے پہلے اس پیمانے پر انسانی اور مادی ذرائع کا کبھی استعمال نہیں ہوا۔

ارسطو سیکڑوں کتابوں، مضامین اور مسودوں کا مصنف تھا۔ سائنس کے علاوہ اس نے ادب اور فلسفہ کے بیشتر مضامین پر بھی اپنا قلم اٹھایا تھا۔ ارسطو نے کوئی نمایاں نئی سائنسی ایجاد نہیں کی اور نہ ہی سائنس کے کوئی دیرپا قوانین پیش کیے۔ یونان میں غلاموں کی سستی مزدوری دستیاب ہونے کی وجہ سے سائنس دانوں کو نئی مشینین ایجاد کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ تجربہ کے لیے آلہ جات کی عدم موجودگی میں سائنس کے جو قوانین ارسطو نے پیش کیے وہ سب کے سب بعد کے تجربات اور تحقیقات کی روشنی میں کھرے ثابت نہیں ہوئے۔ مگر سائنس محض مشینوں کی ایجاد کا نام نہیں بلکہ سائنس سوچنے کا ایک طریقہ بھی ہے۔

اس لحاظ سے ارسطو کے عظیم سائنس دان ہونے پر کوئی شک نہیں رہتا۔ کیونکہ ارسطو نے منطق کی جس سائنس کو جنم دیا، اس نے آنے والی نسلوں کے لیے سوچنے کے ضابطے اور ذہنی ڈسپلن کا ایک معیار پیش کیا۔ موجودہ سائنس کی بیشتر اصطلاحات وضع کرنے میں بھی اس کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ اس کے علاوہ سائنس کے میدان میں باقاعدہ تجربہ اور مشاہدہ کا رواج بھی ارسطو نے ہی ڈالا۔ حیوانات اور نباتات کی ان گنت قسموں کو اپنی تجربہ گاہ میں جمع کر کے ارسطو نے کچھ ایسے مشاہدے کیے، جنہیں آج کی سائنس بھی درست مانتی ہے۔ چنانچہ اس نے بے جان چیزوں سے لے جاندار مخلوق کی مختلف اقسام کو ایک ہی سلسلہ کی مختلف کڑیاں قرار دیا جسے بعد ازاں سائنس نے درست تسلیم کیا۔

ارسطو کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ اس کی غلط باتیں بھی صدیوں تک عقیدہ کے طورپر قبول کی گئیں۔ اس کی عظمت سائنس کی مزید ترقی کی راہ میں دیوار بن گئی۔ 1600ء میں برونو کو اس لیے زندہ جلا دیا گیا کہ اس نے نظام شمسی کے بارے میں ارسطو کے خیالات کی تردید کی تھی۔ چالیس سال بعد گلیلیو کو اس وجہ سے موت کے گھاٹ اتارنے کی دھمکی دی گئی کہ اس نے ارسطو کے اس قول سے اتفاق نہیں کیا تھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے۔ سائنس پر ایک شخصیت کی اتنی مضبوط گرفت سے گھبرا کر تیرہویں صدی کے سائنس دان راجر بیکن نے اعلان کیا ’’اگر میرا بس چلے تو میں ارسطو کی سب کتابیں جلا دوں۔‘‘ارسطو یقینا ایک عظیم سائنس دان تھا۔ نئے علم کی بنیادیں رکھتے ہوئے، کچھ غلطیاں سرزد ہوجانا غیرمتوقع نہ تھا۔ یونان کا فلاسفر سائنس دان کامیاب زندگی گزارنے کے بعد 322 ق م میں وفات پا گیا۔

بلراج پوری

متعدد وائرسوں کو بیک وقت تباہ کرنے والے نینو ذرات

بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے نینومیٹر جسامت والے انتہائی مختصر ذرّات یعنی نینو پارٹیکلز کو اس قابل بنا لیا ہے کہ اب وہ کئی اقسام کے وائرسوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں اب بھی متعدد اقسام کے وائرس کروڑوں افراد کو موت کے دہانے تک پہنچا رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک ہمارے پاس ان گنت اقسام کے وائرسوں کو روکنے والی دوائیاں موجود نہیں۔ یونیورسٹی آف الینوئے، شکاگو کے پروفیسر پیٹر کرال کی نگرانی میں بین الاقوامی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایسے نینو ذرات بنائے ہیں جو کئی طرح کے وائرسوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔

یہ نینو پارٹیکلز ہرپس سمپلکس وائرس، ہیومن پیپی لوما وائرس یا ایچ پی وی، ڈینگی اور لینٹی وائرس کا قلع قمع کر سکتے ہیں۔ قبل ازیں جو نینو ذرات بنائے گئے تھے وہ خلیے کے اندر وائرس جانے سے روکتے ہیں لیکن یہ نئے ذرات وائرس کو براہِ راست تباہ کرتے ہیں۔ اس پیش رفت کی ابتدائی تحقیقات ’’نیچر مٹیریلز‘‘ میں شائع ہوئی ہیں جن کے مطابق ان ماہرین نے ایسے نینو ذرات بنائے ہیں جو ایچ ایس پی جی کے تحت عمل کرتے ہیں (جس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں)۔ اس طریقے پر عمل کر کے یہ وائرس سے مضبوطی کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور اسے تباہ کر کے چھوڑتے ہیں۔

خلوی سطح پر عمل کرنے والا ایک پروٹین ہیپیرن سلفیٹ پروٹیو گلاکن (ایچ ایس پی جی) کہلاتا ہے۔ وائرس عام طور پر اسی پروٹین کے ذریعے صحت مند انسانی خلیات کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ عین یہی عمل نینو ذرات بھی کرتے ہیں اور کسی خلیے کے بجائے وائرس سے چمٹ کر اسے تباہ کرتے ہیں۔ ماہرین نے اپنی کاوش کو کامیاب بنانے کےلیے سوئٹزر لینڈ، اٹلی، فرانس اور چیک ری پبلک کے ماہرین کو اپنی ٹیم میں شامل کیا جن میں تجرباتی علوم کے ماہر، وائرس کا علم رکھنے والے سائنس دان اور بایوکیمسٹ بھی شامل تھے۔

ٹیم نے پہلے نینو پارٹیکلز اور ان کے کام کی کئی کمپیوٹر نقول (سمیولیشنز) بنائیں اور ذرات کو اپنے کام کے لحاظ سے تیار کیا۔ اس ضمن میں کمپیوٹر ماڈلنگ نے بھرپور مدد کی اور ایک ایک ایٹم کا کام نوٹ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ایسے نینو ذرات وجود میں آئے جو کئی اقسام کے خوفناک وائرسوں سے جڑکر انہیں تباہ کرتے ہیں جبکہ صحت مند خلیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ تجربہ گاہ میں نینو پارٹیکلز نے بہت کامیابی سے ہرپس سمپلکس وائرس، ہیومن پیپی لوما وائرس یا ایچ پی وی، ڈینگی، لینٹی وائرس اور دیگر اقسام کے وائرسوں کو ختم کر دکھایا۔ اگلے مرحلے پر مزید تجربات کیے جائیں گے تاکہ ان ذرات کو پہلے جانوروں اور کامیابی کی صورت میں انسانوں پر آزمایا جا سکے۔

سال رواں کی دو اہم دریافتیں

سال رواں اختتام کے قریب ہے۔ اس میں دو اہم دریافتیں ہوئیں۔ ماہرینِ فلکیات نے کم و بیش ہمارے سیارے یعنی زمین جیسے حجم کے سات سیارے دریافت کیے جو ایک ستارے کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق ان ساتوں سیاروں پر مائع پانی ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ ان کا ماحول ہمارے نظام سے ملتا جلتا ہے۔ ان کے مطابق ان سات سیاروں میں سے تین تو خلا میں اس علاقے میں گردش کر رہے ہیں جہاں زندگی پائے جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ان سیاروں کو ناسا کی سپٹزر سپیس ٹیلی سکوپ اور دیگر آبزرویٹریز نے دریافت کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ثقلیت کی لہروں کی پہلی مرتبہ نشاندہی سے علمِ فلکیات میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ رواں سال سائنس دانوں نے بتایا کہ انہوں نے زمین سے ایک ارب نوری سال سے زیادہ کے فاصلے پر واقع دو بلیک ہولز کے تصادم کی وجہ سے ’’سپیس ٹائم‘‘ میں ہونے والی تبدیلی کا مشاہدہ کیا ہے۔ یوں 2017 میں سائنسدانوں نے خلا میں ثقلیت کی لہروں کو تلاش کر لیا ۔ سائنس دانوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو بلیک ہولز کے تصادم سے خارج ہونے والی ثقلیت کی لہروں کا امریکا میں دو تجربہ گاہوں میں مشاہدہ کیا گیا۔

ٹیلی گراف کے موجد سیموئل مورس کی کہانی

ٹیلی گراف یا تار برقی کی مدد سے آپ کا پیغام ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاتا ہے۔ کبھی یہ طریقہ بہت مقبول تھا۔ ان آوازوں کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا۔ صرف وہی لوگ ان کا مطلب سمجھ سکتے ہیں جو اس کام کی تربیت لیتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ آواز تاروں میں سفر نہیں کرتی بلکہ برقی ارتعاشات سفر کرتے ہیں۔ دوسری جگہ برقی ارتعاش پھر انہیں آوازوں میں تبدیل کر دیے جاتے ہیں اور آپ کا پیغام آپ کے دیے ہوئے پتے پر پہنچا دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ الفاظ کو آوازوں میں نیز آوازوں کو الفاظ میں تبدیل کر نے کی باقاعدہ تربیت حاصل کرتے ہیں، جس نظام کے مطابق یہ تربیت دی جاتی ہے، اسے مورس کوڈ کہتے ہیں اور اسے سیموئل فنلے مورس نامی ایک موجد نے ایجاد کیا تھا۔

وہ 1791ء میں امریکا میں پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا، پھر بھی اس نے محنت کی اور ابتدائی تعلیم ختم کر کے کالج میں داخل ہو گیا۔ یہاں بھی مفلسی نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔ اس لیے اس نے تصویریں بنانا شروع کر دیں۔ اسے تصویریں بنانے کا بہت شوق تھا۔ اس وقت فوٹو گرافی عام نہیں ہوئی تھی۔ ہاتھی دانت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر ہاتھ سے تصویریں بھی کھود لی جاتی تھیں۔ مورس ایک تصویر بنانے کے لیے پانچ ڈالر لیا کرتا تھا۔ تصویریں بنانے کے علاوہ اسے بجلی کے تجربوں سے بھی دلچسپی تھی۔ اس زمانے میں امریکا کی نسبت انگلستان میں تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات زیادہ تھیں۔ اس لیے مورس نے انگلستان جانے کا ارادہ کیا۔ بڑی مشکل سے اس کا شوق پورا ہوا اور وہ انگلستان میں چار سال رہ کر امریکا واپس آ گیا۔ وہ اب بھی غریب تھا۔ بے چارہ معمولی کپڑے پہنے ادھر ادھر پھر کر تصاویر بیچا کرتا تھا۔

مورس کو شروع ہی سے موجد بننے کا شوق تھا۔ وہ ہر وقت اس فکر میں لگا رہتا تھا کہ کوئی ایسی چیز ایجاد کی جائے جو عوام کے کام آ سکے۔ مفلسی سے نجات پانے کے لیے اس نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر پانی اوپر چڑھانے کا پمپ بنایا، لیکن لوگوں نے اس کی کچھ قدر نہ کی اور وہ غریب کاغریب ہی رہا۔ تنگ آ کر اس نے یورپ کی راہ لی اور تھوڑا عرصہ وہاں گزار کر پھر واپس آ گیا۔ واپسی پر وہ جہاز کے ایک کمرے میں جہاں اور بھی بہت سے لوگ موجود تھے، بیٹھا تھا کہ ادھر ادھر کی باتیں شروع ہو گئیں۔ ایک شخص نے کہا کہ اس نے پیرس میں بجلی کا ایک حیرت انگیز تجربہ دیکھا ہے۔ ایک کمرے میں بجلی کی تاروں کا جال بچھا ہوا ہے بجلی پل بھر میں ایک سے دوسرے سرے تک پہنچ جاتی ہے۔

یہ سن کر مورس نے کہا ’’اگر یہ بات ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ بجلی کی مدد سے ایک سے دوسرے جگہ خبریں نہ بھیجی جا سکیں۔‘‘ مورس کے جواب پر کسی نے دھیان نہ دیا اور بات آئی گئی ہو گئی۔ لیکن مورس کے دل کو یہ بات لگ گئی اور اس نے تجربہ کرنا چاہا۔ وہ خود اتنا غریب تھا کہ معمولی تجربوں کا خرچ بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ اس کا شوق دیکھ کر اس کے بھائیوں نے ایک کمرہ اسے دے دیا جہاں وہ تار برقی کے بھدے سے آلے کی مدد سے اپنے تجربات کیا کرتا تھا۔ چند سال کے بعد مورس کی قسمت چمکی اور اسے ایک کالج میں پڑھانے کی جگہ مل گئی۔ وہاں بھی اس کا تار برقی کا شوق جاری رہا۔ خوش قسمتی سے ایک دولت مند شخص کا بیٹا اس کے ساتھ ہو گیا۔

اب مورس کی مالی مشکلات دور ہو گئیں اور اس نے اپنے تجربات آگے بڑھائے۔ وہ اپنی ایجاد سے کوئی نفع نہیں کمانا چاہتا تھا بلکہ اس کی خواہش یہ تھی کہ وہ دنیا کو ایک مفید آلہ دے اس نے بڑی محنت سے تجربات شروع کیے۔ چند اور آدمی بھی اس کے ساتھ ہو گئے۔ مسلسل کوشش کے بعد ایک مشین تیار ہو گئی جو بجلی کی مدد سے پیغامات ادھر سے ادھر بھیج سکتی تھی۔ اس مشین پر جو پہلا پیغام تھوڑے سے فاصلے پر بھیجا گیا، وہ یہ تھا ’’جو لوگ صابر اور مستقل مزاج ہوتے ہیں، ان کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔‘‘ یہ تھا دنیا کا پہلا تار۔ اس ایجاد کو بڑے پیمانے پر عام کرنے میں اب بھی ایک مشکل تھی، جیسا کہ قاعدہ ہے، لوگ نئی چیزیں آزماتے ہوئے ہچکچاتے ہیں اور انہیں شبہے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

اگرچہ امریکا کے صدر اور اعلیٰ حکام اس ایجاد میں دلچسپی رکھتے تھے۔ پھر بھی ملک کی سب سے بڑی مجلس اسے رائج کرنے پر روپیہ صرف کرنے کی منظوری نہیں دیتی تھی۔ بڑی مشکل سے واشنگٹن اور بالٹی مور تک جو امریکا کے دو مشہور شہر ہیں، تار برقی کا سلسلہ آزمائشی طور پر شروع کر نے کے لیے 30 ہزار ڈالر منظور ہوئے۔ کام شروع ہوا اور تار برقی کی پہلی لائن بچھا دی گئی ۔ پہلے تو تار نلوں کے ذریعے زمین میں ڈالے گئے۔ لیکن جلد ہی پتا چل گیا کہ تار بہت جلد خراب ہو جاتے ہیں اور بجلی بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ مورس کو بڑی تشویش ہوئی کیونکہ اس کام کے لیے جو رقم منظور ہوئی تھی، اس میں سے اب صرف سات ہزار ڈالر باقی بچے تھے۔

دوسرا خطرہ یہ تھا کہ اب اگر وہ کسی تبدیلی کا اعلان کرتا ہے تو عوام اس کی طرف سے بدظن ہو جائیں گے کہ اس نے قوم کا روپیہ برباد کیا ہے۔ اس وقت مورس کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے زمین کھودنے والی مشین کو ایک بڑے پتھر سے ٹکرا کر توڑ پھوڑ ڈالا۔ اس کے بعد سوال پیدا ہوا کہ اب تار کس طرح بچھائے جائیں۔ آخر فیصلہ ہوا کہ تار لکڑی کے کھمبوں پر لگائے جائیں۔ اس طرح 1844ء میں دنیا کا تار برقی کا پہلا سلسلہ قائم ہوا۔ آہستہ آہستہ تار برقی کا سلسلہ امریکا سے نکل کر دوسرے ملکوں تک پہنچا اور پھر گاؤں گاؤں پھیل گیا۔ خشکی پر تو کھمبوں اور تاروں کا جال بچھا دیا گیا لیکن دنیا میں خشکی کم اور تری زیادہ ہے۔ براعظم کے درمیان سیکڑوں میل لمبے سمندر حائل ہیں۔ تار برقی کی ایجاد نے ترقی کی تو سمندر میں بھی موٹے موٹے تار ڈال دیے گئے۔ انہیں کیبل کہتے ہیں۔ اس طرح سمندرکے ذریعے دوسرے ملک کو پیغام یا خبر بھیجی جانے لگی۔ مورس کی امریکا اور یورپ میں بڑی عزت ہوئی۔ 1872ء میں جب اس کی عمر 81 برس تھی، وہ اس دنیا سے چل بسا۔

علی ناصر زیدی